Dastaan Ishq Muhabbat By Mariyam Khan Readelle50216 Last Episode 70 pt.1
Rate this Novel
Last Episode 70 pt.1
کیا ہوا طبیعت ٹھیک ہے ؟؟
بہزاد نے فکرمندی سے اسکا چہرہ تھامتے ہوئے پوچھا!!
ہاں ہاں وہ بس تھکن ہورہی ہے بہت ذیادہ دل بھی بہت عجیب ہورہا ہے۔۔
ویٹر ویٹر۔!!.
ویٹر کو آواز دینے پہ وہ اس تک ایا۔جب بہزاد نے کہا۔
ایک ٹھنڈا اورینج جوس لاو فورا۔۔۔
بہزاد نے اسے کمر سے تھام کے خود سے لگایا اور اسکے چہرہ کو پیار سے سہلایا۔۔
خیال نہیں رکھتی تم اپنا بلکل بھی ایک ہی جان ہے میری اسے بھی ہلکان رکھتی ہو۔۔۔
اتنا کیوں پریشان ہو رہے ہو بہزاد ؟میں ٹھیک ہو جان!!
شانزے کے بہزاد کو جان کہنے پہ بہزاد کے لبوں پہ جان لیوا مسکراہٹ ائ اور اس نے کہا۔۔
جب تم مجھے یہ جان کہہ کے پکارتی ہو تو دل چاہتا ہے تم پہ جان وار دو اپنی۔۔۔
اللّٰہ نہ کرے بہزاد کبھی اپکو مجھے پہ اپنی جان وارنی پڑے ۔۔
ویٹر نے ٹھنڈا جوس لاکے دیا جو اپنے سامنے بہزاد نے شانزے کو پلایا۔۔
پاپا پاپا!!!
عاشر ایک دم بھاگتا ہوا ان دونوں تک ایا بولنے وہ کچھ اور ایا تھا مگر شانزے کا چہرہ دیکھ کے ایک دم اسکا چہرہ تھام کے پریشان ہوکے پوچھنے لگا ۔
ماما اپ ٹھیک ہو؟
پانچ سال کے بچے کی اتنی کئیر پہ شانزے نے اسے جھک کے پیار کیا اور کہا۔۔
عاشر کی ماما بلکل ٹھیک ہے۔۔
ویسے لٹل چیم اپ کیا بولنے ائے تھے ۔؟؟
بہزاد نے اسے اپنی گود میں اٹھا کے اسے بال سنوارتے ہوئے کہا۔۔
پاپا وہ زویان ماموں تیسری بار میں گال نوچ چکے ہیں !!
عاشر نے اتنی معصوم انداز میں یہ بات کہی کے بہزاد اور شانزے کا ایک ساتھ قہقہ گونجا اور کہا۔۔
چیم تھوڑا برداشت کرو انے دو زویان ماموں کا لٹل چیم ہم دونوں ملے کے اسکے گال نوچے گے۔۔
بہزاد کے بولنے پہ عاشر نے خوش ہوکے اپنے پاپا کو گلے لگالیا۔۔
وہ دون اگے جانے لگے جب عاشر دوبارہ پیچھے جاکے شانزے کا بھی ہاتھ تھاما اور دونوں کا ہاتھ تھام کے چلنے لگا۔۔
جب بہزاد کو یہ پتہ چلا تھا کے عاشر لبنا سے موبائل پہ چھپ چھپ کے باتیں کرتا ہے تو وہ عاشر کو ڈاٹنے کا ارادہ رکھتا تھا مگر اسے شانزے نے یہ کہہ کے روکا کے اگر اپنے اسے اسکی ماں اور بھائی کے جانے کے بعد توجہ اور محبت دی ہوتی تو اسکی نوبت نہیں اتی۔۔
شانزے کے سمجھانے پہ ہی اب بہزاد روازنہ ٹائم نکال کے عاشر سے باتیں کرتا اسکا خیال رکھتا اسکی ضرورتوں کا خیال رکھتا اور بہزاد کے اس عمل سے یہ فائدہ ہوا کے عاشر نے آہستہ آہستہ لبنا سے بات کرنا بلکل ختم کردی۔۔۔
#
بازل بھائ اپنے ہماری ڈاکٹر ہنزہ کو دیکھا ہے اصل میں میں ا میری منگیتر کیساتھ انکی شادی میں ایا تھا مگر وہ تو کہی دیکھ ہی نہیں رہی۔۔
