Dastaan Ishq Muhabbat By Mariyam Khan Readelle50216 Episode 56 Part 1
Rate this Novel
Episode 56 Part 1
(پارٹ 1)
بازل کے بولتے ہی سب کا یاہووووو کا نعرہ لگا اب باری تھی ہنزہ کی سب کی نظریں ہنزہ پہ تھی۔۔۔
ہنزہ نے ایک نظر سامنے دیکھا تو بازل اسے ہی دیکھ کے مسکرا رہا تھا ۔
ہنزہ نے پھر اپنی دائیں جانب دیکھا تو اسکے ماں باپ بہت ہی خوش کھڑے تھے اور منتظر تھے کے کب انکی بیٹی انکی خواہش کا احترام کرے۔۔
کبھی یہ خواہش ہنزہ کی بھی تھی کے بازل کے نام کی دلہن بنے مگر حالات ایسے ہوئے کے اسکی یہ خواہش اسکے دل میں دفن ہوگئ۔۔
ایک دن پہلے اپنے تایا کے معافی مانگنے پہ اپنے ماں باپ کے اصرار پہ انکے خاندان کی عزت بچانے کیلیئے وہ اس نکاح کیلیے راضی تو ہوگئ تھی مگر بازل کو پانے کی اب اسکی چاہ نہیں رہی تھی ۔۔
ہر لڑکی کو اپنی عزت محبت سے بڑھ کے عزیز ہوتی ہے اور یہ ہی عزت اپنی محبت پانے کے چکر میں بازل داؤ پہ لگا چکا تھا۔
ہنزہ نے انکھیں بند کی اور کہا۔۔
قبول ہے قبول ہے قبول ہے۔۔۔
ایک دم تالیوں کا شور بج اٹھا۔۔
ارے بھائ اب یہ نازک سا پردہ تو انکے درمیان سے ہٹاؤ !!!
ہمارا دولہا مچلا پڑا ہے اپنی دولہن کے دیدار کو۔۔۔
وہاج کے بولنے پہ بازل کی طرف سے صائم اور ہنزہ کی طرف سے صنم جلدی جلدی پھولوں کا پردو سائیڈ میں کرنے لگے
جب اچانک صائم کے ہاتھ کے نیچے صنم کا ہاتھ اگیا۔۔
صائم کو لگا سب کچھ جیسے تھم سا گیا۔
صنم نے بنا نگاہ صائم پہ ڈالے اپنا ہاتھ تیزی سے صائم کے ہاتھ کے نیچے سے نکالا۔۔
پھولوں کی دیوار ہٹ چکی تھی بازل کو بہت جلدی تھی ہنزہ کو دیکھنے کی۔۔
وائٹ کلر کا غرارہ پہنے جس پہ گولڈن کام تھا ہیوی گولڈن کلر کی جیولری پہنے سر پہ ریڈ کا ڈوپٹہ ڈالے وہ گردن جھکا کے بیٹھی تھی۔۔
بازل کے قدم جیسے جیسے اسکی طرف بڑھ رہے تھے اتنا ہی ہنزہ کا دل عجیب ہورہا تھا۔۔
بازل نے اگے بڑھ کے ہنزہ کا گھونگھٹ اوپر کیا۔
ہنزہ کو دیکھتے ہی بازل کے لب کھل کے مسکرائے تھے اس کے لبوں سے فورا نکلا۔۔
“ماشاءاللہ”
اسنے فورا جھک کے ہنزہ کی پیشانی پہ اپنے لب رکھے ۔
بازل کی انکھیں ایک بار پھر اپنے رب کی مہربانی پہ بھیگنے لگی۔۔۔
بازل نے اسکے دونوں ہاتھ تھام کے اسے اپنے سامنے کھڑا کیا اور اسے اپنے سینے سے لگالیا۔۔
ایک دم جیسے ایک سکون سا اسکے سینے میں اتر گیا ۔اسے پراوہ نہیں تھی کے اکفی لوگ تھے وہاں اسے تو بس اپنا سکون پانا تھا ۔
سب نے ہی ان دونوں کو اسطرح دیکھ کے پرجوش انداز میں تالیاں بجائ تھی۔۔
ہیر بہت غور سے یہ منظر دیکھ رہی اسکی انکھوں میں ایک عجیب سی اداسی تھی۔۔
