Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 37 Part 1

اپنے سامنے غصہ میں لال پیلی کھڑی شانزے کو دیکھ کے صنم کے چہرے کا رنگ اڑ گیا کیونکہ ابھی تک شادی کی الجھنوں کی وجہ سے صنم۔نے اسے صائم اور اپنے ریلیشن کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔۔
جس انداز سے شانزے اسے گھور رہی تھی اس سے صنم کو واضح اندازہ ہوگیا تھا کے شانزے کو پتہ لگ چکا ہے صائم اور اسکا۔۔۔
شانزے اسے گھور کے واپس جانے لگی جب پیچھے صنم نے اسے ہگ کرکے روکا۔۔۔
مجھ سے زرا بھی بات کرنے کی ضرورت نہیں صنم اتنی بڑی بات تونے مجھ سے چھپائ۔۔
قسم لے لے مجھ سے ہماری دوستی کی قسم چھپائی نہیں تجھ سے بس موقع دیکھ رہی تھی تسلی سے تجھے بتانے پلیز ناراض مت ہو۔۔۔
تجھے پتہ تجھ سے ناراض نہیں ہوتی میں ۔۔۔
مگر مجھے ملوانا ہے پرسنلی صائم سے ۔۔۔۔
ہاں میری جان بس شادی سے فری ہوتے ہی میٹنگ کرتے ہیں۔۔

#

وہاج صاحب کی نظریں لائٹ پییچ کلر کے سوٹ میں ملبوس خوشبو بیگم پہ تھی۔۔
محبت دور ہو تو صبر آہی جاتا ہے مگر جب سامنے محبوب ہو وہ بھی کسی جائز رشتہ کی صورت میں تو پھر صبر کرنا گناہ کرنے کے مترادف ہے ایسا ہی کچھ وہاج صاحب کے ساتھ اس وقت ہورہا تھا آئے تھے وہ یہ سوچ کے کے آج فل اینڈ فائنل بات کرینگے خوشبو سے اگر انکے پاؤں بھی وہاج صاحب کو پکڑنے پڑے تو وہ پکڑینگے مگر فلحال شاہجاں کی اس تقریب کو وہ خراب کرنا نہیں چاہتے تھے اس لیے خاموشی سے انہیں نگاہوں میں بسائے ہوئے تھے۔۔۔
خوشبو بیگم وہاج صاحب کو بلکل اگنور کیے ہوئے تھی انہیں اب کوئ فرق نہیں پڑتا تھا کے وہاج انکے سامنے ہے انتظار کی دھول انکے دل پہ جم جو گئ تھی۔۔۔
آئ ایم سو سوری بیٹا لگی تو نہیں اپکو۔۔ ؟؟
صائم جو موبائل یوز کرتا ہوا اپنی ہی دھن میں چلا آرہا تھا ایک دم اسکا پاوں کارپیٹ میں اٹکا اس سے پہلے وہ زمین بوس ہوتا خوشبو نے اسے تھام لیا۔۔۔
شکریہ آنٹی پتہ نہیں کیسے پاؤں اٹک گیا ۔
اٹس اوکے بیٹا۔۔
یہ بول کے خوشبو جانے لگی جب پیچھے سے نمرہ بیگم نے اسے آواز دی ۔
کیسی ہو خوشبو؟؟
نمرہ کی آواز پہ صائم دو پل وہی رک گیا۔ ۔
پھپھو آپ جانتی ہیں انہیں؟
صائم نے خوشبو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
جبکہ صائم کو نمرہ کو پھپو کہنے پہ خوشبو کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسک گئ۔
اس نے بے یقینی سی کیفیت میں پہلی بار وہاج کو شکایتی نظروں سے دیکھا ۔۔
انکے دل کی حالت عجیب ہونے لگی انہیں ایسا لگنے لگا انکا،دل بند ہورہا ہے انہوں نے لمبی لمبی سانس لینا شروع کردی۔
بنا نمرہ کی بات کا جواب دیے انہوں نے حال کے باہر قدم بڑھا دیے ۔۔ان پہ نظر رکھے وہاج نے بھی حال کے باہر کی راہ لی۔۔۔
پھپھو ان کو کیا ہوا اگر آپ انہیں جانتی ہیں تو انہوں نے تو آپکی بات کا کوئ خاص نوٹس نہیں لیا ۔
تم چھوڑو صائم انہیں دادو کے پاس جاؤ بلا رہی ہیں تمہیں۔۔
صائم فلحال تو وہاں سے چلا گیا مگر نمرہ بیگم انہوں نے ایک لمبی سانس لی اور انے والے حالات کیلیے خود کو تیار کرنے لگی۔۔صائم۔اور زویان کو جب انکے ماں باپ کا ماضی پتہ چلے گا تو شاید سب کچھ پہلے جیسا نہ رہے ۔۔
یہ ہی سوچتے ہوئے نمرہ نے اپنی آنکھیں بند کرکے کھولی انہوں نے جان بوجھ کے صائم کے سامنے خوشبو کو مخاطب کیا تھا وہ جلد از جلد سب گٹھیاں سلجھانا چاہتی تھی۔۔۔

