Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

داستان عشق محبت 🔥❣️
از قلم مریم عمران ✍️
قسط نمبر#14
شانزے کی باتیں سننے کے بعد صنم شاکڈ تھی۔۔ کل سے بات کرنے بعد سے وہ کال ہی ریسیو نہیں کرہی تھی صنم سمجھی شاید ناراض ہوگئ ۔
مگر آج جب اس نے اپنے ابو کے نمبر سے صنم کو کال کرکے گھر بلایا تو صنم کو معملہ گڑ بڑ لگا ۔۔
شانزے تو بھول جا سب دفعہ کر اسکی کرنی اسکے ساتھ ہم۔کیوں اس مسئلے میں کودے۔۔
شانزے کی باتیں سن کے صنم اچھی خاصی ڈر گئ تھی ڈری تو شانزے بھی تھی مگر وقتی طور پر ۔
ایسے کیسے چھوڑ دو صنم اس بہزاد کمینے کو مجھے دھمکی دینا اسے بہت مہنگا پڑے گا تم دیکھنا پہلے میں اسکے خلاف پولیس کمپلین کرونگی اور پھر پاپا کو سب بتاونگی کے وہ کیسے گھٹیا پلس قاتل انسان کے ساتھ کام کررہے ہیں تجھے پتہ ہے صنم یہ بہزاد اپنے بیٹے کو بھی مار چکا ہے۔۔
شانزے کی بات سن کے صنم بہت ڈر گئ اسے اندازہ تھا کے بہزاد کیا چیز ہے مگر شانزے کو اس وقت سمجھانا کافی مشکل تھا ۔
اب تیرے تو اسٹیچس لگے ہیں تین دن بعد کلب میں ڈانس کمپیٹیشن ہونے والا ہے اس میں تو تو ڈانس نہیں کر پائے گی ۔؟؟ صنم نے افسردگی سے کہا۔۔
ہاں صنم سوری یار ۔۔
چل کوئ نہیں میں منع کردونگی آج کلب جاکے ۔۔
ابھی دونوں باتوں میں مصروف تھے جب مراد اچانک کمرے میں ایا۔۔
بات سنو جب یہ تمہارے سر کی چوٹ صحیح ہو جائے تو بتا دینا مجھے شادی کی شاپنگ کرنے جانا ہے ۔
مراد نے بیزاریت سے یہ بات کہی اور چلا گیا۔۔
مراد کے جاتے ہی صنم نے تعجب سے شانزے کو دیکھا جو گردن نیچی کرکے اپنے آنسو روکنے کی کوشش کررہی تھی ۔
یہ اسے کیا۔ہوا??
شانزے یہ کس انداز میں تم سے بات کررہا ہے ??
جب سے اسکی جاب لگی ہے دو تین مہینے یہ ٹھیک رہا پھر اسکارویہ مجھ سے اسی طرح کا ہوگیا ہے جیسے بہت بیزار ہو مجھ سے۔۔
تمہیں میں کہتی تھی مگر تمہیں یقین نہیں آتا تھا آج تم نے دیکھ لیا خودد۔۔
شانزے تم پریشان نہ ہو انشاءاللہ سب ٹھیک ہوجاے گا ۔۔صنم نے شانزے کو گلے لگا کر تسلی تو دے دی تھی مگر اسے خود مراد کا رویہ پریشان کرگیا تھا۔۔

