Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 56 part 2

(پارٹ 2)
ہاں کل ملتے ہیں مجھے ایک کام بھی ہے اپنی یونی سے !!
ہیر صنم سے باتوں میں مصروف تھی جب ایک دم دروازہ کھول کے زویان اندر ایا۔
زویان کو اندر اتا دیکھ ہیر کی رگیں تن گئ ۔۔
صنم میں تم سے بعد میں بات کرتی ہو۔۔۔
یہ بول کے ہیر نے اپنا موبائل بیڈ پہ پھینکا یہ دیکھے بنا کے کال کٹ ہوئ یہ نہیں۔۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئ یہاں انے کی نکلو فورا !!
زویان نے اسے دیکھ کے کمرے کا دروازہ لاکک کیا اور کہا۔
میری ہمت کی بات نہیں کرا کرو شوہر ہو تمہارا بہت ہمت ہے مجھ میں۔۔۔
ہاں صحیح کہاں تم نے ایک حوس پرست شوہر جس نے خالی ایک لڑکی کو اپنے بستر کی زینت بناے کیلے نکاح جیسے پاک۔رشتے کا مزاق بنایا۔۔۔
ہیر میں کہہ چکا ہو مجھ سے غلطی ہوگئ۔۔
زویان نے بے بسی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔
واہ واہ مسٹر زویان داد دینی پڑے گی کیا کھا کے تمہاری ماں نے تمہیں پیدا کرا ہے۔۔۔ہیر نے تالیاں بجاتے ہوئے کہا۔۔
ہیر ؛!!ماما کو درمیان میں مت لاو۔۔
زویان ایک دم ہائپر ہوا۔۔۔
تم کمرے سے جارہے ہو یہ میں شور مچاؤ!!
اچھا چلو مچاؤ شور اج یہ قصہ سب کے سامنے منظر عام پہ اجائے کے مجھ سے تمہارا رشتہ کیا ہے۔۔
زویان کے مسکرا کے یہ بات کہنے پہ ہیر کو اگ لگ گئ۔۔
اس نے زویان کو دھکا دیا دھکا اتنا شدید تھا کے زویان اگر ڈریسنگ کا سہارا نہیں لیتا تو یقینا شیشہ میں اسکا سر
لگتا۔۔
میرے کوئ نہیں لگتے تم سنا تم نے مجھے نفرت ہے تم سے تمہاری سوچ سے ذیادہ اپنی اوقات سے زیادہ!!
تم نے مجھ سے نکاح نہیں زنا کرا تھا میری ایک کہی ہوئ بات پہ تم نے مجھے میری پی نظروں میں گرا دیا نکاح جیسے پاک۔رشتے کو ایک گالی بنا دیا۔۔
ہیر کافی غصہ میں یہ بات کہہ رہی تھی رونا نہیں چاہتی تھی پھر بھی رو رہی تھی۔۔
زویان جیسے تیسے اٹھا اسکے کندھے میں کافی تکلیف ہورہی تھی
۔وہ اٹھ کے ہیر کے پاس ایا اور اسکا کندھا تھام کے کہا۔۔
مجھے معاف کردو ہیر میں تم سے بہت محبت کرنے لگا ہو بھول جاؤ سب تمہیں اللّٰہ کا واسطہ تم کہو تو میں تمہارے پاؤں تک پکڑتا ہو ۔۔
یہ بول کے زویان نے واقعی ہیر کے پاؤں کو ہاتھ لگایا۔۔
ہیر ایک دم پیچھے ہوئ اور کہا۔۔
ٹھیک ہے میں معاف کردونگی تمہں۔۔
ہیر کے بولنے پہ زویان کے چہرے پہ ایک دم سکون ایا۔۔
مگر پہلے مجھے میری عزت لوٹاو۔۔۔
میری خواب جو تمہاری وجہ سے توٹا وہ لوٹاو۔۔