اسے اپنا نکاح یاد ایا تو بے دردی دو آنسو اسکے گالوں پہ پھسل گئے جنہیں بہت مہارت سے ہیر نے پونچھ ڈالا۔۔
مگر زویان جسکی نظر ہیر پہ ہی تھی اس سے یہ منظر چھپ نہ سکا اور وہ جانتا تھا ہیر کے آنسوؤں کی وجہ ایک بار اسکا ضمیر اسے ملامت کرنے لگا۔۔
دولہا دولہن اسٹیج پہ ایک ساتھ بیٹھ چکے تھے۔۔
بازل بار بار گردن گھما کے ہنزہ کو دیکھ رہا تھا مگر ہنزہ نے ایک نگاہ بھی اس پہ نہیں ڈالی ۔
ہارون اور ہنزہ کے دوست اسے مبارک باد دینے اسٹیج پہ ائے جب بازل کے گلے لگتے ہارون نے کہا ۔
ائ ہوپ اب اپ مجھ سے بدگمان نہیں ہونگے ہنزہ میری بہن ہے۔۔۔
کل رات کی ہنزہ اور بازل ساری باتیں ہارون سن چکا تھا بظاہر ہنزہ سمجھ رہی تھی کے ہارون کی کال کٹ ہوگئ مگر ہارون کال پہ ہی تھا۔۔
ہارون یہ کہہ کے بازل سے الگ ہو اتو بازل نے اسکی بات پہ اس سے معذرت کری اور اسکا شکریہ ادا کیا۔۔
ہیر صنم اور شانزے کیساتھ باتوں میں مصروف تھی جب ایک اواز پہ تینوں پلٹی۔۔
ارے ہیر اپ؟
جعفر بھائ اپ؟؟
ہیر انہیں دیکھ کے بہت خوش ہوئ وہ تقریبا 23 24 سال کا خوبرو لڑکا تھا۔۔
مجھے تو لگا تھا اب دوبارہ اتنی ہونہار انٹیریر ڈیزائنر سے ملاقات نہیں ہوگی !!
انکی تعریف پہ ہیر مسکرا کے شرمانے لگی ۔۔
ہیر نے صنم اور شانزے کا تعارف ان سے کروایا۔۔صائم نے جب ہیر کو کسی لڑکے کیساتھ باتیں کرتے دیکھا تو فورا وہاں پہنچا اور جعفر کو دیکھ کے کہا۔۔
تو جانتا ہے ہیر کو؟؟
ہاں مگر تو کیسے جانتا ہے؟
میری بہن ہے !!!
کیا سچ میں؟
جعفر ایک دم ہنس پڑا اور کہا۔۔
ارے صائم تو جو بول رہا تھا نہ میرے افس کا انٹیریر کس نے ڈیزائن کیا؟؟
یہ ہی مس ہیر !!
صائم خوش ہونے کیساتھ ساتھ شاکڈ بھی ہوا سے نہیں پتہ تھا کے ہیر انٹیریر ڈیزائنر ہے
جعفر صائم اور بازل کے یونی کا دوست تھا اور صائم بزنس کے حوالے سے بھی اسے جانتا تھا۔۔صائم باتیں تو جعفر سے کررہا تھا مگر
صائم کی نظریں بار بار بھٹک کے گردن جھکائ صنم پہ تھی۔۔۔
صنم جو صائم کی نظروں کی تپش اپنے چہرے پہ محسوس کرچکی تھی وہاں سے چلی گئ اور اسکے پیچھے شانزے بھی۔۔
صائم بہزاد کے بلانے پی اسکے پاس چلا گیا۔۔
اب ہیر اور جعفر اپس میں بات کررہے تھے اور ہیر مسلسل مسکرا رہی تھی۔۔
ادھر زویان جسکا بس نہیں چل رہا تھا کے جعفر کا سر پھاڑ دے۔۔
ہیر جعفر سے ایکسکیوز کرکے واش روم گئ تو اسکے پیچھے زویان بھی سب سے بچتا بچاتا ہیر کے پیچھے گیا۔۔
کھانا کھایا تم نے؟؟
اظہر صاحب کی اواز پہ پانی پیتی شاجہاں نے انہیں دیکھا اور ہاں میں گردن ہلائ مگر بولی کچھ نہیں۔۔
جبکے اظہر صاحب کا اج شدت سے دل کیا تھا رائل بلو کلر کے سوٹ میں شاہجاں کو گلے لگانے کا!!
