Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

اسلام وعلیکم ۔۔
میری جان کیسی ہو؟؟
شاہجاں بیگم نے ندا بیگم کو زور سے گلے لگاتے ہوئے کہا۔۔
دونوں سہیلیاں گلے لگتے ہی رو پڑی۔۔
عترت اور صنم ان دونوں کو دیکھ کے تھوڑی غمزدہ ہوگئ تھی۔۔
اسلام وعلیکم آنٹی۔۔
عترت کی اواز پہ ندا کا دیھان عترت پہ گیا۔
وعلیکم اسلام ۔
یہ عترت ہے نہ شاہجاں؟؟
ندا بیگم نے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا۔۔
ہاں ۔۔
اسلام وعلیکم انٹی۔۔
صنم کے سلام کرنے پہ ندا تھوڑی کنفیوز ہوئ۔۔
یہ صنم ہے ندا میری دوسری بیٹی۔۔۔
شاہجاں نے ندا بیگم کی کنفیوزنگ دور کرتے ہوئے کہا۔
اوہ ماشاءاللہ ماشاءاللہ۔۔
شاہجاں تمہاری دونوں بیٹیاں ماشاءاللہ بہت خوبصورت ہیں۔
شکریہ انٹی۔۔
عترت اور صنم نے ایک ساتھ ندا بیگم کا شکریہ ادا کیا
ندا بلاج نہیں ایا۔۔؟؟
ارے آیا ہے آنٹی کیوں نہیں آئے گا آپ بلائے اور میں نہ آؤ ماما سے ڈانٹ کھانی ہے کیا۔۔
بلاج کے بولنے پہ شاہجاں بیگم نے مسکرا کے اس کے سر پہ۔ہاتھ پھیرا۔۔
مگر کوئ تھا وہاں جو بلاج کو دیکھ کے پتھرا گیا تھا۔کچھ ایسا ہی حال بلاج کا بھی تھا۔۔

#

شکر ہی بیٹا تمہیں ہوش آیا میں اور تمہاری ماں بہت پریشان ہوگئے تھے۔۔
شانزے کے ہوش میں آتے ہی اسکی نظر اپنے ماں باپ پہ پڑی۔۔
مگر بیٹا تم بیہوش کیسے ہوئ ؟؟
جواد صاحب کے سوال پہ شانزے کا ہاتھ اپنے سر پہ گیا کچھ ٹیسیں اسکے سر میں اٹھی۔۔
کچھ یاد آنے پہ جیسے اسکا پورا وجود لرزنے لگا اور رہی سہی کسر دروازے پہ دستک دینے والے شخص نے پوری کردی ۔۔
جواد صاحب نے جب ناکک کرتے ہوئے فرد کو دیکھا تو ڈور کے انکے پاس پہنچے اور کہا ۔
ارے بہزاد سر اپنے کیوں تکلیف کری آنے کی ۔۔
اس میں تکلیف کی کیا بات ہے جواد صاحب آپکی تکلیف ہماری تکلیف ہے ۔۔
شانزے بیٹا یہ ہے وہ جنہوں نے تمہیں بر وقت ہسپتال پہنچایا۔۔
شانزے بہزاد کو دیکھ کے کافی ڈر چکی تھی اسکے چہرے پہ موجود ڈر دیکھ کے بہزاد کے لبوں پہ مسکراہٹ پھیل چکی تھی۔۔
آپ لوگ باتیں کرو میں شکرانے کے نفل ادا کرلو شانزے کی ماما یہ بات بول کے روم سے باہر چلی گئ۔۔
جواد صاحب آپکو ڈاکٹر بلا رہے ہیں۔۔
اچھا بہزاد سر میں ابھی ایا۔۔
جواد صاحب کے جاتے ہی بہزاد اٹھ کے شانزے کے قریب آیا اسکی نیلی آنکھوں میں۔ اپنے لیے خوف دیکھ کے بہزاد کو بہت سکون مل رہا تھا۔۔
بہزاد نے شانزے کا جبڑا اپنے ہاتھوں میں پکڑا اور دانت پیس کے کہا۔۔
اگر اپنی زبان کھولی شانزے بی بی تو دو تین نہیں پوری میگزین تمہارے والد صاحب کے اندر اتار دونگا۔۔
ویسے بھی کراچی جیسے شہر میں نامعلوم افراد قتل بہت کرتے ہیں ۔۔
یہ بول کے بہزاد نے شانزے کا چہرہ چھوڑا تو اسکی آنکھیں بھیگنیں لگی بہزاد نے ایک نظر اسکی آنسوؤں سے لبریز آنکھوں میں دیکھا کچھ تھا جو بہزاد کو کو بیچین کرنے لگا اور وہ تیزی سے روم سے چلا گیا۔۔

