Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 45 ( part 1)

او مائ گاڈ آپی یہ آپ ہو ۔؟؟
صنم نے جب عترت کو ریڈ ساڑھی میں دیکھا تو حیران رہ گئ۔۔
یار مجھے تھوڑا عجیب لگ رہا ہے کبھی ساڑھی پہنی نہیں پہنے۔۔۔
آپی کوئ عجیب وجیب نہیں لگ رہا قسم سے قیامت لگ رہی ہو آج تو بلاج بھائ کی خیر نہیں۔۔
وہ کہاں آئینگے آج انہیں کام تھا کوئ؟
ہیں کیا بول رہی ہو باہر جاکے دیکھو محفل کی شان بنے ہوئے ہیں ڈنر سوٹ میں ۔۔
کیا بلاج اگئے؟.
آپی تم آج پاگلوں جیسی باتیں کیوں کررہی ہو ویسے کوئ ایک پاگل بنا ہو ا گلے تک نہیں لگی وہ میرے۔۔
صنم کا اشارہ جس طرف تھا عترت سمجھ چکی تھی۔۔
صنم جاکے اسکی غلط فہمی دور کرو تاکے اسکے اور بی ایم کے درمیان اختلافات بھی صحیح ہو۔۔
وہ۔ہاتھ تو آئے جب جاتی ہو اسکی طرف راستہ بدل لیتی ہے۔۔
اچھا میں کچھ کرتی ہو۔۔
شانزے پستئ کلر کی میکسی میں پرستان کی کوئ پری لگ رہی تھی بہزاد کا ولیمہ بہت اعلی درجہ کا تھا شانزے کو تو ایسا لگ رہا تھا پورا شہر اٹھ کے آگیا ہے ۔۔
بہت سارے جرنلسٹ بھی آئے ہوئے تو جو ااسکی اور بہزاد کی ایک ساتھ پکس بنا رہے تھے۔۔
بہزاد اور شانزے کی جوڑی کو ہر کوئ سراہا رہا تھا عاشر شانزے کے پیچھے پیچھے تھا وہ ماما ماما کہتے کہتے نہیں تھک رہا تھا اور شانزے جی میری جان کہتے کہتے ۔۔
سب ہی اس چھوٹی سی لڑکی کو ولیمہ کی دلہن بنے دیکھ رہے تھے جس نے بن ماں کے بچے کو دو تین دونوں میں اپنا اسیر کرلیا تھا ۔۔
شانزے کو کوئ فرق نہیں پڑے رہا تھا کوئ کیا بول رہا ہے ہاں مگر وہ بہزاد کی نظروں سے ضرور کنفیوز ہورہی تھی۔
جواد صاحب شانزے کی ماں اللّٰہ کا شکر ادا کرتے نہیں تھک رہے بہزاد اب جواد صاحب کی پہلے سے زیادہ عزت اور احترام کررہے تھے۔۔
اتنی بڑا بزنس ٹائیکون انکے آگے پیچھے تھا۔
یہ دیکھ کے شانزے خوش ہوئ تھی۔۔
لو آگئ آپکی وائف۔۔۔بہزاد نے بلاج کو ڈریسنگ روم سے باہر آتی عترت کی طرف متوجہ کیا۔
ریڈ ساڑھی میں عترت کو دیکھ کے بلاج اپنے ہاتھ موجود گلاسں میں سے جوس پینا بھول گیا جو اسکے لبوں کے قریب تھا۔۔
آج بلاج کی غلط فہمی دور ہوگئ عترت آج اسے اور زیادہ جان سے پیاری ہوگئ تھی وہ دھیرے سے چلتا ہو عترت کے پاس آیا عترت جو اپنی ساڑھی ٹھیک کررہی تھی بلاج کو سامنے دیکھ کے اسکے ہاتھ تھم چکے تھے اور بلاج کو بلیک ڈنر سوٹ میں دیکھ وہ بھی اپنی ساڑھی ٹھیک کرنا بھول گئ تھی۔۔
بہت خوبصورت لگ رہی ہو !!!!
