Dastaan Ishq Muhabbat By Mariyam Khan Readelle50216 Episode 58 Part 1
Rate this Novel
Episode 58 Part 1
عاشر کو سلا کے وہ کمرے میں ائ تو بہزاد کمرے میں تھا ۔
ارے یہ کب ائے؟؟
بیڈ پہ سر کے نیچے ہاتھ رکھ کے وہ بنا چینج کیے سو رہا تھا۔۔
شانزے دھیرے سے اسکے قریب ائ اور اسکے پاؤں جوتوں سے اذاد کرنے لگی۔
بلیک قمیض شلوار میں مہرون واسکٹ پہنے وہ بہت حسین لگ رہا تھا۔شانزے بے خودی میں اسے تکتے گئ۔۔
شانزے کتنی بار اپنے رب کا شکر ادا کرچکی تھی کے اسکی زندگی میں بہزاد شامل ہوا۔۔۔
شانزے دھیرے سے اسکے چہرے قریب ائ تو ایک بار پھر اسکے لب مسکرائے۔۔
شانزے کے کہنے پہ اسنے بریڈ کیساتھ مونچھیں رکھی تھی جو اس پہ کافی جچ رہی تھی۔
اسکے پاس سے اتی پرفیوم کی خوشبو شانزے کو بہت پسند تھی۔
اچانک شانزے کی نگاہیں مونچھوں کے نیچھے چھپے بہزاد کے لبوں پہ پڑی۔۔
اسنے اپنے بال سمیٹے اور بہت ارام سے بہزاد کے لبوں پہ جھک گئ۔۔
اسکے جھکتے ہی بہزاد کی انکھیں کھل گئ۔۔
شانزے دو منٹ میں ہی اسکے لبوں کو چھوڑ چکی تھی جب بہزاد نے ایک دم اسکی گردن پہ ہاتھ رکھ کے اسے اپنے قریب کیا!!
اووووو ہائے بہزاد اپ جاگ رہے تھے؟؟.
پہلے یہ بتاؤ تم کس کرنے میں اتنی کنجوسی کیوں کرتی ہو؟؟
افف چھوڑے مجھے اپ شانزے کے چہرے پہ بے شمار حیا کے رنگ تھے اسنے شانزے کی گردن چھوڑ کے اسکا چہرہ تھاما اور کہا!!!
اب جب میری بیوی خود میرے پاس ائ ہے مجھے اتنا سکون دیا ہے تو کچھ میرا بھی فرض بنتا ہے۔۔
اس سے پہلے شانزے بہزاد کی بات سمجھتی بہزاد نے فورا اپنی پوزیشن بدلی ۔۔۔۔
بہزاد کوئ موقع اپ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے نہ۔۔۔
بلکل نہیں !!!
بہت کم ایسا ہوتا ہے کے تم مجھے خود سے اپنی قربت سے آشنا کرواتی ہو۔۔۔
یہ بول کے بہزاد نے پہلے اسکی دونوں انکھوں کو چوما اسکے بعد اسکے لبوں پہ جھک گیا۔۔
بے خودی کا یہ عالم تھا کے بہزاد نے اسکی کمر کے نیچے سے ہاتھ نکال کر اسے خود سے قریب کیا ہوا تھا اور شانزے نے اسکی کمر کو تھاما ہوا تھا جب اچانک بہزاد کا موبائل بجنے لگا !!
ایک بار موبائل بج بج کے بند ہوچکا تھا مگر شانزے اور بہزاد کا خمار نہیں ٹوتا۔۔۔
جب ایک بار پھر موبائل بجنے لگا تب بہزاد نے لیٹے لیٹے ہاتھ بڑھا کے موبائل اٹھایا ۔۔
شاجہاں کی کال اتا دیکھ بہزاد نے کال یس کرتے فورا کان سے لگایا۔۔
شاہجاں کی بات سنتے ہی بہزاد نے صرف اتنا کہا۔۔
میں ارہا ہو ملکہ دس منٹ میں پہنچ رہا ہو۔۔۔۔
کال کٹ کرتے ہی بہزاد تیزی سے اٹھا۔
اسکے چہرے پہ پرہشانی دیکھ کے شانزے بھی پریشان ہوگئ اور پوچھنے لگی۔۔
بہزاد کس کا فون تھا ؟کہاں جارہے ہیں اپ؟
شانزے اظہر بھائ کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے جلدی چلو ۔
#
پورا کوریڈور بھرا پڑا تھا شاہجاں نمرہ کا رو روکے برا حال تھا ۔
عترت الگ رو رو کے ہلکان تھی۔۔۔
وہاج اسے سنبھالا ہوا تھا۔۔۔
زویان خاموشی سے سر جھکائے بیٹھا تھا اسکے چہرے پہ۔پریشانی واضح تھی۔
اتنے میں بہزاد اور شانزے پہنچے۔۔۔
بہزاد کو دیکھتے ہی نمرہ اور شاہجاں دونوں اسکے گلے لگ کے رونے لگی جبکہ شانزے کی نگاہیں صنم کو ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔
جو اسے اس کوریڈور میں کہی نہیں دیکھ رہی تھی وہ تیزی سے عترت کے پاس پہنچی جسکا رو روکے برا حال تھا۔۔
عترت اپی صنم کہا ہے؟؟
نام مت لو اسکا مرگئ وہ میرے لئے۔۔۔
شانزے کی بات سن کے شاہجاں ایک دم چیخ پڑی۔۔۔
بہزاد نے بے یقینی کی کیفیت میں پہلے شاہجاں بیگم کو دیکھا اور پھر اسکی نگاہ اپنے سامنے کھڑے صائم پہ پڑی۔۔جو صرف گردن ہلا رہا تھا ۔۔
تھوڑی دیر بعد اپریشن ٹھیٹر کے روم کا دروازہ کھلا۔۔
دو ڈاکٹر اور ہنزہ باہر ائ۔۔۔
ہنزہ کیا ہوا ؟
بتاؤ مجھے وہ ٹھیک ہیں؟؟
شاجہاں بیگم نے فورا لپک کے ہنزہ کو تھاما۔۔
انٹی انٹی اپ ریلکس کرے ورنہ اپکی طبیعت خراب ہوجائے گی ۔ہنزہ نے انہیں کندھے سے تھام کے فورا کرسی پہ بیٹھایا۔
اس دوران زویان بلکل چپ تھا اسے کچھ کچھ کہانی سمجھ میں ارہی تھی مگر یہ وقت نہیں تھا پوچھنے کا۔۔
دیکھے انکا ہارٹ اٹیک بہت شدید تھا اگلے 48 گھنٹے ہم لوگ کچھ نہیں کہہ سکتے ۔۔
ہنزہ کیساتھ ائے ڈاکٹرز نے انہں جواب دیا اور وہاں سے چلے گئے انکے پیچھے ہنزہ بھی گئ۔۔
زویان نے جب یہ سنا تو غصہ سے کوریڈور سے باہر گیا جسکی دیوار سے لگ کے صنم بیٹھی تھی سب سے چھپ کے۔۔
صائم جانتا تھا زویان کا کے وہ کس کے پاس گیا یے غصہ میں وہ بھی اسکے پیچھے گیا اور اسکے پیچھے بہزاد بھی۔۔۔
اب یہاں بیٹھ کے کس کا سوگ منا رہی ہو؟؟.زویان نے صنم کے وجود کو کندھے سے تھام کے خود کے روبرو کھڑا کرکے کہا۔۔
اگر صنم رو رہی تھی تو زویان کی بھی انکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔۔۔
زویان میری بات سنو ام!!صائم نے فورا اگے بڑھ کے اسکی گرفت سے صنم کو ازاد کیا اور خود انکے درمیان اگیا۔
جاؤ مناو اب خوشیاں لے ائ تمہاری نفرت انہیں موت کے منہ تک۔۔۔
زویان بس کرو۔
بہزاد کی بات پہ اسنے غصہ میں کہا۔۔
ابھی نہیں بہزاد بھائ اج نہیں۔۔
صائم بھائ ہٹ جائے درمیان میں سے۔۔۔
یہ تھی وہ بیٹی جسکا طعنہ میں بچپن سے سنتا ایا تھا ۔۔
جب سے ہوش سنبھالا یہ ہی سنا کاش مجھے اللّٰہ بیٹی دیتا بیٹا نہیں ۔۔
نمرہ کاش میں اپنی دوسری بیٹی صنم کیساتھ رہتا تمہارے اس بیٹے کو نہیں دیکھنا پڑتا اسکی حرکتوں پہ جلنا نہیں ہڑتا مجھے۔۔۔
یہ وہ باتیں تھی جو میں بچپن سے سنتا ایا تھا مجھے پتہ ہے میرے باپ کی پہلی شادی کا انکی بیٹیوں کا مگر میں نے اج تک اپنے باپ سے شکوہ نہیں کیا ۔۔
تم کیسی بیٹی ہو جو اپنے باپ کو موت کے منہ تک لے ائ ارے بیٹیاں تو اپنے باپ کی مارے کھا کے بھی انکے ہاتھوں ذلیل ہوکے بھی ان سے نفرت نہیں کرتی۔۔
تم یہ بولتی ہو کے تمہارے ساتھ غلط ہوا اور جو میری ذات کو مجروح کیا پچپن سے ہوتا ایا جو میرے ساتھ۔ ہر بار یہ سننے کو ملتا کے کاش میری تیسری بھی بیٹی ہوتی۔۔
پھر بھی میں نے اپنے باپ سےکبھی شکوہ نہیں کیا نفرت تو بہت دور کی بات ہے۔
اگر میرے باپ کو کچھ ہوا نہ صنم تو میں تمہیں چھوڑونگا نہیں۔۔
یہ بول کے زویان غصہ میں وہاں سے چلا گیا۔۔
جب صائم نے اپنے پیچھے کھڑی گردن جھکائ روتی صنم کو دیکھا ۔۔
چاہ کے بھی وہ اسے اپنے سینے سے لگا نہیں سکتا تھا اس نے بہزاد کو اشارہ کیا اور خود دوبارہ زویان کی طرف گیا۔۔
بہزاد نے اگے بڑھ کے صنم کو سینے سے لگالیا۔۔
جاری ہے۔۔
