Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

خوشبو شاہجاں کا تھپڑ کہاں کے دو منٹ کیلے سن۔ہوچکی تھی۔۔
شاہجاں تو؟؟
ہاں میں ۔۔
ارے بھئ راستے میں سے ہٹو تم دونوں مجھے اندر جانے دو بہت گرمی ہے باہر۔۔
یہ بول کے ندا بیگم نے ان دونوں کو سائیڈ میں کیا اور اندر بڑھ گئ۔۔
لائبہ بھی ان دونوں کو جانتی تھی اسلیے ان لوگوں کو دیکھ کے خوش بھی تھی اور شاکڈ بھی۔۔
اب اندر دفعان ہوگی یہ مجھے یہی کھڑا رکھنا ہے دھوپ میں۔۔۔
شاہجاں بیگم کے بولنے پہ خوشبو بیگم جو ابھی تک سن سی کی کیفیت میں تھی گال پہ ہاتھ رکھ کے سائیڈ میں ہوئ۔۔
خوشبو دروازہ بند کرکے اندر آئ اور تیزی سے شاہجاں کے گلے لگ کے بلک پڑی۔۔
خوشبو کے اس عمل سے شاہجاں کے بھی آنسو جاری ہوچکی تھے ندا کی بھی آنکھیں بھیگنے لگی تھی۔۔
کالج کے زمانے کی دوستیں تھی ایک دوسرے میں جان بسستی تھی ان لوگوں کی۔
لائبہ بہت غور سے شاہجاں ندا اور خوشبو کو روتے دیکھ رہی تھی جانتی تھی کے اب ان دونوں کے آنے کے بعد خوشبو کا ہجر تنہائ ختم ہو جائے گا۔۔
ارے لائبہ بھی پہلے کھانا لگاؤ بہت بھوک لگی ہے ۔
ندا کے بولنے پہ لائبہ نے نم آنکھوں سے مسکراتے ہوئے ہاں میں گردن ہلائ۔۔
ارے بھئ بس بھی کردو یہ میلو ڈرامہ تم دونوں زیادہ لمبا ہوگیا ہے یہ رونے دھونے کا سین۔۔
ندا کے بولنے پہ وہ دونوں مسکرکے الگ ہوئ اور اب خوشبو ندا کے گلے لگ گئ۔۔مگر ندا نے گلے لگتے ہی کہا۔۔
سوچنا بھی نہیں کے بھی روئونگی۔۔
ندا کے اسطرح بولنے پہ وہ تینوں مسکرانے لگی۔۔

#

تمہارا دماغ خراب ہے ہیر تم زویان کے گھر جاؤ گی اسکی عیادت کرنے۔۔سدرہ نے کافی غصہ میں یہ بات دوہرائ ہیر کے سامنے۔۔
سدرہ مجھے اسکے کلاس میٹ سے پتہ چلا۔ہے فریکچر آئے ہیں اسکے۔۔۔
تو تمہیں اتنی ہمدردی کیوں ہورہی ہے اس سے؟؟.
سدرہ کی ٹون اب تک ویسی تھی۔۔
ہمدردی کی بات نہیں ہے سدرہ اسکی یہ حالت میری وجہ سے ہوئ ہے نہ وہ میرے لیے اسٹینڈ لیتا اور نہ اسکا یہ حال ہوتا۔۔
ہیر کی بات کہی نہ کہی سدرہ کو بھی ٹھیک لگی۔۔
مگر ہیر تم جاوگی کیسے ؟؟
اگلے ایک ہفتہ تک جو لیکچرز ہیں وہ بہت امپورٹڈ ہے میں تو ہرگز ایک بھی لیکچر بنک نہیں کرنے والی۔
ہاں تو میں چلی جاتی ہو اکیلے تو جو لیکچر نوٹ کرے گی لے لونگی تجھ سے۔۔۔
ہیر کی بات پہ سدرہ نے ایک لمبا سانس لیا اور کہا ۔۔
ابھی تک اس ہاسٹل سے ہم لوگ باہر نہیں نکلے تم اکیلے کیسے زویان کے گھر جاوگی ہیر ؟؟
میں چلی جاؤنگی جاہل نہی ہو پڑھی لکھی ہو راستہ پہ سائن بورڈ ہوتے ہیں ۔۔جو جگہ کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اسکے کلاس میٹ سے اڈریس لے لیا ہے میں نے زویان کا
افف اب اگر تم نے جانے کی ٹھان ہی لی ہے تو پھر مل او اپنے زخمی ہمدرد سے۔۔
سدرہ کے منہ بنا کے کہنے پہ ہیر نے گھور کے اسے دیکھا۔۔

