Dastaan Ishq Muhabbat By Mariyam Khan Readelle50216 Episode 43 (part 2)
Rate this Novel
Episode 43 (part 2)
عزت سے اپنا سامان عاشر کے کمرے نکالو اور چلتی پھرتی نظر آؤ یہاں سے۔
ناشتہ کی ٹیبل پہ شانزے اپنے ہاتھوں سے عاشر کو ناشتہ کرواتے ہوئے اسکی گورنس کو بول رہی تھی۔۔
میں کیوں جاؤ میں کانٹریکٹ پہ ہو بہزاد صاحب نے پانچ سال کا کانٹریکٹ کیا ہے مجھ سے آپ ہیں کون؟
ایسے کیسے میں جاو؟
میں مسسز بہزاد راجپوت ہو۔۔
شانزے کے جملے پہ ناشتہ کی ٹیبل پہ آتے بہزاد کے قدم پل بھر کیلے رکے تھے ۔۔
عاشر میرا بیٹا ہے اور جسطرح تم نے اسے ڈرا کے اسکی شخصیت کو مجروح کیا ہے میرا بس چلے نہ تو تمہیں کتوں کے آگے ڈالودو۔۔
چلو نکلو یہاں سے اٹھاؤ اپنا بوریا بستر۔۔
سر سر یہ دیکھے یہ کیا بول رہی ہیں میم مجھے۔۔
اس گورنس نے جب بہزاد کو آتے دیکھا تو اسکے آگے رونا دھونا شروع کردیا بہزاد کو دیکھ کے شانزے تھوڑا ڈری تھی اسے یہ ڈر تھا کے کہی وہ گورنس کے سامنے اسکی بے عزتی نہ کردے۔۔۔
مگر بہزاد نے جو بولا وہ شانزے کیلے بھی کافی شاکڈ تھا۔۔
تم نے سنا نہیں مسسز بہزاد نے کیا کہا آپ ابھی یہاں سے جائے آپکا سامان آپ تک پہنچ جائے گا ۔۔
مگر سر م۔۔۔۔۔اس ے پہلے گورنس کچھ اور بولتے بہزاد ایک دم غصہ میں ڈھارا۔۔اسکی ڈھار سن کے جہاں گورنس ڈری تھی وہی شانزے نے بھی اپنی آنکھیں بند کرکے کھولی تھی۔۔
گارڈز گارڈز۔۔
جی سر ۔۔۔
بہزاد کی ایک پکار پہ گارڈز جن کی طرح نمودار ہوئے ۔۔
انہیں حفاظت کے ساتھ جہاں یہ کہے انہیں چھوڑ کے او۔۔۔
گورنس فورا سے بھی پہلے وہاں سے چلی گئ۔۔
اسکے جاتے ہی بہزاد نے جن نگاہوں سے شانزے کو دیکھا تھا وہ نگاہ جھکا گئ تھی۔۔
ماما آپ مجھے اسکول چھوڑنے جائینگی؟
عاشر کا شانزے کو ماما کہنے پہ بہزاد کے دل کو ایک سوکن سا ملا تھا۔۔
ہاں میری جان میں چلونگی آپ جلدی سے ناشتہ فنش کرو میں چینج کرکے آتی ہو۔۔۔
شانزے یہ بول کے اوپر کمرے میں چلی گئ عاشر ناشتہ میں مصروف ہوا تو بہزاد بھی اپنے کمرے کی طرف گیا۔۔
شانزے چینج کرکے باہر آئ تو بہزاد کوٹ پہن رہا تھا ۔۔
جب شانزے اسکی سامنے آکے کہنے لگی۔۔
میں کونسی گاڑی لے کر جاؤ۔
شانزے نے اتنے پیار سے کہنے پہ بہزاد نے حیران کن نظروں سے اسے دیکھا اور کہا۔
اتنی سیدھی تم ہو نہیں جتنی بن رہی ہو۔۔۔
بہزاد کی بات پہ شانزے کو پتنگے لگ گئے اور اسنے چڑ کے کہا۔۔
کیوں میں نے کیا ڈکیتیاں ماری ہوئ ہیں یہ پھر آتے جاتے لڑکوں کو سیٹیاں مار کے اپنے طرف مخاطب کرتی ہو جو آپ مجھے سیدھی نہ ہونے کا طعنہ دے رہے ہیں۔۔۔
رہنے دیں میں چلی جاؤنگی خودی یہ بول کے شانزے جیسی جانے کیلے مڑی تو اسکی کلائی بہزاد کے ہاتھ میں تھی اسنے جھٹکے سے اسکی طرف کھینچا پھر ہری اور نیلی آنکھوں کا تصادم ہوا۔
