Dastaan Ishq Muhabbat By Mariyam Khan Readelle50216 Last Episode Last Part
Rate this Novel
Last Episode Last Part
سکون سے شانزے اور عاشر انکھیں بند کرکے گاڑی میں بیٹھے تھے ۔۔تھکن اتنی ہوگئ تھی کے شانزے کو گاڑی میں ہی نیند اگئ۔
مرتضی بھی اپنی دھن میں گاڑی چلا رہا تھا کے ایک دم مرتضی نے گاڑی کو بریک لگایا۔۔۔
شانزے ایک دم جھٹکے سے اٹھی ۔۔۔
مرتضی بھائ گاڑی کیوں روک دی۔۔؟
بھابھی دیکھے شاید وہ کوئ پڑا ہے روڈ پہ خون بھی پڑا ہے سڑک پہ۔۔
شانزے نے مرتضی کے کہنے پہ سامنے دیکھا تو واقعی کوئ روڈ پہ پڑا تھا اور اسکے سر کے پاس بہت سارا خون بھی پڑا تھا۔۔
مرتضی بھائ اپ جاکے دیکھے!!
نہیں بھابھی۔ویسے ہی یہ سڑک سنسان ہے میں ایسے رسک نہیں لے سکتا تھا۔
ارے مرتضی بھائ بچارے کو کوئ مار کے چلا گیا جاکے دیکھے زندہ ہو کیا پتہ۔۔۔
شانزے کے اصرار پہ مرتضی نیچے اترا مگر افسوس اسکی گن گاڑی میں رہ گئ۔۔
مرتضی نے جیسے ہی ذمین پہ پڑے بندے کا صحیح کیا اسنے مڑتے ہی فورا مرتضی پہ چاقو سے وار کیا۔۔
ادھر مرتضی پہ وار ہوا ادھر شانزے کے اوسان خطا ہوئے ۔
اس سے پہلے وہ گاڑی کا ڈور لاک کرکے گاڑی خود چلاتی کسی نے اسکی طرف کا گیٹ کھولا اور اسکے ماتھے پہ پسٹل رکھ کے اسے باہر انے کا اشارہ کیا۔۔
شانزے نے جیسی ہی پسٹل رکھنے والے کو دیکھا تو غصہ میں کہا۔۔
مراد جانے دو ہمیں ورنہ بہت بھاری قیمت چکانی پڑے گی تمہیں۔۔
شانزے کی بات پہ مراد نے اسکو بالوں سے پکڑ کے باہر نکالا تو گاڑی میں بیٹھا عاشر رونے لگا۔۔
مراد نے اسے باہر نکال کے ایک زور دار تھپڑ شانزے کے منہ پہ مارا ایک دم اسکا سر گاڑی سے ٹکرایا تو خون نکلنے لگا۔۔
مراد اور اسکے ساتھیوں نے ان تینوں کو اپنی گاڑی میں ڈالا اور لے گئے۔۔
مرتضی بری طرح زخمی تھا پھر بھی اسے وہ لوگ بری طرح مار رہے تھے جبکے دوسری طرف مراد کیساتھ لبنا کو دیکھ کے شانزے جھٹکوں میں اگئ۔۔
لبنا نے جیسی ہی شانزے کو ٹھپڑ مارا عاشر ڈورتا ہوا شانزے سے لپٹ گیا۔۔
عاشر بیٹا میرے پاس آؤ یہ اچھی عورت نہیں ہے میں اپکی۔ماما ہو۔۔
نہیں ہو اپ میری ماما!!.عاشر نے کافی چیخ کے یہ بات کہی جیسے سن کے لبنا دو منٹ کیلئے لبنا خاموش ہوگئ ۔۔
مگر اسنے پھر بھی عاشر کو کھینچتے ہوئے شانزے سے دور ہوا اور لگاتار شانزے کے منہ پہ ٹھپڑ مارے۔۔
لبنا کی انگلیوں میں موجود انگھوٹی لبنا کا چہرہ کافی زخمی کرچکی تھیں۔۔۔
لبنا مار کے ہٹی تو مراد شانزے کو مارنے کیلئے جسی اگے بڑھا بہزاد کی اواز گونجی۔۔
