Rate this Novel
Episode 61
شاہجاں بیگم گھنٹوں ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی رہی!
اج جو آئینہ شانزے انہیں دیکھا کے گئ اس میں انہیں کا عکس داغدار تھا۔۔
اظہر صاحب نے اکے انکے کندھے پہ ہاتھ رکھا تو وہ بلک پڑی۔۔۔
اظہر نے انہیں خاموشی سے اپنے اپ سے لگالیا۔۔
اللّٰہ اپنی عبادت میں اپنی ذات میں شرک برداشت نہیں کرتا شرک کرنے والوں کو کبھی معاف نہیں کرتا ۔۔
شرک کسی بھی رشتے میں ہو اسکی بنیاد ہلا دیتا ہے ۔۔
عورت سب کچھ برداشت کر جاتی ہے بس اپنی محبت میں شرک نہیں !!!
اظہر صاحب نے نہ صرف انکی محبت میں شرک کیا بلکے انکو اس حد تک مجبور کردیا اس حد تک تنہا کردیا کے وہ اپنا سارا فرسٹیشن صنم پہ نکال نے لگی۔۔
اپنی جوانی کا ادھورا پن اپنی تنہائ کا قصور وار وہ صنم کو سمجھنے لگی !!
انکی انا نے انکی زندگی کے کافی سال برباد کردیے ایک لڑکی کی ذات کو سوالیہ نشان بنادیا۔۔۔
بس کرو شاجہاں !!.
اظہر نہ میں اچھی بیوی بن پائ نہ ماں۔۔
میں اپنی ہی بیٹی کو اپنے برباد ہونے کی ناگہانی سزادی اسے اس جرم کی سزا دی جو اس نے کی ہی نہیں ۔۔!!!!!
نہیں شاجہاں اصل قصور وار میں ہو ۔۔
نہ میں تمہیں دھوکا دیتا نہ ایس کچھ ہوتا نہ اج صنم کی ذات مجروح ہوتی
میں نے ہی اپنی محبت میں شرک کیا شاہجاں میں ہو تمہارے ہر دکھ کا مجرم کیوں بھول گیا تھا میں کے اولاد مرد کے نصیب سے ہوتی ہے !!
بھول گیا تھا میں کے اللّٰہ اپنے جس بندے سے سب سے ذیادہ خوش ہوتا ہے اسکے گھر بیٹیاں پیدا کرتا ہے !
جس گھر میں بیٹی پیدا ہوتی ہے اس گھر میں ہمارے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا سلام اتا ہے کتنا بد بخت ہو میں شاجہاں کے میں نے انکے سلام کا جواب تک نہیں دیا۔۔
اگر تم نے صنم کے ساتھ ذیادتی کری ہے تو میں نے بھی زویان کی شخصیت کو مجروح کرنے میں کوئ کسر نہیں چھوڑی۔۔۔
اج دونوں ہی ایک دوسرے کے سامنے اپنے گناہ کا اعتراف کررہے ہے دونوں ہی بلک رہے تھے پچھتاوا ہی اب انکا مقدر تھا!!
مگر اج یہ دونوں کتنا ہی پچھتا لے پرانا وقت لوٹ کے نہیں ائے گا۔۔۔
(اگر قیامت والے دن اللّٰہ اولاد سے سوال کرے گا کے اپنے ماں باپ کیلئے کیا کیا!!
تو ماں باپ سے بھی سوال کیا جائے کے اپنی اولاد کیلئے کیا کیا۔۔)
کوئ بھی چور ،ڈاکو،زناکار ،بدتمیز ،جاہل ،نشئ ،جواری ،لڑکی باز ،یہ بگڑی ہوئ یہ بگڑا ہوا
پیدائشی نہیں ہوتا ان سب کے پیچھے ہاتھ ہوتا ہے ماں باپ کا انکی لاپرواہی انکی خودغرضی انکے بچوں کی ذات کو سماج کے سامنے بے مول کردیتی ہے!!
وقت نکلنے کے بعد پھر ماں باپ کہتے ہیں ہمارے ہاتھ سے نکل گیا مگر یہ بھول جاتے ہیں وقت نکالنے میں انہیں کا ہاتھ ہے۔۔
#
پاپا بھائ کی بات تو سن لے!!
