Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 41 (part 2)

ہیر پوری رات سو نہ سکی زویان کا کیا اظہار بار بار اسکے دماغ میں آرہا تھا ابھی ایک مہینہ تو ہوا تھا اسے زویان سے ملے ہوئے اتنی جلدی یہ سب ہوگیا بعض اوقات اسے یہ سب بہت عجیب سا لگتا مگر پھر زویان کا رویہ سوچتی تو سب کچھ اچھا لگتا۔۔
کیا ہے ؟
الوو کی طرح جاگ کیوں رہی ہو؟؟
سدرہ نے نیند میں ڈوبی آواز میں کہا ۔
یار سدرہ تو سوجا تو میری کوئ ہیلپ نہیں کرسکتی میں بہت بڑی مشکل میں پھنس گئے ہو۔۔۔۔
ہیںںںںںںںں…
کیا ہوا؟
سدرہ ایک جھٹکے سے اٹھ کے بیٹھ گئ اسکی نیند اڑن چھو ہوگئ تھی ہیر کی بات سن کے۔۔۔۔
ایسا کیا ہوگیا ہیر دیکھ مجھ سے مت چھپانا کیا ہوا تجھے ہائے اللہ خوشبو آنٹی نے مجھے تیرا دھیان رکھنے کو کہا تھا ۔ہیر سچ بتا کیا ہوا ہے؟
کہی زویان نے تیرے ساتھ کچھ الٹا سیدھا۔۔۔۔۔
سدرہ نے کافی پریشانی میں جو بولنا شروع کیا تو چپ ہونے کا نام ہی نہیں لیا۔۔
ارے یار بریک تو لگا اپنی زبان کو جب بھی بولتی ہے بکواس ہی کرتی ہے۔۔۔
ہیر کی بات پہ سدرہ نے سڑا ہوا منہ بناکے کہا۔
جس طرح تو رات کے اس پہر پچھل پیری کی۔طرح یہاں سے وہاں چکر لگا رہی ہے کوئ بھی نارمل بندہ تجھے دیکھے گا تو پہلے سوال اسکے دماغ میں یہ ہی آئے گا جو میں نے پوچھا۔۔۔۔
افف رک بتاتی ہو۔۔۔
یہ بول کے ہیر اپنے بیگ میں سےا یک گفٹ باکس لے کر ائ۔۔
جیسے دیکھتے ہی سدرہ فورا ایکسائیٹیڈ ہوکے پوچھنے لگی۔۔
یہ زویان نے دیا ہے؟
ہاں ۔۔
ہیر نے اسے زویان کے پربوزل کے بارے میں بتایا جیسے سن کے سدرہ بہت خوش ہوئ جب ہیر نے باکس کھولا تو اس میں ایک رنگ تھی بلیو ڈائمنڈ کی خوبصورت سی۔۔
ہیر اور سدرہ دونوں کی آنکھیں رنگ دیکھ کے کھلی کی کھلی رہ گئ ساتھ میں ایک لیٹر تھا۔۔
لیٹر اٹھا کے ہیر نے پڑھنا شروع کیا جس میں لکھا تھا۔۔
“مجھے پتہ ہے تمہارے لیے یہ سب بہت شاکڈ ہوگا مگر ہیر مجھے تم سے پہلی نظر کا پیار ہوگیا کوشش کری میں نے بہت کے اس بات کو اگنور کرو کے دل تم سے محبت کرنے کیلے مچل رہا ہے بار بار مجھے اکسا رہا ہے تم سے محبت کرنے کیلے مگر دل کے آگے میں بے بس ہوگیا ہو بہت محبت کرتا ہو تم سے ہیر اگر تمہیں میرا ساتھ قبول ہے تو یہ رنگ پہن کے کل مجھے یونی کے لان میں ملنا ۔۔”
ہ
اوہہہ بھئ داستان عشق محبت عروج پہ ہے۔۔۔
سدرہ نے تقریبا ہیر کو پورا ہلا کے بولا۔۔
یہ وجہ ہے سدرہ میرے جاگنے کی۔
تو بتا یہ سب صحیح ہے میں کیسے ایسے ایکسپٹ کرو۔؟
مطلب زویان نے تمہارے لیے خود کو بدل لیا ہے مجھے لگتا ہے وہ بہت سیریس ہے تمہارے معاملے میں باقی تم دیکھ لو ہیر ۔۔
“ویسے میں نے سنا ہے دروازے پہ کھڑی محبت کو ٹھکراتے نہیں”

