Rate this Novel
Episode 1
مجھے جانے دو بہزاد میں سچ کہہ رہی ہو میں نے کچھ نہیں کیا۔۔
ایک غیر مرد کیساتھ رنگ رلیاں منارہی ہو اور کہہ رہی ہو میں نے کچھ نہیں کیا۔۔
بہزاد نے پسٹل لوڈ کرکے پہلے اس آدمی پہ گولی چلائی جس کیساتھ اسکی بیوی پکڑی گئی تھی ۔۔
نہیں بہزاددددددددد۔۔
لبنا کی ایک دلخراش چیخ نکلی اس نے ڈور کے اپنے عاشق کے بے جان وجود کو ٹتولہ مگر وہاں سانسیں تھم چکی تھی۔۔۔
اب کیوں نہ تمہیں بھی تمہارے عاشق کے پاس پہنچا دیا جائے۔۔
بہزاد نے دوبارہ پسٹل لوڈ کرکے لبنا کو نشانہ بنایا مگر افسوس اسکا نشانہ اسکا اپنا بیٹا بن گیا جو چھپ کے یہ سارا ڈرامہ دیکھ رہا تھا ۔۔
اپنی ماں پہ گولی چلتا دیکھ اس بچے سے برداشت نہیں ہوا اور ڈورتا ہوا اپنی ماں سے لپٹ گیا اور اسی وقت بہزاد سے فائر ہوا۔۔
فاخررررررر۔۔
ایک چیخ کیساتھ بہزاد کی آنکھ کھل گئ۔۔
بہزاد کی آنکھیں پھر نم تھی یہ خواب اسے ہر رات آتا تھا ہر رات اسے وہ منظر نظر آتا جسمیں اس نے اپنا بچہ کھویا ۔۔۔
بہزاد نے خود کو نارمل کیا اور ٹائم دیکھا صبح کے سات بج رہے تھے ۔
وہ۔اٹھا اور فریش ہونے چلا گیا۔۔
بہزاد راجپوت اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد۔۔
اگر بہزاد کے بارے میں یہ کہا جائے کے وہ منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوا تھا تو غلط نہیں تھا۔
راجپوت مینشن میں اب بس تین لوگ رہتے تھے۔
بہزاد اسکے دائ جان اسکی ماں اور اسکا دوسرا بیٹا عاشر ۔۔
بہزاد کے دوستوں کی گنتی بہت معمولی تھی مگر اسکے دشمنوں کی لسٹ دیکھنے کے قابل تھی۔۔
مگر آج تک کسی دشمن میں اتنی جرات نہیں تھی کے وہ بہزاد پہ وار کرسکے ۔۔۔
بہزاد کے والد دل کا دورہ پڑنے سے فوت ہوچکے تھے۔۔
سارا بزنس اب بہزاد دیکھتا تھا۔۔
اسکی پرسنیلٹی بلکل اسکے نام سے میچ تھی ۔
اکڑ اور غرور اسکی شخصیت کی پہچان تھی۔۔
لبنا اسکی یونی کی محبت تھی مگر شاید وہ بہزاد سے نہیں اسکی دولت سے محبت کرتی تھی ۔۔
بہزاد کی بے شمار محبت چاہت بھی لبنا کی نیت بدل نہ پائ اسنے بہزاد سے محبت کا جھوٹا ناٹک خالی اپنے کزن کے کہنے پہ کیا تھا تاکہ بھر پور دولت کو بٹورہ جاسکے ۔۔
شادی کے بعد بھی اسنے اپنے کزن سے نجائز تعلق رکھے دو جڑواں بیٹوں کے بعد بھی لبنا کو بہزاد کی محبت نہ دیکھ سکی۔۔
بہزاد کا اللّٰہ نے بےشمار حسن عطا کیا تھا مگر اسکا غرور اسکی آنا اسکی شخصیت کا چار چاند لگاتی تھی ایسا بہزاد کو لگتا تھا۔۔
!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
