Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

یہ اچانک پاپا کو پاکستان جانے کا خیال کیسے اگیا۔۔؟
کیوں اب تمہیں انکے خیالات سے بھی اعتراض ہے؟
نمرہ بیگم نے زرا سخت لہجہ میں زویان کے سوال کے بدلے سوال کیا۔۔
ماما انہیں میری اتنی چیزوں پہ اعتراض ہے اس پہ آپکو اعتراض نہیں۔۔۔
انہیں جو اعتراضات ہیں بلکل صحیح ہے زویان تم نے کبھی غور سے دیکھا ہے اپنے آپکو 22 سال کے میچور لڑکے ہو تم ۔۔
تمہیں اندازہ نہیں ایک تمہارے وجود کو اس دنیا میں لانے کیلے کتنے ہی وجود کو فراموش کرا ہے تمہارے پاپا اور میں نے۔۔
اپنا حلیہ دیکھو زویان ۔۔
تمہیں اللّٰہ نے ایک خوبصورت مرد بنایا ے اس سے بڑی بات مسلمان بنایا ہے مگر تم دیکھوں اپنے آپکو ساری لڑکیوں والے چیزیں تم نے اپنائی ہوئی ہے ایک صرف ڈوپٹہ اوڑھنا رہ گیا ہے ۔۔
ماما یہ فیشن ہے..
رئیلی ا
نمرہ بیگم ایک آئی تو آچکا کے کہا۔۔
ایسا فیشن کسی ذلالت سے کم نہیں جسمیں انسان کا اپنا آپ اپنی پہچان اپنا عکس کھوجائے۔۔
نمرہ کی باتیں پہ فل وقت زویان خاموش ہوگیا تھا مگر اس پہ کوئ خاص اثر نہیں ہوا تھا ۔۔
نمرہ بیگم نے اسے ہزار نصیحتیں کی اظہر صاحب بھی اسکے گلے لگے اور خیریت سے رہنے کی تاکید کی اور ایک مہینے کیلے وہ دونوں پاکستان چلے گئے۔۔
اظہر صاحب اور نمرہ بیگم کو ائیرپورٹ چھوڑ کے زویان واپس آرہا تھا جب اسنے ماشا کو کال کی ۔

