Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 40

نہیں سدرہ میرا دل نہیں مان رہا اکیلے جانے کا۔۔
دل نہیں مان رہا وہ الگ بات ہے ہیر مگر میرا جانے کا ایشو مت بناو۔۔۔
ایک بات کہو ہیر برا نہیں ماننا۔۔۔
ہاں بولو۔۔۔
پہلے کے زویان میں اور اب کے زویان میں زمین آسمان کا فرق ہے مانتی ہو ہماری پہلی ملاقات اسکے ساتھ کافی خراب رہی مگر اسکے بعد اس نے کئ جگہ تمہارے لیے اسٹینڈ لیا۔۔
میرا تو مشورہ ہے کے تمہیں جانا چاہیے ہیر اور ویسے بھی مجے پرسوں کیلے پریزنٹیشن بنانی ہے تم آج سمٹ کروا چکی ہو کل کا اوفف ہے تمہارا چلی جاؤ اسکا دل رکھنے کیلے آفٹر آل تمہارے لیے زویان پورا بدل چکا ہے۔۔
سدرہ کی باتوں پہ ہیر فلحال خاموش رہی مگر اسکا دل مان چکا تھا زویان پہ بھروسہ کرنے کیلے۔۔
صبح زویان یونی کے باہر اپنی گاڑی سے ٹیک لگا کے کھڑا ہیر ویسے اسے منع کرچکی تھی مگر اسکا دل بول رہا تھا وہ اجائے گی اور شاید دل کبھی غلط نہیں ہوتا وہ اسے آتی دیکھائے دی وائٹ کلر کی سمپل فراک میں م۔
زویان کو وہ کوئ وائٹ پری لگ رہی تھی بالوں کو میسی سا جوڑا بنائے ہم رنگ اسکارف پہنے وہ مسکرا کے زویان کو دیکھ کے چلتی آرہی تھی۔۔
زویان کے قریب پہنچ کے ہیر نے مسکرا کے کہا۔۔
جو انسان میرے لیے خود کو بدل لے اس پہ بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔۔۔
ہیر کے لفظوں پہ پل بھر کیلیے زویان کہی کھو گیا۔۔۔
ہےےے۔۔۔
چلنا نہیں ہے یہ میں جاو۔۔ہیر نے اسکے آگے چٹکی بجاتے ہوئے کہا۔۔
ہیر کے کہنے پہ زویان نے فرنٹ ڈور کھولا ۔۔ہیر کے بیٹھتے ہی زویان کے لب مسکرائے تھے گھوم کے آگے اسنے گاڑی کی فرنٹ سیٹھ سنبھالی اور گاڑی زن سے آگے بڑھا دی۔۔

#

چھوڑو مجھے کوئ ہے بچاؤ مجھے بچاو۔۔
شانزے ان لڑکوں سے گاڑی میں اپنے آپ کو چھڑوا رہی تھی جب ان میں سے ایک نے شانزے کو کلوروفوم سونگھا دیا۔۔
شانزے کے بیہوش ہوتے ہی تینوں نے شانزے کے جسم سے جیسی ڈوپٹہ ہٹایا ایک دم زور دار آواز آئ انکی گاڑی لڑکھڑاتے ہوئے سامنے فٹ پاٹھ سے ٹکرائ۔۔۔انکی۔گاڑی کا ٹائر پھٹ چکا تھا کسی کی گولی سے۔۔
اچانک کسی نے انکی گاڑی کا گیٹ کھولا اور باری باری ان تینوں کا باہر نکالا۔۔۔
تینوں کو باہر نکالتے ہی کسی نے آواز دی۔۔
سر یہ رہے وہ تینوں۔۔۔۔
گارڈ کی آواز سنتے ہی بہزاد ہاتھ میں ہنٹر لیے گاڑی سے باہر نکلا اور اندھا دھند ان لڑکوں کو مارنا شروع کردیا۔۔
سنسان سڑک پہ ان تینوں کی چیخی موت کی چیخیں معلوم ہورہی تھی۔۔
تھوڑی دیر بعد بہزاد نے ہنٹر اپنے گارڈ کے حوالے کیا اور کہا۔۔
ان تینوں کو اتنا مارو کے نہ تو ان میں زندہ رہنے کی امنگ ہو اور نہ موت انکو گلے لگائے۔۔۔
یہ تنیوں مجھے میرے فارم ہاؤس پہ چاہیے۔۔
یس سر۔۔
گارڈ نے بہزاد سے ہنٹر لیا اور دوبارہ انہی مارنے لگا
بہزاد نے گاڑی کو گیٹ کھولا تو شانزے ہوش و خروش سے بیگانی بیہوش پڑی تھی ڈوپٹہ اسکا سیٹ سے نیچے گرا پڑا تھا۔
شانزے کو اس حالت میں دیکھ کے بہزاد کا غصہ ساتویں آسمان پہ پہنچ گیا۔
اسنے شانزے کو گاڑی سے باہر نکالنے کے بجائے دوبارہ ان لڑکوں کی طرف آیا اور ان میں سے ایک کو اپنے سامنے کھڑا کرکے ایک زور دار گھونسا اسے رسید کرکے پوچھا۔۔
کیا کیا ہے اسکے ساتھ اور کیوں؟؟؟؟
سر ہمیں معاف کردے ہمیں نہیں پتہ تھا یہ آپکی جاننے والی ہیں ورنہ ہم کبھی بہزاد راجپوت کی فیملی پہ ہاتھ نہیں ڈالتے ہمیں تو جان بوجھ کے یہ سب کرنے کو کہا اور یہ بھی کہا تھا کے ہم جو چاہے انکے ساتھ ۔۔۔۔۔
مگر قسم لے لے سر ہم نے انہیں صرف بیہوش کرا ہے انہیں چھوا تک نہیں۔۔
یہ سن کے بہزاد نے ایک گھونسا اور اس لڑکے کے منہ پہ مارا اور کہا باقی کی اسٹوری میں تم سے بعد میں سنونگا۔۔
لے جاؤ ان سب کو۔۔۔
بہزاد نے گاڑی میں جھک کے پہلے شانزے کا ڈوپٹہ نیچے سے اٹھاکے اسے اڑایا اور پھر اسے اپنی باہنوں میں اٹھا کے اپنی گاڑی میں لٹایا۔۔
ڈارائیور سے چابی لے کر گاڑی خود ڈرائیو کرکے اسے اپنے فارم ہاؤس لے گیا۔۔

