Dastaan Ishq Muhabbat By Mariyam Khan Readelle50216 Episode 65 Part 2
Rate this Novel
Episode 65 Part 2
ماشاءاللہ عاشر میں بہت ذیادہ ایمرو منٹ ائ ہے۔۔
سارے سبجیکٹ میں۔۔
عاشر کی ٹیچر مسلسل عاشر کی تعریف کررہی تھی۔۔
اسکول میں تقریبا سب ہی شانزے کو غور غور سے دیکھ رہے تھے۔۔
ظاہر سی بات ہے عاشر کی عمر کے حساب سے شانزے ابھی چھوٹی تھی اسکی ماں کے درجے کے لحاظ سے مگر یہ۔ بات اسکول والے بول نہیں سکتے کے اپ تو کہی سے بھی عاشر کی ماما نہیں لگتی۔۔
کیونکہ بہزاد راجپوت سے شانزے کی شادی پورے شہر سے تو کیا پورے ملک سے چھپی نہیں تھی۔۔۔
رزلٹ لے کے شانزے باہر نکلی جب عاشر نے کسی کو پکارا!!
ماما!!!؟
عاشر کے پکارنے پہ شانزے جو گاڑی کا لاک کھول رہی تھی مسکراتے ہوئے پلٹی مگر اسکو یہ دیکھ کے کافی شاکڈ لگا کے عاشر نے اسے نہیں بلکے انکے زرا فاصلے پہ کھڑی ایک عورت کو ماما کہا۔
عاشر ڈورتا ہوا لبنہ کے گلے لگ گیا!!
عاشر کے اس عمل پہ شانزے کے دل میں اہک چبھن سی ہوئ۔۔
میرا بیٹا میری جان کیسے ہو اپ؟؟.
میں ٹھیک ہو ماما !!
عاشر نے لبنا کے گلے لگتے ہوئے کہا۔۔
لبنا گلے عاشر کے لگی تھی مگر غور غور سے شانزے کو دیکھ رہی تھی!!!
ویسے تمہیں دیکھ کے لگتا ہے کے بہزاد کی چوائس کافی خراب ہوگئ۔۔
لبنا نے سینے پہ ہاتھ باندھ کے اوپر سے نیچے تک شانزے کو دیکھتے ہوئے کہا۔
ڈارک پرپل کلر کے عاصم جوفا کے ڈیزائنر قمیض شلوار میں سمپل سے کھوسے پہنے اونچی سی پونی ٹیل بنائے بنا میک اپ سے پاک شانزے کو ٹونٹ کرتے ہوئے کہا۔۔
شانزے نے اسکی بات کو برا منائے بنا کہا۔۔
ہم کہہ سکتی ہیں اپ لیکن بہزاد کی چوائس پہلے خراب تھی اب نہیں جبھی تو اپکا انتخاب کیا تھا۔
شانزے کے دوبدو جواب پہ لبنا کے چہرے کی طنزیہ مسکراہٹ پل بھر کیلئے غائب ہوگئ تھی۔۔
عاشر میرا بیٹا ہے اور میں اسے تم سے چھین کے رہونگی۔۔
بس یہ ہی اس بچے کی بدقسمتی ہے کے تم جیسی عورت اسکی ماں ہے جس نے اپنی جسمانی ہوس پوری کرنے کیلئے پیسوں کی لالچ میں ایک بے پناہ محبت کرنے والے شوہر کی عزت کو داغدارکیا اپنے یار کیساتھ جسمانی تعلقات رکھتے ہوئے ایک بار بھی۔۔
اس سے پہلے شانزے اپنی بات پوری کرتے لبنا نے اسے تھپڑ مارنے کیلئے ہاتھ اٹھایا شانزے نے وہی ہاتھ درمیان میں رک کے دوسرے ہاتھ سے لبنا کا منہ دبوچتے ہوئے کہا۔
نہ نہ لبنا انٹی!!