#

اظہر صاحب کی فلائٹ لینڈ ہوئ تو انہیں ائیرپورٹ لینے وہاج صاحب پہنچے تھے۔۔
سالوں بعد اپنے بھائ سے مل کے نمرہ بیگم نے ائیرپورٹ کے باہر ہی رونا شروع کردیا ۔
ارے ارے نمرہ آپی بس کرو گھر چل کے باقی کا رونا دھونا کرلینا۔۔
وہاج صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔۔
دونوں ہی بہن بھائ اپنی ماں کی بے جا حسد اور ضد کا شکار ہوکے آج ایسی زندگی گزار رہے تھے۔
اظہر صاحب سے بغل گیر ہوتے ہوئے وہاج کافی دیر تک انکے سینے سے لگے رہے اور انکے ایسا کرنے کی وجہ اظہر صاحب اچھے سے جانتے تھے۔۔
گاڑی اپنی منزل کی طرف گامزن تھی جب اظہر صاحب نے وہاج صاحب سے کہا ۔
وہاج مجھے شاہجاں کی طرف اتارنا اور نمرہ کو گھر لیجانا میں تھوڑی دیر رک کے اجاونگا۔۔
میں بھی چلتی ہو نہ آپکے ساتھ ۔
کیوں ابھی بھی ڈر ہے تمہیں وہ چھین لے گی مجھے تم سے ۔۔
ایسی بات نہیں ہے اظہر صاحب۔۔
نمرہ بیگم نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا۔۔
وہاج صاحب اس سارے عرصہ میں خاموش رہے کیونکہ جو ہوچکا تھا اسے بدلہ نہیں جا سکتا تھا نمرہ بیگم آج اگر اسیے طنز سنتی ہیں تو وجہ وہ خود ہے جان سے عزیز کزن کی کمر پہ انہیں نے چھرا گھونپا تھا آب ہاتھ تو خود کے بھی زخمی ہونے تھے۔۔
وہاج صاحب نے گاڑی شاہجاں بیگم کے گھر کے پاس روکی ۔۔
اظہر صاحب اتر کے خاموشی سے گیٹ کی طرف بڑھ گئے۔۔
وہاج سے نے گاڑی فورا آگے بڑھا دی۔
فرنٹ مرر سے نمرہ کا چہرہ دیکھنے لگے جہاں اداسی تو تھی ہے شرمندگی بھی تھی۔۔
خوش ہو نمرہ تم۔۔؟؟
دوسروں کا حق مارنے والے کبھی خوش نہیں رہتے بھائ دیر سے ہی صحیح مگر اب میں چاہتی ہو کے شاجہاں اور اظہر دوبارہ ایک ہوجائے۔
یہ نہ ممکن ہے نمرہ اظہر بھائ کو شاہد شاہجاں معاف کر بھی دے مگر ان پہ اپنے دل کے دروازے اب شاید ہی کھولے۔۔
“دنیا کا امیر ترین انسان بھی ہونا اور اگر اس پہ اسے چاہنے والی عورت اس سے اپنی چاہت ختم کردے تو اس شخص کی مثال اس فقیر جیسے ہی جسکی جھولی میں ڈھیروں پیسہ ہو پھر بھی اسکا کشکول خالی ہو”
تم نے ڈھونڈا اسے۔ن؟
نمرہ کے سوال پہ وہاج کے لب طنزیہ مسکرائے ۔۔
جنہیں اپنے ہاتھوں سے کھوتے ہیں نہ نمرہ پھر انہیں ڈھونڈے کا ماجرا اللّٰہ پہ چھوڑتے ہیں اور مجھے میرے اللّٰہ پہ پورا بھروسہ ہے ایک نہ ایک دن وہ مجھے ملے گی۔۔
بس مرنے سے پہلے اس سے معافی مانگنا چاہتا ہو۔۔

