Rate this Novel
Episode 28
شاجہاں؟؟
اپنے نام کی پکار پہ جب وہ پلٹی تو سامنے نمرہ کھڑی تھی ۔
بہت کچھ انہیں یاد آیا جیسے فلحال وہ بیان نہیں کرسکتی تھی۔۔
کیسی ہو نمرہ؟
اس سوال کی نمرہ کو توقع نہیں تھی مگر وہ کیا جانے شاجہاں کے ظرف کو جو وہ بائیس سالوں سے صبر کے طور پہ دیکھارہی تھی۔
میں ٹھیک ہو۔۔
بہت بہت مبارک ہو بیٹی کا نکاح۔۔۔
خیر مبارک نمرہ۔۔
شاہجاں وہ میں۔۔نمرہ بیگم آگے کی بات کہنے سے رک گئ مگر شاجہاں سمجھ گئ تھی کے وہ کیا کہنا چاہ رہی ہیں۔۔
میری بیٹی کا نکاح ہے نمرہ میں بہت خوش ہو میں کوئ بھی ایسی بات اپنے ماضی کی دہرانا نہیں چاہتی جسے بیان کرتے ہوئے مجھے تکلیف ہو میں نے اپنا معملہ سالوں پہلے اپنے اللّٰہ پہ چھوڑ دیا تھا بیشک وہ بہترین انصاف کرنے والا ہے۔۔
تم بھی ایک طریقے سے عترت کی ماں ہو اپنی بیٹی کو دعائیں دو خوش اور آباد رہنے کی اور یہ دعا خاص کر دینا کے اسکی قسمت اسکی ماں جیسی نہ ہو۔۔
یہ بول کے شاہجاں بیگم نمرہ کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے چلی گئ۔۔
آج بھی نمرہ بیگم یہ سوچنے پہ مجبور تھی کے جیتا کون اظہر کو پاکے کیا وہ جیتی یہ آج پورے وقار سے کھڑی انکے سامنے شاہجاں جیتی۔۔
نمرہ نم آنکھیں لیے پلٹی تو سامنے اظہر صاحب کھڑے تھے۔۔
بھلے انہیں نمرہ کی اصلیت معلوم ہوگئ تھی مگر انہیں اب یہ بھی معلوم تھا کے نمرہ کو اپنے کیے پہ بہت پچھتاوا ہے۔۔
کچھ وقت لگے گا نمرہ اسے بائیس سالوں کا زخم ہے اتنی آسانی سے نہیں بھرے گا ۔۔اظیر صاحب نے انکا ہاتھ پیار سے تھام کے کہا ۔
او عترت سے ملتے ہیں۔..
اظہر صاحب اور نمرہ بیگم ڈریسنگ روم میں عترت سے ملنے چلے گئے۔۔
#
اففف یہ میری شرٹ بولا بھی تھا صنم کو ٹائٹ ہے مگر یہ کہاں سنتی ہے ۔۔
شانزے سائیڈ میں سے اپنی شرٹ صحیح کرنے لگی تو چڑڑڑ کی آواز آئ ۔۔
شانزے کا منہ رونے والا ہوگیا۔۔
شانزے نے کسی بچے کو صنم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے بلانے کا بول کے خود ڈریسنگ روم کی طرف چلی گئ اور بچے کو بھی صنم کو وہی بھیجنے کو کہا۔۔
بہزاد کی نظریں شانزے پہ ہی تھی اس لیے اس نے بچے کو روک کے کسی اور کام میں لگایا اور کسی کو کال۔کرکے خود ڈریسنگ روم کی طرف بڑھا ڈریسنگ روم زرا سائیڈ میں تھا اسلیے بہزاد پہ کسی کی نظریں نہیں گئ۔۔