انٹی کہنے پہ لبنا نے غصہ میں شانزے سے اپنا منہ چھڑوانا چاہا۔۔
یہ غلطی مت کرنا شاید اپ میرا پورا نام نہیں جانتی شانزے بہزاد راجپوت ہو میں ۔۔۔
میں بہزاد اور عاشر کیلئے اپنی جان دے بھی سکتی ہو اور کسی کی جان لے بھی سکتی ہو۔۔
ہہ بولتے ہوئے شانزے نے اسکے ہاتھ کیساتھ اسکا منہ بھی چھوڑا اور کہا۔
۔اچھے سے جانتی ہو میں کیوں تمہیں اچانک اپنے بیٹے سے محبت کیسے جاگ گئ۔۔
مگر اس بار تم عاشر کو بہزاد سے چھین نہیں سکتی یاد رکھنا ایک موبائل فون دینے سے تم عاشر کو تو ممتا کے جھوٹے جال میں پھانس سکتی ہو مگر اسے چھین نہیں سکتی ۔
یہ کہہ کے شانزے نے عاشر کا ہاتھ تھاما اور گاڑی اسٹارٹ کرکے چلی گئ۔۔
بہزاد جس نے شانزے کو کال تھی جو شانزے نے پک تو کرلی تھی مگر بات نہیں کرپائ اور یہ بھی بھول گئ کے بہزاد کال پہ ہے۔۔
اسلیے بہزاد نے لبنا اور اسکے درمیان کی ساری گفتگو سن کے مسکراتے ہوئے کہا۔
“میری پٹاخہ”
#
فجر کی نماز پڑھ کے تھوڑا سا قرآن پاک پڑھ کے ہیر نے پاس جاکے زویان کو دیکھا جو سویا ہوا تھا ایسا ہیر کو لگا۔۔
ہیر نےاس پہ جھک کے ہلکی سے پھونک ماری اور خاموشی سے گیٹ کھول کے باہر جانے لگی۔
دروازہ بند ہوتے ہی زویان کی انکھیں کھلی اور اسکے لب مسکرائے تھے کل کی رات اسکی سب سے خوبصورت رات تھی۔۔
ہیر نے جس طرح اسکا خیال رکھا تھا زویان کو بہت شرمندگی ہورہی تھی وہ بہت ذیادہ ہیر کو تکلیف پہنچا چکا تھا۔۔
مگر اب وہ ہیر کو اتنی محبت اور عزت دینا چاہتا تھا کے وہ زویان کی دی گئ تکلیف دل سے بھلا دے
ہیر زویان کے کمرے سے نکلی تو اسکا سامنا شاہجاں سے ہوا جو زویان کو دیکھنے اراہی تھی نمرہ کی تھوڑی طبیعت ناساز تھی اس وجہ سے وہ ائ تھی۔۔
مگر ہیر کو کمرے سے نکلتا دیکھ جہاں انہیں یہ دیکھ کے حیرت ہئ وہاں خوشی بھی۔۔
مگر ہیر شاہجاں بیگم کو دیکھ کے کافی گھبرا گئ تھی اور ساتھ میں نروس بھی ہورہی تھی۔۔
شاجہاں بیگم نے مسکراہٹ کیساتھ اسے کے سر پہ ہاتھ رکھا اور کہا۔
جانتی ہو معاف کرنا اسان نہیں ہوتا ہیر بیٹا خاص کر اس شخص کو جس سے اپنے سب سے زیادہ محبت کی ہو اور وہی اپکی ہر تکلیف کی وجہ ہو۔۔
مگر اللّٰہ معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔۔
اللّٰہ تمہں اور زویان کو ایک ساتھ ہمیشہ خوش رکھے ایک موقع اسے دے کے تم نے ثابت کردیا کے نسل کیساتھ ساتھ اولاد کی پرورش میں ماں کی تربیت بھی ہوتی ہے ۔
یہ بول کے شاہجاں بیگم کمرے میں جانے کے بجائے وہاں سے چلی گئ اور ہیر نے کچن کا رخ کیا۔۔۔
گھر میں سب کو جلدی اٹھنے کی عادت تھی اسی وجہ سے سب اٹھ گئے تھے۔۔
سب ناشتہ کی ٹیبل پہ اچکے تھے جسمیں صنم بھی شامل تھی۔مگر ہیر نے ایک ناشتہ کی ٹرے تیار کی اور اوپر جانے لگی۔۔
