Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 50

عترت کو جو خبر سننے کو ملی تھی اس خبر سے بھی اسکی اداسی ختم نہیں ہوئ تھی اسے شدت سے بلاج کی یاد آرہی تھی۔۔
ندا بیگم دادی بننے کی خبر سن کے واری جارہی تھی عترت کے مگر وہ دیکھ سکتی تھی اسکی اداسی۔۔۔۔۔
ندا بیگم نے شاجہاں کو بھی یہ خوشخبری سنانی چاہی مگر انکا نمبر بند آرہا تھا۔۔
ندا بیگم رات میں عترت کیلئے سوپ تیار کررہی تھی۔ کیونکہ صبح سے اس نے کچھ نہیں کھایا تھا بس اداس تھی ۔۔۔
رات کے تقریبا آٹھ بج رہے تھے مگر ایک عجیب سا سناٹا ہوجاتا تھا ائیر فورس والوں کے گھروں کی طرف۔۔
عترت کو اکثر ڈر لگتا تھا رات میں۔۔
ندا بیگم کچن میں سوپ بنانے میں مصروف تھی کھانا عترت دوپہر میں بنا چکی تھی اسلیے کوئ خاص کام بھی نہیں تھا انہوں نے دعا کو بھی سرونٹ کوارٹر بھیج دیا تھا۔۔
کیا بنایا جا رہا ہے؟؟
میری سوئیٹ ماما!!!
ندا بیگم بلاج کی اواز،پہ ایک دم چونکی ۔۔اپنے سامنے بلاج کو دیکھ کے ایک دم اس سے لپٹ گئ اور بھیگی اواز سے کہنے لگی ۔
ارے میرا بچہ اگیا ۔۔۔۔
ندا بیگم نے اسے ڈھیروں پیار کیا۔۔۔
کیا بنارہی تھی اپ؟
عترت کہاں ہے ؟دعا بھی نہیں دیکھ رہی؟
ارے ارے ایک دم اتنے سوال پہلے کچھ کھا تو لو۔۔۔
نجانے مشن میں کچھ کھایا بھی ہوگا یہ نہیں ۔۔
نہیں ماما ابھی فریش ہونگا پھر کھاونگا۔۔۔
اچھا اوپر جا رہے ہو تو یہ عترت کیلئے سوپ بھی لیجاو۔
سوپ کیوں ؟کیا ہوا عترت کو ؟طبیعت تو ٹھیک ہے نہ اسکی؟؟
ہاں ٹھیک ہے۔۔
بس اج صبح سے اسنے کچھ نہیں کھایا ہے بس تمہیں یاد کرکے اداس تھی اب ڈاکٹر نے بولا ہے اسکا کافی دیھان رکھنے کو۔۔
یہ بات بولتے ہوئے ندا بیگم کے لب مسکرائے تھے۔۔۔
بلاج نے ناسمجھی کی حالت میں اپنی ماما کو دیکھا اور کہا۔۔
ابھی تو اپنے کہاں کے وہ ٹھیک ہے ابھی اپ کہہ رہی ہیں ڈاکٹر نے اسکا دیھان رکھنے کو کہاں ہے۔۔
ارے میرا بچہ اب تو پاپا بننے والا ہے اسلیے عترت کا کافی دیھان رکھنا ہے۔۔۔ندا بیگم نے ایک بار پھر بلاج کا ماتھا چومتے ہوئے کہا۔۔۔
اچھا مگر۔۔۔۔۔
کیا کیا کہا اپنے ماما؟؟؟
بلاج پہلے تو بات نہیں سمجھا مگر جب سمجھا تو شاکڈ انداز میں دوبارہ ندا بیگم سے پوچھا۔۔
ہاں میری جان تم پاپا بننے والے ہو۔۔۔
بلاج کی انکھوں سے خوشی کے انسووں گرنے لگے اس نے ندا بیگم کو اپنے سینے سے لگایا اور کہا۔۔
اب اپ دیکھے ابھی دس منٹ میں اپکی بہو ہشاش بشاش نیچے ائے گئ۔۔
یہ سوپ بھی پیئے گی۔۔
ہاں ہاں میں جانتی ہو تم اگئے ہو تمہیں دیکھتے ہی وہ ٹھیک ہوجائے گی۔۔
جاو اس سے ملو ۔
بلاج نے ندا بیگم کو انکے کمرے میں چھوڑا اور تقریبا ڈورتا ہوا اپنے کمرے میں پہنچا۔۔
کمرے کا دروازہ ہلکا سا کھلا تھا بلاج بہت آہستہ سے اندر داخل ہوا تو عترت اسے سامنے ہی نظر ائ راکنگ چیئر پہ سوتی ہوئ۔۔
بلاج کے چہرے پہ ایک دلکش سی مسکراہٹ اگئ۔۔
وہ ہلکے ہلکے اس تک پہنچا اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کے عترت کو غور سے دیکھنے لگا۔۔
