Dastaan Ishq Muhabbat By Mariyam Khan Readelle50216 Episode 64 Part 2
Rate this Novel
Episode 64 Part 2
ہیر زویان کے بے حد قریب تھی اتنی کے ہیر کی سانسوں کی گرماہٹ اپنے سینے پہ محسوس کررہا تھا۔۔
ہیر نے اسکے دائیں ہاتھ سے اسکی ایک آستین باہر نکالی دوسری نکالنے لگی جب زویان تھوڑا اگے ہوا اور اسکے لب خود پہ جھکی ہیر کی گردن سے ٹکرائے۔۔۔
پل بھر کیلئے ہیر کے ہاتھ تھم گئے اسے لگا اسکے پوری جسم میں کرنٹ سا لگا اسنے تیزی سے دوسری آستین باہر نکالی اور فورا زویان سے تھوڑے فاصلے پہ ہوئ۔۔
ہیر کا چہرہ پورا سرخ ہوچکا تھا اور زویان کا دل چاہ رہا تھا کے وہ اس وقت اسکے سینے سے لگ جائے۔۔
بنا شرٹ کے زویان کا جسم جو کافی کسرتی تھا حالانکہ اسکی عمر اتنی نہیں تھی پھر بھی اسکے سینے پہ بال تھے ہیر اسکا جسم دیکھ کے نگاہیں چرانے لگی اسنے مکمل طور پہ زویان سے نگاہیں موڑ لی تھی اور اسے ایسا کرتے ہوئے زویان کو تھوڑا غصہ ایا اور اسنے غصہ میں دل میں کہا۔۔
ایسا لگ رہا ہے جیسے کسی غیر کے پاس بیٹھی ہے ۔۔۔
تھوڑا سا صاف کردو سینا میرا گیلے کپڑے سے دوائیوں کی بدبو آ رہی یے اور ڈریسنگ کردو یہاں کی ۔۔۔
زویان نے اپنے زخمی دل پہ انگلی رکھتے ہوئے کہا۔۔۔
ہیر نے ایک نظر اسکے دل کے مقام پہ ڈالی جہاں پٹی بندھی تھی ۔۔
ہیر نے ہاں میں گردن ہلائ اور اسکی سینے پہ سے پٹی ہٹانے کی کوشش کرنے لگی ایسا کرتے ہوئے اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے جو زویان اچھے سے محسوس کرسکتا تھا۔۔۔
پٹی ہٹتے ہی زویان نے تکلیف کی وجہ سے ہیر کا ہاتھ تھام لیا ہیر اندازہ لگا سکتی تھی کے اسے تکلیف ہورہی ہے۔۔
ٹانکوں کی چار پانچ لائن تھی۔۔۔
ہیر کی انکھوں میں انسو جھلملانے لگے وہ نگاہیں نیچی کرکے زویان کی ٹانکوں پہ پولی فیکس لگانے لگی مگر ہیر کا ہاتھ دور پڑھ رہا تھا وہ تھوڑی اور زویان کے قریب ائ ۔۔
نہ چاہتے ہوئے بھی ہیر کی انکھوں سے آنسو گرنے لگے جسے دیکھ کے زویان نے ہاتھ بڑھا کے جیسے ہی اسکے آنسوؤں کو صاف کرنا چاہا ہیر نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا۔۔
زویان نے دوبارہ ایسا نہیں کیا کیونکہ اسے پتہ تھا ابھی وہ غصہ میں ہے۔۔
ہیر نے زویان کی ساری دوائیاں پڑھی کھانا تو وہ کھا چکا تھا اسلیے تھوڑی دیر اسکے زخم کو کھلا چھوڑا اور اسے دوائیاں دی اسکے بعد اسکا زخم پہ ڈریسنگ کرکے ایک رومال گیلا کرکے لائ اور اسکا بدن صاف کیا !!