ہارون نے مسکراہٹ دبا کے ہنزہ کے سراپے پہ نگاہ ڈالتے ہوئے بازل کو آنکھ مارتے ہوئے کہا۔۔
ہاں یار میں بھی اپنی چڑیل کو ڈھونڈ رہا ہو جو نہ جانے کہاں کھو گئ اب جو یہ میرے برابر میں بیٹھی ہے یہ تو کوئ اپسرا ہے۔۔
بازل کی بولنے پہ چاروں مسکرانے لگے جبکہ ہنزہ کا چہرہ شرم سے لال ہوچکاتھا۔۔
ہنزہ کی رخصتی کا وقت ایا تو باری باری زویان اور صائم نے اسکے سر پہ قرآن مجید رکھ کے اسے رخصت کرا۔۔
بھلے وہ ایک ہی گھر میں ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں رخصت ہوکے جارہی تھی مگر رونا تو اسے پھر بھی ارہا تھا ایک ہی گھر میں صحیح مگر ہو تو وہ پرائ گئ تھی نہ۔۔۔
#
ہنزہ کا اپنے ہی گھر میں بھرپور استقبال کیا گیا تھا اور اسکے پیچھے صنم ہیر شانزے تھے۔۔
بہزاد ہال سے ہی اپنے گھر چلا گیا کیونکہ کل اسکی امپورٹڈ میٹنگ تھی۔۔
ہما بیگم کو صائم اپ نے ساتھ گھر لے ایا تھا۔۔
زویان بھی ہیر اور صنم کیساتھ تھا۔۔
کیونکہ بہزاد نے زویان کی ذمیداری لگائ تھی کے ساری رسموں کے بعد شانزے کو باحفاظت گھر پہنچانا تھا۔۔
ہنزہ کو بازل کے کمرے میں بڑی شان سے بیٹھایا گیا۔۔
مگر ہنزہ کا دل اج بہت تیز تیز ڈھڑک رہا تھا۔۔
اچھا ہنزہ یار ہم لوگ چلتے ہیں کل اجائے گے ٹھیک ہے۔۔
صنم کے کہنے پہ ہنزہ ان سے گلے ملی اور وہ لوگ گھر کیلئے روانہ ہوگئے۔۔۔
بازل کمرے میں ایا تو ہنزہ کمرے میں گھونگھٹ نکال کے بیٹھی تھی۔۔
بازل نے اپنا قلا اتارا اور اسکے پاس اکے اسکا گھونگھٹ اوپر کیا۔
بازل کے چہرے پہ اج الگ ہی مسکراہٹ تھی اسنے بہت ارام سے بہت مان سے ہنزہ کو اپنے سینے سے لگا کے دھیرے سے کہا۔
محرم رشتہ میں بندھ کے اپنے محبوب کو گلے لگانے کا مزہ ہی الگ ہے۔۔۔
بازل کے کہنے پہ ہنزہ شرما گئ جب بازل نے اسکا ڈوپٹہ اسکے سر سے ازاد کرتے ہوئے کہا۔۔
یار تم لڑکیوں پہ بھی افرین ہے اتنا ہیوی میک اتنا ہیوی ڈریس پہن کے اتنی دیر تک بیٹھتی ہو وہ بھی صرف اپنے شوہر کیلئے ۔۔
یہ کہہ کے بازل نے ہنزہ کو گود میں اٹھایا جب ہنزہ نے اسکی شیراونی پکڑتے ہوئے کہا۔۔
۔بازل وہ میں خود۔۔۔۔دددددد!!
ہمیشہ جو شیرنی بنی رہتی تھی اج بھیگی بلی بنی ہوئ تھی اور اس روپ میں وہ بازل کی نیت بار بار خراب کررہی تھی۔۔
بازل جو اسے ڈریسنگ روم لے جانے کا ارادہ رکھا مگر پھر کھڑے ہوکے اپنی شیراونی اتاری۔۔۔
بازل کے ننگے بدن کو دیکھ کے ہنزہ نے اپنی گردن جھکائ۔۔
بازل اسکے پاس اکے بیٹھا اور دراز میں سے ایک مخمل کا باکس نکال کے کھولا اور اسمیں سے خوبصورت سے کنگن نکال کے ہنزہ کو پہنائے۔۔
ہنزہ نے جب یہ کنگن دیکھے تو شاکڈ انداز میں بازل کو دیکھ کے کہنے لگی۔۔
بازل یہ تو وہی کنگن ہے نہ!!!