#

بازل تم جاؤ یار دیکھو میں کھالونگی کھانا؟؟.
ہنزہ نے بازل کو سمجھانے کی کوشش کری مگر وہ تھا کے ضد پہ اڑا تھا کھانا میں کھلاونگا۔۔
صبح ہی ہنزہ کی انگلی دروازے میں آگئ تھی جس کی وجہ سے اسکی انگلی کافی زخمی ہوگئے تھی اب تھی بھی سیدھی ہاتھ کی انگلی ہاتھ میں بینڈیج بنی تھی جسکی وجہ سے ہنزہ سے اس ہاتھ سے کوئ بھی کام کرنا بہت مشکل ہورہا تھا تکلیف اسے الگ ہورہی تھی۔۔
وہاج اور عترت کا فوٹو۔ سین جاری تھا لوگ انکے ساتھ پکس کھیچوانے کیساتھ ساتھ کھانا بھی کھا رہے تھے اور صبح سے تکلیف کی وجہ سے بھوکی ہنزہ کو کھانا دیکھ کے بھوک لگنے لگی تھی ۔۔۔
کھانا کی کوشش کرنے کے دوران چوٹ لگے ہاتھ کو استعمال کرتے وقت اسکے ہاتھ میں تکلیف ہونے لگی۔۔
مگر بازل اتنے سارے لوگ ہیں سمجھو بات کو اچھا نہیں لگے گا پلیز۔۔
یہاں کون کھلا رہا ہے تم ڈریسنگ روم میں وہ کونے والے میں میں صنم کو بول کے کھانے کا ارینج کرتا ہو ۔۔۔
صنم کو بول کے بازل ڈریسنگ روم میں آیا تو اس بات سے بے خبر کے بازل ڈریسنگ روم میں آگیا ہے ہنزہ شیشہ کے سامنے کھڑے ہوکے اپنا گلا صحیح کرنے لگی جو کافی ڈیپ ہوگیا تھا۔۔
بازل کی نظر جب شیشہ میں دیکھتے ہوئے ہنزہ کے حسسسن پہ پڑی تو وہ نظریں چرا گیا۔
بازل کا دل ایک بار پھر ہنزہ کو چھونے کیلیے مچلنے لگا مگر اسنے بلاج سے وعدہ کیا تھا کے جب تک اسکے اور ہنزہ کے درمیان کو حلال رشتہ نہیں بن جاتا وہ اسے چھوئے گا نہیں۔
بازل نے چھوٹی سے ٹیبل درمیان میں رکھ کے نگاہیں نیچے کرکے ہنزہ سے کہا۔۔
ہنزہ کھانا ارہا ہے آجاؤ جلدی۔۔۔
بازل کی آواز پہ ہنزہ ایک دم چونکی نروس سی ہوکر وہ بازل کے پاس اکے بیٹھ گئ۔۔اسے اندازہ ہوگیا تھا بازل کی جھکی گردن دیکھ کے کو وہ ہنزہ کو دیکھ چکا۔ہے گلا صحیح کرتے ہوئے۔۔
بازل نے اسکو مسکراکے دیکھا اور اسکے چہرے کے بال کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا۔
زیادہ پین ہورہا ہے نہ؟؟
بازل نے اس طرح کے ریکٹ پہ ہنزہ نے مسکراکے نفی میں گردن ہلائی اور کہا۔
جب زخم پہ مرہم رکھنے والا جان عزیز ہو تو گھاؤ کی تکلیف پتہ نہیں چلتی۔۔۔
ہنزہ کی بات پہ بازل نے مسکراتے ہوئے اسکے سر سے اپنا سر ٹکرایا تبھی دروازہ بجا۔۔
اجائے۔۔
اجازت ملتے ہی دروازہ کھلا تو بہزاد اندر آیا کچھ ویٹروں کیساتھ۔۔۔
بہزاد کو دیکھ کے بازل اور ہنزہ دونوں ایک ساتھ کھڑے ہوئے۔۔
ارے بہزاد بھائ آپ میں نے صنم کو بولا تھا۔۔۔۔۔
وہ عترت کو کھانا کھلا رہی ہے ۔۔بہزاد نے ویٹروں کو کھانا ٹیبل پہ رکھتے ہوئے کہا۔۔
کوئ بات نہیں تم بھی میرے بھائیوں جیسے ہو بیٹھ جاؤ دونوں کھڑے کیوں ہوگئے مجھے بتایا ہے صنم نے نے کے ہنزہ کے ہاتھ میں چوٹ لگی ہے ۔۔
ہاں بہزاد بھائ اس سے کھانا کھایا نہیں جا رہا اس لیے میں۔۔۔۔۔
آگے کی بات بولنے سے جہاں بازل کو شرم ارہی تھی وہی ہنزہ بھی نگاہیں جھکا کے کھڑی تھی۔۔بہزاد سمجھ گیا تھا کے بازل کیا بولنا چاہ رہا ہے ۔۔
اچھا کھانا کھاؤ تم دونوں کسی چیز کی کی ضرورت پڑے تو بازل تو صنم کے نمبر پہ کال کردیا ۔۔
یہ بول کے بہزاد باہر نکلا تو دونوں کا سانس بہال ہوا۔۔۔۔
افف یار انکی پرسنیلٹی ایسے ہی کے بندے کو سانس لینا مشکل ہو جائے ۔۔۔
ہنزہ کے کہنے پہ بازل نے مسکرا کے اسے پہلے لقمہ کھلایا اور جو ہنزہ نے بہت آرام سے اپنے منہ رکھ کے بازل کو دیکھا جو مسکرا رہا تھا۔۔
ہنزہ نے کچھ سوچتے ہوئے مسکرا کے آگے بڑھ کے بازل کے ماتھے پہ اپنے لب رکھ دیے۔۔
ہنزہ کی اس حرکت پہ بازل جہاں حیران ہوا وہی سرشار بھی۔۔۔