ایک اور ہاتھ لگایا تونے اسے مراد تو ساری زندگی تو اپنے ہاتھوں کیلئے ترسے گا۔۔
اتنا بول کے جیسی ہی اگے بڑھنے لگا کسی نے پیچھے سے اسکے سر پہ زور سے ڈنڈا مارا ۔۔
ڈانڈا اتنا زور سے مارا گیا کے بہزاد کے سر سے تیزی سے خون۔نکلنے لگا۔۔
بہزاد نے جب گردن گھما کے مارنے والے کو دیکھا تو لبنا تھی۔۔
بہزاد اپنا سر پکڑ کے تیزی سے نیچے بیٹھا۔۔
بہزاد۔۔۔۔۔شانزے کی ایک دلخراش چیخ نکلی وہ ڈورتی ہوئ بہزاد کے پاس جانے لگی تب مراد نے اسکا ہاتھ پکڑ کے کھینچا۔۔
اج میں تمہیں بتاؤ گا کے تمہارے ٹھپڑ کتنی زور سے پڑا تھا میرا۔۔
اتنا بول کے مراد نے شانزے کی ساڑھی کا پلو پکڑ کے کھینچا۔۔
نہیں نہیں مراد۔۔شانزے بری طرح چیخنے لگی مگر مراد نے اسے اپنے طرف کھینچا ۔۔
بہزاد کھولتی بند انکھوں سے یہ منظر دیکھ رہا مگر پھر بھی ہمت کرکے اٹھا اور مراد کو گدی سے پکڑ کے شانزے سے دور کیا۔
لبنا نے جیسی ہی بہزاد پہ فائر کرنا چاہا ایک تیز دھار چاقو لبنا کا ہاتھ چیرتا ہوا چلا گیا۔
لبنا اپنا ہتھ پکڑتے ہوئے بری طرح چیخنے لگی۔۔
زویان کا نشانہ کبھی نہیں چوکتا۔۔
زویان نے خود کو داد دی۔۔
ماموں۔۔
صائم کی نظر جیسے ہی بہزاد پہ پڑی وہ اس تک تیزی سے ایا۔۔
زویان اور بازل نے لبنا مراد ااور اسکے ساتھیوں کی خوب دھلائ کی اتنے میں پولیس بھی پہنچ گئ۔۔
مگر بہزا اور شانزے بیہوش ہوچکے تھے۔۔
عاشر اور مرتضی کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا۔۔
پولیس مراد اور لبنا کو پکڑ کے لیجا چکی تھی۔۔
زویان ماموں اور شانزے کی حالت ٹھیک نہیں انہیں فورا ہسپتال لے کے چلو۔۔۔
صائم نے شانزے کو گودھ میں اٹھایا۔
زویان اور بازل نے مرتضی عاشر اور بہزاد کو جیسے تیسے گاڑی میں ڈالا اور ہسپتال کیلئے نکلے۔۔
#
ہسپتال کا پورا کوریڈور بھرا تھا مگر ہر طرف خاموشی تھی بہزاد کو ہوش اگیا تھا مگر شانزے ابھی تک ائ سی یو میں تھی ایک گھنٹہ ہونے کو ایا تھا مگر کوئ ڈاکٹر ابھی تک ائ سی یو سے باہر نہیں ایا تھا۔۔
بہزاد اپنی تکلیف کی پراوہ کیے بنا شانزے کی زندگی کیلئے دعاگو تھا۔۔
مزید ادھے گھنٹے بعد ائ سی یو کا روم کھلا تو ڈاکٹرز باہر ائے۔۔
میری وائف کیسی ہے ؟؟بہزاد نے تقریبا روتے ہوئے یہ بات پوچھی۔۔
اپکی وائف اپ ٹھیک ہے اور اپکے بے بیز بھی !ڈاکٹر نے مسکرا کے یہ بات کہی۔۔
بے بیز مطلب؟؟
بہزاد کیساتھ ساتھ یہ بات تقریبا وہاں موجود سب نے ایک ساتھ پوچھی۔۔
جی بہزاد سر اپکی وائف پریگننٹ ہے اور اپکے ٹریپل ہیں بے بیز۔۔
ڈاکٹر کی بات پہ بہزاد خوشی سے ایک دم شاکڈ ہوگیا اور وہی سجدے میں گرگیا۔۔
#
ایک سال بعد !!