ہاں ہنزہ یہ وہی کنگن ہے جو تمہیں 15 سال کی عمر میں پسند ائے تھے اور تم نے مجھ سے فرمائش کی تھی کے میں تمہیں دلاو۔۔
مگر اس وقت میرے پاس اپنے خود کے پیسے نہیں تھے مگر میں نے خود سے وعدہ کیا تھا کے جس دن تم میری محرم بن کے میری زندگی میں شامل ہوگی اس دن میں تمہیں یہ اپنی کمائ سے خرید کے پہناؤ گا۔۔
بازل کی بات پہ ہنزہ بازل کے سینے سے لگ گئ۔
تشکر کے آنسو اسکی انکھوں سے بہنے لگے۔۔
اب تم ایسے مجھ سے چپک کے مجھے بے ایمان کررہی ہو۔۔
بازل کے کہنے پہ ہنزہ اسے مسکراتے ہوئے الگ ہوئ اور اسکے کندھے پہ ہلکی سے چپت لگائ۔۔
بازل نے دھیرے دھیرے اسکا وجود جیولری سے اذاد کیا۔۔
خاموشی سے اسے تکنے کے بعد بازل اسے لیٹا کے اسکے لبوں پہ جھک گیا۔۔
ہنزہ کی دل کی ڈھرکن بازل بہت اسانی سے سن سکتا تھا وہ لرز رہئ تھی اسکے لرزتے وجود کو بازل نے بہت مان اور عزت سے اپنے وجود میں چھپایا تھا۔۔
#
اپ کب ائے تھے۔۔؟؟
عترت نے اسکے سینے پہ سر رکھتے ہوئے کہا۔۔
دوپہر میں پہنچا تھا اتے ہی سب سے پہلے اپنے بیٹوں سے ملا۔۔۔
شکریہ عترت مجھے باپ کے عہدے پہ فائز کرنے کیلئے یہ کہہ کے بلاج نے کروٹ لی اور عترت کے لبوں پہ جھک گیا۔۔
#
ایک شادی ختم ہوئ تو زویان اور ہیر کی شادی کا دن ان پہنچا۔۔
زویان کی بے صبری دیکھ کے بازل اور صائم نے اسکا کافی رہکارڈ لگایا تھا۔
وائٹ کلر میں زویان دولہا بن کے بلکل شہزادہ لگ رہا تھا تو ادھر ہیر بھی لائٹ پنک اور وائٹ کلر کے کنٹڑاس میں مغلیہ جیولری پہنے زویان کی ٹکر پہ تھی۔
سب سے پہلے ان دونوں کا نکاح ہوا اور نکاح ہوتے ہی زویان نے ہیر کواپنے سینے سے لگایا بنا کسی کی پراہ کیے۔۔
بہزاد اگے بڑھ کر ان دونوں کو اپنے سینے سے لگا کے زویان کے کان میں کہا۔
کچھ تو شرم کرلے گھر کے سب بڑے موجود ہے تجھے اپنی بیوی کو سینے سے لگانے سے فرصت نہیں۔۔
کیا کرو ماموں بے شرمی اپ سے ہی سیکھی ہے اپ بھی تو ابھی کچھ دیر پہلے شانزرے کو اشارہ کرکے ڈریسنگ روم میں بلا رہے تھے جب بھی گھر کے سب بڑے ہال میں موجود تھے۔۔
زویان کے جواب پہ بہزاد قہقہ لگائے بنا نہ رہ سکا۔۔
کچھ دیر کیلیے ہال کی لائٹ بند ہوئ اور ایک فوکس لائٹ ہیر اور زویان بھی تھی ۔
ان پہ بھی ڈھیروں گلاب کی پتیاں ڈالی گئ جیسے دیکھ کے ہیر کے چہرے پہ بہت حسین مسکراہٹ ائ تھی۔۔
اج شانزے ہنزہ اور صنم نے ایک جیسی ساڑھی باندھی تھی۔۔
صائم کی نگاہ کئ بار بھٹک کے صنم پہ گئ تھی بس ایک دن کی بات تھی کل وہ اسکی ہونے والی تھی۔۔
بات سنو ؟
باذل نے ہنزہ کے پیچھے جاکے بہت ارام سے کہا۔
جی!!!