تمہاری وجہ سے جو ترپی روئ اسکا ازالہ کرو۔۔
ہیر کی باتوں پہ زویان سن ہوگیا۔۔
اب کیا ہوا بولتی بند ہوگئ۔۔ہیر نے طنزیہ انداز میں اسکا کالر تھاما اور کہا۔۔
ایک لڑکی کو محبت میں پھانسا کے نکاح کے نام پہ اسکا۔سب کچھ لوٹ کے اپنی گرل فرینڈ سے اسکے منہ پہ ٹھپڑ مار کے خود اسے بے دردی سے گھسیٹتے ہوئے اپنے گھر سے باہر نکال کے اسے بے دردی سے مار کے ااپنے دوستوں کے سامنے اسکے ساتھ گزارے پیار کے لمحات کا مذاق اڑا کے معافی نہیں ملتی زویان اظہر۔۔۔۔۔
میرا بس چلے تو میں تم سے تمہاری سانسیں چھین لو۔۔
یہ بول کے ہیر نے اسکا کالر چھوڑا۔۔۔
ماشا کے مارے تھپڑ ایک وقت میں شاید میں بھول جاو مگر تمہارے مارے ہوئے تھپڑ میری روح پہ لگے ہیں۔۔
جب ایک عورت نکاح نامے پہ سائن کرتی ہے تو اپنا سب کچھ اپنے شوہر کو دے دیتی ہے جس جسم اور عزت کی حفاظت وہ پچپن سے کرتی اتی نکاح کے دو بولو پہ وہ اپنا سب کچھ ایک غیر کے نام کردیتی ہے اور پتہ ہے ایسا کیوں کرتی ہے ۔۔
کیونکہ نکاح میں گواہ کوئ اور نہیں اللّٰہ ہوتا ہے۔۔
تم سے معافی مانگی تھی زویان میں نے اپنے کہے الفاظوں کی تم سے سچی محبت کی تھی میں نے۔۔
جب تم نے میری معافی مانگنے کے باوجود میرے وجود میری ذات میری عزت کی ڈھجیاں اڑا دی تو تمہیں کیسے معافی ملے گی۔۔۔
نکلو یہاں سے زویان۔۔
ا
رہا سوال اس نکاح کا تو میں خود پاپا کو بتاؤنگی تم سے اپنا ہر رشتہ میں تمہیں توڑ کے دیکھاونگی۔۔
تمہاری ماشا کی اصلیت جب تمہارے سامنے ائ جب تمہیں احساس ہوا کے تمہیں مجھ سے محبت ہوگئ۔۔
بھاڑ میں گئے تم اللّٰہ کرے تم مرجاؤ زویان اظہر۔۔
زویان جو اتنی دیر سے خاموشی سے ہیر کی ساری باتیں سن رہا تھا اسکے اخری جملے میں اسکی انکھوں سے انسو نکلے اور اسنے بے یقینی سی۔کیفیت میں ہیر کو دیکھا۔۔
ہیر نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے گھسیٹتے ہوئے کمرے سے باہر دھکا دیا اور زور سے کمرے کا دروازہ بند کیا۔۔
ہیر بے اواز وہی دروازے سے لگ کے رونے لگی اور وہاں فون پہ موجود صنم لگا اب اگر اسنے فون بند نہیں کیا تو اسکا دماغ پھٹ جائے گا۔۔۔
زویان کسطرح اپنے کمرے میں ایا اسے نہیں پتہ وہ وہی دروازے لگ کے بے تحاشہ رونے لگا اور اللّٰہ سے ایک موقع کی بھیک مانگنے لگا۔۔

#

بازل اج بہت خوش تھا اسنے وہاج سے بھی کال۔کرکے ڈھیروں باتیں مگر جس سے اسے باتیں کرنی تھی وہ تو جیسے سات پردو میں چھپ گئ تھی۔۔
