Dastaan Ishq Muhabbat By Mariyam Khan Readelle50216 Episode 46 Part 2
Rate this Novel
Episode 46 Part 2
(پارٹ 2)
یار شانزے آج ہی پارٹی میں جانا ہے کتنا ٹائم لگاوگی ؟
بہزاد کے بزنس گیڈرنگ کے دوستوں نے آج اسے پارٹی دی تھی جسمیں وہ دونوں اسپیشل گیسٹ تھے اور بھی بہت سے بزنس سے ریلیٹڈ انوئیٹیڈ تھے اس پارٹی میں۔۔
پچھلے ایک گھنٹہ سے شانزے بس دو دومنٹ بولے جارہی تھی ڈریسنگ روم میں جو گھسی تھی تو نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔۔
ارے بھئ آگئ !!
اب پہلی بار ساڑھی پہنی ہے ٹائم تو لگے گا نہ!!
شانزے اپنی ہی دھن میں بولے جارہی تھی یہ دیکھے بنا کے بہزاد اسے دیکھ کے ساکن تھا اسکی گہری ہری آنکھیں ضروت سے زیادہ کھل چکی تھی۔۔
بلیک ساڑھی جسکے چاروں طرف ریڈ ہیوی نگوں کا باڈر تھا لمبے بالوں کو کھلا چھوڑے نیچے سے ہلکا ہلکا کرل کیے ریڈ روبی کا سیٹ پہنے شانزے بہزاد راجپوت کے چاروں خانے چت کرچکی تھی۔
ہم پارٹی میں نہیں جارہے شاںزرے؟
شانزے جو اپنی ساڑھی کا فول صحیح کررہی تھی بہزاد کی بات پہ پہلے تو وہ حیران ہوئ اور پھر اسکی شکل ایک دوم رونے والی ہوگئ اسنے بہزاد سے کہا۔
کیوں کیا ہوا؟
بہزاد اتنی محنت سے میں تیار ہوئی ہو اور آپ کہہ رہے ہیں اب کے ہم جا ہی نہیں رہے پارٹی میں۔ ۔
ہاں نہ بھئ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس چاند کو لے کر میں باہر نکلو ۔۔
بہزاد نے اسے کمر سے تھام کے اپنے قریب کرکے کہا۔۔
بہزاد کی تعریف پہ شانزے کے لبوں کیساتھ ساتھ اسکی آنکھیں بھی مسکرائے تھی۔۔
اب دیر نہیں ہورہی اپکو؟؟؟
نہیں بلکل نہیں بلکلے میں تو سوچ رہا ہو پارٹی میں جانے سے میں معزرت کرلیتا ہو اور ادھر ہی تمہارے ساتھ پارٹی کی۔۔۔۔۔۔
آگے کی بات بول کے بہزاد جیسی ہی اسکے لبوں پہ جھکنے لگا ویسی ہی شانزے تیزی سے اس سے الگ ہوئ
چلے دیر ہورہی ہے؟
بہزاد نے اسے اوپر سے نیچے تک ایک بار پھر دیکھا ور کہا ابھی بھی سوچ لو شانزے گھر میں رکتے ہیں پلیز مان جاو۔۔۔
بہزاد چلےےےےےے۔۔۔
شانزے اسکا ہاتھ پکڑ کے اسے گھسیٹنے لگی۔۔
#
پارٹ اپنی عروج پہ تھے بہزاد اور شانزے کا بہت اسپیشل ویلم کیاگیا تھا ۔۔
باری باری بہزاد شانزے کو سب سے ہی انٹرڈیوس کروا رہا تھا شانزے بھی بہزاد سے چپکی چپکی ہر ایک سے مل رہی تھی۔۔
میڈیا والے جرنلسٹ سب ہی اس پارٹی کو کور کرنے آئے ہوئے تھے ۔
ایک دم لائٹ دم ہوئ اور سانگ پلے ہوا سب نے ہی شانزے اور بہزاد کو فورس کیا ڈانس کے لیے۔۔۔
“
مسکرانا بھی تجھی سے سیکھا ہے۔۔
بہزاد نے شانزے کو کمرے تھام کے اسے اپنے قریب کیا۔۔
دل لگانے کا توہی طریقہ ہے”””
بہزاد نے شانزے کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے ۔۔
اعتبار بھی تجھی سے ہوتا ۔۔
بہزاد نے اسے راوئنڈ رائونڈ گھومایا۔