بازل اللّٰہ کے واسطہ مجھے معاف کردو قسم سے یہ میں نے نہیں کیا۔۔
ہنزہ نے اپنی شیطانی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے کہا۔۔
میں لاسٹ بار بول رہا ہو ہنزہ ٹیبل کے اردگرد گھومنا بند کرو اور شرافت سے میرے آگے سرینڈر کردو۔۔
یہ بول کے بازل نے ایک بار پھر اسے ٹیبل کے بائیں طرف پکڑنا چاہا مگر ہنزہ دائیں طرف مڑ گئ۔۔
اوہ دھمکی تو دیکھو سرینڈر کردو ۔۔حکم تو ایسے چلا رہے ہو جیسے کوئ پولیس والے ہو ۔۔
سرینڈر از مائے فٹ۔۔
اگر میرے ہاتھ آگئ نہ ہنزہ یقین مانو میں نے وہ حال کرنا ہے تم سوچ بھی نہیں سکتی۔۔
ایک سڑے ہوئے boss پرفیوم کے پیچھے تم میرے ساتھ اپنے تعلقات خراب کروگے یہ ہےتمہاری دوستی۔۔
ہنزہ نے یہ کہہ کے اپنے کمرے کی طرف ڈور لگائ۔۔
سڑا ہوا پرفیوم جاہل لڑکی پیرس سے منگوایا تھا میں نے اور تم نے اسے اپنے واش روم چھڑک دیا۔۔
ہنزہ جو فل اسپیڈ میں بھاگ رہی تھی اپنے آپکو جائل کہنے پہ صدمے میں چلی گئ اور رک کے اپنی پوکٹ میں سے کانچ کی گولیاں نکالی اور بازل کے راستے میں پھینک کے دوبارہ بھاگی۔۔
بازل جو اندھا دھند اسکے پیچھے بھاگ رہا تھا بیچارا گولیاں نہ دیکھ سکا اور سیدھا پھسلتا ہوا بابر صاحب سے ٹکرا گیا ۔
بابر صاحب جو اپنے کمرے سے کسی سے فون پہ بات کرتے ہوئے نکل رہے تھے ہاتھ میں انکے انکا چائے کا مگ تھا بازل کے ٹکرانے پہ انکا موبائل ہاتھ سے چھوٹ کے نیچے گرگیا ۔اور چائے انکے کپڑوں پہ۔
جہاں یہ منظر دیکھ کے ہنزہ کا ہاتھ ایک دم اپنے منہ پہ گیا وہی آگے کا سوچ کے بازل نے بھی اپنی آنکھیں بند کرلی۔۔
کوئ پارک سمجھا ہوا ہے ؟
کیا گھر کو۔۔۔
بابر صاحب کی گرجدار آواز ہال میں گونجی۔۔
اتنے بڑے ہوگئے ہو تمیز کیا چھو کے نہیں گزری تمہیں جب دیکھو تب بچے بنے رہتے ہو ۔ساری شارٹ خراب کردی میری ۔۔
موبائل جو توٹا وہ الگ ۔۔مجھے تو لگتا آکے اس دنیا میں تم صرف میرا نقصان کرنے آئے ہو بازل۔۔
سوری ڈیڈ وہ غلطی سے۔۔بازل نے شرمندگی سے کہا ۔
نفیسہ نفیسہ۔
بابر صاحب نے غصہ میں اپنی بیوی کا نام پکارا۔۔۔
جی جی ۔۔۔
کچن میں کام کرتی نفیسہ بیگم کسی جن کی طرح بابر صاحب کے سامنے حاضر ہوئ۔۔
دوسری شرٹ نکال کے دو مجھے ۔۔
یہ بول کے بابر صاحب اپنے کمرے کی طرف بڑھے ۔۔
نفیسہ بیگم نے ایک شکایتی نگاہ بازل پہ ڈالی تو وہ اور شرمندہ ہوا۔۔۔
چوہدری مینشن میں دو فیملیاں رہتی تھی ۔
سب سے پہلی بابر صاحب کی فیملی جنکا ایک ہی بیٹا تھا بازل اور ایک ہی بیٹی تھی تمنا جو شادی کرکے دبئ میں سیٹل تھی بابر صاحب کے غصہ سے گھر کا ہر فرد ڈرتا تھا ۔یہاں تک کے انکا چھوٹا بھائ بھی۔۔۔