مسسز بہزاد راجپوت ہونے کا دعوا کررہی ہو اور پھر بھی کوئ کام کرنے کی اجازت طلب کررہی ہو جس گاڑی میں جانے کا دل کرے وہ گاڑی لیجاو ۔۔
یہ بولتے ہوئے بہزاد نے شانزے کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور چلا گیا۔۔
بہزاد کے جانے کے بعد شانزے نے اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کے کہا۔
یہ دیو۔ اتنی جلدی سدھر کیسے گیا۔۔
#
زویان ماشا سے کھڑے ہوکر باتیں کررہا تھا جب ہیر نے دور سے ان دونوں کو دیکھ لیا زویان نے ہیر کو دیکھ کے ہاتھ ہلایا مگر وہ پلٹ گئ۔۔
شاید تمہاری گرل فرینڈ کو تمہارا مجھ سے بات کرنا پسند نہیں ایا۔۔۔
زویان ماشا کی بات پہ کچھ بولا نہیں اور تیز تیز چل کر ہیر تک پہنچا زویان کی سانس بہت اسپیڈ میں چل رہی تھی ۔
یار میں نے تمہیں ہاتھ ہلایا تم پلٹ کیوں گئ کوئ رسپانس نہیں دیا۔۔
کیا رسپانس دو جائے بات کرے اپنی اس ماشا تاشا سے۔۔
اہیییی تم جلیس ہورہی ہو ۔۔؟
زویان نے ایک دم اسے روک کے اسکا رخ اپنی طرف موڑ کے کہا۔
ایک تو ایک ہفتہ بعد اپنی شکل دیکھارہے ہیں اوپر سے مجھ سے ملنے کے بجائے اس ماشا سے بات کررہے ہیں ۔۔
ارے ارے اتنا غصہ کیوں کررہی ہو۔۔؟؟
نہ کوئ کال نہ کوئ ٹیکس اچانک غائب ہوگئے اور اب آئے تو سیدھا ماشا سے باتوں میں لگ گئے تو غصہ نہیں آئے گا تو کیا پیار آئے گا آپ پر۔۔
اچھا ادھر آؤ میری بات سنو ضروری بات کرنی ہے تم سے۔۔۔
میں نہیں آرہی جائے ماشا کو بتائے۔۔
ہیر سیریس بات ہے آرہی ہو یہ نہیں؟؟
زویان کے لہجہ میں افسردگی تھی جیسے سن کے ہیر چونکی تھی۔۔
زویان نے ہیر کا ہاتھ تھاما تو اس نے کوئ خاص ریکٹ نہیں کیا اور خاموشی سے اسکا ہاتھ تھام کے چلنے لگی۔۔
زویان نے اپنے سامنے ہیر کو بیٹھایا اسکے گلے لگ کے اچانک رونے لگا ۔
ہیر نے زویان کو روتا دیکھا تو گھبرا گئ اور پریشانی کے عالم میں پوچھنے لگی۔۔
کیا ہوا ہے ؟
زویان ادھر دیکھے میری طرف پلیز روئے نہیں میرا دل بند ہو جائے گا پلیز بتائے کیا ہوا ہے کیوں رو رہے ہیں اپ؟؟
ہیر ہمارے درمیان جو پچھلے ایک مہینے سے جو ریلیشن تھا اسے بھول جاؤ ہیر ۔۔
زویان ۔۔۔۔۔ہیر ایک دم چیخی اور اسکا کالر پکڑ کے غصہ میں کہا۔
اگر یہ مذاق تھا تو بہت گھٹیا مذاق تھا میں اس کے لیے آپکو کبھی معاف نہیں کرونگی ۔۔۔
زویان نے اسکے ہاتھ آہستہ سے اپنے گریبان سے۔ ہٹائے اور کہا۔
میں اپنے ساتھ ساتھ تمہاری زندگی برباد نہیں کرنا چاہتا ہیر بات سمجھو۔
م اپنے میرے ساتھ ٹائم پاس کیا ؟
ہیر ۔۔۔اب کے چیخنے کی باری زویان کی تھی۔
میں نے ٹائم پاس نہیں کیا یہ لو پڑھو ۔۔
زویان نے اپنے بیگ میں سے کچھ نکال کے ہیر کو دیا جیسے پڑھ کے وہ ساکن رہ گئ۔۔
مجھے برین ٹیومر ہے ہیر ایک ہفتہ پہلے پتہ چلا مجھے کب کس وقت میری سانسیں بند ہو جائے کچھ پتہ نہیں میں تمہارے ساتھ اپنی پوری زندگی گزارنا چاہتا تھا ہیر بہت محبت کرتا ہو تم سے بول کے زویان نے روتے روتے ہیر کا چہرہ تھام لیا۔
