Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

داستان عشق محبت 🔥❣️
از قلم مریم عمران ✍️
قسط نمبر #21
مگر بیٹا یہ ناممکن ہے؟؟
ناممکن کچھ نہیں ہوتا ماما میں نے آپکو بتا دیا ہے دو ہفتوں بعد مجھے بیس پہ ریپورٹ کرنا ہے پھر مجھے چھٹیاں کب ملے۔۔کچھ پتہ نہیں
بعد میں آپ مجھ سے شکوہ نہیں کرنا۔
بلاج اپنی بات کہہ کے چلا گیا اور ادھر ندا بیگم پریشان ہوگئ۔۔
آتی جلدی شادی کی تیاریاں کیسے ہونگی۔۔
ندا بیگم پریشان حال میں اپنی بہن کے پاس آئ جہاں بابر صاحب بھی بیٹھے تھے۔۔۔
ندا بیگم کی بات سن کے سفیہ بیگم اور بابر صاحب دونوں نے بلاج کے حق میں فیصلہ دیا۔۔
تم بات تو کرو شاہجاں سے دیکھو وہ کیا بولتی ہے۔۔
سفیہ بیگم کے بولنے پہ آج شام میں ندا بیگم نے شاہجاں بیگم کے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔۔

#

آج اسکا یونی جانے کا کوئ خاص موڈ نہیں تھا ۔مگر پھر بھی اسکی آنکھ جلدی کھل گئ۔۔
وہ۔نیچے ناشتہ کی ٹیبل پہ آکے بیٹھا اور میری کو ناشتہ کیلیے آواز لگانے لگا۔۔
اظہر صاحب جو کال پہ بات کررہے تھے کافی غصہ میں زویان کو گھور رہے تھے ۔
زویان کا حلیہ تو پہلے ہی انکی جان جلاتا تھا اوپر سے اسکا لاپرواہ انداز انکو یہ احساس دلاتا تھا کے انہوں نے بیٹے کی خواہش کرکے غلطی کردی۔۔
کال کٹ کرکے وہ ناشتہ کی ٹیبل پہ آئے اور دانت پیس کے کہا۔۔
میری تم سے عمر میں کافی بڑی ہے ہزار بار کہاں ہے انہیں آنٹی بولا کرو۔
نو ڈیڈ عمر میں بڑی ہو یہ چھوٹی ہیں تو میڈ نہ اور میڈ کو میڈ کی اوقات میں ہی رکھنا چاہیے۔۔
اوہ میں کیسے بھول گیا کے میں ایک انتہائ بدتمیز ،بدلحاظ انسان کو تمیز ،مینرز سمجھا رہا ہو۔۔
اظہر صاحب نے غصہ میں ٹیپل پہ ہاتھ مارتے ہوئے کہا ۔
توڈیڈ اب اس عمر میں آپکو سمجھاتے ہوئے اچھا لگونگا کے کس کے منہ لگنا چاہیے کس کے نہیں ۔
زویان کی بات سن کے اظہر نے غصہ میں اپنا کوٹ اٹھایا اور اافس کیلیے جانے لگے ۔
نمرہ بیگم جو خاموشی سے ان دونوں باپ بیٹوں کی بحس دیکھ کے بس صبر کررہی تھی اظہر صاحب کے اس طرح بنا ناشتہ کیے جانے پہ۔انکے پیچھے ڈوری۔۔
دروازے پہ ہی نمرہ بیگم نے اظہر صاحب کو بہت مشکلوں سے روکا۔۔
اظہر صاحب ناشتہ تو کرکے جائے آپکی شوگر ہائ ہوجائے گی۔شوگر ہائ ہوگئ ہے میری نمرہ بہت بڑی غلطی ہوگئ مجھ سے۔
اگر بیٹے ایسے ہوتے ہیں تو اچھا ہوتا میں تیسری بھی بیٹی مانگ لیتا اپنے اللّٰہ سے نمرہ۔۔
اظہر صاحب اور زویان کا جب بھی آپس میں ٹکراؤ ہوتا یہ وہ جب بھی زویان کو سمجھاتے تو ایساہی کچھ ڈرامہ ہوتا نہ اظہر صاحب اپنے بیٹے کا لحاظ کرتے نہ زویان اپنے باپ کا مگر آج اظہر صاحب نے وہ بات کہہ دی جیسی سننے سے نمرہ بیگم ہمیشہ ڈرتی تھی۔۔
کاش وہ اپنی ماں اور خالہ کی باتوں میں آکے اپنی کزن کو دھوکا نہیں دیتی تو شاید آج کہانی کا رخ کچھ اور ہوتا اور آج ناصرہ بھی زندہ ہوتی۔۔۔
نمرہ بیگم اندر آئ تو زویان ناشتہ کرنے میں مگن تھا اسے کوئ فرق نہیں پڑا آکے اسکا باپ غصہ میں گھر سے چلا گیا شاید اسکی تربیت میں کوئ کمی رہ گئ تھی ایک اکیلےوہ ذمیدار نہیں زویان کی ایسی شخصیت کا اظہر کا بھی حق تھا اسکی تربیت کرنے کا۔۔
نمرہ بیگم افسردگی سے اپنے کمرے میں چلی گئ۔۔
ادھر زویان جسکا ارادہ یونی جانے کا نہیں تھا وہ بھی یونی چلا گیا۔۔