دوسری فیملی تھی فہیم صاحب تھے جنکی ایک ہی بیٹی تھی ہنزہ جو ڈاکٹر بن رہی تھی۔۔۔
بابر اور فہیم صاحب کپڑے کے بہت بڑے تاجر تھے دولت کی ریل پیل تھی انکے گھر مگر وہ سادہ لوگ تھے ۔بس اکثر اس گھر میں خاموشی کا راج ہوتا خاص کر جب بازل اور ہنزہ یونی گئے ہوئے ہوتے۔۔نفیسہ بیگم اور ہاجرہ بیگم۔۔
دونوں کچن کا کام خود سنبھالتی تھی یہ انکی ساس کا بھی آڈر تھا اور بابر صاحب کا بھی۔۔
نفیسہ بیگم کی ایک ہی بہن تھی جو پنڈی میں تھی۔۔
ہاجرہ بیگم اپنے والدین کی اکلوتی تھی۔۔
!!!!!!!!!!!!!!!!!!
پچھلے پندرہ منٹ سے عترت نماز میں دل لگانے کی کوشش کررہی تھی مگر ہمیشہ اسکا دیھان بٹ رہا تھا اور وجہ تھی لانج میں چلتا تیز آواز میں میوزک اور عترت اچھی طرح جانتی تھی کے یہ حرکت کس کی ہے۔۔
جیسے تیسے عترت نے نماز ختم ہی اور لانج میں پہنچ کے ساوئنڈ سسٹم کا وائر کھینچ کے پلگ سے نکالا۔۔
صنم جو اپنے ہاتھوں کے ناخنوں کو نیل پینٹ سے رنگ رہی تھی میوزک اوفف ہوتے ہی اس نے نگاہ اٹھائ تو سامنے غصے سے لبریز چہرہ لیے عترت کو کھڑا پایا۔۔
میوزک کیوں بند کیا اپی۔۔؟؟
صنم نے سائونڈ سسٹم کا وائر دوبارہ لگانا چاہا تو عترت نے صنم کا بازو پکڑ کے اسے دباتے ہوئے غصہ سے کہا۔۔
کچھ تمیز تہزیب ہے تمہیں کچھ شرم۔ہے کے نہیں۔۔؟؟؟
ابھی عصر کی اذان ہوئے دو سیکنڈ ہوئے ہیں اور تم اتنی تیز آواز میں گانے سن رہی ہو یہ۔جانتے ہوئے بھی کے اس گھر میں دادی اور میں نماز پڑھتے ہیں۔۔
تو میں کیا کرو آپ یہ دادی۔اگر نماز پڑھتی ہیں تو اپنے لیے پڑھتی ہیں اپی۔۔
زرا سا چھٹی کے دن اگر میں سکون سے گزارنا چاہو نہ عترت آپی آپکو نہ تو یہ بات ہضم ہوتی ہے اور نہ ہی میرا سکون ہضم ہوتا ہے۔۔
بات کو غلط رخ نہ دو صنم اتنے تیز اواز میں گانے سن رہی ہو شاید اور بھی لوگ رہتے ہیں اس گھر میں جنکو اتنا لاؤڈ میوزک پسند نہیں۔۔
پسند نہیں تو کان میں روئ۔لگا کر بیٹھا کرے خاص کر جب میں گھر میں ہو ۔۔
صنم نے غصہ میں عترت سے ہاتھ چھڑوانے ہوئے کہا۔
یہ کس انداز میں بات کررہی ہو عترت سے؟
بڑے چھوٹے کا لحاظ بھول گئ ہو کیا؟؟
شاہجہان بیگم کی آواز لانج میں گونجی۔۔
آپ آپی کو کچھ نہیں بولینگی؟؟
اس نے ایسا کچھ نہیں کیا جو میں اسے کچھ بولو غلطی تمہاری ہے جو اتنی تیز آواز میں گانے سن رہی ہو یہ جاننے کے باوجود کے اذان کےفورا بعد تمہاری آپی تمہاری دادی نماز پڑھتی ہیں خود تو تمہیں نماز کا ہوش نہیں ہے۔۔
