Rate this Novel
Episode 49
خوشبو بیگم کو ایسا لگا انہوں نے کچھ غلط سنا !!!
کیا بولا شاہجاں تم نے پھر سے کہو؟؟؟
جو ہوگیا اسے بھول جاؤ خوشبو خالہ موت کی دہانے پہ کھڑی ہیں ہر ایک سے ہاتھ جوڑ کے اپنی موت اسان کرنے کی بھیک مانگ رہی ہیں!!!!
تو میں کیا کرو اسمیں!!
خوشبو بیگم نے یہ بات اتنی زور سے کہی کے پاس بیٹھے چائے پیتے بہزاد کے ہاتھ بھی پل بھر کیلئے تھم گئے۔۔
بات سمجھنے کی کوشش کرو خوشبو مجھے پتہ ہے تمہارے لیے یہ سب اتنا آسان نہیں ہے مگر کب تک آخر کب تک ایسے رہوگی ۔۔۔
کسی کی بیوی ہو تم !!
میں کسی کی بیوی نہیں ہو سنا تم نے شاہجاں ابھی اسی وقت تم یہاں سے چلی جاؤ میں تم سے کسی قسم کی بھی بدتمیزی کرنا نہیں چاہتی۔۔۔۔
خوشبو یہ بول کے اٹھ کے جانے لگی جب شاہجاں بیگم نے نہ چاہتے ہوئے بھی وہ بات کہی جو وہ کہنا نہیں چاہتی تھی۔۔
ہیر کا تو سو۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے شجہاں اگے کی بات بولتی خوشبو ایک بار پھر چیخ پڑی…
زبان سنبھالو اپنی شاہجاں ورنہ میں بھول جاؤنگی کے تم میری دوست ہو۔۔۔
میری زبان سنبھالنے سے تم حقیقت بدل نہیں سکتی خوشبو ۔
شاہجاں نے بھی اسکے روبرو اکے اسی کے انداز میں کہا ۔
اگر وہاج نے تمہارے ساتھ غلط کیا تو تم بھی برابر بھی گہنگار ہو۔۔ کس حق سے اپنے ضمیر سے مطمئن ہو۔۔؟؟
تم نے ایک اولاد سے اسکے ماں باپ کی پہچان چھپائ ایک لڑکی کو ساری زندگی ایک جھوٹے رشتے کی بنیاد پہ پالا۔
اس سے اتنی بڑی حقیقت چھپائ کے تم اسکی ماں ہو اور وہاج اسکا باپ ۔۔
تم جانتی نہیں ہو خوشبو اپنے غصہ میں تم ہیر کا کتنا بڑا نقصان کرچکی ہو ۔۔
تم وہاج سے نفرت کرتی ہو نہ کے اسنے تمہیں انتظار کی سولی پہ لٹکا کے تم سے اپنا تعلق جوڑ کے تمہیں دھوکا دے کے کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کرلیا۔۔
تو خوشبو جب ہیر کو پتہ چلے گا کے اسکی انی ہی اسکی سگی ماں ہے اسکی سگی ماں نے ہی اسکی پہچان کو سوالیہ نشان بنادیا تو تمہیں کیا لگتا وہ یہ برداشت کر پائے گی ؟تمہیں معاف کر پائے گی؟؟
یہ اسمیں اتنا حوصلہ ہوگا کے وہ تم سے پہلے کی طرح پیار کرے؟؟
پچپن سے ہی اسکے دماغ میں تم نے یہ بات بٹھا دی کے وہ ایک یتیم اور مسکین ہے۔
جس دن یہ بات وہاج کو پتہ چلے گی نہ خوشبو کے تم اس سے اسکی اولاد کا وجود چھپایا ہے تمہیں اندازہ نہیں ہ
وہ کیا کریگا ابھی تک تم نے اسکی صرف پیار بھرا یہ پھر گڑگڑانے والا انداز دیکھا ہے اسکا غصہ نہیں دیکھا خوشبو۔۔
بہزاد جو ان ساری باتوں میں خاموش تماشائی بنا بیٹھا تھا اسے اندازہ ہو رہا تھا بات کی سنگینیت کا۔۔۔
اس لیے وہ بول پڑا ۔۔۔
اپنے ہیر کے ساتھ واقعی غلط کیا خوشبو آ پی اسکی پہچان اس سے چھپائ ۔۔
