Rate this Novel
Episode 16
داستان عشق محبت 🔥❣️
از قلم مریم عمران ✍️
قسط نمبر #16
سوچ لو ایک بار اور صنم تم دونوں بہت اسٹرونگ کنٹیسٹن ہو۔۔
نہیں فیضان سر شانزے کی کنڈیشن ایسی نہیں کے وہ ڈانس کرسکے اور دوسرا کوئ پارٹنر نہیں تو بس آپ کینسل کردے کمپیٹیشن سے نام۔۔
چلو صنم جیسی تمہاری مرضی۔۔
اچھا سر وہ آپکے کلب کے میمبر تھے نہ جنہوں اس رات میری ہیلپ کی تھی صنم نے فیضان سے جیسے صائم کا پوچھنا چاہا۔
کون صائم ؟
نام مجھے پتہ نہیں انکا۔۔
ہاں صائم ہی تھا کوئ کام تھا ان سے تمہیں۔۔
کس کو کس سے کام پڑگیا۔؟
اچانک دونوں نے اپنے پیچھے سے آتی ہوئی آواز پہ پلٹ کر دیکھا تو صائم تھا۔۔
ارے ویلکم صائم۔۔
فیضان نے اسکا ویلکم کرتے ہوئے ہوئے اسے گلے لگایا۔
صنم نے بہت غور سے کچھ سوچتے ہوئے صائم کو دیکھا ۔
اس رات اگر یہ ان لڑکوں سے نہیں لڑتا تو صنم تیرا کیا ہوتا۔۔
اسلام وعلیکم کیسی ہیں اپ؟
اب صائم باقاعدہ صنم کی طرف متوجہ ہوچکا تھا۔۔
بلیک شرٹ اور بلیو جینز میں صائم کافی ہینڈسم لگ رہا تھا اور اس بات کو صنم نے بھی تسلیم کیا۔
وعلیکم السلام میں ٹھیک اللّٰہ کا شکر۔۔
صنم نے تھوڑی مسکراہٹ کیساتھ صائم کو جواب دیا۔۔
صائم بھی یہ بات ایکسپٹ کرچکا تھا کے صنم کی خالی مسکراہٹ ہی نہیں وہ خود بھی بہت خوبصورت ہے۔۔
لو اچھا ہوا آگئے صائم تم ابھی صنم تمہارا ہی پوچھ رہی تھی۔۔
فیضان کے کہنے پہ صائم نے بہت خوشگوار انداز میں صنم کو دیکھ کے کہا۔۔
رئیلی؟؟
جی وہ آپکا شکریہ ادا کرنا تھا اس دن اگر آپ ان لڑکوں ۔۔۔۔۔۔۔۔
صنم نے آگے کی بات اُدھوری چھوڑی جو صائم سمجھ چکا تھا۔
چلو صنم میں ہٹا دیتا ہو کمپیٹیشن سے نام تمہارا۔۔
فیضان نے جاتے جاتے صنم کو کہا اور جیسے ہی جانے لگا صائم پوچھ بیٹھا۔۔
کیوں کیا ہوا آپ تو یہاں جیتنے آئ تھی نہ۔۔؟
ہاں مگر میری فرینڈ کے چوٹ لگ گئ ہے اور وہ پرفارم نہیں کرپائے گی اور اس کلب کی میمبر شپ بھی میں نے اسی وجہ سے حاصل کی تھی ایک وہی دوست ہی میری بچپن کی باقی ہے نہیں کسی سے اتنی دوستی جو تین دن کے اندر اندر میری پارٹنر بنے تو بس اس لیے۔۔
صنم کے لہجے کی اداسی صائم کو بہت کھلی اس نے کہا۔۔
اگر برا نہیں مانو صنم تو میں بن سکتا ہو اپکا پارٹنر۔۔
صائم کے کہنے پہ صنم نے گھور کے اسے دیکھا ۔۔
مطلب ڈانس پارٹنر۔۔۔صائم نے صنم کے گھورنے کا مطلب سمجھتے ہوئے فورا وضاحت دی۔۔۔
ارے ہاں صنم صائم بہت اچھا ڈانسر ہے یہ تو بزنس جوائن کرنے کے چکر میں اسنے اپنا یہ شوق چھوڑا ہے فیضان نے بھی صائم کی بات کی تردید کی۔۔
مگر میں ایسے کبھی کسی لڑکے کیساتھ آئ مین آپ سمجھ رہے ہیں میری بات۔۔
صنم کے کہنے پہ صائم صنم کے تھوڑا اور قریب ہوا صائم کے اس طرح قریب ہونے پہ صنم نے صرف پیچھے ہوئ بلکے اسکے چہرے پہ گھبراہٹ صائم نوٹ کرچکا تھا۔
لڑکا نہیں دوست سمجھ کے ڈانس کرلینا میرے ساتھ۔۔صائم کے کہنے پہ صنم نے حیرت سے اسے دیکھا اور کہا۔۔
دوست؟
ہاں کیوں میں دوستی کے قابل نہیں ؟؟