#

اظہر نے گیٹ پہ کھڑے ہوئے تو ماضی کی چند باتیں انکے ذہن میں چلنے لگی۔۔
اچھا یہ بتاؤ لینے کب او؟؟
اظہر نے شاہجاں کو اسکے میکے اتارتے ہوئے کہا۔۔
کیوں آپ اندر نہیں ائینگے؟؟
او پلیز مجھے تو معاف کرو آج چھٹی کا دن ہے اور ہٹلر گھر میں ہونگے مجھے دیکھتے ہی انہیں ساری تمیز تہزیب تہمید یاد آجاتی ہے۔۔مجھے تو اپنی خالہ جانی سے ہمدردی ہے کیسے ایسے ہٹلررررررر
اظہر اپنی دھن میں بول گیا مگر کچھ یاد آنے پہ اس نے دانتوں تلے زبان دبا کے گردن گھما کے شاجہاں کو دیکھا جو انہیں ہی غصہ میں گھور رہی تھی۔۔
ارے ارے میرا مطلب ہے ابھی خالو کی چھٹی ہے میں جاؤنگا تو انکا مزا خراب ہو جائے گا انکی۔بیٹی اتنے ٹائم بعد جو گھر آئ یے۔۔
اظہر کان کھول کے میری بات سن لے ایک اور بار اگر اپنے بابا کو ہٹلر بولا تو میں یہی رک جاؤنگی ہمیشہ ہمیشہ کیلے آئیے گا پھر مجھ سے ملنے 22 23 سال بعد جب اگر میرے بابا نے اجازت دی تو دیدار کرونگی اپکا۔۔
شاہجاں کے بولنے پہ اظہر نے مسکراتا ہوئے اسکا چہرہ تھاما اور اسکے گال پہ دائیں بائیں اپنے لب رکھتے ہوئے کہا۔
تم سے چوبیس سیکنڈ کی دوری بھی مجھے مرنے کے مقام تک۔لے جاتی ہیں تو 23 24 سال تک دور کیسے رہونگا۔۔مرجاونگا۔۔
شاہجاں انکی باتوں پہ مسکراتی ہوئ اندر چلی گئ۔۔
اظہر صاحب نے ڈور بیل پہ۔ہاتھ رکھا تو انکی آنکھیں بھیگنے لگی 23 سال بعد وہ آج اس دہلیز پہ کھڑے تھے۔۔
جہاں انکا استقبال کرنے کیلیے نہ تو انکی جان سے پیاری خالہ موجود تھی اور نہ انکے ہٹلر خالو۔۔
دروازہ عترت نے کھولا اور کھولتے ہی جس شخص کو اسے دیکھا دیکھتے ہی اسکا ہاتھ بے ڈھرک اپنا منہ پہ گیا۔۔
آنسو آنکھوں سے تواتر جاری تھی اسنے اظہر صاحب کو چھو کے صرف اتنا کہا۔۔
بابا اپ؟؟
اظہر نے روتے روتے عترت کو گلے سے لگالیا۔۔
عترت انکو لے کر اندر بڑھی تو انہیں صوفے شاہجاں ٹیک لگائے دیکھائے دی جو شاید نماز پڑھ کے صوفے پہ بیٹھے بیٹھے سوگی تھی۔۔
عترت نے آگے بڑھ کر جیسی ہی شاہجاں بیگم کو اٹھانا چاہا اظہر صاحب نے روک دیا۔۔
اظہر صاحب خاموشی سے بلکل شاہجاں بیگم کے قریب بیٹھ کے غور غور سے انکا چہرہ دیکھنے لگے آنسو کا نہ روکنے والا سلسلہ انکی آنکھوں سے جاری تھا۔
عترت نے ان دونوں کو اکیلا، چھوڑا اور دائ جان کو بلانے چلی گئ۔۔
زمانے نے شاجہاں بیگم کے حسن پہ کوئ ضرب نہیں لگائ تھی آج بھی انکا حسن لاجواب تھا ہاں بالوں میں سفید چاندنی ا گئ تھی۔۔جسے دیکھ کے اظہر صاحب کو کچھ یاد ایا۔۔
شاہجاں میں تو کہہ رہا ہو ہم ابھی سے بال صدا کالے کرنے والا کلر لگالیتے ہیں۔۔اظر نے اپنے ایکا دکا سفید بالوں کو شیشے میں دیکھتے ہوئے اپنا مشورہ دیا۔
کیوں بھئ۔۔
میں تو کبھی نہیں لگاونگی بال کالا کرنے والا کلر جب بھی میرے بال سفید ہونگے انہیں میں ایسا ہی رہنے دونگی۔۔
سفید بالوں میں پرسنیلٹی الگ ہی لگتی ہے۔۔۔
اظہر صاحب پرانے باتیں یاد کرے ہلکا سا مسکرائے۔۔
کسی کی نظروں کی تپش اپنے چہرے پہ محسوس کرتے ہوئے شاجہاں بیگم کی آنکھوں میں ہلکی سے جنبش ہوئ۔۔
انہوں نے اپنی آنکھیں کھولیں اور دائیں طرف دیکھتے ہی انہیں اظہر صاحب کا دیدار ہوا ۔۔
بلا جھجک انکا ہاتھ اپنے دل پہ گیا مگر انہوں نے فورا اپنا ہاتھ ہٹایا۔
یہ عمل اظہر صاحب سے چھپ نہ سکا۔۔
شاہجاں بیگم نے غور غور سے انہیں دیکھنا شروع کردیا ایک۔انسو انکی آنکھ سے نہیں گرا۔۔
مگر جب آگے بڑھ کے اظہر صاحب نے انہیں سینے سے لگایا وہی شاہجاں بیگم بلک پڑی۔
جاری ہے۔۔