او نہ ہوش میں میں کبھی۔۔۔
باہنوں میں ہے تیری زندگی۔۔۔
بہزاد شانزے ایک دوسرے کے بے حد قریب ہوگئے۔۔
سن میرے ہمسفر ۔
کیا تجھے اتنی بھی خبر ۔۔۔
یہ تیری سانسیں چلتی جدھر ۔۔۔
رہونگا بس وہی عمر بھر۔۔
بہزاد نے گانے کے آخری بولوں پہ شانزے کا ماتھا ایک بار پھر چوما تھا۔۔
ڈانس ختم ہوا تو سب نے ہی تالیوں سے ان دونوں کو سراہا۔۔
شانزے اور بہزاد ایک ساتھ کھڑے تصویریں کھچ وارہے تھے جب ایک جرنلسٹ نے سوال پوچھا۔۔
سنا ہے سر آپکی پہلی بیوی کی طرح آپکی اس بیوی کا بھی کوئ بوائے فرینڈز تھا تو کیا انکے بھی بوائے فرینڈز کو آپ اپنی پہلی بیوی کے۔۔۔۔
سوال تھا یہ خنجر جو سیدھا بہزاد کے دل میں جاکے لگا۔۔۔
جرنلسٹ کے سوال پہ جہاں سب کو سانپ سونگھ گیا شانزے کا تو مانو کسی نے سارا خون نچوڑ لیا ہو۔۔
اسکا چہرہ ایک دم سفید ہوگیا تھا۔
بہزاد نے آگے بڑھ کے اس جرنلسٹ کے منہ پہ ایک زور دار گھونسا مارا اور پھر اسے مارتا چلا گیا۔۔
سب نے بہت مشکل سے اس جرنلسٹ کو بہزاد کے شکنجے سے آزاد کرروایا۔۔
بہزاد نے غصہ میں شانزے کا ہاتھ تھاما اور پارٹی سے لیجانے لگا مگر جاتے جاتے اس جرنلسٹ کو دھمکی دینا نہیں بھولا۔
بہزاد نے گھر کا راستہ جو تقریبا آدھے گھنٹہ میں طے ہوتا تھا وہ پندرہ منٹ میں طے کیا رش ڈرائیونگ کرکے ۔۔
گھر میں گھستے ہی بہزاد نے ایک زور دار لات سامنے رکھی گئی ڈائینگ ٹیبل کو ماری ۔۔
شانزے بہزاد کے غصہ سے کافی ڈر گئ تھی اسلیے اسے روک نہیں پارہی تھی۔۔
شور کی آواز سے ہما بیگم باہر آئ تو انہیں بہزاد کا چہرہ دیکھا جو غصہ میں لال تھا آنکھوں میں آنسوؤں تھے وہ سمجھ چکی تھی کے آج پھر اسکے ماضی کو دہرایا گیا یے۔۔
بہزاد نے ایک نظر اپنی ماں کو دیکھا اور اوپر بڑھ گیا جب کے شانزے وہی ڈری سہمی کھڑی ہما بیگم نے اسے اپنے پاس بلا کے پوچھا ۔۔
کیا ہوا شانزے یہ غصہ میں کیوں ہے؟
ہما بیگم کے جواب پہ شانزے نے پارٹی میں ہوا تماشہ سب انہیں بتا دیا۔۔
ماما آخر ہوا کیا تھا بہزاد نے کیوں اپنے بیٹے۔۔۔
نہیں شانزے ایسا کچھ نہیں جو ہوا ایک حادثہ تھا آج میں تمہیں بتاؤنگی بہزاد کا ماضی۔۔
ہما بیگم نے ایک ایک بات بہزاد کی شانزے کو سنا دی جسے سن کے اسنے لبنہ کو ڈھیروں گالیاں دے ڈالی دل میں ۔۔
عاشر کا بھی اسے بہت افسوس ہوا مگر سب سے زیادہ اسے بہزاد کا دکھ تھا۔۔
جاؤ شانزے آج اسے ضرور ہے تمہارے آج اگر تم نے اسے سمیٹ لیا تو شاید وہ اپنا ماضی بھول جائے۔۔۔
شانزے نے ڈرتے ڈرتے اپنے کمرے میں قدم رکھا اور دیکھ کے حیراں رہ گئ وہاں کی کسی چیز کو بہزاد نے نقصان نہیں پہنچایا۔
بلکے وہ تو سمجھ رہی تھی کےکمرے کا بھی حشر بگاڑ دے گا وہ۔۔
بہزاد بیڈ پہ اپنی گردن جھکا کے بیٹھا تھا،،
شانزے نے ڈرتے ڈرتے بہزاد کی طرف قدم بڑھائے اس تک پہنچ کے اسے پکارا ۔۔
بہزادد۔۔۔