ایک سال میں بہت کچھ بدل گیاتھا جہاں سب ہی خوش تھے زویان اور ہیر لندن سے واپس ارہے تھے زویان ہیر کو لندن لے کے گیا تھا تاکہ وہ اپنا خواب پورا کرسکے جو اسکی وجہ سے ادھورا رہ گیا تھا۔۔
ابھی وہ دونوں ائیرپورٹ کیلئے نکل رہے تھے کیونکہ پرسوں بہزاد کے بچوں کا عقیقہ اور پہلی سلگرہ تھی۔
زویان نے گاڑی سگنل پہ روکتے ہوئے ایک نظر اپنی برابر میں بیٹھی ہیر کو دیکھا جو مزے سے ملک شیک پی رہی تھی۔۔۔
بازل کی نظر ہیر سے ہوتی ہوئی سامنے گئ جہاں گاڑی میں موجود دو لڑکے مسلسل ہیر کو دیکھ رہے تھے اور وجہ زویان اچھی طرح جانتا تھا ۔۔
زویان نے اپنی مٹھیاں بھینچی اور ہیر سے کہا۔۔
ہیر؟مم۔۔
میری گودھ میں آکے بیٹھو۔۔
ہیر جو مزے سے شیک پی رہی تھی زویان کی بات سن کے ایک دم اسے پھندا لگا اور اس نے کہا۔۔
واٹ ؟
میں نے کہا میری گودھ میں آکے بیٹھو۔۔
زویان مگر میں کیسے یہاں گاڑی میں پاگل ہوگئے ہو۔۔۔
ایک دفعہ اور تم نے بحس کی تو انجام بھگتے کیلیے تیار رہنا۔۔
ہیر جانتی تھی زویان کو اس لیے اسنے بحس کرنا ترک کیا اور خاموشی سے زویان کی گودھ میں بیٹھنے کیلئے اٹھی زویان نے اسٹیرنگ پہ سے ہاتھ ہٹایا ایک ہاتھ ہیر کی کمر پہ رکھ کے اسے اپنی گودھ میں بیٹھایا۔۔
ہیر کا چہرہ زویان کی گردن میں چھاپا تھا زویان نے اسی پوزیشن میں گاڑی کا اسٹرینگ سنبھالا۔۔
ایک نظر جیسی ہی اسنے ان لڑکوں پہ ڈالی ان لڑکوں نے فورا اپنی نگاہ کا زاویہ تبدیل کیا۔۔۔۔
#
ماما !!
ہاں ماما کی جان۔۔
شانزے نے روحان کو تیار کرتے ہوئے حاشر سے کہا جو ہاتھ میں ٹائ لے کے اداس سا شانزے کا پکار رہا تھا۔
ماما میں نے پاپا سے کہا پاپا میری ٹائ باندھ دیں تو کہنے لگے میں اپنی پرنسس کو تیار کو کررہا ہو ۔۔
“سوری”
عنایہ کو نجانے کون کون سے کلپ لگا لگا کے چیک کررہے ہیں مجھے ٹائ نہیں باند رہے۔۔
کیا ایسا کہا پاپا نے؟؟شانزے نے کمر پہ ہاتھ رکھ کے غصہ سے پوچھا۔۔
ہاں ماما!!
ابھی بتاتی ہو اس کنگ اور اسکی پرنسز کو ہمت کیسے ہوئ میرے شہزادے کو منع کرنے کی۔۔۔
شانزے نے روحان اور ارحان کو تیار کرکے نیچے پارٹی میں بھیجا گورنرس کے ہاتھ اور خود بہزاد کی خبر لینے پہنچی مگر افسوس وہ اپنی پرنسز کو لے کر پارٹی میں جا چکا تھا۔۔
پارٹی اپنے عروج پہ تھی بہزاد کا اج پورا خاندان اس خوشی میں شریک تھا۔۔
بلاج اور عترت بھی ائے ہوئے تھے اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ صنم صائم زویان ہیر بازل اور ہنزہ اج سب نے ایک جیسے ڈریسنگ کری تھی۔
بلیک ڈنر سوٹ میں بہزاد اج پھر سب کو مات دے رہا تھا اور شانزے بلڈ ریڈ ساڑھی میں اسکی جان بنی ہوئ تھی۔۔
ابے یار شانزے بھوک کے مارے برا حال ہورہا ہے کب کھلے کا کھانا!!!؟؟
زویان نے کافی سڑی ہوئ شکل بنا کے کہا۔۔
زویان بہزاد کے کوئ بہت پرانے دوست لاہور سے انے والے ہیں بس انہیں کا انتظار ہے۔۔
اچھا چلو میں اتنے سلاد سے کام چلاو۔۔
زویان یہ کہہ کے وہاں سے گیا جب بہزاد کسی کولے کر ان سب کے پاس ایا۔۔
بھئ ان سے ملو یہ ہیں میرا سب سے اچھا دوست ہمایوں اور یہ ہے انکی وائف اعیرہ۔۔
سب ہی ان دونوں کو دیکھ کے حیران تھے صائم اور بازل کی تو سمجھ میں نہیں ایا کے بہزاد ذیادہ خوبصورت یے یہ ہمایوں وہی حال لڑکیوں کا بھی تھا انکی بھی سمجھ میں نہیں ارہا تھا کے شانزے کی انکھیں زیادہ خوبصورت ہے یہ اعیرہ کی۔۔یہ اعیرہ کے گودھ میں موجود اسکے تین سال کے بیٹے کی۔۔