بازل نے سب سے پہلے شکرانے کے نفل ادا کیے اور ہنزہ کے کمرے کی طرف بڑھا اج اسکے کمرے میں داخل ہونے کیلئے اسے چور راستہ کی ضرورت نہیں تھی۔۔
اج وہ اسکی تھی اسکی محرم تھی اسنے ہنزہ کے کمرے کا دروازہ کا لاک گھومایا تو وہ کھل گیا مگر کمرے میں اندھیرا تھا۔۔
کمرے کی دیم لائٹ اون کرکے اسنے دروازے کو بند کیا ا ور بنا اواذ کیے بیڈ کی طرف بڑھنے لگا۔۔
اسے تھوڑا افسوس ہوا کے ہنزہ نے اسکا انتظار نہیں کیا اور چینج کرکے سو گئ۔۔
اسے تمنا تھی اسکے دلہن بنے سراپے کو جی بھر کے دیکھنے اسکی تعریف کرنے کی اسے اپنے سینے سے لگانے کی مگر یہاں تو سب کچھ الٹا تھا۔۔۔
بازل ہنزہ کے قریب ایا تو وہ سو رہی تھی۔۔
بازل اسے بہت پیار دیکھنے لگا۔۔
جھک کے اسکے ماتھے پہ اپنے رکھے اور دھیرے سے کہا۔۔
“بازل کی جان”
بازل کی نظر اسکے مہندی سے لبریز ہاتھوں پہ گئ تو بے خودی میں وہ۔اسکی ہتھیلوں کو چومنے لگا۔۔
ہنزہ جو پہلے سے جاگ رہی بازل۔کے انے پہ۔سوتی بن گئ تھی ایک بار پھر اس نے اپنی انکھیں کھول لی۔۔
بازل نے جب دیکھا کے ہنزہ جاگ گئ ہے تو ایک دم اسکے اوپر ایا اور مسکرا کے اسے دیکھنے لگا اور کہا۔۔
میری زندگی میں تو تم شامل پچپن میں ہی ہوگئ تھی مگر اج میری ہر چیز پہ میری سانوں پہ۔میرے دل پہ پورے حق سے قابض ہوچکی ہو۔۔
یہ بولتے ہی بازل ہنزہ لبوں پہ جھک گیا۔۔
بے تحاشہ اسکے لبوں کو چومنے لگا کبھی شدت اتی اسکے چومنے میں کبھی پیار مگر زیادہ دیر تک وہ یہ عمل کرنہیں سکا کیونکہ اسے لگا ہنزہ رو رہی ہے۔۔
بازل ۔نے جب اسے دیکھا تو وہ واقعی رو رہی تھی۔۔
بازل ایک دم پریشان ہوا۔۔
اس پہ سے یٹا اور خود بھی اسے اٹھا بیٹھایا۔۔۔
ہنزہ تم رو رہی ہو ؟
مگر کیوں۔۔؟؟
تمہارے چھونے پہ اپنی بے بسی پہ مجھے رونا ارہا ہے۔۔۔
ہنزہ کے کہنے پہ بازل نے شاکڈ انداز میں اسے دیکھا اور دھیرے سے کہا
“ہنزہ”
مجھے اج اپنی بے بسی پہ بہت رونا ارہا ہے بازل کے جس شخص نے میری عزت کو داغدار کرنا چاہا صرف اپنی محبت کی جیت کیلیے ۔۔
اج اسی کے نام سے جڑی ہو۔۔
جس شخص نے مجھ سے میرا دوست میری محبت چھین لی میرے کرادر کو نشانہ بنایا اج اسی کا نام میرے نام سے جڑا ہوا کے۔۔
مت چھو مجھے بازل مجھے گھن اتی ہے تم سے۔۔
تم سے نکاح تمہاری محبت میں نہیں بلکے اس لیے کیا کیونکہ تمہاری ہونے والی بیوی بھاگ گئ اپنے تایا کی عزت اپنے ماں باپ کی خواہش پہ تم۔سے نکاح کیا ہے ۔
مجھے ہاتھ مت لگاو۔۔
یہ بول کے ہنزہ ہاتھوں میں چہرہ چھپائے رونے لگی اور بازل الٹے قدم اٹھاتا ہوا کمرے سے نکلا۔۔
جاری ہے۔۔
See translation