بلاج کی تعریف پہ عترت بلاج کو گھورنے لگی اور وہاں سے چلی گئ۔۔
بلاج نے ایک لمبی سانس لی اور وہی کرسی پہ بیٹھ گیا۔
شانزے ڈریسنگ روم کی طرف بڑھی تو وہاں کوئ نہیں تھا ۔۔
شاہجاں آنٹی تو کہہ رہی تھی عترت بلا رہی ہے ۔۔
یہ سوچتے ہوئے شانزے پلٹی تو سامنے صنم غصہ میں لال پیلی کھڑی تھی۔۔
شانزے نے اسے دیکھ کے منہ بنا کے کہا ۔۔
راستہ چھوڑو میرا ۔۔
زیادہ۔اترا نہیں شانزے میں بتا رہی ہو بہت ہوا تیرا ناٹک اگر اب تو اور زیادہ اترائی تو میں ایسی ناراض ہونگی کے ساری زندگی تجھ سے بات نہیں کرونگی۔۔
یہ صحیح ہے بھئ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔۔۔
شانزے نے سڑا ہوا منہ بنا کے کہا۔۔
بات سن شانزے آج اگر تو یہاں صحیح سلامت کھڑی ہے تو وجہ صرف بی ایم ہیں۔۔
تو نے پھر بی ایم کا راگ الاپنا شروع کردیا۔۔
افففف جو سچ ہے وہی بتا رہی ہو شانزرے۔۔۔
جس مراد کو تو آج تک سوگ منا رہی ہے وہی تیرا اغواہ کار ہے۔۔
صنم تجھے پتہ ہے تو کیا بول رہی ہے؟
ہاں پتہ ہے اور ثبوت بھی ہے میرے پاس سن .
صنم کے ایک کے بعد ایک ثبوت دینے پہ شانزے سکتہ کی حالت میں صوفے پہ بیٹھ گئ اسکی آنکھوں سے بے تحاشہ آنسوؤں گرنے لگے۔۔۔۔۔
شانزے میری جان ایسے نہیں رو اب جو ہوگیا وہ ہوگیا اللّٰہ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے تجھے تو شکر ادا کرنا چاہیے کے تنگ کرنے کیلے ہی صحیح بی ایم تیرے پیچھے تو تھے تو یہ شکر کر کے انہوں نے اپنے گارڈز تیرے پیچھے لگائے ہوئے تھے۔ وہ بہت پہلے مراد کی اصلیت سے واقف ہوچکے تھے مگر اگر تجھے سمجھاتے تو تو انہیں ہی غلط سمجھتی اب جو ہوا سو ہوا ۔۔
ہاں شانزے بی ایم بہت اچھے ہیں ان کی قدر کر آج اگر تم عزت سے صحیح سلامت ہو تو وجہ بی ایم ہیں۔۔
عترت کی آواز پہ شانزے اور صنم دونوں نے اسے دیکھ تھا شانزے اٹھ کے عترت کے گلے لگ کے رونے لگی ۔
ارے بہن رو مت تیرا اتنا ایکسپینسو میک اپ خراب ہوجائے گا اور تیرا بی ایم ہر جگہ اپنے گارڈز پھیلا دے گا کے جاؤ دیکھو پتہ کرو شانزے کیوں روئ۔۔
صنم نے اس انداز سے کہا۔کے وہ تینوں ہنسے لگی۔۔
ماما ماما!!!!!
عاشر کی آتی آواز پہ شانزے نے اپنے آنسوؤں فورا صاف کیے اور دروازے کی طرف بڑھی مگر بڑھنے سے پہلے صنم کے گال۔چومنا نہیں بھولی۔۔
شانزے باہر نکلی تو اسے بہزاد نظر آیا جو شاید اسے ڈھونڈ رہا تھا۔
شانزے نے غور سے اسے دیکھا اسکے چہرے پہ پریشانی صاف جھلک رہی تھی ۔بہزاد راجپوت ایک بہت بڑا نام تھا اسے اندازہ نہیں تھا کے بہزاد نے اسکی عزت بچائی وہ کوئ اتنی حسین بھی نہیں تھی جسکے پیچھے بہزاد پاگل ہورہا تھا اسنے دیکھا کئ بار کئ جگہ لڑکیاں ٹرائے کرتی تھی بلاج کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اس پر اسکی خوبصورتی سامنے والے کو چٹ کرنے کا۔ہنر رکھتی تھی مگر وہ پھر بی شانزے کے پیچھے تھا کیوں ۔۔۔۔