#

بلاج کی نظریں عترت پہ تھی مگر عترت وہ زیادہ دیر تک بلاج کی شعلہ اگلتی نگاہوں میں دیکھ نہیں پائ اور نگاہ جھکا گئ۔۔
ماما میں کھانا دیکھ لو۔۔
عترت نے شاہجاں کو بول کے وہاں سے جانے میں ہی عافیت سمجھی بلاج کی نگاہوں نے اسکا دور تک پیچھا کیا۔۔
کچن میں پہنچ کے عترت سلپ پکڑ کے زور زور سے سانس لینے لگی اسے ایسا لگ رہا تھا اسکا دل بند ہو جائے گا۔ ۔۔
جو عترت ٹھنڈا پانی نہیں پیتی تھی آج اسنے فریج سے برف کا پانی نکال کے ایک سانس میں ختم کر ڈالا۔۔
عترت آپی آپ ٹھیک ہو کیا ہوا اپکو؟؟
صنم جو اسکی ہیلپ کروانے کچن میں آئی تھی اسکی حالت دیکھ کے ڈر گئ۔۔
صنم کی آمد پہ عترت نے فورا اپنی طبیعت سنبھالی اور کہا۔۔
ارے کچھ نہیں صنم وہ میں نے صبح سے کچھ کھایا نہیں تھا نہ تو اس وجہ سے چکر آرہے تھے اب ٹھیک ہو ۔
آر یو شیور؟؟
میں ماما کو بلاؤ؟؟
ارے ہاں ہاں پاگل ماما کو بولنے کی کیا بات ہے وہ خاماخای میں پریشان ہوجائینگی۔۔
کھانا کب لگانا ہے ؟ پوچھا ماما سے؟؟.
وہی بتانے میں آئ تھی کے کھانا لگانے کا بولا ہے ماما نے۔۔۔
عترت نے کھانا ٹیبل پہ لگادیا اب مسئلہ یہ تھا کے وہ شاہجاں بیگم کو کیسے بولنے جائے کے کھانا لگ گیا ہے صنم کے پاس کال آگئ تھی جیسے سننے میں وہ مصروف ہوگئے تھی ۔
عترت نے ہمت کری اب اس کا سامنا تو کرنا ہے عترت اور تم نے کو نسا کچھ غلط کیا ہے۔۔عترت نے خود کو تسلی دیتے ہوئے کہا ۔
عترت نے اپنے آپکو تسلی دی اور ایک بار پھر وہ اس دشمن جان کے سامنے گئ ۔
بلاج کی طرف اسنے نگاہ ڈالنے کا گناہ بھی نہیں کیا۔۔
چلو آجاؤ بلاج بیٹا کھانا لگ گیا۔۔
وہ آنٹی ہاتھ دھونے تھے؟؟
عترت بیٹا بلاج کو واش روم کا بتادو۔۔
ندا آجاؤ ہم چلے ڈائینگ ٹیبل پہ۔۔
عترت کا ایسا لگا شاہجاں نے اسے موت کا پروانہ سنا دیا ہو۔۔
ندا اور شاہجاں کے جاتے ہی عترت نے نگاہ اٹھا کے بلاج کو دیکھا تو وہ اسے ہی خونخوار نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔
عترت نے اپنا خشک حلق تر کیا اور اسکے آگے چلنے لگی بلاج بھی خاموشی سے اسکے پیچھے چلنے لگا واش روم دیکھا کے جیسی عترت پلٹنے لگی۔۔اسکی کلائ بلاج کے ہاتھ میں اچکی تھی ۔۔
بلاج نے نے اسے واش روم کے ساتھ والی دیوار سے لگایا۔۔
عترت کا سر زور سے دیوار سےٹکرایا۔۔
