Rate this Novel
Episode 12
اگلے دن عترت تھوڑا لیٹ یونی پہنچی کیونکہ اسکا ارادہ پہلا لیکچر لینے کا نہیں تھا بلکے لائبریری میں بیٹھ کے نوٹس بنانے کا تھا۔۔
کیا بات ہے اتنی دیر سے بیچین ہے تو بار بار دروازے کی طرف دیکھ رہا ہے کوئ خاص آنے والا ہے کیا۔۔
زین نے بلاج کا چہرہ جانچتے ہوئے پوچھا۔۔
ارے وہ اپنی کلاس میٹ عترت ۔۔۔
تجھے کب سے اسکا انتظار ہونے لگا۔۔؟؟
ارے تو سوال بہت پوچھتا ہے چل لائبریری چلتے ہیں۔۔۔
بلاج نے اسکا سوال اگنور کیا جو زین کو بلکل بھی اچھا نہیں لگا وہ خاموشی سے بلاج کیساتھ چلنے لگا۔۔
لائبریری میں قدم رکھتے ہی بلاج کو وہ سامنے کتابوں میں سر کھپاتے ہوئے دیکھائے دی۔۔
عترت کو دیکھ کے بلاج کے چہرے پہ جاندار مسکراہٹ پھیل گئ جو زین کو تو ہرگز اچھی نہیں لگی۔۔
زین تو یہی رک میں ابھی ایا۔۔
بلاج نے زین کو وہی روکا اور خود عترت کی ٹیبل پہ جانے لگا۔۔
عترت کے سامنے جاکے وہ بیٹھ گیا مگر وہ اتنی مصرف تھی کے اسے اندازہ نہی ہوا کے وہ کب سے بلاج کی نظروں کے حصار میں ہے۔۔
لگتا ہے بہت مصروف ہو؟
نہیں نہیں بس ہوگیا۔۔
عترت نے اپنی ہی دھن میں جواب دیا مگر جب سامنے دیکھا تو پہلے گھبرائ اور جھجھکتے ہوئے بلاج سے کہا۔
او سوری میں نے آپکو دیکھا نہیں؟؟
اچھا تو اب دیکھ لو۔۔۔
بلاج کے کہنے پہ عترت کے چہرے پہ حیا کے رنگ بکھر گئے۔
بلاج کے یہ حیا کے رنگ بہت انوکھے لگے ۔اسنے عترت کو چھیڑتے ہوئے کہا۔۔
ویسے شرٹ ایک دم پرفیکٹ آئ ہے اور ہے بھی خوبصورت۔۔
اتنی غور سے دیکھا تھا میرا فیگر؟
عترت نے بلاج کی بات پہ اسے غصہ سے دیکھا اور کہا
۔
بلاج آپ بہت بہت؟؟
یہ بول کے عترت لائبریری سے جانے لگی بلاج بھی اسکے پیچھے خاموشی سے جانے لگا کیونکہ کے اب لائبریری میں سب کے سامنے تو اسے روک نہیں سکتا تھا۔۔
لائبریری سے نکلتے ہی بلاج نے فورا عترت کا راستہ روکا لائبریری کا راستہ تقریبا سنسان ہی رہتا تھا اسلیے بلاج نے بلاجھجک عترت کا راستہ روکا۔۔
عترت نے غصہ سے بلاج کی طرف دیکھا۔۔
عترت کا چہرہ غصہ میں لال ٹماٹر ہورہا تھا جو دیکھ کے بلاج کی ہنسی نکل گئ اور اسنے نجانے کس احساس کے تحت عترت کی ہلکی سے دبا کے کہا۔۔
غصہ میں تم بلکل باربی ڈول لگ رہی ہو میں تو مزاق کررہا تھا پاگل۔۔
بلاج کے چھونے پہ عترت کے دل انجانے سفر پی چلنے کے لیے پر تولنے لگا۔۔
عترت تھوڑا مسکرا کے آگے جانے لگی جب بلاج بھی اسکے ساتھ چلتے چلتے پوچھنے لگا ۔۔
کہاں جارہی ہو؟؟
مجھے بہت بھوک لگ رہے بلاج صبح جلدی جلدی میں میں نے ناشتہ بھی نہیں کرا
۔۔تین دن کی جان پہچان میں دونوں ایسے بات کررہے تھے جیسے بہت پہلے سے ایک دوسرے کو جانتے کو
او اچھا چلو میں بھی چلتا ہو۔۔۔
کیوں آپ کلاس نہیں لینگے۔۔؟؟.