شانزے نے جاکے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا ۔۔
بہزاد نے جب اپنے پیچھے شانزے کو دیکھا تو ایک لمبی سانس لے کر بولا ۔۔
کہاں تھی کب سے ڈھونڈ رہا ہو؟؟
مجھے صنم نے بلایا تھا۔۔
اچھا مزاکرت ہوگئے تم دونوں کے؟؟
ہممممم۔۔۔
شانزے نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔بہزاد نے جب غور سے شانزے کا چہرہ دیکھا تو پوچھا۔۔
ایک منٹ تم روئ ہو؟؟.بہزاد نے اسکی نیلی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔۔
نہیں میں کیوں رونگی وہ میں عاشر کو دیکھ لو۔۔
یہ بول کے شانزے وہاں سے جانے لگی جب بہزاد نے اسکا ہاتھ تھام کے اسے اپنے قریب کیا اور اسکی آنکھوں کے پاس جمع آنسو اپنی انگلی سے پوچھتے ہوئے کہا۔
مجھ سے کوئ بات چھپانے کیلیے ابھی بہت چھوٹی ہو تم ۔۔۔
میں نے کہا ہے نہ تم سے زہر لگتے ہیں مجھے تمہاری نیلی آنکھوں میں انسووں۔۔
مگر شانزے وہ خاموشی سے دو منٹ کیلے بہزاد کو دیکھتے رہی اور پھر دھیرے سے اسکے چہرے پہ۔ہاتھ رکھ کے بولی۔۔
“اب نہیں روانگی”
یہ عمل ایک جرنلسٹ نے اپنے کیمرے میں قید کرلیا تھا۔
شانزے وہاں سے چلی گئ مگر بہزاد وہ اپنی جگہ سے ہل نہیں پایا اسے یقین نہیں آیا یہ شانزے تھی بہزاد کچھ سوچتا ہوا آگے جانے لگا جب اسکی نظر عترت اور صنم پہ پڑی ۔۔
ان دونوں نے اسے ویکٹری کا نشان دیکھایا اور وہ سمجھ گیا کے شانزے کے بدلے رویہ کی وجہ یہ دونوں ہے بہزاد نے مسکرا کے گردن نیچے کرکے گردن ہلائ اور ان دونوں کو فلائنگ کسس پاس کی جو ان دونوں نے تیزی سے پکڑ لی

#

کوئ تو وجہ بتائ ہوگی خوشبو ہیر نے کے کیوں آگئ اتنی جلدی پڑھائ چھوڑ کے۔؟
شہاجاں بیگم نے خوشبو سے پوچھا جو بظاہر تو نارمل۔لگ رہی تھی مگر تھی وہ پریشان ۔
خوشبو نے آج شاجہاں بیگم سے معزرت کرلی تھی بہزاد کے ولیمہ میں آنے کی اور جب وجہ پوچھیں تو انہوں نے ہیر کی امد کا بتایا۔
خوشبو۔ پریشان نہ ہو کیا پتہ واقعی اسکا دل نہ لگا ہو وہاں پر اسلیے ٹینشن نہیں لو اب یہاں وہ کرلے گی باقی کا کورس ۔۔
شاہجاں بیگم کی باتوں نے خوشبو کو واقعی میں تسلی دی تھی۔
“کسی نے سچ ہی کہا ہے بہترین مخلص دوست اللّٰہ کی طرف سے تحفہ ہے”

#

بہزاد اور عترت دونوں ائیرپورٹ پہنچ چکے تھے ولیمے والے ہی کپڑوں میں عترت نے صنم کی شال اوڑھی ہوئی تھی ۔۔
بہزاد نے عترت کو ویٹنگ روم میں بیٹھایا اور پانی لینے چلا گیا۔۔
آدھا گھنٹہ رہ گیا تھا انکی فلائٹ میں۔۔
عترت!!!