مگر سامنے والے کو پرواہ نہیں تھی۔۔
تم زندہ کیسے ہو بیوفائ کرکے؟؟
بلاج نے اسکے بے حد قریب ہوکے پوچھا۔۔
عترت کا بلاج کی قربت میں سانس لینا مشکل ہونے لگا۔۔
آنسو اسکے گال پہ پھسلنے لگے۔۔
ایےےے یہ ناٹک مت کر میری سامنے ۔۔
بلاج نے تقریبا غراتے ہوئے کہا۔
مجھے تمہارے کسی سوال کا جواب نہیں دینا سنا تم نے جو چاہے مجھے سمجھو ۔۔
عترت نے اپنی بائیں طرف رکھا بلاج کا ہاتھ ہٹانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔۔
ہاں ہاں جانتا تھا میں منہ چھپا کے دلوں کے سودے کرنے کا تو تمہارا کام ہے بلاج نے اسکا منہ دبوچتے ہوئے کہا۔۔
ڈونٹ ٹچ میں بلاج۔۔۔
عترت نے اپنے منہ سے اسکا ہاتھ ہٹاتے ہوئے غصہ میں کہا۔۔
اوہہ ہاں میں تو بھول گیا تمہیں تو کسی اور کی باہہوں کی عادت ہے ۔
بلاج کے کہے گئے جملے عترت کی روح پہ ایسی ضرب لگائی کے وہ ساکن نظروں سے بلاج کو دیکھنے لگی۔
اوہہ کہی بات باہوں سے آگے تو نہیں بڑھ گئ تھی۔۔
بلاج نے شیطانی مسکراہٹ سے پوچھا۔۔۔
عترت نے اسے خود سے دور کیا اور ڈورتی ہوئ وہاں سے چلی گئ۔۔۔
عترت کے جاتے ہی بلاج نے ایک زور دار ہاتھ دیوار پہ مارا۔۔
واہ شاہجاں کھانا بہت مزے کا ہے۔۔
عترت نے بنایا ہے میں تو آفس کے کاموں میں اتنا مشغول رہتی ہو گھر کی زمیداری ٹھیک سے نبھا نہیں پاتی میں تو یہ سوچتے ہو کے جب عترت کی شادی ہوجائے گی تو کیا کرونگی دوسروں سے تو امید بلکل نہیں ہے۔۔
شاہجاں نے صنم پہ ٹونٹ کرتے ہوئے کہا ۔
تو ندا کیساتھ ساتھ صنم بھی مسکرانے لگی۔۔
ارے شاہجاں ابھی تو بہت چھوٹی ہے جب زمیداری پڑے گی سر پہ تو اجائے گا سارا کام۔۔
شکریہ آنٹی میری حمایت لینے کے لیے ورنہ ماما ہر وقت میرے سر پہ ہمیشہ میزائل داغے رہتی ہیں۔۔
صنم کے بولنے پہ سب ہی مسکرانے لگے سوائے عترت کے۔۔
کہی بات پکی کری کیا شاہجاں عترت کی؟؟
ندا بیگم کے اس سوال پہ بلاج کی دل کی ڈھرکن ایک دم تیز ہوئ اسنے نگاہ اٹھا کے عترت کو دیکھا مگر وہ خاموشی سے کھانا کھانے میں مگن تھی۔۔
بلاج نے بھی اس بات کو اگنور کرکے کھانا کھانے کو ترجیح دی۔۔
نہیں ندا بس ڈھونڈ رہی ہو کوئ اچھا سا رشتہ۔۔۔
شاہجاں بیگم کے جواب پہ ندا بیگم کے لب کھل کے مسکرائے اور انہوں نے غور سے عترت کو دیکھا ۔
جاری ہے۔۔