Rate this Novel
Episode 3
چھوٹی بی بی سائیں۔۔
ہاں لائبہ بولو ۔۔
بیبی جی وہ ہیر بیٹی کا رزلٹ آگیا ہے مگر وہ ہیں ہے رزلٹ دیکھنے کے بجائے کمرے میں بند ہیں صبح سے۔۔
لائبہ کی بات پہ خوشبو مسکرائ اور کہا۔۔
جانتی تو ہو لائبہ جب جب اسکا رزلٹ آتا ہے وہ ایساہی ریکٹ کرتی ہے ۔۔
تم جاؤ دیکھو کھانا بنا یہ نہیں میں دیکھتی ہو اسے۔۔
خوشبو واسق گاؤں کے ایک زمیندار کی بیٹی تھی ۔ماں کے گزرنے کے بعد واسق صاحب نے ہی اسے ماں اور باپ دونوں بن کے پالا
۔مگر باپ کا سایہ بھی بھری جوانی میں اسکے سر سے اٹھ گیا وہ بھی اس وقت جس وقت اسے کسی اپنے کے ساتھ کی ضرورت تھی۔۔
باپ کے مرنے کے بعد اسنے ہی گاؤں کا سارا نظام سنبھال لیا ہیر اسکی بھانجی تھی۔۔سب یہ بولتے تھے
اسکی اچھی پڑھائ کیلیے خوشبو فلحال کراچی میں تھی ۔لائبہ انکی پرانی ملازم تھی تقریبا سارے ملازم ہی آہستہ آہستہ خوشبو کا ساتھ چھوڑ گئے تھے مگر لائبہ اسکا شوہر ہمیشہ خوشبو کے ساتھ تھے۔۔
لائبہ کا شوہر اس وقت گاؤں میں تھا وہاں کی زمینوں کی دیکھ بھال اسکے ذمہ تھی ایک طریقے سے وہ منشی کا کردار ادا کرتا تھا ۔۔
بیس سالوں سے وہ وہ پوری ایمانداری سے خوشبو کو ایک ایک پیسہ کا حساب دیتا تھا۔
پیسے کی ریل پیل تھی مگر خوشبو کو اب کسی چیز کی لگن نہیں تھی وہ ہمیشہ سادہ سی رہتی تھی تھی 38 سال کی ہونے کے باوجود وہ اب بھی بہت جوان لگتی تھی۔۔
ہیر کو خوشبو نے ہی پالا تھا مگر ہیر کو اتنی جازت نہیں تھی کے وہ اپنے ماں باپ کے بارے میں سوال کرے کیوں کے خوشبو نے اسے یہ بتایا ہوا تھا کے اسکے ماں باپ نہیں ہیں وہ اسکی انی ہیں۔۔
کہاں ہیں ماں باپ ہیں بھی نہیں ایسا کوئ سوال ہیر خوشبو سے نہیں پوچھتی تھی اور شاید یہ ہی خوشبو چاہتی تھی کے ہیر اس سے کوئ سوال نہ کرے۔۔
ہیر دروازہ کھولو جان۔
خوشبو کی آواز سن کے ہیر نے ایک سیکنڈ کی تاخیر کیے بغیر دروازہ کھول دیا۔۔
ہیر کو اللہ نے بے شمار حسن دیا اسکے گولڈن بال اسکی شخصیت میں چار چاند لگاتے تھے شاید کبھی اسکی ماں باپ نے اسکا۔نام ہیر رکھا تھا۔۔
خوشبو نے اندر آکے ہیر کو گلے سے لگایا اور پوچھا۔۔
کیا بات ہے ہیر کب سے لائبہ آپکا دروازہ بجا رہی تھی اپ دروازہ کیوں نہیں کھول رہی تھی۔۔
آج پکا رزلٹ تھا نہ کیا آیا رزلٹ۔۔؟؟
خوشبو سوال پہ سوال کررہی تھی مگر ہیر خاموش تھی۔
خوشبو کو لگا شاید رزلٹ اچھا نہیں ایا۔۔
اگر اس بار رزلٹ اچھا نہیں آیا تو کوئ بات نہیں ہیر ۔۔
نہیں آنی میں نے ٹوپ کیا ہے پورے کالج میں ۔۔
کیا ۔۔۔اااااا
خوشبو کی خوشی کی کوئ انتہا نہیں رہی۔۔
تو پھر اداس کیوں ہو ؟؟.اب تو تم انٹیریئر ڈیزائنر بن سکتی ہو اچھی سی اچھی یونی میں ایڈمیشن ہوجائے گا تمہارا۔۔۔
نہیں آنی مجھے اب انٹیریئر ڈیزائنر نہیں بننا۔۔۔
یہ کیا بول رہی ہو ہیر یہ تو تمہارا خواب تھا۔
مجھے اسکالر شپ پہ 6 مہینے کیلیے کالج والے لندن بھیج رہے ہیں کورس کیلیے ایک دو اسٹوڈینٹ اور ہیں
تو بس آپکو اکیلا یہاں چھوڑ کے جانے کا میں تصور بھی نہیں کرسکتی ۔۔
یہ بول کے ہیر کمرے سے باہر چلی گئ۔۔۔
#
صنم نے صبح ناشتہ کی ٹیبل پہ خاموشی سے ناشتہ کیا ۔وہ تینوں بہت غور سے صنم کو ناشتہ کرتا دیکھ رہی تھی۔۔
آج صنم تھوڑا لگ ریکٹ کرہی تھی کیونکہ عموما جب وہ غصہ میں گھر سے باہر جاتی تو اگلے دن اسکا پورا دن کمرے میں گزرتا۔۔
عترت آپی کل کیلیے آئ ایم سوری غلطی میری ہے میں خود تو نماز پڑھتی نہیں اور آپکو بھی پڑھنے نہیں دی کل سوری ۔