نہیں آج تمہاری کلاس لینگے۔
مطلب ؟؟
ارے ایک تو سوال بہت پوچھتی ہو آجاؤ جلدی کینٹین چلتے ہیں اب تو مجھے بھی بھوک لگنے لگ گئ۔۔
دونوں کینٹین کی طرف بڑھ گئے۔۔
مگر بلاج یہ بھول گیا کے اس کے ساتھ کوئ اور بھی تھا۔۔
دن ہفتوں میں میں بدلنے لگے بلاج اور عترت کی دوستی پروان چڑھتی گئ۔۔
جہاں بلاج عترت سے محبت کرنے لگے گا تھا وہی زین بھی اب عترت میں انٹرس لینے لگا تھا مگر عترت تھی جو زین کو بلکل اگنور کرتی تھی اور یہ ہی بات زین کو ناقابل برداشت تھی۔۔
ایک ایسا ہی دن جب یونی میں الیکشن تھی دو پارٹیوں کے درمیاں بحس شروع ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے یونی میدان جنگ بن گئ۔۔
زین نے اس کلاس کو باہر سے کردیا جہاں عترت تھی۔۔
تاکے وہ عترت سے اپنے دل کی بات کہہ سکے۔۔
مگر جب گولیاں چلی یونی میں تو زیں ہونی سے بھاگ گیا۔
مگر بلاج اس نے دیوانہ وار عترت کو پکارنا شروع کردیا۔۔
عترت جو کمرے میں بند تھی اور گولیوں کی آوازیں سن کے زارا قطار رو رہی تھی۔۔
اچانک اسے بہت پاس سےبلاج کی آواز سنائ دی۔۔
عترت بھی زور زور سے بلاج کو پکارنے لگی۔
بلاج کو عترت کی آواز سنائ دی تو اس نے ادھر ادھر دیکھنا شروع کردیا اچانک بلاج کی نظر ایک کمرے پہ پڑی جسکے باہر سے کنڈی لگی تھی ۔۔
بلاج نے جیسی کنڈی کھولی اسے عترت سامنے گھٹنے کے بل بیٹھی روتی ہوئی دیکھائی دی۔۔
عترت۔۔۔؟؟
اپنے نام کی پکار پہ عترت نے جب نگاہ اٹھائ تو سامنے بلاج کھڑا تھا۔۔
عترت تقریباً ڈورتی ہوئ اسکے سینے سے لگی۔۔
بلاج نے بھی اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا ۔
تم ٹھیک ہو؟؟
نہیں نہیں بلاج مجھے گولیوں کی آواز سے بہت ڈر لگتا ہے مجھے گھر جانا ہے۔۔
اچھا اچھا ادھر دیکھو میری طرف۔۔
بلاج نے اسکا چہرہ تھام کے اوپر کیا۔۔
عترت کا چہرہ آنسووں سے تر تھا۔۔
بلاج نے اسکا چہرہ صاف کیا اور کہا ۔
ڈرو نہیں میری جان میں ہونہ چلو میں تمہیں گھر لے کر چلتا ہو۔۔
ڈرو نہیں پلیز عترت رونا نہیں اب یہ بول کے بلاج نے عترت کے ماتھے پہ اپنے لب رکھ دیے۔۔
عترت جہاں تھی وہی کی وہی رہ گئ۔۔
مگر بلاج آج سکون میں تھا بہت سکون میں اس نے عترت کو صحیح سلامت ڈھونڈ لیا تھا۔۔
اسنے عترت کو اپنی جیکٹ پہنائے اور اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر کمرے سے باہر نکلا۔۔
عترت کسی کٹی پتنگ کی طرح اسکا ہاتھ تھامے چل رہی تھی۔۔
بلاج اور عترت بہت مشکلوں سے یونی سے باہر نکلے تھے۔۔
عترت کو گھر چھوڑ کے بلاج بھی اپنے گھر کی طرف چلا گیا۔۔
شاہجاں بیگم نے خبروں میں یونی کی صورتحال پڑھ کر عترت کیلیے کافی فکر مند تھی وہ بھی بہت پریشان تھی کیونکہ عترت کا موبائل کم چارجنگ کی وجہ بند ہوگیا تھا۔۔
اسلیے شاہجاں بیگم اور پریشان ہورہی تھی۔
عترت کو گھر میں صحیح سلامت دیکھ کے شاہجاں بیگم نے اسے فورا گلے لگایا ۔۔
مگر انہوں نے عترت کے اوپر موجود جیکٹ پہ دیھان نہیں دیا۔۔
شاہجاں بیگم نے جب اس سے سوال کیا کے وہ گھر تک کیسے پہنچی تو عترت نے انہیں یہ تسلی دی کے وہ۔انجم کے ساتھ آئ ہے جو اسکی کلاس میٹ اور اچھی دوست تھی۔۔
عترت کمرے میں آئ جیکٹ اتار کے اسے ہاتھ میں لیے کے کچھ دیر پہلے کے لمحات جو سوچنے لگی ۔۔بلاج کے چہرے پہ اسے اپنے لیے ایک الگ ہی احساس دیکھنے کو ملا کسطرح سے سے اسنے عترت کو اپنے سینے میں چھپایا تھا عترت کو اپنا آپ معتبر لگنے لگا۔۔
فریش ہوکے عترت جو لیٹی تو اتنی گہری نیند سوئ کے رات 9 بجے اسکی آنکھ کھلی۔۔
وہ نیچے اتر کے گئ تو شاہجاں بیگم ٹی وی لانج میں ہی بیٹھی تھی۔
عترت سیدھی انکے گودھ میں سر رکھ کے لیٹ گی۔۔
نیند پوری ہوگئ میری بیٹی کی ؟؟.