مجھے میری قبر میں جانا ہے ماما آپ میری بخشش کروانے نہیں ائینگی۔۔
صنم کا لہجہ سرد ہونے لگا۔۔
صنم اااااا
شاہجہان بیگم۔کی آواز ایک بار پھر لانج میں گونجی۔۔۔
تم بہت زیادہ بدتمیز ہورہی ہو ایسا نہ تمہاری لگامیں کھینچنی پڑے مجھے۔۔
کیا کرینگی پوکٹ منی بند کرینگی ؟کھانا نہیں دینگی۔۔۔۔
صنم چپ ہوجاو پلیز اچھا چلو میں تمہیں سوری بولتی ہو۔۔عترت نے جب معاملہ بگڑتا دیکھا تو خودی جھک گئ۔۔
آپ کا تو کام ہی یہی ہے پہلے تماشہ لگاتی ہیں پھر آجاتے ہیں رش کم کرنے۔۔
ایک بار اور اگر تم نے عترت سے بدتمیزی کی تو صنم مجھ سے برا کوئ نہیں ہوگا۔۔
آپ سے برا کوئ ہے بھی۔۔ابھی صنم کی بات منہ میں ہی تھی کے شاہجہان بیگم کا طمانچہ صنم کا گال چمکا گیا۔۔
عترت سمیت شور سن کے کمرے سے نکلتی بی جان نے بھی منظر دیکھا اور کرب سے اپنی آنکھیں بند کرلی۔۔
صنم نے ایک نظر شاہجہان بیگم کو دیکھا عترت پہ غصیلی نگاہ ڈالتے ہی اس نے ساؤنڈ سسٹم کو تحس نحس کردیا گاڑی کی چابی اٹھائ اور باہر نکل گئ ۔
عترت اسے آوازیں دیتی رہ گئ مگر وہ نہیں رکی۔۔
شاہجہان بیگم وہی پاس رکھے صوفے پہ ڈھیر ہوگئ۔
شاہجہان ولا جسے اظہر صاحب نے محبت سے بنایا تھا اپنی محبت کیلے ۔
مگر آج وہ اس گھر میں اکیلی رہتی اپنی ساس اور دو بیٹیوں کیساتھ۔۔
اظہر صاحب کا کاروبار بڑا وسیع تھا جیسے سنبھالنے کیلئے انہیں ایک بیٹا چاہیے تھا مگر دوسری بار بیٹی پیدا ہونے پہ اظہر صاحب کو تشویش ہونے لگی کے کہی وہ بنا وارث کے نہ مرجائے کیونکہ صنم کے پیدا ہونے کے بعد ڈاکٹر نے اظہر صاحب کو بتا دیا تھا کے اب انکی وائف دوبارہ ماں نہیں بن سکتی۔۔
ایک بیٹا کیلے انہوں نے دوسری شادی کرلی انہوں نے شاہجاں بیگم کو بہت سمجھایا مگر انہوں نے یہ کہہ کے اظہر صاحب سے اپنے راستے الگ کرلیے کے وہ محبت میں بٹوارا برداشت نہیں کرسکتی۔۔
آج بھی اظہر صاحب کے نام پہ بیٹھی ہیں مگر انہیں دیکھے آج بائیس سال ہوگئے ہیں۔۔
اظہر صاحب نے کئ بار شاہجاں کی مدد کرنی چاہی انہیں کہاں کے اس دولت پہ میری بیٹیوں کا بھی حق ہے مگر انہیں جب اظہر صاحب سے ہر تعلق توڑا تو انکی جائیداد میں سے ایک پیسہ بھی نہیں لیا سوائے اس گھر کے جہاں وہ اپنی ساس کی خواہش پہ رہ رہی ہیں۔۔وہ اس شرط پہ کتے کبھی اظہر اس گھر میں نہیں ائینگے۔۔۔
اظہر صاحب کا غصہ پچھلے بائیس سالوں سے وہ صنم پہ نکالتی تھی جسکی وجہ سے صنم کی شخصیت میں ایک خلا تھا۔۔
اپنے والد کا بزنس شاہجاں بیگم نے بہت اچھا سنبھالا تھا اور آج انکا نام ایک فیمس بزنس وومن میں لیا جاتا ہے ۔
!!!!!!!!