#

خوشبو بیگم نے حال کے پچھلے والے حصے میں جاکے لمبی لمبی سانس لینا شروع کردی انکی آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب آیا ہو اتھا ۔۔
سالوں سے وہ جس شخص کا انتظار کررہی تھی اسکی بیووفائ کا سوگ منا رہی تھی وہ تو اپنی الگ ہی دنیا بسائے ہوئے تھا۔۔
خوشبو نے بہت مشکل سے اپنے آنسوؤں کو بہنے سے روکا اور جانے کیلیے جیسی ہی پلٹی تو وہاج صاحب کھڑے تھے۔۔
خوشبو نے انکو جن نظروں سے دیکھا وہاج صاحب کی آنکھیں خود جھک گئ۔
کیا کچھ نہیں تھا خوشبو کی آنکھوں میں شکوے سوال غصہ نفرت بے بسی۔
وہ وہاج کے سامنے سے جانے لگی جب وہاج صاحب نے انکا ہاتھ پکڑ لیا۔
خوشبو کے سالوں پرانے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور انہوں نے ایک زور دار چماٹ وہاج صاحب کے منہ پہ دے مارا اپنا ہاتھ چھڑا وا کے دوبارہ جانے لگی تب وہاج صاحب نے انہیں کمر سے پکڑ کے دوبارہ اپنے آپ سے لگایا
چھوڑو مجھے وہاج مجھے ہاتھ نہیں لگاؤ کوئ رشتہ نہیں اپکا مجھ سے چھوڑے مجھے ورنہ میں کچھ غلط کر بیٹھونگی۔۔
وہاج صاحب نے خوشبو بیگم کا رخ اپنے طرف موڑا۔۔
وہاج صاحب کی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں دیکھ کے پل بھر کیلیے خوشبو بیگم نے مزاحمت چھوڑی۔۔
خوشبو تمہارا گناہگار ہو میں جو چاہے سزا دو مگر میں تم سے آج بھی محبت۔۔۔۔۔
محبت کا نام مت لینا وہاج خوشبو نے اچانک انکا گریبان پکڑ کے چیخ کے کہا۔۔
محبت نہیں ہوس کہو جو تم نے پوری کری اور چلے گئے ۔۔اپنی۔الگ دنیا بسانے اور میں نے تمہارے انتظار میں اپنی پوری زندگی برباد کردی۔۔۔
مجھے تم سے اب کوئ تعلق نہیں رکھنا اور آج کے بعد میرے راستہ میں نہیں آنا وہاج ورنہ میں خود کو ختم۔کرلونگی۔۔
یہ بول کے خوشبو بیگم جانے لگی جب وہاج صاحب نے پیچھے سے کہا۔
بیوی ہو تم۔میری خوشبو۔۔۔
بیوی لفظ پہ خوشبو بیگم نے غصہ میں ایک اور چماٹ وہاج صاحب کے منہ پہ دے مارا۔۔۔
بیوی لفظ اپنے منہ سے نہیں نکلنا میں بیوی نہیں ۔تمہاری تمہاری بیوی وہ ہے جسکے ساتھ تم نے اپنی زندگی گزاری ۔۔۔
اور شاید اتنا تو پتہ ہوگا کے جان بوجھ کے بیوی سے 3 مہینے ازدواجی تعلق نہیں رکھو تو نکاح ختم ہو جاتا ہے ۔۔
تو میرا اور تمہارا نکاح ختم ہوچکا کاغذی کاروائ ہے وہ میں پوری کردونگی۔۔۔
میں تمہیں کسی قیمت پہ نہیں چھوڑا گا سنا تم نے۔۔
واہج۔نے دوبارہ اسکا۔ہاتھ پکڑ کے غصہ میں کہا۔۔
مزاق اچھا ہے مگر مجھے ہنسی نہیں ائ۔۔
جسے تم نے مجھے چھوڑا اتنے سالوں نکاح کے نام پہ کھوکھلی زنجیر ڈال کے ۔۔
اب میری باری تمہارے سامنے اس عمر میں تمہیں کسی اور کی ہو کے دیکھاونگی۔۔
یہ بول کے خوشبو بیگم نے وہاج صاحب کو گھور کے دیکھا اور چلی گئ۔۔
جاری ہے۔۔۔