Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 63

ایک ہفتہ بعد اج زویان کو ڈسچارج کیا گیا تھا۔۔
جہاں اظہر صاحب اسکے گلے لگ کے بے تحاشہ روئے وہی زویان کا بھی حال کچھ ایسا تھا۔۔
نمرہ بیگم کے گلے زویان فلحال دیکھاوے کیلیے لگا اسے اج بھی نمرہ بیگم سے شکوہ تھا ۔
بہزاد اس کے بالکل برابر میں بیٹھا تھا جب زویان نے ہلکی سی سرگوشی کرکے پوچھا۔۔
میری والی دیکھائی نہیں دے رہی۔۔؟؟
ارے ہاں میں تو بھول گیا وہ تو تیرے استقبال میں پلکیں بچھا کے بیٹھنے والی تھی ۔۔
صائم جو زویان کے بائیں طرف بیٹھا تھا اور زویان کی بہزاد کیساتھ سرگوشی سن چکا تھا تپ کے بول پڑا۔۔
زویان نے دانت پیس کے صائم کو دیکھا جو اسے اپنی بتیسی کی فل نمائش کرا رہا تھا زویان نے بہت ہی ہلکی اواز میں کہا۔۔
اللّٰہ تیرا جسا سالہ اور بھائ کسی کو نہ دے۔۔
مگر میرا حوصلہ دیکھ میں اللّٰہ سے تجھے ہی سالے کے روپ میں مانگتا ہو۔۔۔
زویان اسکی بات پہ طنزیہ مسکرایا اور کہا۔
اچھا ہے اچھا ہے بلے کو خواب میں چھیچھڑے ہی دیکھتے ہیں۔۔
مگر ہم وہ بلے ہیں جو خواب میں بھی چھیچھڑے چھین کے کھانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔۔
وہ دونوں اپس میں طنز کے تیر چلا رہے تھے جب ہال میں ہیر کے سلام کی آواز گونجی۔۔۔
زویان نے اسکی آواز پہ فورا اسے دیکھا جو سب کو چائے سرو کررہی تھی مگر زویان کا کپ اسنے اسکے ہاتھ میں دینے کے بجائے ٹیبل پہ رکھ دیا۔۔
ہیر کی اس حرکت پہ زویان کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا کیونکہ اسنے بہزاد اور صائم کے ہاتھوں میں چائے کا کپ دیا تھا۔۔
زویان کی شکل دیکھ کے صائم نے اپنی مسکراہٹ چھپانے کیلئے فورا اپنا کپ اپنے لبوں سے لگایا مگر زویان سے یہ عمل چھپ نہ سکا ۔۔
ہنس ہنس لو ایک دن اگر تم سے منتیں نہ کروائیں اپنی بہن سے ملنے کیلئے تو میرا نام بدل دینا۔۔
زویان نے یہ کہہ کے دوبارہ نگاہ ہیر پہ ڈالی جو سفید اور ڈارک پرپل کی سمپل فراک میں شانزے کے برابر میں بیٹھی تھی ۔
مجھے کب ملوانے لے کر چل رہی ہیں صنم سے؟؟
ابھی تو وہ مجھ سے بھی ملنے نہیں جارہی نہال کیساتھ بزی ہے منگنی کے چکر میں کل رنگ ونگ لینے جارہی ہے ۔
ہیں سچ بول ری ہو شانزے ؟
ہاں تو بتایا تو تھا تمہیں نہال بھائ کا؟؟
ہاں یار بھول گئ۔۔
وہ دونوں اپنی اپنی باتوں میں لگی تھی جب نمرہ کی فیملی ائ جسمیں عترت بازل اور ہنزہ بھی تھے۔۔
بازل نے بھی زویان کو جاکے جوائن کیا اب وہ چاروں باتیں کررہے تھے۔ جب عترت نے بہزاد کو کچھ اشارہ کیا جسے سمجھ کے بہزاد نے زویان کے کان میں کچھ کہا۔۔
زویان نے بہزاد کی بات سن کے ہاں میں گردن ہلائ اور کہا۔۔۔
شانزے ؟؟
شانزے کو پکارنے پہ بہزاد نے اسے آ ئیبرو اچکا دیکھا جب زویان نے صاف کہا۔۔
بھئ میں تو نہ مامی بولنے والا نہ بھابھی کیونکہ مجھ سے عمر میں چھوٹی ہے تو جیسے صنم ہے ویسے شانزے بھی ۔۔
شانزے مجھے صنم سے ملنا ہے؟؟
زویان کے بولنے پہ ہال میں جیسے ایک دم سناٹا سا چھا گیا۔۔۔
زویان اس بارے میں ہم بعد کیں بات کرینگے۔۔۔
شانزے نے فلحال اسے ٹالنا چاہا۔۔
نہیں شانزے مجھے اج ہی صنم سے ملنا ہے اور جب تک وہ مجھ سے ملنے نہیں ائے گی میں کوئ میڈسن نہیں لونگا۔۔