افف سلاد سے تھوڑا گزرا ہو۔۔۔
ابھی زویان ٹیبل پہ اکے پوری بات کرتا اعیرہ کو دیکھ کے ایک دم رکا اور کہا۔۔
بھئ بتایا نہیں کسی نے کے باربی ڈول بھی انوائیٹ ہیں پارٹی میں۔۔
زویان کی بات پہ بہزاد اور ہمایوں کا قہقہ گونجا جب زویان نے پلٹ کے ہمایوں اور بہزاد کو دیکھا جب کے اعیرہ زویان کی تعریف پہ اچھی خاصی نروس ہوچکی تھی۔۔
ہمایوں اور بہزاد کو ایک ساتھ کھڑا دیکھ کے زویان نے سڑا ہوا منہ بناکے بازل اور صائم سے کہا۔۔
اوہ بھائ چلو بھائ ہمیں یہاں کوئ نہیں دیکھنے والا جب تک یہ دونوں یہاں پہ ہیں۔۔
زویان کے کہنے پہ ایک بار پھر سب کا قہقہ گونجا۔۔
جب ہمایوں نے بہزاد سے پوچھا۔۔
یہ ہی زویان ہے؟؟
ہاں یار چھیچھوڑا ۔۔۔بہزاد نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔
ہمایوں بھائ میں ابھی بتا دو میں اعیرہ کو ہرگز بھابھی نہیں بولنے والا کیوں کے یہ کسی اینگل سے بھابھی مٹیریل نہں اور دوسری بات مجھ سے عمر میں چھوٹی ہے۔۔زویان کی بات پہ جہاں اعیرہ نروس ہوئ وہی ہمایوں نے زویان کی بات سن کے ہاں میں گردن ہلائ
زویان کے کہنے پہ اعیرہ نے گھبرا کے ہمایوں کو دیکھا جو انکھوں میں شرارت لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
ہمایوں جب مسکرایا تب صنم ہیر ہنزہ نے کہا۔۔
بی ایم ہمایوں بھائ کی مسکراہٹ اپ سے ذیادہ خوبصورت ہے۔۔
شکریہ لیڈیز۔۔۔
ہمایوں نے جھک کے انکی تعریف قبول کی۔۔
ویسے لگتا ہے کافی جگرانہ ہے اپ دونوں کا ایک تو دونوں کی انکھیں گرین دونوں کی وائف کی انکھیں بلیو دونوں کی خوبصورت بے مثال ۔۔عترت کے کہنے پہ سب نے اسکی ہاں میں ہاں ملائ۔۔
کھانا کھانے کے بعد ہمایوں اور اعیرہ چلے گئے انکی فلائٹ تھی دبئ کی۔
ائستہ آہستہ مہمان چلے گئے جب زویان نے ڈی جے کی طرف اشارہ کیا اور اسنے ایک سانگ پلے کیا۔۔
ایک فوکس لائٹ بہزاد اور شانزے پہ تھی۔۔
جب سب نے انہیں ڈانس کیلے فورس کیا۔۔
گانے کے بول پہ بہزاد نے خود بھی گانا شروع کیا اور شانزے کا ہاتھ تھام کے اسے گول گول گھمایا۔
“سانسوں میں تیری مہک ۔
ہو ہاتھوں میں ہاتھ تیرا۔۔
بہزاد نے اسے گول گول گھما کے ایک دم اسکی پشت اپنے اپ سے لگا کے اسے پیٹ سے تھاما۔۔۔
“میرے سینے کی ڈھرکن ہے تو بن گیا””
دوبارہ اسے گھوما کے اسے اپنے اپ سے لگایا۔۔
“ماہیا میرے ماہی ۔۔
جانیا دل جانی۔۔
کتنا سوہنا تو سوہنا تو ہاں۔۔
اخری میں بہزاد نے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے۔۔
پورا حال تالیوں سے گونج اٹھا۔
جب زویان نے اپنے برابر میں کھڑے صائم سے کہا۔۔
یار میں زندگی میں ماموں جیس بننا چاہتا ہو سب سے الگ جیسے اللّٰہ نے سب کچھ انوکھا دیا ہو بیوی بچے وہ بھی ماشاءاللہ تین تین ایک ساتھ پیسہ شہرت دولت حسن۔۔
مگر زویان یہ نامکن ہے !!صائم کے کہنے پہ زویان نے اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔
کیوں؟؟
صائم نے مسکراتے ہوئے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے کہا۔۔
کیونکہ “بہزاد راجپوت “جیسا کوئ نہیں۔
صائم کے بولنے پہ زویان نے ہنستے ہوئے کہا۔۔
ہاں یہ تو ہے۔۔۔
ختم شد