مگر میں خود غرض ہوگیا تھا مگر اب مجھے سمجھ آگئ ہے اب تمہارے اور میرے راستے الگ ہیں ہیر۔۔
نہیں زویان ایسا مت کہے کوئ نہ کوئ حل نکل آئے گا۔
کوئ حل نہیں پاپا سب جگہ رپورٹ دیکھا چکے ہیں اب تو بس موت کا انتظار ہے ہیر۔۔
میرے لیے تم۔اپنی زندگی برباد مت کرو تمہیں اچھا سا اچھا لڑکا مل جائے گا ۔۔
نہیں زویان میری زندگی میں اب کوئ دوسرا شامل نہیں ہوسکتا آپکی جگہ میں کسی کو نہیں دے سکتی۔۔
ہیر نے روتے روتے پہلی بار زویان کو خود سے گلے لگالیا۔
۔پھر کرلو مجھ سے نکاح کل؟؟
کیا ؟
ہاں ہیر میںرے بچے کچے لمحہ تمہارے ساتھ محرم بن کے گزارنا چاہتا ہو ۔۔
مگر زویان میں ایسے کیسے۔۔؟
ہیر کے جواب پہ زویان ہلکا سا مسکرایا اور وہاں سے چلا گیا۔۔
ہیر خوشبو کیا آپکو زویان اظہر سے 2 لاکھ حق مہر سکہ رائج الوقت وقت نکاح قبول ہے؟؟
رات بھر سوچنے کے بعد اسنے فیصلہ کیا وہ زویان سے کل نکاح کرلے گی محرم بن کے اسکا دیھان رکھے گی اسے یقین تھا اسکی انی اسکی بات سمجھے گی اسکی دوست سدرہ نے اسکا ساتھ دیا تھا اسے یقین تھا ہیر جو کررہی ہے صحیح کررہی ہے ۔۔
قبول ہے ۔۔قبول ہے ،قبول ہے۔۔
زویان اور ہیر کا نکاح ہوچکا تھا ہیر نے ایک بار بھگتی آنکھوں سے اپنے برابر میں بیٹھے زویان کو دیکھا تھا ۔
سدرہ اور زویان کے ایک دو دوست اس نکاح میں شامل تھے یہ زویان کا ہی فلیٹ تھا فلحال اس نے اپنے پیرنٹس سے بھی یہ بات چھپائی تھی۔۔
ریڈ کلر کے سپل سے سوٹ میں ہلکا سا میک اپ کرے ہیر زویان کو بہت حسین لگ رہی تھی ۔۔
ان دونوں کو آج رات اکیلا چھوڑ دیا گیا تھا ۔۔
یقین نہیں آرہا ہیر تم میری بن گئ۔
یقین تو مجھے بھی نہیں آرہا زویان بس اب میں آپکا دیھان رکھونگی انشاء اللہ آپ بہت جلد ٹھیک ہوجائیینگے۔۔
ہیر کے بولنے پہ زویان اسے دیکھتا رہا پھر اچانک اسکے لبوں کو چوم لیا ۔۔
ہیر نے اسے اپنے آپ سے الگ کرکے کہا۔۔
زویان یہ غلط ہے۔۔
کیوں غلط ہے ہیر بیوی ہو تم میری مجھے جینے دو یہ لمحہ کیا پتا یہ لمحہ ہی میری زندگی بڑھا دے۔۔
مگر زویان ۔۔
اگر مگر کچھ نہیں آج رات تم خود کو مجھے سونپ دو۔
یہ بول کے زویان نے اسکے لبوں کو ایک بار پھر چوما اسکا ڈوپٹہ اتار کے سائیڈ میں رکھا ۔۔
زویان پلیز ۔۔۔
ہیر پلیز آج مجھے نہیں روکو ہم کوئ غلط کام نہیں کررہے ۔
زویان نے اپنی شرٹ اتاری اور ہیر پہ جھک گیا۔۔لائٹ بند ہوتے ہی زویان نے ہیر کو چومنا شروع کردیا۔۔
گلے پہ اپنے لب رکھتے ہی زویان نے اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں دبا لیے تھے۔۔۔
ہیر کی بس سانسیں چلنے کی آواز آرہی تھی زویان اس پہ۔اہنا پیار بھر پور طریقے سے نچھاور کررہا تھا ہیر نے زویان کے کندھوں کو مظبوطی سے تھاما ہوا تھا ہیر کے پورے جسم پہ زویان قبضہ کرچکا تھا اسنے ہیر کو اتنا چوما کے ہیر کی سانسیں تیز چلنے لگی ۔