دھیلے سے جوڑے میں کچھ بال نکل کے اسکے چہرے پہ بکھرے تھے گردن ایک طرف ڈھلکی ہوئ تھی بلاج کو اندازہ ہو رہا تھا وہ بہت گہری نیند سورہی ہے بلاج کی نظر اچانک اسکے سینے سے چپکے فریم کی طرف گئ جو الٹا ہوکے اسکے سینے سے چپکا پڑا تھا بلاج نے بہت احتیاط سے وہ فریم اس سے الگ کیا تو یہ دیکھ کے اسکے لب ایک بار مسکرائے تھے کیونکہ وہ اسکی ہی پک تھی مگر اس سے ذیادہ اسے عترت پہ یہ دیکھ کے ٹوتھ کے پیار ایا کے وہ اسکی ٹی شرٹ پہنے سورہی تھی ۔۔
بلاج نے اٹھ کے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور بہت آرام سے اسے اپنی باہنوں میں اٹھا کے بیڈ پہ لیٹایا۔۔
عترت کو بہت آرام سے بیڈ پہ لیٹا کے پہلے فریش ہونے چلا گیا۔۔
فریش ہوکے باہر نکلا تو ابھی بھی عترت اسی پوزیشن میں لیتی تھی جس پوزیش میں بلاج ۔ے اسے بیڈ پہ لیٹایا تھا۔۔۔
بلاج نے بال خشک کیے اور دھیرے سے عترت کے بلکل پاس ایا۔۔
اسنے اپنا ایک ہاتھ عترت کے پیٹ پہ رکھا اور جھک کے وہاں اپنے لب رکھے یہ عمل کرتے ہوئے بلاج کی انکھوں میں خوشی کے آنسوؤں جھلملانے لگے۔۔
اسنے بہت ارام نے عترت کے دائیں بائیں اپنے ہاتھ رکھے اور جھک کے اسکے کھلے لبوں ہو اپنے لبوں میں دبا یہ ۔
بلاج کئ دونوں کی اپنی تشنگی عترت کے لبوں سے مٹانے لگا ۔۔
عترت کو نیند میں اپنا سانس رکتا محسوس ہوا اسنے جیسی اپنی انکھیں کھولی تو بلاج کا چہرہ اسے دیکھا ۔۔
بلاج کا چہرہ دیکھ کے ہی وہ رونے لگی ۔۔
بلاج نے اسکے آنسوؤں صاف کیے اور کہا ۔
عترت جانتی ہو نہ میری جاب میرا فرض پھر بھی اپنی یہ حالت بنائ یے۔۔
تو اپ بھی تو جاکے غائب ہوگئے ایک ٹیکس نہیں کیا اپنی خیریت کا۔۔۔
عترت کے ہلکے سے شکوہ پہ بلاج نے دوبارہ اسکا چہرہ چوما اور کہا۔۔
ویسے غصہ میں پوری باربی ڈول لگتی ہو۔۔۔
بلاج کے کہنے پہ عترت نے گھور کے اسے دیکھا اور شرما گئ۔۔
بلاج نے اس کی جھکی نظریں دیکھی تو کہا۔۔
مجھے نہیں پتہ تھا عترت میڈم مجھ سے اتنی محبت کرتی ہیں۔
بلاج کے کہنے پہ عترت اور ذیادہ بلش کرنے لگی جب بلاج نے دوبارہ اپنا ہاتھ عترت کے پیٹ پہ رکھا اور کہا۔۔
شکریہ میری جان مجھے دنیا کا سب سے حسسسین تحفہ دینے کیلئے ۔۔
بلاج کے کہنے پہ عترت بلاج کے سینے میں چھپ گئ ۔۔
بلاج نے بھی اسے اپنے سینے میں چھپالیا۔۔
دھیرے دھیرے ایک بار پھر وہ اسے پیار کرنے لگا کبھی اسکے لب چومتا کبھی اسکا ماتھا کبھی جھک کے اسکے دل کے مقام پہ اپنے ہونٹ رکھتا کبھی اسے پھر اپنے سینے میں چھپاتا۔۔
جب اچانک عترت کو کچھ یاد ایا اور اس نے بلاج سے پوچھا۔۔
اپنے کچھ کھایا؟؟
بلاج نے معصوم بچے کی طرح ہونٹ نکال کے نفی میں گردن ہلائ تو عترت ہنسنے لگی۔۔
ہٹے میں کچھ لاؤ اپکے لیے کھانے کو؟؟
نہیں تم بیٹھو میں لاونگا اور اپنے ہاتھوں سے کھلاونگا۔۔۔
بلاج نے یہ کہہ کے دوبارہ اسکا ماتھا چوما اور کھانا لینے چلا گیا۔۔