وہاج بھائ نے بیشک میری آپا سے شادی کی تھی مگر انہوں نے بہت مجبوری میں یہ فیصلہ لیا تھا میری آپا انکی بچپن کی دوست تھی مگر انہوں نے بھی وہاج بھائ کا ساتھ نہیں دیا اور اپنی یک طرفہ محبت کی خاطر پھپھو کا ساتھ دیا اور وہاج بھائ کی زندگی میں شامل ہوگئ مگر کبھی وہ اپکی جگہ نہیں لے سکی۔۔
اج تم دونوں کو کیا ہوگیا ہے یہاں اس دھوکے باز انسان کی وکالت کرنے ائے ہو ؟؟
مجھے پتہ ہے میں نے کیا کیا ہے کیا نہیں ؟
تم دونوں سے مجھے مشورہ نہیں چاہیے اب تم دونوں یہاں سے جاسکتے ہو اس سے پہلے ہیر آ جائے بہتر یہ ہی ہوگا چلے جاو تم دونوں یہاں سے ؟؟
ویسے بھی ملکہ اور بہزاد تم دونوں کا کام اب ختم ہوچکا واقعی میں اب تم لوگوں کو یہاں سے چلے جانا چاہیے باقی کے معملات میں خود دیکھ لونگا اب۔۔۔
اچانک وہاج کی اواز سن کے بہزاد اور شاہجاں ایک دم چونکے تھے جبکے خوشبو کے اچھے خاصے اوسان خطا ہوچکے تھے۔۔۔۔
ان تینوں میں سے کسی کو امید نہیں تھی وہاج یہاں ائے گا ۔۔۔
وہاج صاحب کو اندازہ نہیں تھا کےا ج انکے سامنے اتنا بڑا سچ ائے گا وہ تو اپنے طور پہ اپنی ماں کی خاطر خوشبو سے بات کرنے ائے تھے اندازہ نہیں تھا اج انہیں ایسا راز پتہ چلے گا جس سے شاید وہ کبھی واقف نہ ہوتے اگر یہاں نہ اتے ۔۔
انکھوں میں غصہ لیے اپنی مٹھیوں کو بھینچے وہ ان تینوں کی طرف بڑھے مگر نگاہیں انکی خوشبو کی طرف ہی تھی۔۔
شاید تم دونوں نے سنا نہیں میں نے کیا کہا؟
وہاج صاحب کے لہجے میں ایسا کچھ تھا کے شاہجاں بیگم اور بہزاد دونوں ہی خاموشی سے وہاں سے چلے گئے۔۔
ان دونوں کے جاتے ہی وہاج صاحب نے دروازہ لاک کیا اور خوشبو کی طرف بڑھنے لگے..
خوشبو نے ہمت کرکے پوچھا۔۔
اپکی ہمت کیسے ہوئ یہاں انے کی؟ا
دروازہ کیوں لاکڈ کیا اپنے؟؟؟
مگر وہاج صاحب نے اسکی کسی بات کا جواب نہیں دیا خوشبو ایک ایک کرکے اپنے قدم پیچھے اٹھانے لگی مگر زیادہ دیر تک وہ یہ کام کرنہیں پائ اور دیوار سے لگ گئ ۔۔
وہاج صاحب خوشبو بیگم کے بے حد قریب تھے اج سالوں بعد وہ دونوں ایسے حالت میں موجود تھے کے دونوں کی سانسیں ایک دوسرے کے چہرے سے ٹکرا رہی تھی ۔۔
اچانک وہاج صاحب نے خوشبو بیگم کے بال اپنی مٹھی میں جکڑے اور دانت پیس کے کہا۔۔
ہمت کیسے ہوئ تمہاری میری اولاد کو مجھ سے چھپانے کی ؟
ہمت کیسے ہوئ میری بیٹی کی پہچان اسکے ماں باپ کا وجود اس سے چھپانے کی؟؟
جواب دو مجھے خوشبو؟؟
ویسے ہی جیسے اپکی ہمت ہوئ مجھے استعمال کرکے دھوکہ دینے کی ۔۔
خوشبو بیگم نے اپنے بال جھٹکے سے ان سے چھڑوا کے انکو دھکا دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
وہاج صاحب نے اگے بڑھ کے خوشبو بیگم کا منہ ڈبوچتے ہوئے کہا ۔۔