شانزے کی پکار پہ بہزاد نے اسے نگاہ اٹھا کے دیکھا۔۔
بہزاد کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھی یہ دیکھتے ہی شانزے وہی گھٹنوں کے بل بیٹھ گئ۔۔
کیوں خود کو تکلیف دیتے ہیں بہزاد؟؟
شانزے تم ابھی جاؤ یہاں سے میں نہیں چاہتا کے غصہ میں تمہیں ڈانٹو یہ برا سلوک کرو۔۔
شانزے نے بہزاد کے چہرہ کو بہت پیار سے تھاما تھا اسکے آنسوؤں صاف کیے اور اسکے لبوں پہ جھک گئ۔۔
شانزے کا یہ عمل بہزاد کیلیے شاکنگ تھا ۔۔۔
اسنے بہزاد کے لبوں کو آذاد کرتے ہوئے کہا ۔
مجھے آپ سے محبت ہے بہزاد آج میں اقرار کرتی ہو۔۔
لبنا بہت بد قسمت تھی جو آپکی محبت پہچان نہیں سکی مگر میں شانزے بہزاد راجپوت اپ پہ اپنی جان بھی وار سکتی ہو۔۔
شانزے کا اقرار محبت بہزاد کو اندر تک سرشار کرگیا اسنے شانزے کا چہرہ تھاما اور کسی چھوٹے بچے کی طرح اس سے پوچھا۔۔
تم سچ کہہ رہی ہو نہ شانزے مجھ سے محبت کرتی ہو نہ کبھی مجھے چھوڑ کے تو نہیں جاوگی نہ؟
بلکل سچ مجھے میرے رب کی قسم ۔۔
شانزے راجپوت بہزاد راجپوت کے عشق میں گرفتار ہوچکی ہے۔۔
یہ کہتے ہوئے شانزے روتے روتے مسکرانے لگی تو بہزاد بھی مسکرانے لگا۔۔
بہزاد نے شانزے کے چہرے کو بہت پیار سے تھاما کے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے تھے اسے اپنے سینے سے لگایا تھا ۔۔
ایک سکون سا بہزاد کے اندر اترا تھا ۔۔
بہزاد نے شانزے کو اپنی باہنوں میں اٹھا کے بیڈ پہ لیٹایا تھا۔
اسکے چہرے کو ایک بار پھر چوما اور کہا۔۔
ایک بار پھر کہو کے تمہیں محبت ہے مجھ سے ۔
آئی لو یو ۔۔۔
شانزے نے بہزاد کے گلے میں اپنی باہنہیں ڈالتے ہوئے کہا۔۔
بہزاد نے مسکرا کے کہا۔۔
آئ لو یو مور مور مور مور
یہ کہتے ہی بہزاد شانزے کے لبوں کو بہت آرام سے چومنے لگا۔۔
چومتے چومتے اسنے گردن سے سیٹ ہٹایا اور وہاں بھی اپنے لب رکھ کانوں سے ٹوپس ہٹاکے انہیں بھی چوما ۔۔
شانزے کی آنکھیں بند تھی مگر اسکا چہرے پہ شرم کے آثار تھے۔
بہزاد نے اسکا وجود ساڑھی سے آزاد کیا اور خود بھی اپنی شرٹ اتاری ۔۔
سائیڈ کا لیپ اوفف کرکے اسنے ایک بات پھر شانزے کے لبوں کو چوما۔۔۔
دھیرے دھیرے اسکے ہاتھ شانزے کے پوری جسم پہ چلنے لگے شانزے نے بیڈ شیٹ کو بہت مضبوطی سے تھاما تھا ۔
بہزاد نے اسکے ہاتھ بیڈ شیٹ سے جدا کرکے خود تھام لیے۔۔
شانزے آنکھیں کھولو ۔
بہزاد کے کہنے پہ شانزے نے دھیرے سے اپنی آنکھیں کھولی تھی۔۔
بہزاد نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔
ڈر رہی ہو؟؟
بہزاد کے پوچھنے پہ شانزے نے ہاں میں گردن ہلائی تو بہزاد نے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور کہا۔۔
مجھے محسوس کرو شانزے پھر ڈر نہیں لگے گا۔۔
شانزے نے وہی کیا بہزاد نے بہت مان سے آج شانزے کو اپنی بیوی کا درجہ دیا تھا۔۔
جاری ہے۔۔
