Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 44 ( part 2)

ہنزہ گھر سے نکل کے تیز تیز سڑک پہ چلنے لگی اسکی۔انکھوں سے تیزی سے آنسوؤں جاری تھے اسے اندازہ نہیں تھا بازل اسکے ساتھ ایسا بھی کرسکتا ہے ۔
“کس سے پوچھو ۔
ہے ایسا کیوں۔۔۔
بے زبان سا یہ جہاں ہے”
ہنزہ اس سے پہلے کسی ٹیکسی کو روکتی بازل ایک بار پھر اسکے سامنے اپنی کار لے کر اگیا۔
مگر وہ گاڑی سے نہیں اترا اس نے گاڑی کے پیچھے کا دروازہ ہنزہ کیلیے کھول دیا۔۔
سنسان سڑک تھی گاڑی بھی ایکا دکا چل رہی تھی۔۔ہنزہ نے پھر بھی بازل کی گاڑی کا رخ نہیں کیا۔۔
وہ آگے چلنے لگی جب بازل گاڑی سے اتر کر اس تک آیا ۔۔
گاڑی میں بیٹھو ہنزہ۔۔
اپنی شکل گم کرو پیدل چلی جاؤنگی ت گھر مگر تمہارے ساتھ نہیں جاونگی۔۔
بیٹھ جاؤ ہنزہ مجھے اور مت ستاو۔۔بازل یہ بول کے رونے والا ہوگیا۔
میں ستا رہی ہو تمہیں دماغ جگہ پہ تمہارا کیا بکواس کررہے ہو۔۔
اچھا ٹھیک ہے جو چاہے سزا دے لو بس گاڑی میں بیٹھ جاؤ میں با حفاظت تمہیں گھر چھوڑ دو پھر جو چاہے مجھے سزا دینا۔۔۔
ابھی بیٹھ جاؤ پلیز۔۔۔۔
بازل کا لہجہ اسکی آنکھیں اسکی حالت بیان کررہی تھی ہنزہ خاموشی سے اسکی گاڑی میں بیٹھ گئ۔۔

#

بلاج کا مشن کامیاب ہوا تھا وہ گھر لوٹنے کی تیاری کررہا تھا اسکے موبائل پہ بپ۔ہوئ تو اسنے موبائل چیک کیا۔
عترت کا میسج دیکھ کے اسنے اسکو ڈائریکٹ وڈیو کال ملادی۔۔
عترت جو نماز پڑھ کے بیٹھی اپنے نمبر پر بلاج کی وڈیو کال دیکھ کے اسنے کچھ دیر سوچا کال ایک بار آکے بند ہوچکی تھی دوبارہ کال آنے پہ اسنے کال اٹھالی۔
عترت کو سامنے دیکھ کے بلاج کچھ پل ٹہر سا گیا نماز کی طرح ڈوپٹہ باندھے وہ سیدھی اسکے دل میں اتر رہی تھی۔۔
وعلیکم السلام ۔۔
بلاج نے اسکے سلام کا جواب اسکے روبرو آکے دیا۔
خیریت آج میسج آیا تمہارا۔۔
بلاج نے انجان بن کے پوچھا جب کے اسکی تھوڑی دیر پہلے بہزاد سے بات ہوچکی تھی۔۔
وہ آپ سے اجازت لینی تھی۔۔؟
کس چیز کی؟
بی ایم کا ولیمہ ہے کل ۔۔
بی ایم کون ؟
بہزاد ماموں انہیں میں اور صنم بی ایم کہتے ہیں ۔۔
اچھا تو ؟؟
میں چلی جاو۔۔۔
مجھ سے اجازت لینے کیلے کال کری ہے تم نے ؟
بلاج نے اسے گھورتا ہوئے کہا۔
جی ۔۔عترت یہ کہہ کے نگاہ جھکا گئ ۔
ٹھیک ہے چلی جاؤ ۔۔۔
کل صبح کی فلائٹ ہے شام تک واپس اجاونگی ۔
ہمم اور ؟؟
بلاج جان بوجھ کے اسکی بات کو طویل دے رہا تھا یہ جانتے ہوئے کے وہ اسیے ویڈیو کال سے گھبراتی ہے۔۔
کچھ نہیں ۔۔عترت نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں مرورتے ہوئے کہا۔۔
اوکے دیھان سے جانا۔۔۔
یہ بول کے بلاج کال کٹ کرنے لگا جب عترت بول پڑی۔۔
اپ کب واپس ائینگے۔۔؟
کچھ پتہ کیا پتہ کبھی واپس نہ آؤ ویسے بھی تمہیں تو سکون ہوگا میں نہیں ہو ۔۔
بلاج نے یہ کہہ کے کال کٹ کردی۔۔بلاج کے ایسا کہنے پہ
عترت کی آنکھیں بھیگنے لگی۔۔۔

