Rate this Novel
Episode 18
داستان عشق محبت 🔥❣️
از قلم مریم عمران ✍️
قسط نمبر #18
اففف آج تو بہت تھک گئے۔۔۔
صنم نے بستر پہ لیٹتے ہی کہا۔۔م
صبح وہ۔جلدی ریہرسل کرنے چلی گئ تھی صائم کیساتھ ۔۔
شانزے اور صنم نے جو سانگ پلے کیا تھا اس پہ صائم کا ہنس ہنس کے برا حال ہوگیا تھا۔۔
دوبارہ صائم نے اپنی پسند کا سانگ پہ ریہرسل کروائی صنم سے جس پہ صنم کی اچھی خاصی بینڈ بچ چکی تھی۔۔
صائم کے چھونے پہ صنم کئ بار ڈری جو صائم سے چھپ نہ سکا مگر پھر اسے ایڈجسٹ ہونا پڑا کمپیٹیشن جیتنے کیلیے۔۔
آج بہت نزدیک سے صنم نے صائم کو دیکھا تھا اچھا خاصا ہینڈسم لگا وہ صنم کو دل نے کئ بار صنم سے بے ایمانی کی مگر صنم ہر بار اسے روکتی۔۔
شانزے کو بھی وہ کال پہ سب بتا چکی تھی اور شانزے خوش تھی کے چلو صنم نے حصہ تو لیا۔۔
دوپہر میں شاہجاں بیگم کی کال آنے پہ صنم کو اپنی ریہرسل چھوڑ کے آنا پڑا۔۔
ابھی اسکی آنکھیں نیند سے بند ہورہی تھی جب اسکا موبائل بجا اسنے نمبر دیکھا تو انجان تھا اسنے لائن کاٹی اور دوبارہ لیٹ گئ ۔
پھر واٹس ایپ پہ میسج آنے لگے دھرا دھر اسی نمبر کے ہائے ہیلو کیسی ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔
صنم کی بس یہی تک تھی ایک تو وہ اتنا تھک گئ تھی اس پہ یہ رانگ نمبر اسے سونے نہیں دے رہا تھا ۔۔
صنم غصہ میں آٹھ کے بیٹھی اور اس نمبر پہ وائس بھیجنا شروع کی۔۔
کون ہو آلو کے پٹھے کمینے گھر میں ماں بہن نہیں ادھی رات کو لوگوں کی نیند خراب کرتے ہو بدتمیز جاہل اب اگر میسج آیا تو پولیس بھجوادونگی تیرے گھر۔۔
یہ وائس بھیج کے صنم لیٹی ہی تھی کے ایک میسج اور آیا جس پہ رونے والا۔ایمیوجی کیساتھ لکھا تھا صائم۔۔۔
صنم نے جب صائم لفظ پڑا تو فورا کال ملادی۔۔
آگے سے صائم نے کہا۔
یار اچھی خاصی گالیاں بکتی ہو تم۔تو۔
کام بھی گالیوں والے تھے تمہارے انجان بن کے کیوں تنگ کررہے ہو۔۔
جب ٹھرکی پنا کروگے تو آگے سے گالیاں ہی۔۔۔۔
ایک منٹ ایک منٹ آگے کی بات بولنے سے پہلے صنم۔ چونکی۔۔
میرا نمبر کہاں سے آیا تمہارے پاس میں نے تو دیا نہیں۔۔
صنم کی بات سن کے فون کے اس طرف صائم مسکرایا اور کہا
سامنے رکھے موبائل سے نمبر نکالنا کونسا مشکل کام ہے۔۔
کیوں تمہیں برا لگا میرا تم سے رانگ نمبر بن کے مزاق کرنا؟؟
اگر سیدھی طرح بول دیتے کے کون ہو تو برا نہیں لگتا رانگ نمبر والی حرکت غلط تھی ۔
کیوں کے اگر کال یہ ٹیکس ماما دیکھ لیتی تو انہیں سمجھانا مشکل ہوجاتا کیونکہ میں اور آپی اپنے اپنے موبائل میں پرائیویسی نہیں لگاتے۔۔۔
رئیلی؟؟
صائم۔صنم کی بات پہ۔کافی حیران ہوا ۔
اچھا سوری ۔۔
صائم کے سوری کرنے پہ صنم نے مسکرا کے کہا ۔۔
اٹس اوکے۔۔
وہ دراصل تم گھر سے کال آنے پہ ایک دم چلی گئ تو اسی وجہ سے میں پریشان ہوگیا تھا سب ٹھیک ہے۔؟
ہاں ہاں۔۔
صائم کے پوچھنے پہ۔صنم۔نے آج کی تقریب کا بتایا اور پھر نہ رکنے والا باتوں کا سلسلہ چل نکلا جس صنم کو ابھی نیند کے جھونکے لگ رہے تھے اب اسے بات کرتے ہوئے ایک گھنٹہ گزر چکا تھا۔۔
#
اپنے ہاتھ میں موجود منگنی کی انگھوٹی دیکھ کے عترت مسکرائ تھی۔
بیشک اسکا رب اسے اسکی محبت لوٹا چکا تھا محرم کی صورت میں مگر ابھی بھی ایک خلا تھی نجانے کب وہ پر ہوگی جب اسے اسکی محبت مکمل ملے گی۔۔
ابھی عترت لیتی تھی کے ایک انجان نمبر سے اسے میسج موصول ہوا۔۔
