Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 37 Part 2

ساری رسموں کے بعد عترت کو بلاج کے کمرے میں بیٹھایا گیا ۔
بھابھی کچھ چاہیے اپکو؟؟.ہنزہ کے کہنے پہ عترت نے نفی میں گردن ہلائ۔۔
اوہ بھابھی اب روئے تو نہیں ایک نہ ایک دن تو یہ لڑکیوں کیساتھ ہوتا ہے دیکھے وعدہ کرے مجھ سے اب آپ نہیں روئےنگی۔۔
ہنزہ نے جب دیکھا کے عترت پھر ایک بار رونے لگی تو وہ بول پڑی۔۔
رخصتی کے وقت عترت اور صنم کو الگ کرنا بہت مشکل ہورہا تھا دونوں ایک دوسرے کے گلے لگے بے تحاشہ رو رہی تھی۔۔۔
شاہجاں بیگم نے اپنے آپکو بہت مضبوط بنایا ہوا تھا مگر پھر بھی ماں تو تھی آنسوں انکی آنکھوں میں ا ہی گئ۔۔
صنم کو روتا دیکھ صائم نے چپکے سے اسکی ویڈیو اور پکس بنائ تھی تاکے بعد میں اسے چڑائے۔۔۔
ہنزہ کے جانے کے پانچ منٹ بعد ہی بلاج کمرے میں آیا تو عترت کو شیشہ کے سامنے کھڑا دیکھ کے چونکا۔۔۔
وہ تو سمجھ رہا تھا بیڈ پہ بیٹھی گھوگھنٹ نکالے وہ اسکی راہ تک رہی ہوگی مگر یہ تو یہاں اپنی جیولری اتار رہی ہے۔۔۔
بلاج بلکل اسکے پیچھے کھڑا ہوا اپنی واچ اتار کے ڈریسنگ پہ رک کے اپنی شیروانی اتارنے لگا ۔۔
شیشہ میں سے عترت ترچھی نگاہوں کیساتھ بلاج کی ساری کاروائی دیکھ رہی تھی۔۔۔
عترت نے چوڑیاں اتارنے کے بعد اپنا ڈوپٹہ کھولنا چاہا تو ایک پن تھی جو کھلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔۔
بلاج نے جب اسے ڈوپٹہ سے الجھتا ہوا دیکھا تو آگے بڑھ کے اسکا ہاتھ ڈوپٹہ سے ہٹایا اور خود اسکی پن۔کھولنے لگا۔عترت کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا مگر وہ ایسی بن گئ جیسے اس کو کوئ خاص پراو نہیں ۔۔
پن کھولتے ہی دھرم سے عترت کا ڈوپٹہ بلاج کے پیروں میں گرا۔۔
بلاج نے ڈوپٹہ اٹھا کے سائیڈ میں رکھا جب اسکی نظر عترت کی بیک پہ پڑی گردن کے لیفٹ سائیڈ پہ موجود ڈبل تل دیکھ کے وہ چونکا ایک ارمان جاگا اسکے دل میں۔۔
مگر فلحال وہ ضبط کرگیا۔۔
عترت نے اپنی ماتھا پٹی اتارنا چاہی تو وہ بالوں میں اٹک گئ اور وہی عترت کی بس ہوگئ ایک تو وہ بلاج کی نگاہوں سے کنفیوز ہورہی تھی اوپر یہ ہیوی جیولری۔۔
بلاج نے جب اسے جیولری سے کشتی لڑتے دیکھا تو دوبارہ اسکی ہیلپ کرنے آگیا ۔
ایک۔ایک کرکے وہ عترت کا چہرہ جیولری سے آزاد کررہا تھا جب اسکی نظر عترت کے غصہ میں پھولے ہوئے چہرے پہ گئ تو بلاج کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئ اور وہ بے خودی میں بول گیا۔ن