#

اللّٰہ رسول کا واسطہ ہے ہیر اب تو اٹھ جاؤ کل رات9بجے سے سورہی ہو۔
لندن کیاسونے ائ ہو؟؟.سدرہ نے باقاعدہ سوئی ہوئ ہیر کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا۔۔
ہیر نے ایک آنکھ کھول کے سدرہ کو دیکھا اور اٹھ کے بیٹھ گئ اپنے لمبے سلکی سہنرے بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے کہا۔۔
ہاں کل صبح سے میں لندن پہنچ کے بھنگڑا ڈال رہی تھی اسلیے تھک کے سورہی ہو ابھی تک ۔۔
ہیر کے طنز پہ سدرہ اپنی ہنسی چھپانے لگی ۔
جب سے وہ۔لوگ لندن پہنچے تھے جگہ جگہ ان لوگوں کی چیکنگ ہورہی تھی پھر ہاسٹل آکے ان لوگوں نے الگ فارمیلٹی پوری کرے کمرے کی صفائ سارا کمرہ سیٹ کرنے میں یہ لوگ اچھے خاصے تھک گئے تھے مگر ہیر صفائ کی کیڑی تھی اس وجہ سے وہ زیادہ تھک گئ۔۔
اچھا اچھا میری ماں مجھے اندازاہ کے تونے کل رات بہت زیادہ کام کیا ہے مگر اج یونی بھی جانا ہے وہاں جاکے کلاس وغیرہ دیکھنی ہےایڈمٹ کارڈ وغیرہ لینا ہے بہت کام ہے اس وجہ سے تجھےبول رہی ہو اٹھ جانے کو میٹرن بھی دو بار اچکی ہے ناشتہ کا بولنے اب جلدی سے ریڈی ہوجاو ۔
ابھی ہیر اور سدرہ اور باقی۔کے اسٹوڈینٹ اپنے اپنے فارم جمع کروانے باہر آئے ہی تھے کے ایک گروپ نے انہیں گھیر لیا جنمیں کچھ لڑکے اور لڑکیاں شامل تھی ۔
کچھ ان میں اردو اسپیکنگ بھی تھے اور تھی مگر انکا پہناوا پورا انگریزوں والا تھا لڑکوں نے لڑکیوں کی چیزیں پہنی تھی اور لڑکیوں نے لڑکوں والی
بات سنو ہمارا راستہ چھوڑو ۔۔۔
ہیر نے کافی غصہ سے کہا۔۔
جسکا جواب گروپ کی ایک لڑکے نے دیا۔۔
پہلے ہمارے باس زی کی پاس چلو ۔۔
کیوں چلے تمہارے باس زی پی ٹی کے پاس ہٹو راستہ سے ورنہ ابھی پرنسپل سے کمپلین کردونگی تمہاری۔۔
ہیر کے تیور دیکھ کے اس کے گروپ کے دو تین لوگ امپریس ضرور ہوئے تھے مگر فلحال انکے باس کا آڈر تھا کے نیو کمر کو پہلے انکے سامنے پیش کیا جائے تاکے انہیں ریگنگ کیساتھ ساتھ کچھ اصول بھی سمجھائے جائے۔۔
مگر شاید زوہان عرف زی یہ بات بھول گیا تھا کے اس بار اسکاا سامنا ہیر سےپڑھنے والا ہے جو نام اورشکل وصورت کی ہیر ضرور تھی مگر کسی ٹوپ سے کم نہیں تھی۔۔
ہیر نے سدرہ کا ہاتھ پکڑا اور ان لوگوں کے درمیان میں سے راستہ بناتی ہوئی بنا ڈرے چلی گئ۔۔
سب ہی ہیر کی اس جرات سے پہ جہاں حیران تھے وہی خوفزدہ بھی کیونکہ زی کا بلاوا ٹال کے ہیر اپنے لیے شامت بلا چکی تھی۔۔
لمبے کندھے تک آتے بال الٹے کان میں بلیک کلر کی بالی ہاتھ میں بے شمار بینڈز لائٹ گرین آنکھیں جو اب غصہ سے لال ہوچکی تھی۔۔
بیشک 23 سال کا زی حسین لڑکا تھا مگر اسنے اپنا حلیہ ایسا بنا رکھا تھا کے پہلے بار دیکھنے میں ہی لوگ اسے پہچاننے میں غلطی کرجائے کے وہ لڑکا ہے یہ چھککاا ۔۔
تم نے اسے بولا کے زی نے بلایا یے۔۔
زی نے سگریٹ کا دھواں ہوا میں اڑاتے ہوئے کہا ۔
ہاں زی ہم نے اسے دو بار بولا مگر آگے سےا سنے کہا۔۔۔
آگے کی بات جیننفر کہتے کہتے رک گیا۔۔
کیا کہا اس نے؟؟
زی نے اسکا کالر پکڑ کر کہا ۔
اسنے کہا۔۔
زی ٹی پی سے کہو اگر تنگ کیا تو پرنسپل سے شکایت لگا دونگی۔۔
جنیفر کی بات سن کے زی نے غصہ میں اپنے بالوں پہ ہاتھ پھیرنے لگا
ریلکس ریلکس ڈارلنگ ۔۔
ماشا نے آگے بڑھ کے اسکے لبوں کو چومتے ہوئے کہا ۔۔جو تھی
اسکی ادھی ننگی گرل فرینڈ۔۔
کس ڈیپارٹمنٹ کی ہے وہ؟؟.
زی کے پوچھنے پہ جنیفر نے ہیر کے ڈیپارٹ کا بتایا۔۔
پہلے تو زی اپنی مخصوص جگہ پہ ہیر اور کے باقی دوستوں کے ساتھ ریگنگ کا ارادہ رکھتا تھا مگر اب وہ اسکے ساتھ جو بھی کرنے کا ارادہ رکھتا تھا پوری یونی کے سامنے کرنے کا رکھتا تھا۔۔زی نے فورا ہیر کے ڈیپارٹ کا رخ کیا
جاری ہے۔۔
ایک پرسنل ایشو کی وجہ سے تھوڑی ڈسٹرب تھی اس لیے اپیسوڈ مس ہوگئ آج رات میں ایک اور دے دونگی۔۔
See translation