Dastaan Ishq Muhabbat By Mariyam Khan Readelle50216
Last updated: 12 September 2025
DaastanIshq Muhabbat
By Mariyam Khan
ہیر اسکے بے حد قریب تھی اتنی کے اسکے چہرے کی سوجن وہ دیکھ سکتی تھی۔۔ ہیر کی نظر اسکے دل کے مقام پہ گئ جہاں پٹی تھی سائیڈوں کو مشینوں سے کور کیا ہوا تھا اسکے جسم پہ شرٹ نہیں تھی تھی تو صرف مشینوں کی تارے جس نے اسکے جسم کو جکڑا ہوا تھا۔۔ ہیر کی انکھوں سے انسو مسلسل گررہے تھے اس نے بھلے منہ سے کتنی دفعہ بولا تھا زویان کو مرجانے کا مگر دل وہ اپنے ہی کہے ہوئے الفاظوں پہ اللّٰہ نے کرے بولتی تھی۔۔۔ عورت ایک بار جس مرد سے محبت کرلے نہ تو اسکی جگہ کسی کو دیتی ہے نہ اس سے کبھی نفرت کرتی ہے ۔۔۔ ہیر نے اپنا ہاتھ بہت ارام سے زویان کے دل کے مقام پہ رکھا۔۔ ہیر کا ایسا کرنا تھا کے زویان کے دونوں ہاتھ زور زور سے ہلنے لگے۔۔ ہارٹ کی سی ٹی اسکین مشین میں اسکی ہارٹ بیٹ تیز تیز چلنے لگی۔۔ زویان کی انکھوں میں جنبش ہوئ اسکے لبوں نے دھیرے سے کہا۔۔ "ہیر" ہیر نے بہت غور سے اپنا نام سنا تھا اسنے زویان کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا تو زویان نے بند انکھوں میں بھی اسکا ہاتھ مظبوطی سے تھام لیا۔۔ بہزاد جو ہیر کے اندر جانے کے بعد شیشے کے اس پار سے اندر کا سارا نظارہ دیکھ رہا تھا اسنے زویان کا ہیر کا ہاتھ تھامنے والا عمل بھی دیکھا تھا۔۔ بہزاد نے تقریبا چیختے ہوئے ڈاکٹر کو اواز دی تھی۔۔ دس منٹ بعد ڈاکٹرز زویان کے روم سے باہر نکلے اور کہا۔۔ اسے معجزہ کہہ لے کے زویان کو ہوش اگیا ہے۔۔ ڈاکٹر کی بات سن کے ہیر نے انکھیں بند کرکے ایک لمبی سانس لی تھی وہاں کھڑا ہر نفوس خوش تھا ۔۔ مگر بہزاد سر ایک بات میں اپکو واضح کردو !! کیا ڈاکٹر !؟ اس بار پوچھنے والے اظہر صاحب تھے۔۔۔ زرا سی بھی کوئ پریشانی یہ کوئ دکھ کوئ تکلیف