#

شانزے کے رات کے پہر آنکھ کھلی سر میں اٹھتی ٹیسوں کی وجہ سے شانزے دوبارہ آنکھیں بند کرگئ۔۔
دوبارہ ہمت کرکے اٹھی مگر جیسی ہی اسکی نظر براںر میں لیٹے بہزاد پہ پڑی وہ ایک دم چیخ پڑی۔
شانزے کی چیخ سن کر بہزاد جو جاگ رہا تھا ایک دم ریلکس انداز میں اٹھ کے اسکے قریب آنے لگا۔
شانزے اس سے ڈر کے جیسی ہی پیچھے ہونے لگی اسکی نگاہ اپنے کپڑوں پہ گئ یہ وہ کپڑے نہیں تھے جسمیں وہ اغواہ ہوئ تھی۔۔
شانزے نے سکتہ کی حالت میں پہلے بہزاد کو دیکھا اور پھر اپنے کپڑوں کو ۔۔ایکدم اس نے بہزاد کا کالر پکڑ کے چیخ کے کہا۔۔
“کرلی تم۔نے اپنی حوس پوری بہزاد برباد کردیا مجھے اب اب مجھے مجھے۔۔
شانزے تیزی سے اٹھ کے دروازے کی طرف جانے لگی جب بھاگتے ہوئے بہزاد نے اسے کمر سے پکڑ کے لاکے دوبارہ بیڈ پہ پھینکا اور جیسی ہی اس پہ جھکا شانزے ایک دم اسکے آگے ہاتھ جوڑ کے بلک بلک کے رو ہڑی۔۔
“مجھے جانے دو بہزاد مجھے برباد تو کردیا ہے تم نے مجھے مرجانے دو مجھے جینا نہیں ہے پلیز””
یہ جو تمہاری نیلی آنکھیں ہیں نہ آنسوؤں سے بھری زہر لگتی ہیں رونا بند کرو۔۔۔۔
شانزے نے اور زور زور سے رونا شروع کردیا
۔اگر گھر جاکے کسی کو بھی کچھ بتایا جو بھی تمہارے ساتھ ہوا تو یقین جانو تمہارے ماں باپ اسکی قیمت چکائنگے۔۔
اب یہ اپنے کپڑے بدلو گارڈ چھوڑ دینگے تمہیں۔۔۔
بہزاد کے اشارہ کرنے پہ شانزے کسی ریبورٹ کی طرح کپڑے اٹھا کے واش روم جانے لگی مگر فروٹ باسکٹ میں سے چھری اٹھانا نہیں بھولی مگر یہ بھول گئ تھی کے بہزاد بھی اسی کمرے میں موجود ہے شانزے جیسی ہی واش روم میں جانے لگی بہزاد نے چھری والا ہاتھ شانزے کا پکڑ کے کمرے کی طرف لیجاکے اسکے ہاتھ سے چھری لیتے ہوئے کہا۔۔
اگر آج کے بعد اپنے آپکو نقصان پہچانے کا سوچا تو تمہارے ماں باپ اسکا خمیازہ بھگتے گے ۔۔
یہ کہہ کر بہزاد نے شانزے کو چھوڑا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔۔
شانزے کو بہزاد کے گارڈ گھر کے پاس چھوڑ کے اگئے۔۔
شانزے اپنے گھر کی بیل بجاتے بجاتے بیہوش ہوگی۔۔
جاری ہے ۔