ایک ڈریسنگ روم میں عترت اور انجم بیٹھی تھی۔۔
صنم آپی آپکو کوئ وہاں بلا رہا ہے۔۔
ایک بچے نے صنم کو بتا کے مطلوبہ جگہ پہ اشارہ کیا۔۔
بچہ بول کے چلا گیا اور صنم سمجھی شاید شانزے ہوگی کیونکہ اسے وہ دیکھائے بھی نہیں دے رہی تھی ۔
صنم جیسی ہی مطلوبہ جگہ پہ پہنچی کسی نے اسکا ہاتھ پکڑ کے تیزی سے کھینچا اس سے پہلے صنم چیختی کوئ بہت مظبوط ہاتھ اسکے لبوں پہ رکھ چکا تھا۔۔
دیوار سے لگی صنم نے ڈر کے مارے اپنی آنکھیں بند کرلی تھی اور صنم کو اسطرح دیکھ کے صائم کو اپنی ہنسی روکنا بہت مشکل لگ رہا تھا۔
جب سامنے والے نے کچھ بولا نہیں تو صنم نے دھیرے دھیرے اپنی آنکھیں کھولی اور اپنے سامنے صائم کو دیکھ کے صنم کی آنکھیں حیرت سے کھل گئی تھی۔۔
ڈریسنگ روم کا دروازہ کھول کے بہزاد اندر داخل ہوا سامنے ہی شانزے ڈوپٹہ سے بے نیاز اپنی شرٹ میں پن لگانے میں مصروف تھی بہزاد نے ڈریسنگ کا ڈور لاک کیا ۔
یار صنم بولا تھا نہ تجھے کے میرے ٹائٹ ہے یہ شرٹ مگر تو۔۔۔۔
شانزے نے بولتے بولتے جیسی ہی گردن اٹھائ بہزاد کو دیکھ کے اسکے ہاتھ سے پن گر گئ ۔۔
بہزاد کو اسطرح سے ڈریسنگ روم میں دیکھ کے شانزے کے چہرے پہ گھبراہٹ ڈر بہزاد کو بہت اچھا لگ رہا تھا۔۔
شانزے نے سائیڈ میں پڑا اپنا ڈوپٹہ فورا اوڑھا اور جیسے ہی بہزاد کے سائیڈ میں گزر کے جانے لگی۔۔بہزاد نے اسے کھینچ کے دیوار سے لگایا۔۔
بہزاد کا ایسا کرنا تھا کے شانزے کی نیلی آنکھوں میں اانسووں بھرنے لگے۔
یہ کیا کررہے ہیں آپ ؟
چھوڑے مجھے۔۔ورنہ۔۔
شانزے نے اپنی کمر پہ سے بہزاد کے ہاتھ ہٹاتے ہوئے اسے دھمکی دیتے ہوئے کہا۔۔
ورنہ کیا شور مچاوگی اوہہ ہاں بھئ تم تو ہو بھی بہت ٹارزن ۔۔
شانزے کو لگا وہ اسکی بے بسی کا مزاق اڑا رہا ہے۔۔
مگر شور مچا کے کیا کہوں گی کے میں بہزاد راجپوت تمہارے ساتھ اس ڈریسنگ روم میں ۔۔۔
آگے کی بات بولتے ہوئے بہزاد نے خود کو روکا مگر شانزے اچھی طرح سمجھ گئ تھی ۔
بلا جھجھک اس نے منتیں کرنے والے انداز میں بہزاد سے کہا۔
آپ پلیز مجھے جانے دے اگر کوئ آگیا تو بہت بڑا مسئلہ ہوجاے گا آپکو کوئ کچھ نہیں کہے گا مگر میری عزت خراب ہو جائے گی ۔
شانزے نے بہزاد کے آگے باقاعدہ ہاتھ جوڑے دیے۔
بہزاد غور سے شانزے کو دیکھنے لگا پھر کسی کی کال آنے پہ وہ شانزے سے دور ہوا مگر پھر بھی شانزے میں اتنی ہمت نہیں تھی کے وہ ڈریسنگ کا گیٹ کھول کے باہر جاسکے۔۔