غصہ میں پوری باربی ڈول لگ رہی ہو۔۔
بلاج کے جملے پہ جب عترت نے اسے نگاہ اٹھا کے دیکھا تو بلاج کو اندازہ ہوا وہ کیا بول گیا۔۔
اپنی جھینپ مٹانے کیلیے اس نے عترت سے کہا۔۔
ویسے تم پہلی دلہن ہو جو دولہے کے آنے پہ بیڈ پہ گھوگھنٹ ڈال کے نہں بیٹھی بلکے آئینہ کے سامنے کھڑی اپنی جیولری اتار رہی تھی۔
ظاہر سی بات ہے اب ایک بیوفا کا چہرہ گھوگھنٹ میں تو ہونا نہیں چاہیے اور ہمارے درمیاں اب ایسا محبت سے لبریز کوئ سانحہ نہیں جیسے دہرانے کیلے میں گھوگھنٹ ڈال کے تمہارا انتظار کرو۔
یہ بول کے عترت ڈریسنگ کے پاس سے جانے لگی یہ جانے بغیر کے بلاج نے اسکی کسی بات کا برا نہیں بنایا بلکے خاموشی سے اسے آج دلہن بنی اپنی بیوی کے روپ میں دیکھ رہا تھا تھی کبھی خواہش تھی اسکی کے جب وہ اسکی زندگی میں دلہن بن کے آئے گی تو و
وہ رات وہ یاد گار بنا دے گا مگر آج جو رات اسکی زندگی میں آئ ہے اسے نہیں پتہ کے وہ کیا کرے۔۔
عترت جانے لگی تو بلاج نے اسکا ہاتھ پکڑ کے اپنی جانب کھینچا بلاج کے بنا شرٹ کے جسم پہ عترت کا جسم ٹکرایا۔۔
عترت نے نگاہیں اٹھا کے بلاج کو دیکھا جہاں آج صرف اسے محبت دیکھائ دی۔م
بلاج نے اسکا چہرہ تھاما اور اس کے لب پہ اپنے لب رکھ دیے۔۔
بلاج کے اس عمل پہ عترت کی آنسوؤں گرنے لگے۔۔
مگر بلاج نے یہاں بس نہیں کی آج وہ عترت اور اسکے تعلق کو ایک اور موقع دینا چاہتا تھا۔۔
اس نےعترت کو گودھ میں اٹھاکے اسے بیڈ پہ لیٹا کے دھیرے سے اسکی گردن پہ جھک گیا کبھی اسکے کان چومتا کبھی اسکی آنکھیں کبھی اسکے لب عترت خاموشی سے اپنی مٹھیاں بھینچی اسکی ساری کاروائی برادشت کررہی تھی ۔۔۔
بلاج نے اسکے ماتھے پہ اپنے رکھے اور دونوں کی نگاہیں ملی تب بلاج نے کہا۔۔
ایک بار کہہ دو بلاج مجھ سے غلطی ہوگئ۔۔
بلاج نے اسکو لبوں کو چومتے ہوئے اسکے نیچے والے ہونٹ کو زرا کھینچتے ہوئے کہا ۔۔
کیسی غلطی؟؟عترت نے بہت مشکل سے اپنے آپکو سنبھالتے ہوئے کہا۔۔
وہی زین والی مجھ سے معافی مانگو میری جان میں معاف کردو گا۔۔
بلاج نے مدہوشی کے عالم میں اسکی شرٹ دونوں شولڈر سے نیچے کرتے ہوئے اسکی گردن کو جگہ جگہ چومتے ہوئے گردن کے نیچے کا فاصلہ منٹوں میں طے کیا۔۔
پیٹ سے اوپر شرٹ کرتے ہوئے وہاں اپنے لب رکھ کے بلاج نے اٹھ کے دوبارہ عترت کے لبوں کو چوم کے کہا۔۔
بلاج کی آنکھیں مدہوشی کے عالم میں ریڈ ہورہے تھی عترت کے دونوں ہاتھ اسنے اپنے ہاتھ میں لیے تھے۔ عترت کا پورا چہرہ بلاج چوم رہا تھا۔۔
مگر میں معافی نہیں مانگونگی میری غلطی نہیں یے۔۔