جی ماما مگر میں اتنی دیر تک سوتی رہی اپنے اٹھایا نہیں ؟؟
ارے تم کہاں آرام کرتی ہو یونی کیساتھ ساتھ گھر بھی دیکھتی ہو بس اسی لیے میں نے تمہیں اٹھانا مناسب نہیں سمجھا۔۔
صنم کہاں ہے؟ اور دادو؟
بیٹا وہ دونوں تو کب کی سوگئ۔۔
تم کچھ کھالو پھر آرام کرلو بیٹا۔۔
اپنے کھایا ؟؟
ہاں بیٹا تمہیں پتہ ہے میں رات کا کھانا جلدی کھالیتی ہو۔۔
چلے میں کھانا کمرے میں جاکر کھالونگی ۔اوکے بیٹا۔۔
عترت نے جاتے ہوئے اپنے ماما کا ماتھا چوما اور کھانا لے کر کمرے میں چلی گئ۔۔
اسنے ابھی کھانا ہی شروع کیا تھا کے اسے بیڈ پہ وائبریشن محسوس ہوئ۔۔
اسے یاد آیا اس نے آتے ہی اپنا موبائل چارج پہ تو لگادیا تھا مگر اسے وائبریشن سے ہٹانا بھول گئ۔۔
اسنے کھانا کا پہلا لقمہ لے کر موبائل اٹھایا۔۔
موبائل پہ نگاہ پڑتے ہی اسکا ہاتھ فورا اپنے منہ پہ گیا۔۔
100 سے زیادہ بلاج کی مسڈ کالز آئ ہوئ تھی ۔۔
عترت نے بنا تاخیر کیے فورا بلاج کو کال بیک کی۔۔
مگر دوسری طرف سے وائس کال کٹ ہوئ اور وڈیو کال آنے لگی۔۔
پہلے پہل عترت نے سوچا کال کٹ کردے مگر کچھ سوچتے ہوئے اس نے کال پک کرلی ۔۔کیونکہ آج تک کبھی بلاج نے وڈیو کال نہیں کی۔۔
سامنے ہی اسے بلاج کا چہرہ دیکھائ دیا شرم کے مارے عترت نگاہ جھکا گئ۔۔
مگر بلاج وہ آج عترت کا بنا ہیڈ کور کے دیکھ کے مہبوت سارہ گیا اسکے لمبے گھنے بال دونوں طرف سے آگے کو ہوئے تھے سامنے اسکے کھانے کی ٹرے رکھی تھی ۔
وہ آپکی کال آرہی تھی موبائل وائبریشن پہ تھا ابھی میری آنکھ کھلی میں سوگی تھی۔۔
ہاں وہ میں پریشان ہورہا تھا کے تم کال ریسیو نہیں کررہی تھی تو۔۔
عترت نے اب بھی نگاہ نہیں اٹھائ تھی اور بلاج سمجھ۔ رہا تھا اسکی جھجک ۔۔
عترت مجھے لگ رہا ہے تم۔کھانا کھارہی ہو۔۔
جی ۔۔۔عترت نے اسکی طرف نگاہ کرکے جواب دیا اور پھر نگاہ جھکا گئ ۔
اچھا وہ تین دن بعد یونی کھلے گی یہی بتانا تھا تمہیں اوکے اب تم کھانا کھاؤ اپنا دیھان رکھنا اللّٰہ حافظ ۔۔
بلاج کی کال کٹ ہوتے ہی عترت کی اٹکی ہوئی سانس بحال ہوئ مگر چہرے پہ مسکراہٹ اگئ۔۔
تین دن ان لوگوں نے وائس میسج پہ خوب باتیں کی عترت کے چہرے پہ محبت کے رنگ بکھرنے لگے۔۔
یہ تین دن کیسے گزرے یہ کوئ بلاج اور عترت سے پوچھے دونوں ہی محبت کے تیر سے گھائل ہوچکے تھے ںبس اب اپنے اپنے گھائل دل ایک دوسرے کو دکھانے کا وقت تھا۔۔
آج یونی جانا تھا اورعترت کو بلاج کا میسج آچکا تھا کے لائبریری کے پاس والے گارڈن میں پہلے اس سے ملےبعد میں لیکچر لے۔۔
عترت گارڈن میں پہنچی تو بلاج اسکا انتظار کررہا تھا وائٹ کاٹن کے سوٹ میں وہ آج نظر لگ جانے کی حد تک پیارا لگ رہا تھا عترت نے ہمیشہ اسے پینٹ شرٹ میں دیکھا تھا شلوار قمیض میں آج اسے پہلی بار دیکھ رہی تھی۔۔
بلاج کے ہاتھ میں ریڈ روز کا بکے تھا اور ایک گفٹ باکس ۔۔
عترت کو آتا دیکھ بلاج بھی اسکی طرف بڑھاا۔۔
کیسی ہو؟؟
ٹھیک..