کال سنتے ہی بہزاد نے بہت تھوڑا سا ڈریسنگ روم کا گیٹ کھول کسی سے پیکٹ لیا اور دروازہ فورا بند کردیا ۔
پیکٹ لے کر وہ شانزے کی طرف بڑھا اور پیکٹ اسے تھماتے ہوئے کہا۔
اگر عزت کی اتنی پرواہ ہے تو تھوڑا اپنے لباس پہ دیھان دے لیا کرو۔۔
اسے بدل کر باہر آجانا کیونکہ جو تم نے پہنا ہے وہ اب کسی کے سامنے پہننے کے قابل نہں۔۔
شانزے کے ہاتھ پہ پیکٹ رکھ کے بہزاد ڈریسنگ روم سے باہر جانے لگا مگر جاتے جاتے شانزے کو دروازہ لاک کرنے کا کہنا نہیں بولا ۔۔۔۔
بہزاد کی باتوں پہ شانزے شاکڈ بھی تھی اور حیران بھی اس نے پیکٹ کھولا تو اسے میں لائٹ پرپل اور لائٹ انگوری کلر کا بہت ہی حسین شرارہ تھا جیسے دیکھ کے شانزے کے لب مسکرائے تھے مگر وقتی طور پہ یہاں تک کے اسکے اندر اس کی میچنگ کی جیولری بھی تھی ۔
شانزے نہ جب شرارہ پہنا تو شاکڈ ہوگی کیونکہ شرارے اسے پرفیکٹ آیا تھا۔۔
شانزے نے جل کر کہا۔۔
آنکھیں میں ایکسرے فٹ ہے ۔ہٹلر کھڑوس کے۔۔
شانزے جب تیار ہوکے باہر نکلی تو سب سے پہلی نظر اس پہ بہزاد کی ہی پڑی تھی۔۔
مگر وہ شانزے کو دیکھ کے نظر انداز کرچکا تھا۔۔
اففف صائم یہ تم تھے جان نکال دی تم نے میری اور ایک منٹ تم یہاں پہ کیسے؟؟
صنم سے زرا فاصلہ رکھ کے صائم نے کہا۔۔
بھی فیملی کیساتھ آیا ہو ۔۔
اچھا ماما جانتی ہیں تمہاری فیملی کو؟؟
ہاں شاید۔
صائم نے یہ کہہ کے دوبارہ صنم کو دیکھنا شروع کردیا صائم کی آنکھوں میں ایسا کچھ تھا جیسے دیکھ کے صنم نگاہیں جھکا چکی تھی۔۔
بہت خوبصورت لگ رہو ہو صنم آج میں دل کے ہاتھوں مجبور ہوکے کہتا ہو کے میں تم سے بے پناہ محبت کرتا ہو ۔۔
صائم کے اظہار محبت پہ صنم کی دل کی کیفیت عجیب ہونے لگی وہ وہاں سے بھاگنا چاہتی تھی مگر صائم اسکے فرار ہونے کے سارے راستہ بند کرچکا تھا۔۔
صائم نے صنم کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے تھے اور کہا۔۔
اب تمہارے جواب کا انتظار ہے صنم ۔۔۔
مجھے نہیں پتہ ۔۔
یہ بول کے صنم نے صائم کو مسکرا کے دھکا دیا اور ڈورتی ہوئ وہاں سے چلی گئ۔۔
صائم نے مسکرا کے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور وہاں سے جانے لگا ابھی زرا سے ہی آگے بڑھا تھا کے اسکی ٹکر بہزاد سے ہوگی۔۔
آئ ایم سو سوری سر۔۔
صائم نے فوری اس سے ایکسکیوذ کرا۔۔