صنم کے سوری کرنے پہ جہاں عترت کے ہاتھ میں پکڑا چائے کا کپ چھلکا وہی شاہجاں بیگم اور بی جان بھی صدمے میں تھی۔۔
ماما واپسی میں مجھے دیر ہوجائے گی شانزے کیساتھ مارکیٹ جانا ہے ۔۔
یہ بول کے صنم چلی گئ مگر وہ تینوں صنم کے رویہ پہ ابھی تک شاکڈ تھی۔۔
#
عاشر آپکی رپورٹ کارڈ آج پھر خراب آئ ہے۔۔
بہزاد گاڑی میں بیٹھا عاشر پہ غصہ کررہا تھا مگر عاشر اس نے اپنے پاپا کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا ۔۔
وہ ناراض تھا اپنے پاپا سے فاخر کے جانے کے بعد سے۔
ایک شاپ کے اگےبہزاد کی گاڑی رکی تو ساتھ میں اسکے گارڈز کی بھی گاڑی رکی ۔۔
یہ ایک بہت بڑی بیکری تھی عاشر کو اتنا ڈانٹنے کے بعد بہزاد اسکے لیے کچھ لینے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔
عاشر گاڑی میں ہی بیٹھا رہا۔۔
بہزاد سامان لے کر واپس آیا تو اسکے نمبر پہ۔کال آنے لگی ۔۔
جسے سننے میں وہ مصروف ہوگیا اسکے گارڈز اسکے آگے پیچھے تھے۔۔
عاشر جو کافی دیر سے ایک کتے کو دیکھ رہا تھا جو بہت چھوٹا تھا اور ایک گڈے میں پھنسا ہوا تھا۔۔
عاشر نے ایک نظر بہزاد کو دیکھا جو کال میں مصروف تھا اور اسکے گارڈز اسکی۔نگرانی میں۔۔
عاشر نے گاڑی کا گیٹ کھولا اور روڈ کے اس پار کتے کے پاس جانے لگا۔۔
#
افف صنم آج تو شانزے یہ بول کے روڈ کراس کرہی تھی کے جبھی اسکی نظر عاشر پہ پڑی جو بنا دیھان دیے روڈ کراس کررہا تھا۔اور اس بات سے انجان تھا کے ایک ٹرک تیزی سے اسکی طرف آرہا ہے۔۔
شانزے نے دور کے عاشر کو تیزی سے پکڑ کے کھینچا ایک ہلچل مچ گئی صنم کی بھی چیخ بلند ہوئی مگر ایک بہزاد تھا جو کال پہ مصروف رہا ۔
بیٹا آپکو لگی تو نہیں ۔
شانزے نے عاشر کو اٹھا کے پوچھا ۔۔
نہیں انٹی۔۔
کس کے ساتھ ہو اپ؟؟
شانزے کے پوچھنے پہ عاشر نے بہزاد کی طرف اشارہ کیا۔۔
شانزے غصہ میں بہزاد کی طرف بڑی اور اتنی تیزی سے بہزاد کے ہاتھ سے موبائل کھینچ کے نیچے پھینکا کے اسکے گارڈز حیران رہ گئے۔۔
انہوں نے فورا شانزے کی طرف اپنی گنز کری۔۔
بہزاد دو منٹ کیلیے شانزے کی ہمت پہ حیران رہ گیا ۔
کچھ ہوش ہے یہ نہیں آپکو ۔
اگر بروقت میں اس بچے کو روڈ کراس کرنے سے نہیں روکتی تو آپکا بیٹا اللہ کو پیارا ہوچکا تھا۔
یہ اتنے موٹے موٹے گارڈز کی اپنی نگرانی کیلیے رکھے ہیں۔
اتنے بڑے ہوکر خود کی نگرانی کروا رہے ہیں اور اتنی سے بچے کو لاوراثوں کی طرح چھوڑ دیا۔
بیٹا کون ہیں یہ اپکے؟؟
آنٹی پاپا ۔۔
لوجی ماشاءاللہ پاپا کو تو دیکو اپنے موبائل سے ہی فرصت نہیں ہے ایسا کونسا فون تھا بم بلاسٹ کروارہے تھی کہی جو دیھان نہی رہا اپنے خود کے بچے پہ۔۔
صنم جو بہزاد کو دیکھ کے اتنی دیر سے یہ سوچنے کی کوشش کررہی تھی کے اس نے بہزاد کو کہاں دیکھا ہے۔۔
مگر جب صنم۔کو یاد آیا تو وہ شانزے کا ہاتھ پکڑ کے کھینچنے لگی ۔
شانزے بس کرو تم جانتی نہیں انہیں یہ بہزاد چوہدری ہیں۔۔
ارے ہوگا کوئ بہزاد بغداد ۔۔
میری نظر میں تو یہ ایک دم بیکار شخص ہیں جو اپنا بچہ نہیں سنبھال سکتے۔۔
ارے ہٹ صنم ۔۔شانزے ایک بار پھر بہزادسے لڑنے جانے لگی جب صنم اسے کھینچتی ہوئ راڈ کراس کرنے لگی۔۔
مگر شانزے کی نیلی آنکھیں بہزاد کو غصہ میں گھور رہی تھی اور بہزاد کی اس پہ ۔۔
بہزاد نے اس لڑکی کی جرات پہ دل سے داد دی اور گاڑی میں بیٹھتے ہوئے صرف ایک لفظ دوہرایا۔۔
“شانزے “