استعمال نہیں کیا تھا حق لیا تھا تم سے اپنا وہ بھی تمہاری مرضی کیساتھ بیوی ہو میری۔۔
خوشبو بیگم نے دوبارہ اپنے اپکو وہاج صاحب سے آزاد کروایا اور کہا۔۔
بیوی ہو نہیں تھی ۔
۔کس رشتے کا تقاضہ کرنے یہاں ائے ہیں اپ ۔۔
ایک بار پھر خوشبو بیگم نے وہاج صاحب کو دھکا دیا۔۔
عورت سے خالی اپنا حق لینے کیلیے اسے بیوی نہیں بنایا جاتا اور بھی بہت سے تقاضے ہوتے ہیں اس رشتے کے۔۔
میں تمہیں بتا چکا ہو میں بہت مجبور تھا ۔۔
وہاج صاحب کی بات پہ ایک دم خوشبو بیگم کا طنزیہ قہقہ گونجا انہوں نے وہاج صاحب کا گریبان پکڑ کے کہا ۔
میں نہیں مانتی کے ایک مرد مجبور ہوسکتا ہے خاص کر جب جب وہ ہزاروں لوگوں کے درمیان کسی عورت کو اپنے نکاح میں لے چکا ہو۔۔
نکاح کے نام پہ اس سے اپنا حق لے چکا ہو۔۔
یہ کہہ کے خوشبو بیگم نے وہاج صاحب کا گریبان چھوڑا ۔۔
کس کتاب میں لکھا ہے کے مرد مجبور نہیں ہوتا ؟؟
ایک بار پھر خوشبو بیگم کو وہاج صاحب اپنی گرفت میں لے چکے تھے۔۔
مرد کیا انسان نہیں ہوتا اسکے ساتھ مسئلہ نہیں ہوتا ۔۔
خالی تم عورتوں کو فیملی کی طرف سے پریشر ہوتا ہے ۔۔
مانا کے مرد کو اللّٰہ نے عورت کا حاکم بنایا ہے مگر یہ ہی عورت ذات مرد کو مجبور کرتی ہے۔۔
کبھی ماں ،کبھی بیٹی ،کبھی بیوی ،کبھی بہن بن کے۔۔۔
میں کتنا مجبور تھا اب میں تمہیں یہ نہیں بتاؤنگا۔۔۔
کان کھول کے سن لو کل کی تاریخ میں تم میری بیٹی کو میرے گھر لے کر آؤ گی۔۔
کیسے لاؤ گی کسطرح لاؤ گی یہ تمہارا مسئلہ ہے۔۔۔
اپ سے کس نے کہا وہ اپکی بیٹی ہے ؟؟
کیا پتہ میں کسی اور کیساتھ ۔۔۔۔
ابھی خوشبو بیگم کی بات مکمل بھی نہیں ہوئ تھی کے وہاج صاحب نے انکی گردن ڈبوچ لی ۔۔
مجھے تو تم کنواری ہی ملی تھی اور اسکا اندازہ مجھے نکاح کی رات ہوگیا تھا۔۔
وہاج صاحب کی منہ سے اتنی بے باک بات سن کے خوشبو بیگم چہرہ سرخ ہوچکا تھا۔۔
وہاج صاحب نے انکی گردن چھوڑی اور کہا۔۔
کل تک اگر تم نہ ائی تو مجھ سے کسی بھی قسم کی کوئ امید مت رکھنا کے میں اپنی بیٹی کو لیجانے کیلیے کوئ صحیح راہ اپناؤ نگا ۔۔
وہ اپنی مرضی سے اس دنیا میں نہیں ائی تھی تمہارا ریپ نہیں کیا تھا میں نے جو تم نے اس سے میرا تو چھوڑو اپنا رشتہ چھپایا مجھے بھلے مار دیتی مگر خود کی پہچان تو نہ چھپاتی۔۔
ا
کل کا دن ہے خوشبو تمہارے پاس کل کی تاریخ میں مجھے میری بیٹی وہاج مینشن میں چاہیے ورنہ انجام کی ذمیدار تم خود ہوگی۔۔
یہ بول کے وہاج صاحب گیٹ کھول کے چلے گئے انکے جاتے ہی پانچ منٹ بعد لائبہ اور ہیر نے گھر میں قدم رکھا لائبہ وہاج صاحب کو گھر سے نکلتا ہوا دیکھ چکی تھی مگر لائبہ نے یہ شکر کیا کے ہیر کی نگاہیں سیڑھیاں چھڑتے ہوئے نیچے تھی۔۔
جاری ہے۔۔