دومنٹ کے اندر اندر شانزے تیار ہوکے نیچے آجا کیوں ؟.کہاں جانا ہے ا؟ایسا سوال ہرگز نہیں پوچھنا دماغ بہت شارٹ ہے۔۔
صنم نے گاڑی شانزے کے گھر کے آکے روک کے اسے فون کرکے کہا۔۔
آئ آئ میری جان بس دو منٹ ماما کو بتا کے آرہی ہو۔۔۔۔
ماما میں صنم کے ساتھ جارہی ہو ابھی اجاونگی تھوڑی دیر میں ۔۔
شانزے نے اپنا موبائل اٹھاتے ہوئے نادیہ بیگم مخاطب کرتے ہوئے کہا۔۔
ارے ارے کہاں جلدی میری طوفان ایکسپریس۔۔شانزے جو تیزی سے سیڑھیاں اتر رہی تھی مراد کے راستے میں آتے ہی ایک دم رکی۔۔
مراد نے ایک دم شانزے کے راستے میں آتے ہوئے کہا ۔
یار صنم کا آج موڈ بہت خراب ہے باہر جارہی ہو اجاونگی تھوڑی دیر میں۔۔
افف ایک۔تو مجھے تمہاری اس دوست سے بہت مسئلہ ہے جب بھی میں تمہارے ساتھ جانے کا کہی سوچتا ہو یہ ہمیشہ درمیاں میں آجاتی ہے۔۔
مراد آج تو کہ دیا ہے آئندہ نہیں کہنا صنم زندگی ہے میری اور تم۔جان۔۔
یہ کہہ کے شانزے نے باہر کو ڈور لگائ ۔۔
مراد نے مسکرا کے جاتی ہوئ شانزے کو دیکھا اور اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔۔
شانزے کی فیملی میں ٹوٹل 5 لوگ تھے ۔۔
وہ اپنی ماں باپ کی اکلوتی تھی ۔۔اسکی پھپھو اور اسکا بیٹا مراد انہیں کیساتھ رہتے تھے مراد کے فادرکی ڈیتھ ہوگئ تھی اور جواد صاحب کو اپنی بہن بہت عزیز تھی اسلیے انہوں نے اپنی بہن کو ہمیشہ کیلیے ساتھ رکھ لیا۔
شانزے اور صنم اسکول کے ٹائم سے دوست تھی اور دوسری وجہ انکی دوستی کی تھی انکا ڈانس ۔بہت سارے کمپیٹیشن وہ دونوں ایک ساتھ جیت چکی تھی دو جسم ایک جان والا سین تھا ان دونوں کا ۔۔
جواد صاحب نہ تو مڈل کلاس تھے اور نہ انکا شمار امیروں میں ہوتا تھا ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں وہ مینجر تھے اور اب مراد کو بھی وہ اسی کمپنی میں لگانوانے کا ارادہ رکھتے تھے۔۔
جاری ہے ۔