زویان یہ کیا بچوں والی ضد یے؟؟
اظہر صاحب ایک دم بول پڑے۔۔
پاپا میں جو کہہ دیا وہ کہہ دیا مجھے پتہ ہے مجھے بلڈ اسی نے دیا یے اور بھی بہت سی باتیں اس سے کرنی ہے لہذا اسکو اپ اج کی تاریخ میں لے او ۔۔
تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے شاید !!
شانزے ایک دم غصہ میں میں بولنے لگی۔۔
شانزے !!!!
بہزاد نے فورا شانزے کو ٹوکا۔۔۔
مجھے مت بہزاد اسے سمجھائے یہ پاگل ہوگیا ہے۔۔
صنم کبھی نہیں ملے گی کس سے کبھی نہیں اس نے مجھے وارن کیا ہے اگر میں نے اسے فورس کیا تو وہ مجھ سے بھی دور ہوجائے گی۔
ٹھیک ہے میں اپکو فورس نہیں کررہا شانزے ۔۔
زویان ایک دم بول پڑا !!مگر مجھے صنم سے ملنا ہے میں اسکو بہت کچھ غلط بول چکا ہو۔۔۔
اپ مجھے بس اسکا نمبر دے دیں اتنا تو کرسکتی ہیں۔۔؟.
افف زویان تم کیوں نہیں سمجھ رہے وہ کسی سے رابطہ کرنا نہیں چاہ رہی!!
اپ مجھے دے دیں نمبر پلیز۔۔
میں دے دونگا میرے پاس ہے اسکا نیو نمبر بھی!!
بہزاد کے اچانک بولنے پہ شانزے نے منہ کھولے اسے دیکھا تو پلٹ کے بہزاد نے اسے انکھ ماری۔۔۔۔
سب ہی تھوڑی دیر بیٹھ کے چلے گئے ۔۔
زویان کو صائم اور بازل نے اسکے کمرے میں پہچایا۔۔
زویان دو منٹ سکون سے لیٹا جب اسنے بازل کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔
تیرا معملہ کہاں تک پہنچا ؟.مانی ہنزہ بھابھی؟؟
زویان کے پوچھنے پہ بازل جو ڈریسنگ پہ سے اسکی میڈسن اٹھا رہا تھا طنزیہ مسکرایا اور کہا۔۔
چھوڑدونگا اسے اسکی خوشی کیلئے زبردستی ایک بار کرچکا ہو دوبارہ نہیں کرونگا۔
کیا تیرا دماغ!!!اسسے پہلے زویان کچھ کہتا ایک دنم اسکے روم کا دروزاہ بجا۔۔
اجائے۔۔۔۔۔
اجازت ملتے ہی ہنزہ نے نے ہلکا سا کمرے میں جھانکا جسے جھانکتا دیکھ بازل رخ موڑ گیا!!
وہ مجھے ہسپتال کیلئے نکلنا ہے نمرہ انٹی اور عترت اپی ابھی یہ ہی ہیں تو کیا تم چھوڑ دوگے مجھے ہسپتال۔۔۔؟
ہنزہ کے کہنے پہ صائم اور زویان دونوں نے بازل کی طرف دیکھا جو ہلکا ہلکا مسکرا رہا تھا۔۔
اپنی مسکراہٹ چھپائ اور بنا رخ موڑے کہا۔۔
نہیں!!
مجھے ابھی زرا اپنی ایک دوست کو پک کرنا ہے افس سے تم چلی جاو۔۔۔
بازل کی بات سن کے ہنزہ کا چہرہ ایک دم رونے والا ہوگیا جیسے دیکھ کے صائم اور زویان نے فورا انگاہ جھکائ ۔۔
ہنزہ نے اوکے کہا اور زور سے دروازہ بند کرکے چلی گئ۔۔
اسکے جاتے ہی بازل کے لب کھل کے مسکرائے تھے بازل کو مسکراتا دیکھ بازل اور صائم بھی مسکرانے لگے اور دونوں نے ایک ساتھ کہا۔۔
“بہت بڑا کمینا ہے سالے”
ان دونوں کے ایسا کہنے پہ بازل کا قہقہ گونجا اور اسنے کہا ۔
اگر اسکے منہ سے نہ کہلوایا نہ کے یہ نہیں رہ سکتی میرے بنا۔۔
تو میرا نام بھی بازل بابر نہیں۔۔ ۔۔
محبت کرتی ہے مجھ سے بہت نہیں رہ سکتی میرا بنا نہ مجھے برداشت کرسکتی ہے کسی اور کیسی کے ساتھ اسی لیے اسکے ساتھ یہ ڈارمہ کررہا ہو فرینڈ والا جسکی شروعات اسی کے سامنے ہوئ تھی ۔۔
یہ مشورہ کس نے دیا تجھے۔۔؟
زویان کے پوچھنے پہ اس سے پہ بازل کچھ بولتا صائم بول پڑا۔۔
ایک ہی تو ہے جس سے کوئ نہیں جیت سکتا۔۔
“بہزاد راجپوت”

#

جاری ہے۔۔