#

مراد اب تم بتاؤ تمہارا کیا فیصلہ ہے؟
آنٹی تو مان نہیں رہی۔۔۔
میں نے سوچ لیا ہے جبین میں تم سے اتنی محبت کرنے لگا ہو سوچ بھی نہیں سکتا تم سے الگ رہنے کا۔۔
شانزے سے بھی تو تم محبت کرتے تھے؟
او جبین کتنا طعنہ ماروگی اس بات کا بولا تو ہے کے وقتی اٹریکشن تھی اسکے ساتھ مگر جب سے تمہیں دیکھا تم سے بات کی تمہارے ساتھ وقت گزارا یقین جانو ہر پل صرف تمہارے بارے ۔ہں سوچتا ہو جبین ۔۔
اچھا اچھا اب یہ بتاؤ شانزے سے کیسے جان چھڑواوگے؟؟
وہ میں نے سوچ لیا ہے مگر مجھے آج تم سے ایک شکایت یے؟
مراد نے دنیا بھر کا پیار اپنے چہرے پہ سجائے جبین کا ہاتھ تھام کے کہا۔۔۔
بولو کیا شکوہ ہے مجھ سے ؟
جبین نے بہت مہارت سے اپنے ہاتھ اس سے چھڑواتے ہوئے کہا۔۔
تم شہباز کیساتھ اتنی فرینک ہوکے بات نہیں کیا کرو مجھے اچھا نہیں لگتا۔۔
دیکھو مراد میں اس فرم کی باس ہو شہباز میرا مینجر ہے ہزاروں کام ہوتے ہیں مجھ سے اور بلا وجہ میں کسی سے روڈلی بات نہیں کرسکتی میرا اپنا معیار ہے۔
مراد یہ بات یاد رکھنا مجھے پابندیاں پسند نہیں ہے۔۔
جبین کے دو ٹوک جواب پہ مراد ایک دم خاموش ہوگیا۔۔