#

بازل کسی سے فون پہ بات کررہا تھا جب ہنزہ بنا ناک کیے اسکے کمرے میں داخل ہوئ ہاتھ میں چکن شاشلک وڈ رائس لے کر۔۔۔
بلیک سمپل سے سوٹ میں ہنزہ بازل کے دل کو بے ایمان کررہی تھی ۔۔۔مگر بازل نے یہ بات قبول۔کرنے سے اپنے دل۔کو منع کردیا۔۔
ہنزہ نے کھانے کی ٹرے اسکے بیڈ پہ رکھی اور کھانے لگی۔
بازل نے کال کٹ کرکے غصہ میں جو کے مصنوعی تھا ہنزہ کو کہا۔
میرے کمرے میں کیا کررہی ہو؟
دیکھ نہیں رہا تمہارا فیورٹ ڈش اپنے ہاتھوں سے بناکے لائ ہو اتنی ٹف روٹین کے باوجود ۔۔۔
ہاں تو مجھے نہیں کھانا جاؤ یہاں سے”
بازل اگر اب تم نے مجھے دھتکارا تو یاد رکھنا جب میں رٹھونگی تو ایسا غائب ہونگی کے یاد رکھوگے پورے 20.گھنٹوں سے میں منا رہی ہو تمہیں۔۔
بازل اسے گھورتا رہا مگر بولا کچھ نہں۔۔
ٹھیک ہے رہو ناراض اب میں بھی ناراض ہونے جارہی ہو۔۔
ہنزہ نے کھانے کے ٹرے وہی چھوڑی اور جیسی ہی جانے کیلے قدم بڑھائے اسکی کلائ۔بازل۔کے ہاتھ میں تھی بازل نے اسے جھٹکے سے اپنی طرف کھینچا ۔ہنزہ اسکے سینے سے ٹکرائی اور کہا۔۔
ترس نہیں آتا مجھ پہ کل سے منا رہی ہو۔۔
تمہں آیا ترس مجھ سے فضول کی بکواس کرکے۔۔
مزاق تھا بازل ۔۔۔
مجھے نہیں پسند نہ ایسا مذاق نہ ایسی بات جو مجھے تم۔سے دور رکھنے کے متعلق ہو ۔
اچھا یہ لو کان پکڑ رہی ہو میرے بابا جانی کی توبہ آج کے بعد میں اسی کوئ بات کرو یہ پوچھو۔۔
اب چھوڑ بھی دو کہی کس وس تو کرنے کا نہیں سوچ رہے۔۔
ہنزہ کی بات پہ بازل نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
تم مجھے خود سے صحیح طریقے سے ناراض بھی ہونے نہیں دیتی۔۔
یہ بول کے بازل نے ہنزہ کے ماتھے پہ اپنے لب رکھ دیے۔۔
بلکل اور ہونا بھی نہیں چاہیے ناراض ہونے کا ڈیپارٹ میرا ہے ۔۔
اچھا میری جان اب جلدی سے کھلاؤ مجھے میری فیورٹ ڈش کل سے کچھ نہیں کھایا میں نے۔۔۔
ہنزہ اور بازل دونوں مل کے کھانا کھا رہے تھے جب بابر صاحب کی آواز پہ بازل کھانا چھوڑ کے نیچے گیا۔۔۔