ٹیبل پہ بیٹھا ہر شخص بہت غور سے یہ منظر دیکھ رہا تھا سب ہی خوش تھے اظہر صاحب کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا کیونکہ وہ دل سے چاہتے تھے کے زویان اور ہیر الگ نہ ہو۔۔
صائم بھی خوش تھا ہیر اور زویان کیلئے مگر صنم کی زبان میں کھجلی ہوئ اور اسنے اوپر جاتی ہیر کو اواز دیتے ہوئے کہا۔
بھابھی جان !!.صنم کے ایسے پکارنے پہ ٹیبل پہ بیٹھا ہر شخص مسکرانے لگا صائم بھی صنم کو دلچسپ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔
جی نند صاحبہ کہیے۔۔۔
پیر نے بھی اسے اسی ٹون میں جواب دیا۔۔
وہ اصل میں سوچ رہی تھی اگر اپ میرے بھائ کی خدمت سے فری ہوکے میرے ساتھ زرا نہال کے گھر تک چلتی ؟؟
صنم نے کافی مسکرا کے نہال کا نام لیا تھا جو وہاں بیٹھے کسی نفوس نے نوٹ کیا ہو یہ نہ کیا ہو صائم نے ضرور کیا تھا۔۔
جی نہیں انکی ذمیداری اپ پہ ہے اور اپ ہی انہیں اچھے سے ہینڈل کرسکتی ہیں لہزا مجھے بخشے۔۔
یہ کہہ کے تقریبا بھاگنے والے انداز میں ہیر سیڑھیاں چڑھنے لگی ۔ہیر کی اس حرکت پہ ایک بار پھر سب کا قہقہ گونجا مگر صائم کے حلق سے ناشتہ اترنا اب مشکل تھا۔۔
ہیر کمرے میں ناشتہ لے کر پہنچی تو زویان اٹھ چکا تھا ۔۔
ہیر نے اسکے سامنے ناشتہ کی ٹرے رکھی اور ٹول گیلا کرکے اسکے ہاتھ صاف کرنے لگی اسے اندازہ ہوگیا تھا کے وہ منہ دھو چکا ہے اور برش بھی کرچکا ہے۔۔
ہیر نے اسے اپنے ہاتھوں سے ناشتہ کروایا جبکے اسکا سیدھا ہاتھ ٹھیک تھا زویان نے ایک دم اس سے پوچھا۔۔
تم نے کیا ناشتہ ؟؟
نہیں ابھی موڈ نہیں۔۔۔
زویان اہیر کی بات پہ خاموش ہوکے اسے دیکھنے لگا۔۔
زویان نے پاس رکھا چائے کا کپ اپنے ہونٹوں سے لگاکے تھوڑی سی چائے پی اور پھر وہی کپ ہیر کی طرف بڑھا دیا۔۔
میرے ساتھ کرلو ناشتہ؟؟
نہیں!!
ہیر نے خاموشی سے نگاہیں جھکا کے کہا اور زویان کے لیے سلائس کا لقمہ توڑنے لگی۔۔
ہیر ںاشتہ کرو میرے ساتھ۔۔
نہیں !!.ٹھیک ہے ہھر لیجاو مجھے بھی نہیں کرنا۔۔
ہر بات پہ ضد کیوں کررہے ہیں۔۔؟
یہ لو چائے پیو !!
زویان نے اسکے اگے چائے کا کپ کیا اسکی بات اگنور کرکے۔۔۔
میں نہیں پی رہی۔۔
دل پہ ماری ہے گولی میں نے کوڑھ نہیں مجھے جو میرا جھوٹا نہیں کھاسکتی۔۔۔
ہر بات میں بکواس کیوں کرتے ہیں اللّٰہ نہ کرے اپ کو کچھ ہو انٹی اور انکل کا خیال نہیں اپکو۔۔
تو پھر کرو ناشتہ میرے ساتھ جب اتنا کررہی ہو میرے لیے تو مت دلاو مجھے ضد ۔۔
ہیر نے اسکے ہاتھ سے خاموشی سے چائے کا کپ لے کے اپنے ہونٹوں سے لگالیا۔۔
زویان نے مسکراتے ہوئے بہت دھیرے سے اگے بڑھ کے اسکے ماتھے کو اپنے لبو سے چھوا تھا۔
ایسا کرنے پہ ہیر پیچھے نہیں ہوئ تھی مگر غصہ میں اپنا ماٹھا ضرور صاف کیا تھا اور ہیر کی اس حرکت پہ زویان نے مسکراتے ہوئے نفی میں گردن ہلائ تھی۔۔
جاری ہے۔۔
