Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 45 (part 2)

ماما ایک بات پوچھو؟؟
عاشر جو تقریبا سونے ولا ہورہا تھا شانزے سے کچھ پوچھنے کے چکر میں اس نے اپنی بند آنکھیں دوبارہ کھول لی۔
ہاں میری جان پوچھو۔۔؟؟
ماما اپ۔کبھی مجھے چھوڑ کے تو نہیں جائینگی نہ ؟
نہیں میری جان کبھی نہیں مگر ابھی آپ سوجاؤ ماما بھی بہت تھک گئ ہے کمرے میں جاکے چینج کریگی۔۔
شانزے دلہن کے لباس میں ہی سوئے ہوئے عاشر کو کمرے میں لیٹانے آئ تھی مگر اسے بیڈ پہ لیٹاتے ہی عاشر نے پٹ اپنی آنکھیں کھول لی۔۔
5 منٹ بعد عاشر سو چکا تھا شانزے بہت آرام سے اٹھی اور اپنے کمرے کی طرف چل دی۔۔
بہزاد کمرے میں نہیں تھا اس نے گارڈز کے ہاتھ ان لوگوں کو گھر پہنچا دیا تھا ۔۔۔
شانزے نے جیولری اتار کے ڈریسنگ پہ رکھی۔۔
ارادہ اسکا شاور لینے کا تھا۔۔
الماری میں سے ڈھیلا سا سوٹ نکالا اور میکسی اٹھاے واش روم میں گھس گئ۔۔
شانزے نے اپنی میسکی اتاری اور تولیہ اپنے جسم پہ باندھ کے جسے پلٹی سامنے بہزاد کھڑا تھا اپنی پوری آنکھیں کھولے اسکے ہاتھ میں موجود سارے پیپرز نیچے گر چکے تھے۔۔
بہزاد کو دیکھ کے شانزے اس سے پہلے چیخ مارتی بہزاد نے اسکے جسم پہ بندھے تولیے کو آگے سے پکڑ کے کھینچا تو وہ اسکے سینے سے ا لگی۔ مگر شانزے نےاپنے ہاتھ اپنے تولیے پہ۔سے نہیں ہٹائے۔۔
آپ واش روم میں کیا کررہے ہیں؟ آپ کب آئے ؟
بہزاد اور اگر مجھے دیکھ لیا تھا کپڑے چینج کرتے ہوئے تو بول نہیں سکتے تھے کے شانزے رک۔جاو مجھے جانے دو۔
شانزے نے اپنا تولیہ صحیح کرتے ہوئے کہا۔
بہزاد نے اسکے ماتھے پہ نھننے پسینے کے قطرے صاف کرتے ہوئے کہا۔۔
” جسکی بیوی اتنی ہاٹ ہو اور سونے پہ سہاگہ اتنے وی آئ پی نظارے کروا رہی ہو بنا بولے کوئ کمبخت شوہر ہی ہوگا جو اپنی موجودگی کا اعلان کرے گا۔۔
ویسے شانزے یہ بول کے بہزاد اسکی کمر پہ ہاتھ رکھ اسے اور خود سے قریب کیا۔۔
وہ جو تمہاری کمرے کے نیچے۔ تل ۔۔۔اس سے پہلے بہزاد پوری بات کرتا شانزے نے تیزی سے اسکے لبوں پہ ہاتھ رکھ کے کہا ۔
کچھ تو شرم کرے اتنی غور سے کون دیکھتا ہے اپنی بیوی کو۔۔۔
ایک شریفنس آدمی صرف اپنی بیوی کو ہی غور سے دیکھتا ہے اور یہ جو تمہارے ۔۔یہ کہہ کے بہزاد نے جیسی ہی نگاہیں نیچی کرنی چاہی شانزے نے فورا اسکی ٹھوڑی پہ انگلی رکھ کے اسے ایسا کرنے سے روکا ۔۔
خبرد دار اگر نیچے دیکھا تو کچھ تو شرم کرے کوئ اپنی بیوی کی مجبوری کا ایسا فائدہ نہیں اٹھاتا۔جیسے اپ اٹھا رہے ہیں بہزاد۔۔
واہ بھئ واہ تولیہ میں تم مجھ سے لپٹی پڑی ہو ہمارے درمیان یہ محنوس تولیہ تم نے دیور بنایا ہو اہے اور شرم میں کرو۔۔