عترت اور وہاج عترت کی طبیعت کی وجہ سے جلدی چلے گئے تھے ۔۔زویان نے بہت کہا وہاج کو گھر چلنے کا مگر وہ عترت کو لے کر اپنے سسرال اگیا۔۔
ہیر واش روم سے فریش ہوکے نکلی۔۔
ہاتھ دھو رہی تھی جب پیچھے سے زویان کی آواز ائ۔۔
کون تھا وہ؟؟
زویان کی آواز سن کے ہیر نے اسے اگنور کیا اور ہاتھ دھوکے وہ اسے اگنور کرکے جانے لگی۔۔
جب زویان نے اسکے کھینچ کے اپنے سامنے کیا۔۔
میں کچھ بکواس کررہا ہو تم سے!!!
ہیر نے ایک نظر اسے دیکھا اور کہا۔۔
مجھے بکواس سننے کی عادت نہیں راستہ چھوڑو میرا۔۔
ہیر میں تم سے آخری بار پوچھ رہا ہو وہ لڑکا کون تھا۔۔؟؟
ہیر نے جھٹکے سے اپنے اپکو اس سے چھڑ وایا اور کہا۔۔
اپنا کام کرو ؟؟
میری مرضی میں کسی سے بھی بات کرو کچھ بھی کرو تمہیں حق نہیں مجھ پہ حق جتانے کا ۔۔۔
ہیر ایک بار پھر اسے اگنور کرکے جانے کیلیے اگے بڑھی۔۔
جب زویان نے اسے دوبارہ اپنے طرف کھینچا مگر اس بار اسکی کمر کو مضبوطی سے تھاما۔۔
ایسا کرنے سے ہیر کے اوسان خطا ہونے لگے وہ اپنے اپکو زویان سے چھڑوانے لگی جب اسکی کلائ میں موجود چوڑیاں شور کرنے لگی۔
زویان نے اسے اور خود کے قریب کیا اور کہا۔۔
مجھے تمہارے یہ لپسٹک سے لبریز ہونٹ بہت پسند ہے۔۔۔۔
اتنا کہہ کے زویان اسکے لبوں پہ جھک گیا۔۔
ہیر نے اسے دھکا دے کے جھٹکے سے اپنے اپ سے الگ گیا۔۔
تم کل بھی بے غیرت تھے اج بھی بے غیرت ہو گھٹیا انسان ہمت کیسے ہوئ مجھے دوبارہ۔۔۔
زویان جسکا نشہ ہیر کے لبوں کو چومنے کے بعد ابھی بھی اترا نہیں تھا جو ہیر کی بکواس کو اگنور کرکے بھر پور انداز میں ہیر کی گردن پہ فوکس کیے ہوئے تھا۔۔
دوبارہ تیزی سے ہیر کی طرف بڑھا اور ہیر کو واش بیسن کی سلپ سے لگا کے اسکی گردن پہ جھک کے اسے چومنے لگا۔۔
ہیر کے اوسان خطا ہوگئے مگر اسنے پھر بھی ہمت نہی ہاری اور بھر پور طریقے سے زویان کے کندھے پہ کاٹ لیا۔۔
اسکے کاٹنے میں اتنی شدت تھی کے زویان کی چیخ نکل گئ وہ تکلیف سے کراہنے لگا اور وہی اپنا کندھا پکڑ کے نیچے بیٹھ گیا۔
ہیر اسے ایسی تکلیف میں چھوڑ کے وہاں سے نکل گئ۔۔