نہیں ایسی بات نہیں ہے صائم میں نے کبھی کسی لڑکے سے دوستی کی نہیں اب سمجھ نہیں رہے ہیں میری کیفیت۔۔
اچھا میں سمجھ سکتا ہو مگر چلو ڈانس کمپیٹیشن جیتنے تک مجھ سے دوستی کرلو اگے پھر جو تمہارا فیصلہ ہو مجھے منظور ہے۔۔
یہ میرا وعدہ ہے کوئ ویڈیو نہیں بنے گی کمپیٹیشن کے دوران نہ ہی کوئ پکس لےگا ۔۔
صائم نے یہ کہہ کے اپنا ہاتھ آگے کردیا۔۔
صنم نے ایک نظر صائم کو دیکھا پھر اسکے پھیلے ہاتھ کو فیضان پہ نظر پڑتے ہی اس نے بھی ہاں میں گردن ہلائی تو صنم نے ہچکچاتے ہوئے صائم کا ہاتھ تھام لیا۔
صنم کے ہاتھ کا لرزنا صائم صاف محسوس کرسکتا تھا۔۔
پہلی بار صنم نے اپنا ہاتھ کسی کے ہاتھ میں دیا اور وجہ تھی صائم کا اسکے لیے لڑنا۔۔
گڈ ہوگیا اب تم لوگ پریکٹس پہ دیھان دو پورے تین دن ہیں۔۔
فیضان کے بولنے پہ دونوں نے مسکرا کے ایک دوسرے کو دیکھا اور صائم نے اسے کل دوپہر کو ریہرسل کا ٹائم دیا۔۔
صنم تھوڑی دیر تک کلب میں رہ کے جلدی باہر نکل گئ ۔۔
#
بلاج بیٹا فری ہو۔؟
ہاں ماما ۔۔
ندا بیگم نے بلاج نے کمرے میں داخل۔ ہوتے ہوئے پوچھا جو بازل کا بھی کمرہ تھا۔۔
بیٹا میں نے تمہارے لیے لڑکی پسند کرلی ہے۔۔
کیا ؟؟
بلاج حیران ہوکے ندا بیگم سے کہا۔
اب تم۔مکر رہے ہو اپنے عدہ سے بلاج۔۔
ارے نہیں ماما میں۔ تو بس اس لیے حیران تھا کے ابھی تین دن ہوے ہیں کراچی آئے ہوئے اور آپکو میرے لیے لڑکی بھی پسند اگئ۔۔
ہاں آگئ بس بتاؤ میں بات چلاو اگے۔۔
ارے کون ہے مجھے بھی تو بتائے۔۔۔
شاہجاں آنٹی کی بڑی بیٹی عترت۔۔
بلاج کےچہرے پہ عترت کا نام سن کے ایک دم سختی اگئ۔۔
ماما کوئ اور دیکھے وہ نہیں۔۔
کیوں کیا برائ ہے اسمیں مجھے تو وہی پسند اگر تمہیں کوئ پسند ہے تو بتادو۔۔
نہیں ماما مجھے کوئ پسند نہیں جیسی آپکی مرضی میں آپکی خوشی میں خوش ہو۔۔
بلاج کے کہنے پہ ندا بیگم نے محبت سے اسکی پیشانی چومی اور کہا ۔۔
مجھے پتہ تھا میرا بیٹا میرا مان رکھے گا میں آج ہی شاہجاں کو کال کرکے کل آنے کا بولتی ہو ۔
جیتے رہو بلاج۔۔
ندا بیگم تو چلی گئ مگر بلاج کی دنیا رک گی ۔۔
ایک وقت تھا جب وہ اللّٰہ سے دن رات اپنی محبت پہ کن فرمانے کو کہتا تھا اب جب اسکے دل میں سوائے نفرت کے کچھ نہیں تو آج اسکی نفرت اسکی شریک حیات بن کے اسکی زندگی میں آرہی تھی
بلاج نے عشاء کی نماز پڑھ کے اپنے اللّٰہ سے دعا کی۔۔ ۔۔
یہ کیسا فیصلہ ہے اللّٰہ جب اسکے ساتھ کی تمنا تھی جب اسنے اپنا مکرو چہرہ دیکھا کے میری زندگی کو برباد کردیا۔۔
اب جب سنبھل گیا ہو تب آپ اسے دوبارہ میری قسمت میں لکھ رہے ہیں۔۔
بلاج نے اپنے اللّٰہ سے ہلکا سا شکوہ کیے جیسے کرتے ہوئے اسکی آنکھیں بھیگی تھی مگر بلاج کو شاید اندازہ نہیں اللّٰہ اپنے پسندیدہ بندوں کو ہی آزمائش میں ڈالتا ہے۔۔اور پھر اتنے خوبصورت طریقے سے اسے اس آزمائش سے نکالتا ہے کے بندہ سجدہ شکر ادا کرتا ہے۔۔
جاری ہے۔۔
اور کم کرو لائک کمینٹ اور شارٹ دونگی اپیسوڈ🙄😎
See translation