#

کیا کہا کون آیا یے؟؟
زویان نے میری (میڈ)سے دوبارہ پوچھا۔۔
زویان سن کوئ ہیر نام کی گرل آئ ہے ۔۔
فورا آپ اسے اوپر بھیجے میرے کمرے میں اور دوسری کوئ بات نہیں کرنا اس سے۔۔۔
زویان کے کہنے پہ میری نے ہاں میں گردن ہلائ
دس منٹ بعد ہیر زویان کے کمرے میں تھی اور زویان کی حالت دیکھ کے مسلسل اسکی آنکھوں سے آنسوؤں جاری تھے اور یہ بات خود بھی ہیر کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی کے وہ رو کیوں رہی ہے۔۔۔
آئ ایم سو سوری میری وجہ سے آپکے ساتھ یہ سب ہوگیا۔۔
ہیر جب سے آپ آئ ہیں مجھے دیکھ کے یا تو روئ جارہی ہیں یہ پھر یہ جملا بولے جارہی ہیں ۔
اتنا بیزار تو میں اس بیڈ پر لیٹے لیٹے نہیں ہوا جتنا آپکو روتا دیکھ کے ہوچکا ہو مجھے روتی ہوئی لڑکیاں نہیں پسند بلکل بھی زویان نے کافی سڑا ہوا منہ بنا کے یہ بات کہی اور زویان کی بات سن کے ہیر کی لب مسکرا اٹھے جیسے دیکھ کے زویان دو پل کیلے ساکن رہ گیا تھا ۔۔
ہیر ایک بات کہو آپ سے اگر مائنڈ نہ کرے آپ تو؟؟
بولے میں مائینڈ نہیں کرونگی..
ہیر کے بولنے پہ زویان کی ہمت بندھی اور اس نے کہا۔۔
ہیر آپکی اسمائل بہت خوبصورت ہے ۔۔۔
زویان کے اسطرح کہنے پہ ہیر کے چہرے پہ حیا کے رنگ بکھر گئے تھے جو زویان کو کافی اچھے لگے۔۔
دونوں ہی خاموش تھے دونوں کو ہی سمجھ نہیں آرہا تھا کے کیا بات کرے۔۔
جب زویان نے ہیر سے کہا۔۔
ہیر اگر آپ مائنڈ نہ کرے تو میرے بیک پہ رکھا پلو آپ صحیح کرسکتی ہیں یہ پھر نیچے سے میری کو بلا دے میرے بیک میں پین ہورہا ہے۔۔۔
نہیں اٹس اوکے میں کردیتی ہو۔
ہیر زرا سا جھکی تو زویان کے چہرہ اسکے چہرے کے بلکل قریب ہوگیا۔۔
دونوں کی نظریں ملی ہیر کے پاس سےا ٹھنے والی Diva پرفیوم کی خوشبو زویان کو مدہوش سا کرنے لگی۔۔
ہیر نے فورا گھبرا کے اپنی نظروں کا زاویہ بدلہ اور تکیہ صحیح کرکے فورا جگہ پہ بیٹھ گئ۔۔
زویان کے ہاتھ پہ فریکچر تھا اور گردن کی ہڈی پہ چوٹ تھی چہرے پہ بھی ہلکی ہلکی کھروچ تھی۔۔
اچھا اب میں چلتی ہو آپ کب آئینگے یونی ؟
ہیر کے جواب پہ زویان مسکرایا اور کہا۔۔
کیوں مس کررہی ہیں مجھے اپ؟؟
زویان کے سوال پہ ہیر مسکرائے اور کہا۔۔
میں چلتی ہو کافی دیر ہوگئ۔۔۔

#

خوشبو کی آپ بیتی سن کے شاہجاں اور ندا دونوں ہی شاکڈ تھے۔۔۔
شہاجاں کی تو سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا کے وہ خوشبو کو تسلی دے یہ اس سے نظریں چرائے۔۔
جبکہ ندا کی نگاہیں مسلسل شاہجاں پہ تھی اور وہ اشاروں اشاروں میں بہت کچھ شاہجاں کو سمجھا چکی تھی۔۔۔
بہت مشکلوں سے لائبہ اور خوشبو عترت کی شادی میں چلنے کیلیے مانے تھے۔۔
دونوں ہی اپنی اپنی پیکنگ کرنے میں مصروف تھے جب موقع دیکھ کے ندا نے شاہجاں سے کہا۔۔
شاہجاں تمہیں اندازاہ ہے تم نے کس دبی چنگاری کو ہوا دی ہے۔۔
ہاں ندا مجھے اندازاہ ہے اب یہ تو جل کے راکھ ہو جائے سب کچھ کسی چیز کا نام ونشان نہ رہے یہ پھر جو ہو وہ خوشبو کے حق میں بہتر ہو۔۔۔۔
یہ کہانی اسی طرح اپنے انجام کو پہنچے گی ندا جو قصور وار ہے سر عام اب اسے سزا دیجائے گی۔۔