چلو نہ اسے ہٹاؤ ہم ایک ساتھ نہاتے ہیں ۔۔
بہزاد یہ بول کے اپنی شرٹ کے بٹن کھلونے لگا۔۔
اففف بہزاد آپ جائے یہاں سے؟ اور یہ واش روم میں فائلیں کون رکھتا ہے۔۔؟
شانزے نے اسکا دماغ ہٹانا چاہا ۔۔
اس دیوار کے پیچھے میرا لوکر ہے میں تو اپنی فائل لینے آیا تھا مگر مجھے نہیں پتہ تھا یہاں اتنا حسین نظارہ دیکھنے کو ملے گا ۔۔
بہزاد ایک منٹ کے اندر اندر اگر اپنے مجھے نہیں چھوڑا تو ۔۔۔۔۔۔
تو۔۔۔بہزاد نے اسکی نیلی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔۔
پلیز جائے نہ بہزاد۔۔شانزرے نے یہ کہہ کے اپنی گردن جھکالی بہزاد دیکھ سکتا تھا اسکا چہرہ شرم سے لال ہوچکا تھا۔۔
اچھا چلو ٹھیک ہے میں جارہا ہو ایک ضروری کام سے کل صبح تک آؤنگا فٹا فٹ مجھے زرا سی کس دے دو۔۔
بہزاد کی بات پہ شانزے کو منہ کھلا کا کھلا رہ گیا اور اسنے غصہ میں اپنے دانت پیستے ہوئے کہا۔۔
کوئ ٹافی مانگ رہے ہیں مجھ سےکیا جو زارا سا بول رہے ہیں۔۔
ہاں ۔۔
کیونکہ جب میں خود سے کسس لونگا تو وہ زرا سی نہیں ہوگی۔۔
مگر تمہیں نہیں دینی تو ٹھیک ہے پھر جانا کینسل آجاؤ ساتھ نہاتے ہییں۔۔
شانزے ایک بار پھر اسے شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے دیکھا ۔۔
اچھا اچھا دے رہی اپنی آنکھیں بند کرے۔۔
ہاں گڈ گرل یہ بول کے بہزاد نے اسے دوبارہ اپنے آپ سے لگایا اور آنکھیں بند کرے اسکے قریب اپنے ہونٹ کیے۔۔
شانزے نے اتنی قریب سے پہلی بار اسکا چہرہ پیار سے دیکھا تھا اس نے بہت آرام سے بہزاد کے گال پہ اپنا ہاتھ رکھا اور اپنی آنکھیں بند کرکے بہزاد کے لبوں پہ جھک گئ اور فورا ہٹ گئ۔۔
شانزے یہ چیٹنگ ہے۔۔۔
ہاں چینٹنگ ہی سمجھے پلیز اب جائے نہ میں بہت تھک گئ ہو۔۔
بہزاد نے اسکا چہرہ دیکھا جہاں تھکن کے آثار تھے اسنے شانزے کو خود سے دور کیا اور اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھ کے کہا۔۔
اپنا دیھان رکھنا اوکے۔۔
یہ کہہ کے بہزاد جانے لگا شانزے نے شکر کا سانس لیا مگر بہزاد جیسے ہی واش روم کے گیٹ تک پہنچا کچھ یاد آنے پہ مڑ کے کہنے لگا۔۔
ویسے کمر تمہاری بہت پتلی یے اور 32 کا ۔۔۔۔۔۔۔
بہزاد پلیز۔۔۔
شانزے نے تیزی سے آگے بڑھ کے دوبارہ اسکے لبوں پہ اپنے ہاتھ رکھے۔۔
بہزاد نے اپنے لبوں پہ رکھے اسکے ہاتھ کو چوما اور مسکراتا ہوا چلا گیا
شانزے نے واش روم کا دروازہ لاکڈ کیا اور مسکراتے ہوئے نہانے لگی۔۔

#

مگر ہنزہ ایک ہفتہ بعد بازل کا نکاح ہے تم اپنے بیسٹ فرینڈ کے نکاح میں شامل نہیں ہوگی۔۔