تقریب ختم ہوچکی تھی سب ہی اپنے اپنے گھروں کی طرف چلے گئے تھے مگر اظہر صاحب اج شاجہاں بیگم کیساتھ گھر گئے تھے۔۔
صنم کو اچھا خاصا غصہ چڑھا تھا مگر وہ دادی کی وجہ سے خاموش تھی۔۔
گھر پہنچ کے اظہر صاحب تھوڑی دیر اپنی ماں کے پاس بیٹھ کے شاہجاں کے کمرے میں گئے تو وہ چینج کرکے ڈریسنگ روم سے باہر نکل رہی تھی۔۔
اتنی جلدی چینج کرلیا تم نے؟؟
اظہر صاحب کے جملے پہ شاہجاں بیگم ایک دم سٹپٹائ ۔۔۔
ہاں وہ مجھے عادت نہیں ہیوی ڈریس کی۔۔
اظہر صاحب اپنا کرتا اتار کے وہی بیڈ پہ بیٹھ گئے اور غور غور سے شاہجاں کو دیکھنے لگے جو ڈریسنگ کے سامنے بیٹھ کے اپنے ہاتھ پاؤں پہ لوشن لگا رہی تھی۔۔
اظہر صاحب کی نگاہوں سے وہ کافی کنفیوز تھی کئ سالوں پہلے وہ ان نگاہوں کی عادت ختم کرچکی تھی۔۔
بیڈ پہ اکے انہوں نے ایک نظر مسکراکے اظہر صاحب کو دیکھا اور پوچھا۔۔
کچھ کہنا ہے اپکو؟
نہیں کیوں؟؟؟
وہ اپ مسلسل دیکھ رہے تھے اس وجہ سے مجھے لگا شاید کوئ بات کرنی ہو اپکو۔۔
نہیں بات تو کرنی ہے تم سے کرونگا مگر اس سے پہلے ایک کام کرنا ہے۔
کونسا کام ؟شاہجاں کے پوچھنے پہ اظہر صاحب انکے قریب ائے بے حد قریب اور انکے سینے سے لگ کے لیٹ گئے۔۔
اظہر صاحب کی اس حرکت پہ شاجہاں بیگم بوکھلائ اور کہا۔۔
اظہر صاحب یہ اپ!!!!
پلیز شاہجاں اج مت روکو باخدا صرف سوونگا اپنا کوئ حق نہیں مانگو گا پلیز ۔۔۔
اظہر صاحب کے لہجے میں ایسی التجا تھی کے شاہجاں بیگم منع نہیں کرپائ۔۔
#
ماما پاپا کہاں ہے؟؟
زویان جسکی شرٹ پہ کندھے کی طرف ہلکا سا بلڈ لگا نظر ارہا تھا جسکو چھپانے وہ کامیاب ہوچکا تھا نمرہ بیگم کے کمرے میں وہ پائیودین لینے ایا جب اس نے اظہر صاحب کو نہ پاکر انکا۔پوچھا۔۔
زویان وہ کسی کام سے اپنے دوست کی طرف گئے ہیں کیا پتہ صبح ائے۔۔نمرہ نے بہت مہارت سے جھوٹ بولا۔۔
تم یہ بتاو یہ پائیودین کیوں چاہیے ؟؟
وہ ماما بائیک سے ہلکا سا کٹ لگ گیا تھا ران پہ تو بس اسے پہ لگانا تھا۔۔
ذیادہ تو نہیں لگی زویان۔۔؟؟
نہیں ماما میں ٹھیک ہو اپ ارام کرے۔۔
زویان پائیودین لے کر نکلا مگر اب اسکے قدم ہیر کے کمرے کی طرف تھے۔۔
جاری ہے۔۔