آپ کیسے ہیں؟؟
میں بھی اب ٹھیک ہو تمہیں دیکھ کے ۔
عترت مجھے کچھ کہنا ہے تم سے یہاں بیٹھو میرے ساتھ بلاج اسے لے کر گھاس پہ بیٹھ گیا۔۔
سمجھ نہیں آرہا کیسے کہو مگر اگر نہ کہا تو وقت نکل جائے گا۔۔
عترت کو کچھ کچھ اندازہ تھا بلاج کیا کہنا چاہ رہا ہے مگر اسے شدت سے انتظار تھا بلاج کے لفظوں کا۔۔۔
وہ عترت میں تمہاری دوست انجم سے محبت کرتا ہو۔
عترت جو کچھ اور ایکسپٹ کررہی تھی بلاج کے منہ یہ سن کے شاکڈ ہونے کیساتھ ساتھ چیخ پڑی ۔
کیا؟؟
عترت اتنی زور سے چیخی یہ بات سن کے کے بلاج کو لگا اسکے۔کان کا پردہ پھٹ جائے گا ۔
کیوں تمہیں کوئ اعتراض ہے؟
بلاج نے عترت کا دھواں ہوتا چہرہ دیکھ کے بہت مشکل سے اپنی ہنسی چھپاتے ہوئے کہا۔
نہیں مجھے کیا اعتراض ہوگا میرے بلا سے آپ کسی سے بھی محبت کرے۔۔
اچھا تمہیں فرق نہیں پڑے گا اگر میں تمہاری جگہ کسی اور سے محبت کرو۔۔
بلاج کی بات سن کے عترت کے آنسوں گرنے لگے اور اسنے غصہ میں بلاج کا کالر پکڑ کے کہا۔۔
میرے علاؤہ کسی اور کا سوچا بھی نہ تو جان لےلونگی آپکی آپ صرف میرے ہیں۔۔
عترت کے اس حسین اعتراف پہ بلاج کی آنکھیں خوشی سے بھیگنے لگی اسنے جھک کے عترت کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور کہا۔۔
اتنی محبت کرتی ہو مجھ سے؟
کیوں آپ نہیں کرتے مجھ سے ؟
عترت نے الٹا سوال کیا۔۔
تم سے محبت نہیں محبت عشق دونوں کرتا ہو۔۔۔
یہ بول کے بلاج نے بہت احترام سے عترت کا گلے لگایا تھا۔۔
تو پھر آپ مجھے تنگ کررہے تھے؟؟.
ہاں نہ غصہ میں تم بلکل باربی ڈول لگتی ہو۔۔
بلاج نے یہ کہہ کے عترت کی ایک بار پھر ناک دبائ۔۔
عترت شرما کے اس سے پیچھے ہوئ تب بلاج نے اسکے آگے بوکے کرتے ہوئے کہا۔۔
عترت اظہر مجھے تم سے محبت عشق ہے پلیز میری محبت عشق قبول کرلو ۔
بلاج کے کہنے پہ عترت نے مسکرانے بکے تھام لیا۔۔
اب اپنے پاؤں آگے کروں دونوں۔۔؟
کیوں؟
کرو تو میں نے تمہیں گودھ میں نہیں بیٹھانا۔۔
بلاج۔۔۔۔۔۔
عترت نے شرما کے اسکا نام پکارا اور اپنے پاؤں آگے کرے ۔۔
بلاج نے باکس میں سے خوبصورت سی چاندی کی پایل نکال کے اسکے پاؤں میں پہنائ اور کہا۔۔
یہ میری محبت کا پہلا تحفہ۔۔۔
بلاج کے کہنے پہ عترت نے شرما کے اسکے کندھے پہ سر رکھ دیا۔۔
ڈور کھڑے کسی نے یہ سارا منظر اپنے موبائل میں ریکارڈ کرکے وہاں سے چلا گیا۔۔
جاری ہے۔۔
آجمیں نے لانگ ے دی اگر لائک کمینٹ اچھے نہیں ائے تو میں قسم سے کل چار لائنوں کی اپیسوڈ ڈینی ہے😎😎😎🌚
See translation