ہیر نے ہلکا سا احتجاج کیا جب مسلسل ایک گھنٹے سے صائم کے پکارنے کے باوجود وہاج نے اس کی پکار کی جواب دینا تو بہت دور اسکی طرف دیکھا تک نہیں ۔
خوشبو بھی اس معملے میں خاموش تماشائی بنی تھی وہاج نے اسے سختی سے منع کردیا تھا اس معملے میں بولنے کو۔۔
پاپا میری بات تو سن لیں میں مانتا ہو میں نے صنم کیساتھ غلط کیا مگر اب میں اس سے محبت کرنے لگا ہو اپنی ہر غلطی کا ازالہ کرنا چاہتا ہو پلیز۔۔
میں تمہاری بات جب ہی سنوگا صائم جب صنم تمہیں معاف کردے گی !!
اس سے پہلے نہ تو مجھے اپنی یہ شکل دیکھانا جس نے میری تربیت پہ یہ داغ لگایا کے صائم وہاج ایک پلے بوائے ہے جسکا۔شوق لڑکیوں کے جزبات سے کھیل کے انہیں اپنے بستر تک لیجانا ہے۔۔۔
وہاج صاحب کے منہ سے ایسی بات سن کے خوشبو اور ہیر شرم سے رخ پھر گئ جبکہ صائم کا دل کیا کے زمین پھٹے اور وہ اسمیں سما جائے ۔۔
دفعہ ہوجاو اپنی شکل لے کر یہاں سے جبھی اپنی یہ شکل دیکھانا جب صنم تمہں معاف کردے۔۔۔
صائم انکھوں میں آنسو لیے تیزی سے کمرے سے نکلا تو سامنے زویان کو کھڑا پایا بھیگتی آنکھوں سے اسے دیکھا اور جانے لگا جب زویان نے اسے کھینچ کے اپنے سینے سے لگالیا۔۔
صائم زویان کے سینے سے لگ کے بے اواز رونے لگا۔۔۔
#
صائم نے کچھ سوچتے ہوئے ہنزہ کے ہسپتال کا رخ کیا کے شاید نہال سے صنم کا پتہ مل جائے !!.
زویان بھی اسی کیساتھ تھا۔۔
وہ دونوں گاڑی پارک کرکے اندر جارہے تھے جب انھیں بازل نظر ایا۔۔
ان دونوں نے سوچا چلو اس سے بھی دعا سلام کرلے !!
وہ دونوں تھوڑا اگے بڑھے تو ہنزہ بھی تھی جو کافی غصہ میں تھی۔۔
میری ذمیداری تمہیں اٹھانے کی ضرورت نہیں بولا تھا نہ تمہیں کے یہ نکاح فرضی ہے میں بچی نہیں ہو ابھی جاؤ گی اور چلی بھی جاونگی ۔۔۔
یہ کہہ کے ہنزہ اندر بڑھ گئ اور بازل نے اسکے جاتے ہی زور دار مکا گاڑی کی بونٹ پہ مار کے ایک دم پلٹا تو ان دونوں کو خود کو تکتا پایا۔۔
#
وہ تینوں کیفت ٹیریا میں بیٹھے تھے بازل بھی اپنی غلطی انکے اگے رکھ چکا تھا مگر اصل اسے جھٹکا زویان کے کارنامے سے لگا تھا۔۔
اب ایک ہی حل ہے ہم تینوں کے پاس۔۔۔۔؟
زویان نے سر کے نیچے ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔
کونسا حل ؟؟
صائم نے تجسسس سے پوچھا۔۔
میں تم دونوں کو رات کو ایک اڈریس بھیجونگا وہاں تم دونوں اجانا وہی ڈسکس کرینگے کے اپنی اپنی بیویوں کو کیسے اپنے پاس واپس لایا جائے۔۔
شاید بھول رہا ہے تو صنم میری بیوی نہیں!!!
صائم نے کافی منہ بنا کے یہ بات کہی۔۔۔
تو بنانا تو چاہتے ہیں نہ ؟؟
ہاں ہاں ؛!!
تو بس کل ملتے ہیں ہم ۔۔!!!