بابر صاحب نے ناشتہ کی ٹیبل پہ جب ہنزہ کے جانے کا سنا تو بول پڑے ۔۔
نکاح کا سن کے بازل نے اپنے ہاتھ میں موجد ڈبل روٹی کے سلائس کو اپنی مٹھی میں زور سے تھاما ۔۔اور ہنزہ نے ایک نظر بازل کو دیکھاتھا۔
تایا ابو جانا ضروری ہے ہماری کیمپنگ ہے گاؤں میں اس لیے ۔
اچھا ماما میں چلتی ہو ہارون ویٹ کررہا ہوگا۔۔
ہنزہ نے اپنی ماں سے کہا اور باہر جانے لگی۔۔
بازل کی نگاہوں نے اسکی پشت کا پیچھا کیا پھر اچانک بازل کو نجانے کیا ہوا وہ ناشتہ چھوڑ کے ہیر کے پیچھے گیا۔۔
مگر تب تک ہنزہ ہارون کیساتھ گاڑی میں بیٹھ کے جاچکی تھی بازل کا بس نہیں چل رہا تھا وہ خود کو ختم کرلے۔
ہنزہ کو جاتا دیکھ اسکی آنکھوں سے آنسوؤں گرنے لگے اور وہی گھر کی دہلیز پہ بیٹھ ۔۔
” کل مجھ کو اجازت ہو نہ ہو۔۔
کل مجھ سے محبت ہو نہ ہو۔۔
ٹوتے دل کے ٹکڑے لے کر۔
تیرے در پہ ہی رو جاونگا۔۔
میں پھر بھی تم۔کو چاہونگا”

#

بلاج کی آنکھ کھلی تو عترت اسکے سینے سے لگ کے سو رہی تھی۔۔
بلاج نے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور چہرے پہ آئے اسکے بال کان کے پیچھے کیے۔۔
کل رات اس نے عترت کو دھمکانے کیلیے خالی کاغذات کو طلاق کے کاغذات شو کیے تھے اسے پتہ تھا عترت اس سے بے حد محبت کرتی ہے بس ضد میں ہے اور شاید یہ ضد بھی اسی کی وجہ سے تھی عترت کو۔
بلاج نے بہت آرام سے عترت کا سر تکیہ پہ رکھا تھا مگر وہ پھر بھی جاگ گئ تھی۔۔
مسکراتے ہوئے اس نے بلاج سے پوچھا کہاں جارہے ہیں۔۔؟
آج نکلنا ہے عترت ایک مشن پہ کتنا وقت لگے پتہ نہیں۔۔
مشن کا سن کے عترت کی آنکھیں بھیگنے لگی مگر وہ انکار بھی نہیں کرسکتی تھی بلاج کو اسکی جاب ہی ایسی تھی ۔۔
اب اگر تم مجھے ایسے وداع کروگی رو کے تو میرا جانا مشکل ہو جائے گا۔۔
بلاج فریش ہوکے باہر آیا تو عترت گم سم سی بیڈ پہ بیٹھی تھی اسکی آنکھوں سے آنسوؤں جاری تھے۔
نہیں آپ جائے۔۔
اللّٰہ کی حفاظت میں دیا میں نے آپکو ۔۔۔۔
یہ کہہ کے عترت دوبارہ بلاج کے سینے سے لگ گئ۔۔
بلاج نے اسے اپنے اپ میں بھینچا مگر جانے سے پہلے اس نے ایک نگاہ بھی عترت پہ نہیں ڈالی ورنہ اسکا جانا مشکل ہو جاتا۔۔

#

ماما ہیر تھوڑی چپ چپ نہیں تھی ۔۔
صنم نے گاڑی چلاتے ہوئے شاہجاں بیگم سے پوچھا۔۔
آج وہ لوگ خوشبو کے ہاں ڈنر پہ گئے تھے۔۔
ہاں بیٹا مجھے بھی لگا مگر خوشبو بتا رہی تھی جب سے لندن سے آئ ہے چپ چپ سی ہے وہاں کے حالات بگڑ گئے تھے جنہیں دیکھ کے وہ ڈر گئ تھی۔۔
ہممم۔۔۔
صنم کے نمبر پہ اسکی دوست فاریہ کی کال آئ جسے سنتی ہی وہ بھڑک پڑی۔۔
ابے یار فاریہ رات کے 11 بجے رہے تجھے اس وقت میں اپنی بلک والی سینڈل لاکے دو تیرا دماغ خراب ہوگیا ہے۔۔