#

ابھی تو تم آئے ہو صائم پھر جارہے ہو؟؟
صنم کام بھی تو کرنا ہے۔۔
اچھا ادھر آؤ دور کیوں بیٹھی ہو۔؟
صائم اسے اپنے ایک دوست کے فلیٹ پہ لایا تھا ملنے کیلئے کیونکہ اسنوپیوں پہ ملنا صنم کو پسند نہیں تھا۔۔
صائم نے جھٹکے سے اسے اپنے طرف کھینچا اور اسکے لبوں پہ جھک گیا۔۔
صنم نے اسے پیچھے دھکیلنا چاہا مگر ناکام رہی صائم نے نے اسکے گلے کو چومنا شروع کردیا دیکھتے دیکھتے وہ اسکی شرٹ نیچے کرکے کندھوں پہ اپنے لب رکھ ے لگا ۔
صنم کو یہ سب تھوڑا عجیب لگا اسنے فورا جھٹکے سے صائم کو خود سے دور کیا اور ایک دم کھڑے ہوکر کہنے لگی۔۔
صائم یہ سب شادی کے بعد ابھی نہیں پلیز۔۔
صنم میں محبت کرتا ہو تم سے شادی بھی کرونگا بھروسہ نہیں تمہیں مجھ پہ بھروسہ کی بات نہیں ہے بھروسہ نہیں ہوتا تو یہاں اکیلی نہیں آتی تمہارے ساتھ بس یہ سب اب شادی کے بعد اب اٹھو مجھے گھر چھوڑو شام میں بی ایم کا ولیمہ کا۔۔
صنم کے کہنے پہ صائم نے غصہ میں گاڑی کی چابی اٹھائ اور فلیٹ سے نکل گیا پورے راستے صائم نے اس سے بات نہیں کری صنم کو گھر کے پاس چھوڑ کے صائم غصہ میں وہاں سے چلا گیا۔
صنم کو اندازہ ہوگیا تھا وہ ناراض ہوگیا ہے مگر اسے یہ بھی یقین تھا وہ اسے منالے گی ۔۔۔

#

عترت ہمت کرکے جہاز میں بیٹھ تو گئ تھی مگر اب اسے ڈر لگ رہا تھا ایک تو وہ اکیلے سفر کررہی تھی اوپر سے جہاز اڑنے والا تھا۔۔
اس نے اپنی آنکھیں کس کے بند کری اور جہاز کی سیٹھ کو مضبوطی بسے تھام لیا جب اسکے ہاتھ پہ کسی نے ہاتھ رکھا عترت نے ڈر کے اپنی آنکھیں کھولی ۔۔
اپنے برابر میں بیٹھے بلاج کو دیکھ کے جو عترت کو اگنور کیے بیٹھا تھا عترت نے حیران کن نظروں سے اسے دیکھا اور پوچھا۔۔
آپ بھی کراچی چل رہے ہیں بی ایم کے ولیمہ میں۔۔
عترت کی۔کسی بات کا جواب بلاج نے نہیں دیا وہ خاموشی سے آنکھیں موند کے سیٹھ سے ٹیک لگالی۔۔صبح بلاج نے بھی اسے آنے کو کہا تھا اور اگر وہ نہ بھی کہتا تو اسے ایک ضروری کام سے کراچی جانا تھا۔۔
جہاز نے جیسی اڑان بھری عترت نے بلاج کے ہاتھ پر اپنے ہاتھ کو اور دباؤ ڈالا۔۔
بلاج نے ٹیک اوف کرتے ہی عترت پہ سے اپنا ہاتھ ہٹالیا۔
کراچی ائیرپورٹ پہ بہزاد کے گارڈز پہلے سے گاڑی کے ساتھ موجود تھے۔۔
عترت کو انکے ساتھ بلاج نے روانہ کیا اور خود ایک ضروری کام سے چلا گیا۔