#

خوشبو اور لائبہ شاجہاں بیگم کے گھر پہنچ چکے تھے ہر طرف پیلے پھولوں کے نظارے تھے آج عترت کی مایوں تھی۔۔
صنم اور عترت خوشبو سے مل کے بہت خوش ہوئ تھی خوشبو کو بھی یہ دونوں ہیر جیسے لگی جبکہ ہیر کی تصویر دیکھ کے شاہجاں نے کہا تھا ۔
خوشبو اگر میرا کوئ بیٹا ہوتا تو ہیر میری ہوتی۔۔
سب ہی شام کے فنکشن کیلیے تیار ہورہے تھے گھر کے لان۔میں ہی چھوٹی سے مایوں کی تقریب رکھی گئ تھی جسمیں صرف خاندان والے شامل تھے۔۔
بہزاد بھی خوشبو سے مل چکا تھا مگر جب اسے خوشبو کی آب بیتی شاجہاں نے سنائ تو پہلی بار بہزاد راجپوٹ گھبرایا تھا اور اس نے شاہجاں سے وہی بات کہی جو ندا بیگم نے کہی ۔۔۔
ملکہ اس آگ کو ہوا دینا کا انجام تمہیں پتہ ہے؟
ہاں بہزاد مگر اب اور خوشبو یہ سزا نہیں بھگتے گی جو 20 سال سے وہ جھیل رہی ہے وہ بے قصور ہے بہزاد اسکو بھی جینے کا حق ہے ۔
شاجہاں کے اس جواب پہ بہزاد پہلی بار لاجواب ہوا تھا۔۔
آج اتنے سالوں بعد خوشبو تیار ہوئ تھی 42 سالوں نے اسکے بال ہلکے ہلکے سفید ضرور کرے تھے مگر آج بھی پہلے کی طرح انکے چہرے پہ معصومیت اور بھول پن تھا۔۔
مہمانوں کی آمد شروع ہوچکی تھی ندا لوگوں کی فیملی بھی اچکی تھی سب ہی رسم کرنے میں مصروف تھے ۔۔
جب خوشبو کے نمبر ہیر کی وڈیو کال آنے لگی جیسی اٹینڈ کرنے وہ لان کے پچھلے حصہ میں چلی گئ۔۔
آنی آپکو اندازہ نہیں آپ کتنی حسین لگ رہے ہیں اس یلو ڈریس میں ۔۔
ہیر کے بولنے پہ خوشبو شرمانے لگی۔۔
بس کردو ہیر اب اتنی بھی اچھی نہیں لگ رہی میں۔۔
ارے آنی ہماری نظروں سے دیکھے آپ ۔۔
اچھا مجھے سب کی پک بھیجنی ہے اپنے۔۔۔
ہاں ہاں میری جان اب میں اندر جارہی ہو لڑکے والے اچکے ہیںں۔
لائن کاٹ کے خوشبو بیگم اندر جانے لگی جب کسی سے بری طرح تکرائ۔۔
آئ ایم سو سوری میں نے اپکو۔۔۔۔۔
اخود سے ٹکرانے والے شخص کو دیکھ کے خوشبو کے باقی کے لفظ اسکے منہ میں ہی رہ گئے تھے۔بی یقینی سے کیفیت میں اسکی آنکھیں ضروت سے زیادہ کھل گئ۔۔
خوشبو نے اپنی چیخ روکنے کیلئے اپنے منہ پہ ہاتھ رکھا اور الٹے قدم اٹھا کے جیسی ہی چلی اپنے پیچھے رکھی ٹیبل پہ رکھے کانچ کے ڈیکوریشن سے برح طرح ٹکرائ۔۔
سارے کانچ کے برتن دھرام سے نیچے گرے۔۔
اتنے شور پہ سب ہی خوشبو کی طرف متوجہ ہوئے ۔۔
خوشبو بیگم جنتا تیز اس انسان کے سامنے سے بھاگ سکتی تھی بھاگ کے گھر کے اندر داخل ہوئ۔۔
ندا شاجہاں بہزاد تینوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔۔
جبکہ وہاج صاحب کی سمجھ میں ہی نہیں آیا کے ابھی جس کو انہوں نے تھوڑی دیر پہلے دیکھا جو ان سے ٹکرائی تھی وہ خواب تھا یہ حقیقت ۔۔
وہاج صاحب نے فورا کرسی کا سہارا لیا اور دھیرے سے کہا۔۔
میری خوشبو۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