بہزاد نے غور سے صائم کو دیکھا تھا مگر بولا کچھ نہیں اور وہاں سے چلا گیا۔۔
صائم نے بہزاد کی پشت کو دیکھ کے کندھے آچکا ہے اور کہا۔
عجیب ہے بھئ۔۔۔
#
بلاج لوگوں کی آمد ہوچکی تھی عترت کو بھی اسٹیج کے اس پار لا کرکے بیٹھایا گیا تھا۔ ۔۔
بلاج اور عترت کے درمیاں پھولوں کا پردہ تھا ۔
اظہر صاحب بھی بلاج سے ملے اور بابر اور فہیم صاحب بھی۔۔
مگر کسی نے بھی اظہر صاحب کو دیکھ کے کوئ غلط ریکشن نہیں دیا۔۔
یہ کیا پہن لیا تو نے شانزے کہاں سے آیا اتنا حسین شرارہ اور پہلے والے کو کیا ہوا ؟؟.صنم کے پوچھنے پہ شانزے نے کہا۔۔
وہ پھٹ گیا تھا سائیڈ میں سے یہ میں پھر اپنی فرینڈ کا منگوایا ہے۔۔
پہلی بار شانزے صنم سے جھوٹ بول رہی تھی اسکا لہجہ اسکا ساتھ نہیں دے رہا تھا اور یہ بات صنم نے غور نہیں کی کیونکہ اسکی نگاہیں مسلسل صائم۔سے ٹکرارہی تھی۔۔۔
پہلے بلاج کا نکاح ہوا پھر عترت کا ۔۔۔
نکاح ہوتے ہی شاجہاں بیگم عترت کے گلے لگ کے رونے لگی اظہر صاحب نے بھی عترت کا گلے لگایا۔۔
وہاں سب بلاج کو مبارک باد دینے لگے۔۔
چلے بھی بلاج بھائ اب زرا یہ پردہ تو ہٹائے اپنی زوجہ محترمہ کا دیدار تو کرے۔۔
بازل کے کہنے پہ وہاں موجود سب ہی لوگ ہنسنے لگے۔۔
صنم اور شانزے بھی وہاں کھڑی مسکرا رہی تھی ہیر بھی بازل کے ساتھ کھڑی تھی اور بیتابی سے عترت کا چہرہ دیکھنا چاہتی تھی جو ریڈ ڈوپٹہ سے دھکا تھا۔۔
بلاج پھولوں کو پردہ ہٹا کے عترت کی طرف آیا تو سارے ہی شور مچانے لگے۔۔
سارے بڑے اسٹیج سے نیچے اتر چکے تھے۔۔
بلاج نے جیسی ہی عترت کا ڈوپٹہ پلٹا تو عترت کا روپ دیکھ کے مہبوت رہ گیا وہاں موجود سب نے ہی زور زور سے ماشاءاللہ کہا۔۔
بلاج نے آگے بڑھ کے بیٹھی عترت کا چہرہ تھاما تو عترت بلاج کی اس حرکت پہ فورا نگاہ اٹھائ ۔
عترت کی نگاہیں اٹھتے ہی بلاج کے دل بے قابو ہوگیا ۔۔
اسی وقت صنم کے اشارے پہ بہزاد نے سانگ پلے کروایا۔۔
“آنکھ اٹھتی محبت نے پھر انگڑائ لی۔۔
دل کا سودا ہوا چاندنی رات میں ۔
تیری نظروں نے کچھ ایسا جادو کیا۔۔
لٹ گئے ہم تو پہلی ملاقات میں “
گانے کے بول پہ
جہاں بہزاد نے شانزے کو دیکھا کچھ ایسا ہی حال صائم کا بھی تھا
بلاج نے جھک کے عترت کے ماتھے پہ اپنے لب رکھ دیے سب نے زور زور سے ونس مور کے نعرے لگائے اور جس پہ عترت تو گردن جھکا گئ مگر بلاج نہیں اس نے دوبارہ اپنے لب اسکے ماتھے پہ رکھے۔۔
جاری ہے