#

شکریہ یار بلاج تو اتنی دور سے ماما کو بلڈ دینے آیا ۔۔
ارے نہیں سلیم تو دوست ہے اور آنٹی میری ماں جیسی ہے یار شکریہ نہیں کر۔۔
چل اب میں چلتا ہو آنٹی کو دیھان رکھنا اوکے ۔۔
بلاج ہسپتال سے نکلنے لگا جب اسکا نام کسی نے پکارا۔۔
بلاج اپنے نام کی پکار پہ مڑا تو زین کھڑا تھا۔۔
زین کی شکل دیکھ کے ایک بار پھر بلاج کے زخم ہرے ہوگئے۔۔
وہ زین کو اگنور کرکے جانے لگا جب زین اپنی اسٹک کے سہارے تیز تیز چل کے بلاج تک پہنچ کے اسے روکا۔
شاید پہچانا نہیں تونے مجھے بلاج۔۔
جو دوست بن کے دغا کرتے ہیں انکی شکل بھولنے کے قابل نہیں ہوتی۔۔
دو منٹ پلیز کہی بیٹھ کے بات کرتے ہیں پلیز انکار مت کرنا۔۔
تجھے لگتا ہے زین آج بھی ہمارے درمیان کوئ بات ہوگی۔۔
پلیز بلاج۔۔۔
زین کے لہجے کی التجا سن کے بلاج اسکے ساتھ ایک کافی شاپ پہ آگیا ۔۔
زین نے دو کافی کا اڈ دیا اور کہا۔
آج اللّٰہ نے میری سن لی بلاج کب سے دعا مانگ رہا تھا کے ایک بار تم مل جاؤ تو میں اپنے دل کا بوجھ اتار لو۔۔
کیسا بوجھ۔۔؟؟
بلاج عترت بے قصور ہے اسکی کوئ غلطی نہیں تھی اس دن۔۔
زین عترت کے بارے میں ہم بات نہ کرے تو بہتر ہے بلاج نے غصہ میں ٹیبل پہ ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔
نہیں بلاج اللّٰہ نے مجھے کسی معصوم کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کی سزا دی ہے اور میں نہیں چاہتا میں ساری زندگی اپنے ضمیر کی عدالت میں۔ مجرم بنا کھڑے رہو۔۔
اسکے بعد زین نے یونی میں ہوا سارا واقعہ بلاج کو سنا دیا کے کس طرح اسنے عترت کو فورس کیا۔
زین کے منہ سے سچ سن کے بلاج کی آنکھوں سے آنسوؤں گرنے لگے۔
زین تجھے اندازہ نہیں تونے کیا کرا ہے اس چیز کی میں نے بہت بھیانک سزا دی ہے عترت کو بیوی ہونے کے باوجود اسکے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا ہے۔۔
بلاج نے اپنا سر اپنے ہاتھوں میں گرا لیا۔۔
کیا عترت سے شادی ہوگئ تیری یاالٰہی تیرا شکر ہے۔۔
بلاج اس نے خالی تیری عزت کی خاطر اس دن وہ سب کیا وہ تجھ سے محبت نہیں عشق کرتی ہے پلیز اب اسکے ساتھ کچھ غلط نہیں کرنا اور یہ دیکھ۔ میں ہاتھ جوڑ کے تجھ سے معافی مانگتا ہو کہے تو تیرے پاؤں پکڑ لو
۔زین نے واقعی میں بلاج کے پاؤں کا ہاتھ لگالیا۔
کیا کررہا ہے یار۔۔
بلاج نے اسے سینے سے لگایا تو زین بھی بلک پڑا۔۔
مجھے معاف کردے بلاج تجھ سے دوستی توڑ کے کبھی مجھے دوست نہیں ملا دیکھ کسی کے ساتھ غلط کرنے کی اللّٰہ نے ایسی سزا دی کے ایک ایکسیڈینٹ نے مجھ سے میرا بچہ میری بیوی کو لے لیا میں اپاہج ہوگیا۔۔
زین میں نے تجھے معاف کیا زین مگر تجھے عترت سے بھی معافی مانگنی چاہیے ۔۔
کہاں ہے عترت لے چل میں معافی مانگ لونگا اس سے۔۔
جاری ہے۔۔۔