کل رات کے بعد کافی خوبصورت نہیں ہوگئ تم میری قربتوں نے کافی خوبصورت بنادیا ہے تمہیں۔۔
بازل کیا کررہے ہیں!!ہنزہ نے شرماتے ہوئے کہا۔۔
کیا اپنی بیوی کی تعریف کررہا ہو بھئ کسی کی ڈری ہے کیا۔۔
نہیں ڈری نہیں ہے مگر ایسا ہے یہ باتیں اگر کوئ کنوارہ سنے تو اسکے ارمان کافی ڈسٹرب ہوجاتے ہیں۔۔
صائم نے اکے بہت رازداری سے بازل کے پیچھے اکے یہ بات کہی جیسے سن کے ہنزہ نے فورا وہاں سے جانے میں عافیت سمجھی ۔
بازل نے بہت خونخوار نظروں سے صائم کو دیکھا جو اپنی بتیسی نکال کے اسے دیکھا رہا تھا۔۔
اچھا اچھا چل ذیادہ سینٹی نہ ہو باقی کی تعریف کمرے میں کرلینا ابھی ہیر کی رخصتی کا ٹائم ہورہا ہے۔۔
خوشبو بیگم اور وہاج کے گلے لگ کے ہیر رونے لگی تو خوشبو بیگم کے بھی آنسوؤں گرنے لگے۔۔
ارے یار مامی اسی گھر میں ارہی ہے اپکی بیٹی جس گھر میں اپ رہتے ہیں اتنا رولائنگی میری بیوی کو اسکا میک اپ خراب ہوجائے گا ابھی تک میں نے کھل کے تعریف بھی نہیں کی۔۔۔
زویان کے کہنے پہ وہاج اور خوشبو سمیٹ سب کا قہقہ گونجا ۔
شاجہاں بیگم نے مسکراتے ہوئے اظہر صاحب کو دیکھا اور کہا
۔کچھ ایسا ہی اپنے نے بھی کہا تھا یاد یے ۔۔۔
اج شاہجاں بیگم کو اتنی پرانی باتیں کرتا دیکھ اظہر صاحب بہت خوش تھے۔
انہوں نے بہت ہلکے سے شاہجاں بیگم کی کمر پہ ہاتھ رکھ کے کہا۔۔
میں اج بھی اپکو اچھے سے بتا سکتا ہو اپ کتنی خوبصورت ہیں۔۔
اظہر صاحب کی بات پہ شاجہان بیگم نے انہیں گھور کے دیکھا جب کے نمرہ بیگم اج اپنے بیٹے کی خوشی میں خوش تھی۔۔
زویان نے ساری رسموں کو بہت انجوائے کیا اور جیسی کمرے میں جانے لگا صائم اور بازل نے اسے روک لیا۔
ارے ارے دولہے راجا اتنی بھی کیا جلدی ہے زرا دوستوں کو بھی وقت دے دو۔۔
عزت سے مجھے تم دونوں جانے دو ورنہ بعد میں پچھتانا پڑے گا۔۔
اہاں
دھمکی صائم نے اسکی گردن میں ہاتھ پھنسا کے کہا۔۔
ارے پاپا !!
زویان کے کہنے پہ اچانک صائم نے اسے چھوڑا تو وہ ڈورتا ہوا کمرے میں چلا گیا اور دروازہ لاکڈ کرلیا۔جبکے زویان کے ہاتھوں بیوقوف بننے پہ صائم اور زویان کی شکلیں دیکھنے کے قابل تھیں۔۔
ہیر جو دلہن بن کے بیٹھی تھی زویان کے انتظار میں اسطرح سے زویان کے انے پہ ایک دم بوکھلا کے پوچھنے لگی۔۔
زویان کیا ہوا اپ اطرح سے ؟؟
ارے یار تمہارے دونوں بھائ مجھے اندر انے نہیں دے رہے تھے اسلیے چکما دے کے ایا انہیں۔۔
ویسے ایک بات بتاؤ ؟؟
زویان نے یہ کہہ کے اپنا ایک ہاتھ اسکے اگے کیا جو ہیر نے فورا تھام لیا۔۔
پوچھے۔۔ ہیر نے اسکے روبرو اکے کہا۔۔
تم اج کس سے پوچھ کے اتنی خوبصورت لگ رہی ہو میری نگاہیں ہی نہیں ہٹ رہی تم پہ سے۔۔
زویان کے بولنے پہ ہیر مسکرا کے گردن جھکا گئ۔۔
ہیر کی اس ادا پہ زویان نے اسے کمر سے تھام کے خود سے لگایا اور میوزک سسٹم پہ لگایا۔۔
دیکھا ہزاروں دفعہ اپکو۔۔
یہ بول کے زویان نے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور اسے گول گول گھمایا۔۔
پھر بیقراری کسی ہے!!