ہلکی سی شرت پہنا کے اسنے زویان کے اوپر پرفیوم لگایا زویان کے لب بہت مشکل سے ہنسی روک رہے تھے ہیر اسکو ایسا تیار کررہی تھی جیسے وہ کوئ بچہ ہو۔۔
سب کام کرکے ہیر جیسے کمرے سے جانے لگی زویان نے اواز دے کے کہا۔
اگر مجھے رات میں پیاس لگی یہ کچھ چاہیے ہوا تو۔۔؟
ہیر پل بھر کیلئے رکی اور پھر کمرے سے چلی گئ ۔۔
زویان نے ایک اس بھری نظر دروازے پہ ڈالی اور گردن پیچھے کرکے آنکھیں موند لی۔۔
تھوڑی دیر بعد دروازہ پھر کھلا۔۔جسکی اواز پہ زویان نے دروازے کی طرف دیکھا۔۔
ہیر کو دوبارہ کمرے میں اتا دیکھ زویان کے لب کھل کے مسکرائے تھے ۔۔
ہیر کے ہاتھ میں پانی کا جگ تھا اور کچھ کپڑے تھے ۔ ا
ہیر نے زویان کی طرف پانی کا جگ رکھا اور کپڑے لے کر واش روم چلی گئ۔
تھوڑی دیر بعد ہیر واش روم سے نکلی تو اسکا ڈریس چینج تھا۔۔
ڈھیلی سی شرٹ اور ٹراوزر میں تھی۔۔
زویان نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا وہ کوئ گڑیا لگ رہی تھی چھوٹی سی پنک ٹراؤزر اور شرٹ میں۔۔
ہیر نے مکمل طور پہ زویان کو اگنور کیا ہوا تھا۔۔
اسنے ڈریسنگ کے پاس کھڑے ہوکے اپنے بالوں کو جوڑا کھولا جسکے کھلتے ہی پیر کے لمبے بال اسکی کمر پہ چھا گئے۔۔
زویان کا دل چاہا وہ اسکے بالوں میں اپنا چہرہ چھپائے مگر افسوس ایسا وہ صرف سوچ سکتا تھا۔۔
ہیر نے بالوں میں برش کیا بیڈ کے پاس اکے وہاں سے تکیہ اٹھایا چادر اٹھائ اور جیسے ہی صوفے پہ جانے لگی جب زویان نے کہا۔۔
تمہیں لگتا ہے میں تمہیں اس حالت میں چھو سکتا ہو!!.
اپ مجھے کسی حالت میں بھی چھو نہیں سکتے !!.
ہیر کے دوبدو جواب پہ زویان نے مسکرا کے اسے دیکھا اور کہا۔
تو پھر خود پہ بھروسہ نہیں جو صوفے پہ سونے جارہی ہو !!
زویان نے جان بوجھ کے ایسی بات کی تاکے ہیر غصہ میں اسکے برابر میں اکے لیٹے اور وہی ہوا۔۔
ہیر نے غصہ میں زویان کو گھورا اور خاموشی سے زویان کے برابر میں زرا فاصلے پہ کروٹ سے لیٹ گئ۔۔
زویان کی نظر اسکی پشت پہ تھی اسے نیند ہی نہیں آرہی تھی اور وجہ تھی زخم پہ اٹھتا پین۔۔۔۔
زویان نے کافی کوشش کی سونے کی مگر ناکام رہا ۔۔
مجبورا اسنے کھڑے ہوکے کمرے میں ٹہلنا شروع کردیا ۔۔
ہیر جو مکمل سوئ نہیں تھی انکھیں کھول کے زویان کو دیکھنے لگی جو ادھر ادھر ٹہل رہا تھا ۔
کیا ہوا؟
ہیر ایک دم اٹھ کے بیٹھ کے زویان سے پوچھنے لگی۔۔
کچھ نہیں تم سوجاؤ ۔۔۔
ادھی رات کو ایسے کمرے میں جنوں کی طرح گھومے گے تو مجھے کیا خاک نیند ائے گی۔۔
ہیر نے اسکے روبرو اکے کہا۔۔
زویان نے اسے غور سے دیکھا اور کہا!!