#
وہ تینوں مطلوبہ جگہ پہ جمع تھے زویان انہیں اپنا پلان بتانے والا تھا جب وہاں بہزاد ایا جیسے دیکھ کے زویان نے کافی سڑے ہوئے منہ بنا کے کہا۔۔
یار ایک تو یہ کوہ قاف کا جن ہر جگہ پہنچ جاتا ہے۔۔
زویان نے بہزاد کو فلیٹ میں اینٹر ہوتے ہوئے دیکھ کے سڑا ہوا منہ بناکے طنزیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
انہیں کس نے بتایا ہم یہاں ہے؟؟
زویان نے صائم کی طرف مشکوک نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
ہاں میں نے بتایا ۔۔۔
زویان کے شک کو صائم نے یقین میں بدل کے کہا۔۔
بیٹا یہ کوہ قاف کا جن ہی تجھے تیرے باپ سے بچا سکتا ہے اور عزت سے تیری بیوی تجھ تک لا سکتا ہے۔۔
ورنہ جو تو میری بہن کیساتھ کرچکا مت پوچھ میں کیسے برداشت کرکے بیٹھا ہو۔۔۔
صائم نے زویان کو غصہ میں گھورتے ہوئے کہا۔
ہاں تم نے تو جیسے داستان عشق محبت لکھی ہے میری بہن کیساتھ۔۔
زویان نے بھی حساب برابر کرتے ہوئے کہا۔۔
ایک کام کرو بہن بہن کھیل لو تم دونوں اپنی اپنی بیویاں سے ہم قبر میں مل لینگے۔۔
بازل نے دونوں کو غصہ سے کہا۔۔
بات سن زویان یہ جیسے تم کو قاف کا جن بول رہے ہو آج میں خوبصورتی میں ہم تینوں کو مات دیتے ہیں۔۔
صائم نے بہزاد کو بلیک قمیض شلوار میں آتا دیکھ کے کہا۔۔
ہیلو بوائز !!!
مجھے دیر تو نہیں ہوئ انے میں صائم۔۔۔!!
نہیں ماموں ۔۔۔۔
زویان نے بہزاد کے دیکھ کے کافی سڑا ہوا منہ بنایا ہوا تھا جیسے دیکھ کے بہزاد نے کوئ غصہ نہیں کیا بلکے زویان کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
یار تم مجھ سے اتنی خار کیوں کھاتے ہو؟؟
میں کیوں خار کھاؤ نگا اپ سے بہزاد بھا!!!!!اسے سے پہلے زویان اپنا جملہ پورا کرتا بہزاد نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا!!
میں تمہارا بھی ماموں ہو سگا نہیں ہوا تو کیا ہوا نمرہ اپی میری بہنوں کی طرح ہیں۔۔
ٹھیک ہے اب اگر صائم نے یہاں اپکو بلایا ہے بہزاد بھا۔۔مطلب بہزاد ماموں تو اپ ہی بتائے ہم کیسے اپنی اپنی بیویوں کو اپنے پاس واپس لے کر ائے وہی انکی پرانی محبت کیساتھ۔۔۔
زویان کے کہنے پہ بہزاد ایک دم سیریس ہوا اور کہا۔۔
تم تینوں نے انکے تینوں کیساتھ بہت برا کیا ہے اتنا تو ان تینوں کا حق بنتا یے ناراض ہونے کا۔۔۔
مگر میں اج ایک بات کہو!!
ہوسکتا ہے میں ان تینوں کو سمجھاؤ تو وہ لوگ سمجھ جائے اور خاموشی سے تم تینوں کی زندگیوں میں شامل ہوجائے مگر یہ وہ سمجھوتہ کرینگی تم محبت نہیں۔۔۔
ان تینوں کیلیے جو کرنا ہوگا تم تینوں نے خود کرنا ہوگا انہیں یقین دلانا ہوگا کے تم لوگ بدل چکے ہو بازل کا معملہ اتنا بڑا نہیں ہاں مگر غلط بازل نے بھی ہنزہ کیساتھ کیا ہے۔۔
مگر زویان تمہارے لیے ایک بری خبر ہے؟؟
کیا بہزاد ماموں؟؟
زویان نے کافی گھبرائے ہوئے انداز میں بہزاد کی طرف دیکھا۔
ہیر نے خلا کے پیپرز تیار کروا لیے ہیں اور کل وہ سب کے سامنے تمہارا اور اپنا رشتہ بتا کے تم سے سب کے سامنے خلا لے گی۔
ایسا نہیں ہو سکتا بہزاد ماموں میں اسے ایسا کرنے نہیں دونگا ۔۔
یہ بول کے زویان تیزی سے فلیٹ سے نکلا!!
وہ تیون بھی اسکے پیچھے بھاگے۔۔
وہاج مینشن میں قدم رکھتے ہیں زویان نے چیخ چیخ کر ہیر کو پکارا۔۔
ہیر ہیر!!
زویان کے اتنی تیز اواز پہ پورا گھر جمع ہوگیا۔۔
وہاج اور اظہر صاحب بھی پریشانی کے عالم میں کمروں سے نکلے۔۔۔۔
ہیر جانتی تھی ایس کچھ ضرور ہوگا ۔۔کیونکہ اسے پتہ تھا بہزاد یہ خبر اس تک ضرور پہنچائے گا
وہ ریلکس انداز میں نیچے گئ مگر ساتھ میں خلا کے پیپرز لیجانا نہیں بھولی ۔۔
ہیر کو اپنے سامنے دیکھ کے زویان جسکی انکھوں سے تیزی سے آنسو جاری تھے ایک دم اس تک پہنچا اور کندھوں سے تھام کے کہا۔۔
تم مجھ سے خلا لے رہی ہو؟؟
زویان کے الفاظ تھے یہ پھر کوئ بم !!