عترت نے جیسی ہی میسج کھولا تو لکھا تھا ۔
ہرگز یہ مت سمجھنا کے میں سب بھول کے تمہیں اپناونگا تم۔سے رشتہ جوڑنامجبوری ہے میری کیونکہ میری ماں کو تم پسند ہو آئ سمجھ تم نے میرے ساتھ جو کیا یے میں اسے اتنی آسانی سے بھول جاؤنگا تم سے محبت کرنے لگونگا تمہیں بیوی کا درجہ دونگا یہ خوش فہمی مت پالنا۔۔عترت میڈم ۔۔
عترت نے نمبر سیو کیا تو واٹس ایپ پہ نمبر شو ہوا جس پہ بلاج کی پک تھی۔۔
وہ پہلے ہی میسج پورا پڑھ کے سمجھ گئ تھی کے کون ہے۔۔
عترت نے پہلے وائس کرنے کا سوچا مگر اب اس نے بھی بلاج کی تپانے کا پکا پکا ارادہ کرلیا تھا جب وہ بیوفا ہے ہی نہیں۔ تو ڈر کے کیوں سہے یہ الزام ۔۔
عترت نے خالی ایک میسج کیا جو بلاج کو آگ لگانے کیلیے کافی تھا۔۔
مسٹر بلاج خان۔۔
میں نے بھی بیکار کی سوچیں پالنا چھوڑ دی ہیں وہ ابھی ان لوگوں کیلیے جو دماغ سے خالی ہیں انہیں صرف اپنی بات سمجھ میں آتی ہے سامنے والے کی نہیں اور رہا سوال خوش فہمی کا تو میں عترت اظہر ایک بڑے سائز کا کتا ضرور پالنا گوارا کرونگی مگر بلاج خان کو لے کر خوش فہمی نہیں اب مجھے ڈسٹرب مت کریے گا آئ ایم سو ٹائرڈ یہ لکھ کے عترت نے میسج بھیجا اور مییسج جیسی ہی سین ہوا عترت نے موبائل بند کیا اور بلاج کا غصہ سے لال ہوتا چہرہ تصور کرکے ہنستی ہوئے۔۔ سو گئ۔۔
بلاج نے میسج پڑھ کے غصہ میں اپنا موبائل بیڈ پہ پٹخا اور کہا۔۔
ایک بار آجاؤ میرے پاس پھر دونگا تمہیں سزا بیووفائ کی۔۔
#
بازل جو کھڑکی سے ہنزہ کے کمرے میں کودنے کی کوشش کررہا تھا ایک دم اپنے نام پکارنے پہ اسکا دل زور زور سے ڈھرکا مگر جب اسنے اپنے پیچھے آواز دینے والے کو دیکھا تو سکون کا سانس لیا۔
بلاج بھائ اپنے تو ڈرا دیا۔
میں سمجھا پاپا اگئے۔۔
بازل یہ کیا کرہے ہو؟
ایسے کسی لڑکی کے کمرے میں جانا یہ مناسب نہیں ہوتا۔۔
بازل بلاج کے لہجے سے اندازہ لگا چکا تھا کے بلاج کو بازل۔کی۔یہ بات پسند نہیں ائ۔۔
وہ۔بلاج بھائ ہنزہ گیٹ نہیں کھول رہی۔۔
تمہارا ابھی اس سے ایسا کونسا رستہ ہے جو وہ رات کی اس پہر تمہارے لیے اپنے کمرے کا۔گیٹ کھولے۔۔
تمہیں اس وقت اگر ایسے ہنزہ کے کمرے میں جاتے ہی ہوئے گھر کا کوئ بڑا دیکھ لیتا تو جانتے ہو کتنا فسانہ بن جاتا ۔
تمہارے تو کچھ نہیں جاتا ہنزہ کی ذات نشانہ بنتی ۔۔
اگر اتنا ہی شوق ہے اسے پہ اپنا حق جتانے کا تو اسے اپنے نام کرو اپنا محرم بناو پہلے حلال طریقے سے پھر حق جتانا اس پہ اور رات کے کسی پہر بھی اس کمرے میں جاؤگے کوئ دیکھے گا بھی تو اعتراض نہیں کرے گا بازل بچے نہیں ہو اب ۔
ایک لڑکا لڑکی تنہائ میں جب ملتے ہیں تو تیسرا انکے درمیاں شیطان ہوتا ہے۔۔
بلاج کی باتیں بازل کو کافی صحیح لگی اور اسنے شرمندہ ہوکے کہا ۔۔
سوری بلاج بھائ آئندہ ایسی حرکت نہیں کرونگا۔۔
چلو اب کمرے میں چلو اور سوچو ہنزہ کو اپنا بنانے کیلیے بابر انکل کو کیسے منانا ہے۔۔بلاج نے بازل کے کندھے پہ اپنا ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہا
افف ایک تو بابا کسی ہٹلر سے کم نہیں انکی شکل دیکھتے ہی سامنے والا۔اپنے لفظوں سے تو کیا اپنی آواز سے بھی محروم ہوجاتا ہے۔۔
بازل نے اتنی افسردہ شکل بنا کے یہ بات کہی کے بلاج کا قہقہ بلند ہوا۔۔
جاری ہے۔۔
اب کل نہیں آئے گی اپیسوڈ جس دن لائک۔اور کمینٹس اچھے خاصے ہوئے اس دن دو دو اپیسوڈ دونگی یہ وعدہ ہے وہ بھی لانگ
See translation