زویان اظہر ہیر خوشبو سے تعلق جوڑ چکا تھا اس سے اپنا حق وصول کرچکا تھا جب اسنے ہیر کی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں پہ اپنے لب رکھے تھے پوری رات زویان ہیر کو اپنے عمل سے بتا رہا تھا وہ اس سے پیار کرکے کتنا پرسکون یے۔۔۔
صبح ہیر کی آنکھ کھلی تو اسکا سر زویان کے سینے پہ تھا اسنے آہستہ سے اپنے کپڑے اٹھائے اور فریش ہونے چلی گئ ۔۔
مگر جب فریش ہوکے باہر نکلی تو زویان اسے نظر نہیں آیا وہ کمرے سے باہر نکل کے ٹی وی لانج تک گئ مگر وہاں کا نظاراا دیکھ کے اس کے منہ سے خالی نکلا۔۔
زویان۔۔
زویان ماشا کے لبوں پہ جھکا اسے چوم رہا تھا۔۔
ہیر کو دیکھ کے اسنے اور شدت سے ماشا کے لبوں کو چومنا شروع کردیا دیکھتے دیکھتے زویان کے گروپ کے سارے لڑکے لڑکیاں جمع ہوگئے روبرٹ اور اسکا گروپ بھی آگیا تھا۔۔
ہیر کو لگا وہ اگلی سانس نہیں لے پائے گی۔۔
زویان دھیرے سے چلتا ہوا ہیر کے پاس آیا اور کہا۔
ویسے اب پتہ تو چل گیا ہوگا تمہیں پوری رات کے میں مرد ہو یہ کھڈرا۔۔۔
زویان کے لفظ پہ ہیر کے قدم لڑکھڑائے تھے اسنے دیوار کا سہارا لیا۔۔
جب روبرٹ نے اسے شرٹ جیتنے کی مبارک باد دینے کیساتھ ساتھ پچاس ہزار ڈالر بھی دیے۔۔
افف کیا کیا ناٹک۔کرنا پڑا تمہیں خالی اپنے بستر تک لانے کیلے ہیر میڈم بہت اڑ رہی تھی نہ یونی کے پہلے دن ۔۔
یو تم نے میرے جنسس کو نشانہ بنایا تھا زویان نے غصہ میں ہیر کے بالوں کو اپنی مٹھی میں لیا ۔
مگر ہیر اسکی نظر ساکن تھی جو زویان پہ گڑی تھی اسکے چہرے پہ کہی بھی تکلیف کے آثار نہیں تھے وہ بس ساکن تھی۔۔
ویسے ہو تم بہت ہاٹ مزہ آیا کل رات۔۔
زویان نے اسکے بالوں کو چھوڑتے ہوئے کہا۔۔
ماشا نے آگے بڑھ کے اسے ایک زور دار تھپڑ مارا پھر بھی ہیر کی نظریں زویان پہ سے نہیں ہٹی۔۔
وہ کسی لاش کی طرح اس جگہ سے جانے لگی جب زویان نے کہا۔
آج کوئ ہنگامہ نہیں کرونگی ویسے جنس میری ہے کیا یہ تو پوری رات تمہیں میں نے اچھے سے سمجھا دیا مگر یہ بات بھی سنتی جاؤ میں صرف ماشا سے محبت کرتا ہو۔۔
ہیر نے پھر بھی کچھ نہیں کہا وہ خاموشی سے وہاں سے جانے لگی جب زویان نے پھر اسکا راستہ روکا۔اور کہا۔
آج ماروگی نہیں مجھے ۔۔
میں تو سوچ رہا۔ تھا آج گڑگڑاوگی میرے اگے؟؟
ہیر نے ایک نظر زویان کو دیکھا اور اپنے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے کہا۔۔
میں نے اپنا معملہ اللہ پہ چھوڑا اپنے مجھ سے بدلہ لیا مگر میں تو محبت کی تھی آپ سے گڑگڑاکے بھی اپنے مجھے دھتکارنا ہے تو اپنے اللّٰہ کے آگے نہ گڑگڑا لو۔۔
بس اتنا کہونگی۔۔
“اپنوں کے علاؤہ کسی پہ بھروسہ نہیں کرنا۔
پردیس میں کسی سے محبت نہیں کرنا
۔
ہیر کے قدم کڑکھڑا رہے تھے مگر وہ پھر بھی وہاں سے چلی گئ بنا زویان سے کوئ شکوہ کیے۔۔۔
جاری ہے۔۔