#

مگر ندا تم سمجھو بات کو دو ہفتے بہت کم ہیں میری پہلی بیٹی کی شادی ہے کیسے ہوگا یہ سب۔۔
شاہجاں ہوجائے گا ہم سب ہے نہ تمہارے ساتھ سفیہ بیگم کے بولنے پہ اسنے بی جان کی طرف دیکھا تو انہوں نے ہاں میں گردن ہلائی عترت کے تو ہاتھ پاؤں پھولنے لگے تھے اسنے اپنے کمرے میں جانا مناسب سمجھا۔
صنم سب کو دیکھ رہی تھی بازل اور ہنزہ آج نہیں آئے تھے۔۔
ورنہ ہنزہ اسکی کافی ہیلپ کرتی تھی۔۔
شاہجاں بیگم نے ندا کو ہاں میں جواب دیا تو دو دن بعد آنے والے جمعہ کو ندا نے بلاج اور عترت کا نکاح فکس کردیا۔۔
شہاجاں بیگم بھی خوش تھی کے انکی بیٹی انکی دوست کے گھر جارہی ہے مگر ہول انہیں ابھی بھی اٹھ رہے تھے کے دو دن میں نکاح کی تیاری کیسے ہوگی۔۔
بابر صاحب اور فہیم صاحب نے کھڑے ہوکر شاہجاں بیگم کے سر پہ ہاتھ رکھ انہیں تسلی دی۔۔
شاہجاں بیگم کی آنکھیں بھیگنے لگی اس وقت انہیں اس بندے کی شدت سے یاد آئ جیسے دیکھے انہیں 21 سال ہوگئے۔۔
عترت نے کمرے میں آکے بلاج کو نہ۔ چاہتے ہوئے کال ملائی اور بلاج بھی شاید اسی کی کال۔کا ویٹ کررہا تھا جو بم اس نے پھیکا تھا کوئ تو ریکشن سامنے آنا تھا۔۔
طنزیہ مسکراتے ہوئے بلاج نے عترت کی کال اٹھائ اور کہا۔کیوں فون کیا ہے مجھے ؟
اور اب کر ہی دیا ہے تو جلدی بکواس کرو۔۔۔
مجھے بھی کوئ شوق نہیں ہے آپکو کال کرنے کا کوئ شاہ رخ خان نہیں ہے آپ جو میں بات کرنے کیلے مری جارہی ہو اور بکواس اپنے کی ہے شادی کا جلدی بول کے منع کرے ندا آنٹی کو میں نہیں کرونگی اتنی جلدی نکاح۔۔
کیوں کسی کا ویٹ کررہی ہو کے کوئ آئے گا اور مجھ سے چھین کے لے جائے گا تمہیں؟
بلاج کو خود نہیں پتہ چلا کے وہ کیا بول گیا ۔۔
آگ تو وہ عترت کے لگا چکا تھا مگر اب باری عترت کی تھی۔۔
چھین تو کوئ بہت پہلے چکا مجھے خیر آپکو اندازہ نہیں ہوا آپ چھینی ہوئ چیز آپکو دوبارہ چھینی ہے تو میں کیا کرسکتی ہو۔۔
یہ کہہ کے بلاج کو صحیح سے آگ لگا کے عترت موبائل بند کرچکی تھی اور ہر بار کی طرح بلاج خالی اپنا غصہ دیوار پہ اتار پایا۔۔
جاری ہے۔۔
See translation