ارے یار مجھے کیا پتہ تھا کے میری سینڈل مجھے دھوکا دے دے گی ۔۔
افف یار میں گھر پہنچ چکی ہو اب یہاں سے اتنی دور دوبارہ ڈی ایچ اے او تیری کزن کی مہندی میں تجھے سینڈل دینے حد ہے یار۔۔
صنم نے کافی سڑا ہوا منہ بناکے کہا جیسے سن کے فاریہ نے بھی منہ بناکے کہا۔
اچھا بھی نہ لاؤ ایک سینڈل پہ اتنا سنا رہی ہو یہ کہہ کے فاریہ نے کال کٹ کردی۔۔
ارے بیٹا دے او اسے سینڈل ضرورت ہے تبھی تو وہ مانگ رہی ہے بس دے کے آجانا فورا۔۔
فٹافٹ صنم نے شاہجاں بیگم کو گھر چھوڑا سینڈل اٹھائ اور فاریہ کو دینے نکل پڑی۔۔
سگنل پہ گاڑی رکی تو اسے ایک گاڑی میں صائم دیکھا کسی لڑکی کیساتھ ۔۔لڑکی کو صنم دیکھ نہیں پائ۔
یہ دیکھ کے صنم کافی حیران ہوئ کیونکہ اج ہی صائم نے اسے کہا تھا کے اسے لاہور سے واپس آنے میں تین چار دن لگ جائینگے۔۔
صنم نے ایک بار پھر صائم کا کال کری تو اسنے نہیں اٹھائ
سگنل گرین ہوتے ہی صائم کی گاڑی تیزی سے آگے نکل گئ صنم نے پریشانی حالت میں پہلے فاریہ کو سینڈل دی اور دوبارہ ایک بار پھر صائم کو کال کری مگر اس بار صائم نے لائن بزی کردی۔۔
اپنا شک دور کرنے کیلے اسنے لوکیشن سرچ کی کیونکہ اسے لگ رہا تھا ہو سکتا اسکا دھوکہ ہو
مگر جو لوکیشن آرہی تھی وہ اسی جگہ کی تھی جہاں جانے سے پہلے صائم اسے لے کر گیا تھا جو اسکے دوست کا فلیٹ تھا۔
صنم کا دل انجانے خوف سے ڈھرکنے لگا اسکے کانوں میں بار بار بہزاد کے الفاظ گونجنے لگے ۔۔
“ویسے وہ تمہارے قابل نہیں صنم”
صنم نے گاڑی اسی فلیٹ کی طرف موڑ دی رات کے 12 بج چکے تھے مگر اسے اب اپنے شک کو وہم میں تبدیل کرنا تھا کیونکہ دل بار بار بول رہا تھا صائم ایسا نہیں ہے مگر دماغ کچھ اور ہی سگنل دے رہا تھا۔۔
صنم فلیٹ کے دروازے کے سامنے کھڑی تھی اسنے اپنے دل کو قابو میں رکھ کے بیل بجائ۔۔
دو تین بار بیل بجانے پہ دروازہ کھلا۔۔
کوئ لڑکی تھی نائٹی میں۔۔
جی آپ کون؟؟
اوہ ائ۔ایم۔سو سوری میم۔ وہ میں اس ے سے پہلے آگے کی بات وہ بولتی۔۔
کون ہے لیلہ؟؟
اندر سے آتی آواز پہ صنم نے ایک بار اس لڑکی کو دیکھا اور پھر لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ فلیٹ کا دروازہ دھکیلتی ہوئ فلیٹ کے اندر گھس گئ لیلہ اسے روکتی رہ گئ مگر جب وہ سامنے والے کمرے میں گھسی وہاں کا نظارہ دیکھ کے صنم کی آنکھیں ساکن رہ گئ ۔
صائم بنا کپڑوں کے چادر لپیٹ کے بیڈ پہ لیٹا تھا ۔
کون ہے لیہہہہہہ۔
آگے کی بات صائم کے منہ میں ہی رہ گئ۔۔
صنم تم۔۔؟