خوشبو بیگم نے فورا وہاج کا کندھا تھاما اور اظہر صاحب نے بے یقینی کی کیفیت میں زویان کو دیکھا۔۔
ہاں !!!
ہیر نہیں کرو میرے ساتھ ایسا میں تم سے بہت کرتا ہو بلکے عشق کرنے لگا ہو اللّٰہ کا واسطہ تمہہیں ہیر۔۔۔۔
زویان نے اسکے اگے اپنے ہاتھ جوڑ دیے جب ہیر نے نے غصہ میں کہا۔۔
نفرت ہے مجھے تم سےزویان اظہر اس گھٹن سے میں اذاد ہونا چاہتی ہو میں۔۔
یہاں ہو کیا رہا ہے کوئ بتائے گا مجھے ؟؟
اظہر صاحب نے کافی زور سے کہا جسکی وجہ سےانکے ہارٹ میں تکلیف ہوئ تو شاجہاں اور نمرہ دونوں نے انہیں تھاما۔۔
میں بتاتی ہو انکل اپکو!!
ہیر نے یہ بول کے لندن میں ہوا سب کچھ اظہر صاحب کو بتا دیا۔۔
جسے سن کے خوشبو ایک دم سناٹے میں تھی ادھر اظہر صاحب نے اگے بڑھ کے ایک زناٹے دار تھپڑ زویان کے منہ پہ مارا۔۔
یہ تو میں جانتا تھا تم بگڑے ہوئے ہو مگر یہ نہیں جانتا نہ اتنا یقین تھا کے تم نکاح جیسے رشتے کا سہارا لے کر کسی لڑکی کی زندگی برباد کروگے۔۔۔
یہ بول کے جب دوبارہ اظہر صاحب زویان کو مارنے لگے تب بہزاد نے اکے انکا ہاتھ پکڑ لیا۔۔
چھوڑو مجھے بہزاد میں اج اسے جان سے ماردونگا۔۔۔
اظہر بھائ پلیز غصہ نہ کرے اپکی طبیعت خراب ہوجائے گی۔۔
اچھا ہے بہزاد مجھے مرجانے دو۔۔
اج اس نے کوئ کسر چھوڑی بہزاد!!.اظہر صاحب بلک پڑے۔۔
پاپا میں محبت کرتا ہو ہیر سے مرجاونگا اسکے بنا !!
تو مرجاو زویان اظہر ۔۔۔
ہیر نے چیخ کے کہا۔
میں اس قصہ کو اج ہی ختم کردونگی۔۔
یہ بول کے اپنے ساتھ لائے خلا کے پیپر پہ جیسے ہی ہیر سائن کرنے لگی۔۔
زویان نے کہا۔۔
اگر تم نے ایساکیا ہیر تو میں جان لے لونگا۔۔۔
یہ بول کے زویان نے اپنے پاس موجود پسٹل نکالی جو وہ ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتا تھا۔۔
یہ کیا بچوں والی حرکت ہے زویان ۔۔۔۔
پسٹل نیچے کرو۔۔۔۔
صائم نے اگے بڑھ کے کہا۔۔
نہیں صائم بھائ میرے قریب مت اائیے گا میں ماردونگا۔۔۔
زویان پسٹل نیچے کرو۔۔
وہاج صاحب بھی ایک دم بول پڑے۔۔
کیا سمجھتے ہو خود کو ایسے پسٹل دیکھا کے تم مجھے ڈرا دوگے تو یہ بھول ہے تمہاری !!
مجھے تمہارے ساتھ رہنا سے ذیادہ موت کو گلے لگانا منظور ہے چلاو پسٹل زویان اظہر۔۔۔
تم سے کس نے کہا یہ تمہارے لیے ہے۔۔۔
تم زندگی سے جاؤ گی تو ویسے بھی جینا مشکل ہوجائے گا تو کیوں نہ اج ہی اس وجہ کو ختم کردو جو مجھے مجبور کرے تمہارے بعد جینے پہ۔۔
یہ بول کے زویان نے ایک نظر مسکراکے ہیر کو دیکھا اور اپنے دل پہ پسٹل رکھ کےگولی چلا دی۔۔۔۔
جاری یے۔۔