#

عترت ویسے تو جہاز اڑتے وقت بہت زیادہ ڈر رہی تھی مگر بلاج پہ شو نہیں کرہی تھی۔۔
مگر عترت بھول رہی تھی کے بلاج اور اسکا ساتھ چند دنوں کا نہیں سالوں کا ہے۔۔
جہاز نےجسی اڑان بھری عترت نے پوری مضبوطی سے آنکھیں بند کرکے اپنا چہرہ بلاج کے سینے میں چھپا لیا اور اسکی شرٹ کو مضبوطی سے تھام لیا ۔
کسی احساس کے تحت بلاج نے بھی اسکے کندھے پہ اپنے ہاتھ پھیلائے تھے۔۔
بلاج کا ہاتھ رکھنا تھا کے عترت کرنٹ کھا کے اس سے دور ہوئ یہ لمحہ بلاج کیلے کافی شاکڈ تھا مطلب وہ خود تو اسکے پاس آئ تھی بلاج نے سوچتے ہوئے عترت کو دیکھا اور عترت نے آنکھیں بند کرکے جہاز کی سیٹھ کو تھام لیا۔۔
پورا سفر عترت نے ایسے گزارا جیسے بلاج اسکے لیے انجان ہو۔۔۔
پنڈی کے رستوں کو عترت کافی پرسکون انداز میں دیکھ رہی تھی اور جب وہ اپنے سسرال اپنے گھر پہنچی تو ہاں بلاج نے دیکھا وہ گھر دیکھ کے مسکرائے تھی۔۔۔۔

#

اففف زویان مجے بہت ڈر لگ رہا ہے یہ بہت اونچا ہے۔۔۔
توکیا ہوا میں ہونا تمہارا ساتھ۔۔
لندن کے مشہور رولر کوسٹر میں بیٹھتے وقت ہیر کافی ڈر رہی تھی مگر زویان کی ضد پہ اسے بیٹھانا پڑا۔۔۔
رولر کوسٹر چلتے ہی ہیر کی چیخ نکلی
ارے ہیر کیا کررہی ہو چیخ کیوں رہی ہو میری ماں پٹوانا ہے مجھے یہاں۔۔
زویان اسے رکواو پلیز۔۔۔مجھے اونچائی سے ڈر لگتا ہے۔۔
ہیر تقریبا رونے والی ہونے لگی۔۔
اچھا ادھر آؤ میرے پاس زوین نے بہت پیار سے اسے اپنے پاس بلایا۔۔
ہیر جو زویان کے سامنے بیٹھی تھی تیزی سے زویان کے پاس ای۔۔زویان نے ایک۔ہاتھ اسکے کندھے پہ رکھ کے اسے خود سے قریب کیا اور کہا۔۔
آنکھیں بند کرکے میرے ساتھ بیٹھی رہو ڈر نہیں لگے گا۔۔
زویان کے لہجہ میں کچھ ایسا تھا کے ہیر نے پہلے غور سے زویان کو دیکھا اور پھر اسکے سینے پہ سر کھ کے اسکی کمر کے پیچھے سے ہاتھ نکال کے اس سے لگ کے بیٹھ گئ۔۔۔
کب رولر کوسٹر روکا ہیر کو پتہ نہیں چلا مگر ہیر کے اتنی قربت پہ زویان کا خود کو سنبھلنا بہت مشکل ہوگیا۔
لندن برج پر کھڑے وہ دونوں کافی سے لطف اندوز ہورہے تھے جب زویان نے اسکے آگے ایک گفٹ باکس دیا اور کہا۔۔
ہیر ۔۔۔
ہم یہ میرے طرف سے تمہارے لیے ۔۔۔
کیا ہے اسمیں؟؟
ہاسٹل جاکے دیکھنا مگر میں اس سے پہلے کچھ کہنا چاہتا ہو۔۔؟؟
ہیر اس سے پہلے کچھ سمجھتی زویان اسکے قریب آیا بے حد قریب اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
مجھے زویان اظہر کو تم۔سے محبت ہوگئ ہے ہیر ۔۔
کب کیسے پتہ نہیں مگر تم دل کا سکون بنتی جارہی ہو نہیں جانتا تمارا جواب کیا ہوگا مگر یہ دل تم پہ فدا ہے۔۔۔
زویان مجھے ہاسٹل جانا ہے ابھی۔۔
زویان نے ہیر کی گھبراہٹ دیکھتے ہوئے اسے ہاسٹل چھوڑا مگر گفٹ اسکے بیگ میں ڈالنا نہیں بھولا۔۔
جاری یے۔۔۔