زویان نے اسکے دونوں ہاتھ تھام کے اپنے گردن پہ ڈالے۔۔
سنبھالے سنبھالتا نہیں یہ دل ۔۔
زویان نے اسکی دونوں انکھوں کو چوما۔۔
کچھ بات اپ میں ایسی یے ۔
زویان نے اسے اپنی گود میں اٹھایا اور گول گول گمایا۔
اپنی گود میں بیٹھا کے اسنے ہیر کے ساتھ کافی پکس لی اور پھر اپنی شیروانی اتار کے اسکی جیلوری اتارنے لگا۔
زویان !!
ہمم۔۔
مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے!!
کس سے؟میری قربت سے۔۔
یہ بول کے زویان ہیر کو اپنی باہوں میں لے کر بیڈ پہ گراور اس پہ جھکنے لگا۔۔
اسنے ہیر کی گردن پہ بشمار پیار کیا اور دوبارہ اسے دیکھتے ہوئے کہا..
سوچا نہیں تھا میں نے کے ایک رات میری ایسی بھی ائے گی۔۔
تم نے مجھے معاف کرکے مجھے دوبارہ زندگی دی ہے ہیر۔۔
زویان پرانی باتیں نہ دہرائے میں سب کچھ بھول کے نئے سرے سے اپکے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہو۔۔
یہ بول کے ہیر نے اپنا چہرہ اٹھا کے زویان کے لبوں پہ اپنے لب رکھ کے فورا ہٹائے۔۔
ہیر کے اس عمل سے زویان کے چہرے پہ ایک دلکش مسکراہٹ ائ۔۔.
یعنی قسم ختم اپکی؟؟
ہیر نے شرما کے اسکے سینے میں اپنا چہرہ چھاپا لیا۔۔
زویان نے اسے سیدھا کیا تو ہیر کی انکھیں ابھی بھی بند تھی۔۔
زویان کی نظر اسکے ہونٹوں پہ جیسی گئ زویان ان پہ جھکنے لگا پھر ایک دم اسے کچھ یاد ایا تو وہ اٹھ کے الماری میں سے کچھ نکال کے لایا۔۔
ہیر اسکی ساری کاروائی دیکھ رہی تھی۔زویان نے اسے منہ دیکھائ میں میں ایک خوبصورت سا لوکٹ پہنایا جس پہ ڈائمنڈ سے زویان لکھا تھا اور دوسری چیز جب ہیر کی انگلی پہنائ تو ہیر نے شاکڈ انداز پہ زویان سے کہا۔۔
یہ اپکے پاس تھی؟؟
ہاں جی ۔۔۔اتنا بول کے زویان ہیر کے لبوں پہ جھک چکا تھا ۔۔
زویان کی بڑھتی جسارتوں سے کبھی ہیر اپنی انکھیں کھولتی کبھی بند کرتی۔۔
زویان نے اپنے جس عمل سے یہ ثابت کرا تھا ہیر پہ کے وہ اس سے کتنی نفرت کرتا ہے اج اپنے اسی عمل سے اسے بتایا کے اس سے وہ محبت نہیں عشق کرتا ہے۔۔
صبح ہیر کی انکھ کھلی تو زویان اسے لپٹا ہوا تھا ۔۔
ہیر نے بہت ارام سے زویان کا ہاتھا اپنے ہاتھ سے ہٹایا اور اپنے ارد گرد اچھے سے چادر لپیٹ کے وہ جسی ہی اٹھنے لگی زویان نے تیزی سے اسکی چادر سمیت اسے پکڑ کے کھینچا۔۔
دوبارہ زویان کی مدہوش ہوتا دیکھ ہیر نے اپنے لب بہت مشکل سے زویان سے الگ کیے اور کہا۔۔
زویان نے اپنی گرین انکھوں میں شکوہ لیے اسے دیکھا اور کہا۔۔
چپ چاپ لیتی رہو مجھے ابھی سکون چاہیے جو صرف تمہاری قربت میں ہی ملے گا۔۔
زویان یہ بول کے دوبارہ اسکے لبوں پہ جھکنے لگا جب ہیر نے اسکے لبوں پہ ہاتھ رکھ کے کہا۔۔
شرم کرلے کچھ اج اپکی بہن کی شادی ہے اور اپ یہاں رومینس کررہے ہیں۔۔
تو کس نے کہا ہے کے جس دن بہن کی شادی ہوتی ہے اس دن رومینس پہ دفعہ ایک سو چولیس لگی ہوتی ہے۔۔
افف ہٹے اوپر سے ابھی کی ابھی ورنہ۔۔ہیر نے اپنی چادر سنبھالتے ہوئے اپنی انگلی دیکھا کے اسے وارن کیا۔۔
اہہہ !!