عترت کا کہنا تھا کے بلاج جو ابھی محبت میں پیار میں مدہوش تھا ایک دم اسکے چہرے پہ چٹان سے سختی آگئ اسنے اپنے ہاتھ میں موجود عترت کے ہاتھ کو زور سے دبایا۔۔
ہٹے میرے اوپر سے میں کسی بات کی معافی نہیں۔ مانگونگی جب میں نے کچھ کرا ہی نہیں ۔۔
تم۔نے میری محبت میں شرک کیا ہے عترت اور تم کہہ رہی ہو کے کچھ نہیں کرا تم نے ایک سے گزارا نہیں ہورہا تھا تمہارا کیا کمی رہ گئ تھی میری محبت میں جو تم نے زین کی باہوں میں پناہ ڈھونڈی۔۔۔
عترت کی آنکھیں بلاج کی باتوں سے افسوس سے بھرنے لگی اور اس نے جو کہا اسے اندازہ نہیں تھا کے آگے بلاج کا ردعمل یہ ہوگا۔۔
ہاں جو چاہے سمجھے نہیں ہے میرا گزارا ایک مرد کے ساتھ ہاں ملتا تھا مجھے سکون زین کی باہوں میں کاش آج بھی وہ ہوتا آپکی جگہ۔۔۔
بس یہ بات عترت نے کہہ کے اپنے لیے عزیت خرید لی تھی۔۔
عترت کی بات سن کے بلاج نے ایک جھٹکے سے اسکا شرارہ ٹانگوں سے اوپر کیا ۔۔
آج میں تمہیں بتاؤنگا کے بیوفا بیوی کیساتھ کیا کرا جاتاہے۔۔
بلاج نے اسکے دونوں ہاتھ کو سختی سے تکیہ پہ رکھ کے دبایا اور خود اس پہ جھک گیا بلاج کے اس عمل سے عترت کی ایک درد ناک چیخ نکلی جسے بلاج اسکا جبرا پکڑ کے روک چکا تھا۔۔
عترت کا پورا وجود تکلیف میں آگیا تھا اسکے آنسوؤں تکیہ پہ جذب ہورہے تھے مگر بلاج پہ خون سوار تھا ۔۔
بلاج اسکے اوپر سے ہٹا تو عترت کی اٹکی سانس بحال ہوئ وہ جیسی اترنے لگی بیڈ سے بلاج نے اسکے بالوں کو مٹھی میں جکر کے کہا۔۔
ابھی جو میں نے وصول کیا وہ شوہر کا حق تھا اب جو تمہارے ساتھ ہوگا وہ میری محبت کی توہین کا بدلہ ہوگا بیوفائی کا بدلہ ہوگا۔۔۔
بلاج چھوڑے مجھے درد ہورہا ہے عترت نے بلاج کا ہاتھ اپنے بالوں سے ہٹانا چاہے مگر اگلا عمل جو بلاج نے کیا عترت کی روح تک کانپ گئ۔۔
اسنے عترت کو الٹا کیااور اسکے ہاتھ پیچھے کمرے پہ باندھ دیے ۔
نہیں بلاج یہ نہیں کرے یہ گناہ ہے پلیز میں بیوی ہو آپکی پلیز نہیں۔۔۔۔
عترت کے رونے میں شدت آگئی تھی مگر بلاج آج بے رحمی پہ اتر چکا تھا۔۔۔
وہ عترت پہ ایک بار پھر جھکا عترت کی ٹانگیں اسکا پورا جسم ایک بار پھر تکلیف سے آشنا ہوا۔۔
عترت کی گردن پہ بلاج کے ہاتھوں کے نشان آگئے تھے۔۔
ایک دم خاموشی سی چھا گئ جب بلاج عترت کو بیوفائی سزا دے کے اس پہ سے ہٹا۔۔عترت پہ سے ہٹنے کے بعد بلاج کروٹ لے کر لیٹ گیا اور عترت جسکا پورا وجود اس وقت برف ہوچکا تھا وہی الٹی لیٹے لیٹے وہ بیہوش ہوچکی تھی۔۔۔
جاری ہے۔۔