اپنے نام کی پکار پہ عترت نے جب پکارنے والے کو دیکھا تو زین کھڑا تھا۔۔
زین کو سامنے کھڑا دیکھ کے عترت کی ہوائیاں اڑ گئ وہ بار بار وہ ویٹنگ روم کے باہر دیکھ رہی تھی کے کہی بلاج نہ اجائے اور ایک بار پھر وہ غلط فہمی کا شکار نہ ہو جائے۔۔
تم یہاں سے چلے جاؤ زین اور کتنا برباد کروگے مجھے میں ہاتھ جوڑتی ہو تمہارے آگے ۔۔
پلیز یہ بول کے عترت رونے والی ہوگئ جب زین ایک دم اسکے پاؤں پہ جھک گیا۔۔
عترت مجھے معاف کردو میں نے تمہارے ساتھ بہت غلط کیا مجھے اسکی اللّٰہ نے بہت بھیانک سزا دی ہے پلیز معاف کردو تم معاف کردو کی تو اللّٰہ بھی شاید مجھے معاف کردے۔۔
عترت کی تو سمجھ میں ہی نہیں آیا کے یہ ہو کیا رہا ہے۔۔عترت نے جب قدم پیچھے کیے تو بلاج سے ٹکرائ۔۔
عترت نے بلاج کو دیکھا تو وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا سالوں بعد آج عترت کو بلاج کی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھائ دیا تھا۔۔
معاف کردو عترت اسے میں بھی معاف کرچکا ہو۔۔۔
آپ مل چکے ہیں زین سے ؟
ہاں کل ہسپتال میں ملاقات ہوئ تھی ۔۔۔
عترت نے ایک پرشکوہ نظر بلاج پہ ڈالی جسے دیکھ کے بلاج کو اندازہ ہوگیا تھا کے اسے اتنے آسانی سے معافی نہیں ملے گی۔۔
پلیز عترت مجھ پہ رحم کھاؤ مجھے معاف کردو پلیز تاکے مجھے سکون مل جائے۔۔۔
ایک دم انکی فلائٹ کی اناوسمنٹ ہوئ تو عترت نے گھٹنوں کے بل بیٹھی زین کو دیکھ کے کہا۔
سوچا تھا اب جب بھی تم سے سامنا ہوگا تو تمہیں جان سے ماردونگی مگر مارے ہوئے کو میں اور کیا مارو ۔۔
جاؤ زین میں نے تمہیں معاف کیا ۔مگر کوئ اور مجھ سے معافی کی توقع نہ کرے۔۔
عترت نے آخری کا جملہ بلاج کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور ویٹنگ روم سے نکل گئ۔۔
پوری فلائٹٹ میں پورا راستے عترت اگر خاموش رہی تو بولا بلاج بھی نہیں کچھ تھا ہی نہیں اسکے پاس بولنے کو۔۔
رات کے ایک بجے وہ لوگ گھر میں داخل ہوئے ندا بیگم اس وقت سو چکی تھی اس لیے انکو اٹھانا عترت نے مناسب نہیں سمجھا۔۔
عترت اپنے کمرے میں پہنچی تو بلاج بھی پہنچ چکا تھا۔۔
عترت نے شال اتاری تو ایک بار پھر بلاج اسکے سراپے کو دیکھنے لگا مگر عترت کا غصہ آج ساتویں آسمان پہ تھا اس نے غصہ میں۔ جیولری اتاری اور ساڑھی چینج کرنے کیلے جیسی ہی جانے لگی بلاج نے اسکی ساڑھی کا۔پلو پکڑ لیا۔
کہاں جارہی ہو ؟
ساڑھی چھوڑے میری مجھے چینج کرنا ہے۔۔
مگر میں تو ابھی تک دیکھا نہیں تمہیں ۔۔
یہ بول کے بلاج نے ساڑھی کے پلو سمیت اسے اپنی طرف کھینچا تھا۔۔
بلاج نے عترت کو غور سے دیکھا تھا مگر عترت نے آنکھوں میں آنسوؤں لیے اسکی طرف انگلی دیکھا کے کہا۔
معافی کو سوچیے گا بھی نہیں بلاج میں آپکو آپکی بے اعتباری کیلے معاف کر بھی دیتی مگر جو اپنے شادی کی رات میرے ساتھ سلوک کیا اسکے لیے میں آپکو کبھی معاف نہیں کرونگی۔۔
مگر میں نے تو تم سے معافی مانگی ہی نہیں بلاج نے اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا۔۔۔
میں تو تمہیں بس اپنے پاس دیکھنا چاہتا ہو ۔۔۔
عترت نے اپنے اپکو بلاج سے جھڑاونے کی کوشش کی تو بلاج نے اسے اور اپنے قریب کرلیا ۔۔
مجھ سے زور آزمائی میں ہمیشہ ہاری ہو عترت مت ہلکان کرو اپنی جان۔۔