#

اظہر صاحب بھی اچکے تھے خوشبو بیگم کے گھر سے نکلتے ہی اظہر صاحب کی کال وہاج صاحب کے پاس ائ اور انہوں نے اپنے انے کی اطلاع دی۔۔
کھانا کھاکے وہ اور اظہر صاحب ٹیرس پہ بیٹھے چائے پی رہے تھے جب اظہر صاحب نے نوٹ کیا کے وہاج بہت چپ چپ ہے اظہر صاحب سمجھ رہے تھے شاید خالہ کی بیماری کی وجہ سے پریشان ہیں مگر انکی انکھیں کچھ اور ہی بیان کررہی تھی۔۔
اظہر صاحب نے وہاج صاحب کے کندھے پہ اپنا ہاتھ رکھا اور کہا۔۔
کیا بات ہے وہاج اج بہت ذیادہ اپسیٹ ہو ؟؟
اظہر صاحب کا پوچھنا تھا کے وہاج صاحب کی انکھوں سے آنسوؤں گرنے لگے۔۔
اظہر صاحب نے جب وہاج صاحب کو روتا دیکھا تو ایک دم پریشان ہوگئے۔۔
کیا ہوا ہے وہاج خالہ کی وجہ سے ۔۔۔۔۔
اسنے مجھ سے میری بیٹی کو دور رکھا اظہر بھائ وہ وہ صرف مجھ سے نفرت کرتی ہے ۔۔۔
کون وہاج؟؟
کیا ہوا ہے کچھ بتاؤ گے ؟؟
اظہر صاحب کے پوچھنے پہ وہاج صاحب نے اج خوشبو کے گھر میں ہوئ ساری بات اظہر صاحب کو بتا دی۔۔
یہ سب سن کے اظہر صاحب کافی شاکڈ تھے ۔۔
میں نے کہی سنا تھا وہاج کے عورت اگر ضد اور غصہ میں اجائے تو اپنے ساتھ بہت کچھ تہس نہس کردیتی ہے ۔۔
شاجہاں نے بھلے مجھ سے قطع تعلق کیا تھا مگر میری بیٹیوں کو کبھی مجھ سے دور نہیں کیا یہ الگ بات ہے صنم مجھ سے نہیں ملتی۔۔
مگر خوشبو نے تو اپنی خود کی بیٹی کی پہچان ہی مٹا دی۔۔۔
میں اسے اس حرکت کیلیے کبھی معاف نہیں کرونگا اظہر بھائ نہ کرے مجھے معاف کرتی رہے مجھ سے نفرت مگر اب بس بہت ہوا اگر کل وہ ہیر کو یہاں نہیں لائ تو انجام کی ذمیدار وہ خود ہوگی
خوشبو اور ہیر کون ہیں ڈیڈ؟؟
صائم کی اواز پہ وہ دونوں ایک دم چونکے صائم جو نمرہ کے کہنے پہ اظہر کو چھت پہ بلانے ایا تھا اپنے باپ کے منہ سے یہ نام سن کے ایک دم چونکا تھا۔۔

#

میں نے کہا تھا اپ سے خوشبو آپی کے ہیر بی بی کیساتھ اتنا بڑا ظلم مت کرے مت چھپائے ان سے کے اپ انکی انی نہیں انکی ماں ہیں ۔۔۔
اس سے پہلے لائبہ کچھ اور کہتی اچانک کچھ ٹوتنے کی اواز پہ ان دونوں نے چونک کے پیچھے دیکھا تو ہیر بیہوش پڑی تھی۔۔
ہیر۔۔۔۔۔۔
خوشںبو چیختی ہوئ ہیر تک پہنچی۔۔۔
ہیر ہیر۔۔
اٹھو ہیر۔۔۔
لائبہ کے بھی ہاتھ پاؤں پھولنے لگے اس نے ڈور کے اپنا موبائل اٹھایا اور کسی کا نمبر ڈائل کیا۔
جاری ہے۔۔۔