میری تکلیف میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں سوجاؤ
بڑی جلدی خیال اگیا اس چیز کا ۔!!
ہیر نے بہت آ ہستہ کہا تھا مگر زویان سن چکا تھا۔۔
ا تو گیا نہ پشیمان تو ہو نہ اپنی غلطی پہ بھگت رہا ہو نہ اب ۔۔۔
یہ بولتے ہوئے زویان کافی چڑ چڑا ہو رہا تھا ہیر دیکھ سکتی تھی تکلیف سے اسکی انکھوں میں نمی تھی۔۔
ہیر نے اپنے بال باندھے اور اسکا ہاتھ تھام کے اسے بیڈ پہ بیٹھایا ۔۔
لیٹے میں دیکھتی ہو کوئ پین کلر!!
ہیر نجانے کیا کیا بولے جارہی تھی مگر زویان ابھی تک اپنے اس ہاتھ کو دیکھ رہا تھا جو ہیر نے تھاما تھا۔۔
ہیر نے ڈاکٹر کی پیرسکرپشن پڑھ کے ایک اور گولی زویان کودی۔۔
سر درد کی بھی دے دو بہت درد ہورہا ہے۔زویان نے انکھیں بند کرتے ہوئے کہا۔
سر درد کی گولی کا مجھے اندازہ نہیں اورا بھی اپ کو کوئ اور میڈیسن دے نہیں سکتی۔۔
لیٹ جائے میں دبا دیتی ہو۔۔۔
نہیں رہنے دو تم خاما خائ میں پریشان ہوگی۔۔
یہ بات یہاں زخم دینے سے پہلے سوچنا چاہیے تھی
ہیر نے اسکے دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
زویان نے اسکی بات پہ کچھ نہیں کیا اور خاموشی سے انکھیں بند کرکے لیٹ گیا۔۔
ہیر اسکے بے حد قریب ائ اور اپنا ہاتھا اسکے ماتھے پہ رکھ کے دبانا شروع کردیا۔۔
زویان بہت غور سے اسے دیکھ رہا تھا اور ہیر اسکے ایسے دیکھنے سے نروس ہورہی تھی۔۔
جب زویان نے دیکھا وہ کافی نروس ہورہی ہے تو اسنے اپنی انکھیں بند کرلی۔۔۔
اسے ایک سکون سا اپنے دل میں اترتے ہوئے محسوس ہوا سر میں بھی ارام انا شروع ہوا۔
دس پندرہ منٹ میں ہی زویان سوگیا ۔۔
تھوڑی دیر بعد اپنی سیدھی طرف زویان کو بوجھ سا محسوس ہوا تو اسنے اپنی نیند سے بوجھل آنکھیں کھول کے دیکھا ۔
ہیر بلکل اس سے لگ کے سورہی تھی اسکا چہرہ زویان کے چہرے کے کافی قریب تھا ایک ہاتھ سے اسنے زویان کی شرٹ کو تھاما ہوا تھا۔۔۔
زویان نے دل سے دعا کی کے ہیر ایسے اسکے قریب رہے ہمیشہ۔۔۔
زویان کی نظر ہیر کے لبوں پہ گئ۔۔
ایک دوسرے میں پیوست ہونے کے باوجود وہ زویان کو اپنے طرف کھیچنے میں کامیاب ہوچکے تھے۔۔
زویان نے اپنا سر تھوڑا اور ہیر کے قریب کیا اور بہت ارام سے اسکے لبوں کو چوم لیا کبھی اوپر کا ہونٹ چومتا کبھی نیچے کا۔۔
ہیر شاید تھکی تھی جبھی اسکی نیند میں خلل نہیں پڑا۔۔
زویان نے اسکے لبوں سے اپنے لب ہٹائے اور اسکے بالوں میں منہ چھپا کے سوگیا۔۔
جاری یے ۔