ہار تو میں اسی دن گئ تھی جس دن اپنے میرے ساتھ جانوروں جس سلوک کیا تھا ،ہار تو میں اسی دن گئ تھی جس دن اپنے مجھے غیر آدمی کے طعنے دیے تھے۔۔
عترت نے یہ بول کے ایک بار پھر اپنے آپکو بلاج سے چھڑوانا چاہا۔۔
مانتا ہو جو شادی کی رات ہوا بہت غلط ہو امیں قابل نہیں مجھے معاف کیا جائے مگر میں نے اس رات تم سے کہاتھا کے میں تمہارے ساتھ اپنی زندگی نئے سرے سے گزارنا چاہتا ہو بدلے میں تم نے کیا کہا تھا یاد یے۔۔۔؟
وہ میں سب نہیں جانتی بس میں آپ سے محبت نہیں کرتی ہو اور نہ ہی آپکو معاف کرونگی؟؟
مگر میں تو محبت کرتا ہو۔۔
یہ محبت اصلیت پتہ لگنے کے بعد ہوئ آپکو اس سے پہلے اپنے مجھے کتنا زلیل کیا بھول گئے اپ۔۔
عترت نے پھر کوشش کری خود کو چھڑوانے کی۔۔
نکاح نامہ پہ سائن کرتے ہوئے میں اپنے دل سے ہر پرانی بات نکال چکا تھا اس بات کا گواہ میرا رب ہے کے میں نے تمہیں دل سے اپنایا تھا ۔۔
بلاج کی وضاحت پہ بھی جب عترت کچھ نہ بولی تو بلاج نے اسے چھوڑ دیا اور الماری میں سے کچھ پیپرز نکال کے عترت کے ہاتھ میں رکھتے ہوئے کہا۔۔
یہ طلاق نامہ ہے۔۔بلاج کے کہنے پہ عترت ڈگمگائی تھی جسے بر وقت بلاج نے سنبھال لیا تھا۔۔
جب مجھے زین نے حقیقت بتائ تھی تبھی میں نے فیصلہ کرلیا تھا ایک بار کوشش کرونگا تمہیں منانے کی تم سے معافی مانگنے کی اگر تم نے مجھے معاف نہیں کیا تو میں تمہیں اپنی قید سے آزاد کردونگا اور تمہارے ساتھ زیادتی نہیں کرونگا۔
یہ پیپر تبھی کھولنا جب ان پہ سائن کرنے لگو کوئ زبردستی نہیں ہے عترت تم پر کوئ انگلی نہیں اٹھائے گا میں ہر الزام اپنے سر لے لونگا ۔۔
عترت نے بے یقینی سی کیفیت میں پہلے بلاج کو دیکھا اور پھر اپنے ہاتھ میں موجود طلاق نامہ کو ۔۔
عترت نے سب سے پہلے طلاق نامہ پھاڑا اور پھر ایک زور دار چماٹ بلاج کے منہ پہ مارا جسے کھاکے بلاج کا کان سن ہوچکا تھا۔
عترت نے بلاج کالر پکڑ کے کہا۔
کیا سمجھتے ہیں مجھے کوئ کھلونا ہو جب دل چاہا دل لگایا لیا جب چاہا چھوڑ کے چلے گئے جب دل چاہا لوٹ ائے۔۔
تو معاف کردو مجھے پھر آنے دو قریب خود کے کرو مجھ سے پیار کرو مجھ سے محبت کا اظہار ۔کیونکہ بلاج خان تو تم سے بے تحاشہ عشق کرتا ہے۔۔
یہ بولتے ہوئے بلاج کی آنکھوں سے آنسوؤں گرنے لگے۔۔
نہیں کرونگی میں آپکو معاف سنا اپنے اور نہ چھوڑ کے جاؤنگی آپکو نفرت کرتی ہو آپ سے سنا اپنے نفرت ۔۔
یہ بولتے ہوئے عترت بلاج کے گلے لگ چکی تھی۔۔
بلاج نے بھی سے اپنے سینے میں چھپا لیا تھا اسکا چہرہ تھام کے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے تھے دونوں رو رہے تھے مگر لب انکے مسکرا رہے تھے۔۔
بلاج نے جھک کے عترت کو اپنی باہنوں میں اٹھا کے بیڈ پہ لیٹایا تھا۔۔
اسکے چہرے کو بے تحاشہ چوما تھا آج بلاج اس سے بے پناہ پیار کرنا چاہتا تھا جتنی عزیت وہ عترت کو دے چکا تھا ان سب تکلیف کا آج ازالہ کرنا چاہتا تھا۔۔
بہت آرام سے محبت سے اسنے عترت کے لبوں کو چوما تھا۔۔
بلاج نے اسکے دائیں بائیں گال پہ اپنے لب رکھتے ہوئے ایک بار پھر سوری کہا تھا۔۔
عترت نے بھی بلاج کے ماتھے کے بال سیٹ کرکے وہاں اپنے لب رکھے تھے ۔۔
بلاج نے آج عترت سے بہت مان سے پیار سے اپنا حق وصولہ تھا آج عترت کی آنکھوں میں تکلیف کے نہیں خوشی کے آنسوؤں تھے دیر سے ہی صحیح مگر اسکی محبت نے آج اسے مان بخشا تھا۔۔
جاری ہے۔۔