صائم کے چہرے کی ہوائیاں اڑ چکی تھی اسے اندازہ نہیں تھا کے انتنی جلدی صنم کو اسکی اصلیت پتہ چل جائے گی۔۔
صنم کی نظر فرش پہ پڑے لیلہ کے کپڑوں پہ پڑی۔۔
وہ وہی زمین پہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کے رونے لگی مگر نظریں صائم پہ تھی۔۔
صائم تیزی سے اس تک آیا اور اسے بہلانے لگا ۔
صنم میں سمجھاتا ہوں ۔۔
یہ بول کے صائم نے جیسے ہی اسے ہاتھ لگانے لگا صنم کو ہوش آیا اور اس نے چیخ کے کہا ۔۔
مجھے ہاتھ مت لگانا ۔۔
صنم میری بات ۔۔۔۔صائم۔نے دوبارہ اسے چھونا چاہا تو صنم نے ایک گھومتا ہوا چماٹ اسکے منہ پہ دے مارا چماٹ اتنا زور دار تھا کے صائم لڑکھڑا گیا۔۔
کیا سنو میں کیا سنو صنم چیختے ہوئے صائم کے سینے پہ ہاتھ رکھ کے اسے زور سے دھکا دیا۔۔
کیوں کیا میرے ساتھ ایسا صائم کیوںںںںںںںںں؟؟.صنم اپنے بال مٹھی میں لے کر چیخنے لگی۔۔
صنم نے اپنا ہاتھ زور سے سامنے لگے شیشیہ پہ دے مارا ۔
کیوں کیا صائم کیوں؟؟
صنم زور زور سے روتے روتے چیخنے لگی لیلہ اس لڑکی کی حالت دیکھ کے ڈر گئ تھی کچھ ایس ہی حال صائم کا تھا اسے صنم کی حالت دیکھ کے جہاں حیرانگی تھی وہی ڈر بھی۔۔
صنم نے اپنے آنسوؤں بے دردی سے صاف کیے اور جانے لگی مگر رک کے وہ دوبارہ صائم کے پاس آئ اسے پراوہ نہیں تھی کے اسکے ہاتھ سے تیزی سے خون نکل رہا تھا مگر صائم کی نظر اسکے ہاتھ پہ تھی۔۔
“اللّٰہ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے اچھا ہوا تمہاری اصلیت میری سامنے آگئ ورنہ تم جیسے زناخور شخص جو نجانے کتنی اور لڑکیوں کو اپنے بستر کی زینت بنا چکا ہے اس نے لیلہ کی طرف طنزیہ نگاہ کرکے کہا۔۔
تم سے اگر میری شادی ہو بھی جاتی اور اگر مجھے اللّٰہ پہل کی بیٹی دے دیتا تو تمہارے اس زنا کا قرض وہ اتارتی کسی اور کے بستر کی زینت بن کے۔۔”
صنم کے الفاظوں پہ صائم سن ہوگیا تھا اسنے ایک دم۔صنم کو دیکھا تھا۔
آج کے بعد اگر میرے اس پاس بھی دیکھائی دیے تو تمہیں اندازہ نہیں صائم وہاج صنم چیز کیا ہے ۔۔
یاد رکھنا صائم اللّٰہ تعالیٰ زنا کبھی معاف نہیں کرتا زنا قرض ہے جو کرنے والے کی بیٹی بہن یہ بیوی کو اتارنا پڑتا یے۔۔
صنم یہ بول کے تیزی سے فلیٹ سے نکل گئ۔۔
گاڑی چلاتے ہوئے اسکے سامنے بار بار صائم اور لیلہ آرہے تھے اس کمرے میں بکھرے صائم اور لیلہ کے کپڑے آرہے تھے اچانک اسکے آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا کیونکہ اسکے ہاتھ سے خوں بہت بہہ چکا تھا ایک دم اسنے آنکھیں بند کرکے کھولی تو سامنے ایک گاڑی تھی اس سے پہلے وہ گاڑی سنبھالتی صنم کی گاڑی اس گاڑی سے ٹکرائی اور پلٹ گئ۔۔۔
جاری ہے ۔