ائ لائک یور اسٹائل !!زویان نے اسکے لبوں کو چھوتے ہوئے کہا ۔
ویسے تمہیں نہیں لگتا کے تم ابھی اس پوزیشن میں نہیں کے مجھے دھمکی دو۔۔۔
زویان نہ کرے پلیز !!
اففف اچھا بھئ لو ہٹ گیا۔۔
زویان کے ہٹنے کی دیر تھی کے ہیر نے چادر سنبھالی اور واش روم کی طرف ڈور لگائ۔۔۔
#
افف صنم تم تو پہچاننے میں ہی نہیں آرہی!!
عترت کے بولنے پہ باقی ان تینوں نے بھی انکی ہاں میں ہاں ملائ۔۔
صنم خود اپنا سراپا آئینے میں دیکھ کے حیران تھی۔۔
بلڈ ریڈ اور بوتل گرین کنٹڑاس کے ہیوی شرارے میں ہیوی میک اپ کیساتھ انڈین ہیوی جیولری پہنے صنم کو جو پہلی بار دیکھتا پہچان نہیں پاتا۔۔
اس پہ اسکے دودھیا ہاتھ جو مہندی سے لبریز تھے۔۔
مہندی تو باقیوں نے بھی لگائ تھی مگر سمپل لگائ تھی مگر صائم کی فرمائش پہ صنم کے ہاتھ اور پاؤں میں بھر بھر کے مہندی لگائ گئ تھی۔۔۔۔
نکاح نامہ پہ سائن کرتے ہوئے صنم نے ایک بار نگاہ اٹھا کے بہزاد کو دیکھا تو بہزاد نے مسکرا کے ہاں میں گردن ہلائ تھی۔۔
نکاح کے بعد صائم جو ڈارک بوتل گرین کی شیروانی میں تھا بے صبری سے صنم انتظار کررہا تھا۔۔
جب وہ سامنے سے اتی دیکھائ دی جسکے ایک طرف وہاج تھا تو دوسری طرف بہزاد۔۔۔۔
صائم نے جب صنم کے دلہن بنے روپ کو دیکھا تو اپنے دونوں ہاتھ باندھ کے ہلتے ہلتے رونے لگا۔۔
زویان اور بازل نے جب صائم روتے دیکھا تو دونوں نے ہی اپنے یار کو گلے سے لگالیا۔۔۔
وہاج صاحب نے بھی اپنے بیٹے کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے اسے اپنے سے لگایا۔
ہیر شانزے عترت ہنزہ سب ہی کی انکھیں صائم کو روتا دیکھ بھیگ چکی تھی۔
بلاج اور بہزاد نے اسٹیج کے قریب جاکے صنم کا ہاتھ چھوڑا تو صائم نے اسٹیج کی ایک سیڑھی اتر کے صنم کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔۔
صنم نے ایک نظر اسکے ہاتھ کی طرف دیکھا اور پھر اسے دیکھا جو اس وقت دولہے کے روپ میں بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔۔انکھوں میں بھلے اسکے آنسوؤں تھے مگر چہرے پہ دلکش مسکراہٹ تھی۔۔
جاری ہے۔۔۔
