Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 69 Part 2

شانزے تو ایک دم چیخ پڑی صنم کا فیصلہ سن کے۔۔
جبکہ شانزے کو ایسا چیختا دیکھ ہنزہ اور ہیر کے ساتھ ساتھ پل بھر کیلئے صنم بھی خاموش ہوگئ تھی۔۔
صنم تم کیسے یہ فیصلہ کرسکتی ہو ؟جانتی ہونہ اس نے کیا کیا تھا تمہارے ساتھ۔۔۔
ایک موقع سب کا حق ہے شانزے جو محبت میں صائم کی آنکھوں میں ہمیشہ سے ڈھونڈتی آرہی تھی جب میں اسے ریلیشن میں تھی وہ مجھے اب اسکی آنکھوں میں دیکھائ دی ہے شانزے ۔۔۔
تم جانتی ہو میں جذباتی لڑکی ہرگز نہیں ہو میں نے بہت سوچ سمجھ کے اپنی زندگی کا فیصلہ کیا ہے۔۔۔
ادھر دیکھ میری طرف صنم اٹھ کے شانزے کی طرف گئ اور اسکا چہرہ تھامتے ہوئے کہا۔۔
مجھے پتہ ہے تو میرے لیے بہت بہت فکر مند رہتی ہے مگر یقین جان شانزے اب مجھے صائم میں بی ایم کا عکس نظر اتا ہے۔۔
اتنا سب کچھ بی ایم نے تیرے ساتھ کیا تھا پھر بھی تو نے انہیں موقع دیا تھا اج دیکھ تجھے پچھتاوا تو نہیں نہ اپنے فیصلے پہ۔۔
انشاللہ ایسے مجھے بھی اپنے فیصلے پہ پچھتانا نہیں پڑے گا ۔۔صنم بول کے چپ ہوئ جب ہیر بول پڑی۔۔
شانزے میرا بھائ اب اتنا برا بھی نہیں میں نے انہیں صنم کیلئے روتے ہوئے دیکھا تھا۔۔۔
ہیر نے بہت افسردہ ہوکے یہ بات کہی پل بھر کیلئے شانزے سمیٹ ہنزہ اور صنم نے بھی ہیر کو دیکھا ان چاروں میں سب سے چھوٹی تھی وہ اور بہت جلدی ہر بات دل پہ لے لیتی تھی۔۔
صنم کے اشارہ کرنے پہ شانزے نے اگے بڑھ کے اسے گلے سے لگایا اور کہا۔
یار میں تمہارے بھائ کو برا نہیں بول رہی بس تھوڑا ڈر رہی تھی مگر اب وہ ڈر بھی ختم ہوگیا کیونکہ تم ہوگی نہ ہر وقت اپنی بھابھی کا دیھان رکھنے کیلئے ۔۔
شانزے کے کہنے پہ ہیر کے چہرے پہ مسکراہٹ ائ تو شانزے ۔نے اسے گلے سے لگالیا باری باری ہنزہ اور صنم بھی ان دونوں کے گلے لگ گی۔۔

#

ہر طرف شادیوں کی شہنائیاں بجنے لگی۔۔
جہاں وہاج صاحب کی بات کرنے پہ اظہر صاحب نے صنم کی مرضی جان کے رضامندی دے دی وہی ان تینوں نے ڈیسائیڈ کیا کے تینوں شادیاں ایک ساتھ ہونگی۔۔
سب سے پہلے ہنزہ کی رخصتی ہوگی پھر زویان کا نکاح ،کیونکہ یہ سب بڑوں کا فیصلہ تھا کے نکاح دوبارہ ہو۔۔ اور رُخصتی اخر میں صائم اور صنم کی شادی ۔۔
یہ فیصلہ تینوں لڑکیوں کی فرمائش پہ ہوا کیونکہ تینوں ایک دوسرے کی شادی انجوائے کرنا چاہتی تھی۔۔
ہاں ولیمہ تینوں کا ایک ساتھ ہوگا ایسا لڑکوں کی فرمائش پہ۔ہوا۔۔
بازل کے گھر والوں کو بھی کوئ اعتراض نہیں تھا کیونکہ وہ لوگ بھی اب کافی اٹیچ ہوگئے تھے بہزاد اور اسکی فیملی سے۔۔
مگر مسئلہ ان سب میں ارہا تھا عترت کا جسکی ڈیلوری کے کچھ دن بچے تھے اور بلاج کا ایک مشن اگیا تھا جسکی وجہ سے اسے جانا تھا عترت کا رورو کے برا حال تھا اور ساتھ ساتھ وہ اس سے ناراض بھی تھی کے وہ اسے اس حال میں چھوڑ کے جارہا تھا۔۔
پھر بہزاد اور شانزے پنڈی پہنچے ندا بیگم اور عترت کو لینے۔۔
بہزاد اپنا پرائیویٹ جیٹ میں ان دونوں کو لے ایا اور بلاج بھی بے فکر ہوکے مشن پہ چلا گیا اپنے وطن کے دشمنوں کو۔منہ توڑ جواب دینے کیونکہ اب اسکی فیملی اللّٰہ کے بعد ایک مضبوط سائبان کے زیر سائے تھے بلاج جب عترت کو بہزاد کے حوالے کررہا تھا تو اسکی انکھوں میں آنسو تھے وہ عترت کے سامنے تو نہیں بہے مگر بہزاد کے گلے لگتے ہی بہہ گئے ۔
بہزاد بھائ میری عترت اور بچے اللّٰہ کے بعد اپکے حوالے ہیں۔۔
ارے بلاج تم بے فکر رہو میں ہونہ انشاللہ میں پورا دیھان رکھونگا۔۔
بس تم جلد اذ جلد انے کی کرنا کیونکہ میں لاکھ سنبھال لو عترت کو مگر اسے ضرورت تمہاری ہی ہوگی۔۔
بہزاد بھائ انشاللہ پوری کوشش کرونگا جلد اذ جلد انے کی مگر زندگی اور موت اللّٰہ کے ہاتھ میں اگر مجھے کچھ ہو بھی جائے تو اوپر اللّٰہ اور نیچے اپ ہیں میری فیملی کا دیھان رکھنے کیلئے ۔۔
بلاج مرنے ورنے کی باتیں کری نہ تو لگاؤں گا ایک۔۔
بہزاد نے اسے ڈانٹ کے گلے سے لگالیا اور اسکی فیملی کو لے کے کراچی اگیا۔۔

صنم ابھی اپنے کمرے میں اکے ٹھک کے لیتی تھی دو دن سے مسلسل وہ شاپنگ میں مصروف تھی اپنے بھانجوں کی شاپنگ کیساتھ ساتھ اسے ہنزہ کی برات کی بھی شاپنگ میں وہ گھن چکر بنی ہوئ تھی۔۔
صنم کو لیتے لیتے مسلسل ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئ اسے گھور رہا ہے ..
صنم نے اٹھ کے کمرے کی لائٹ کھولی تو صائم کو صوفے بیٹھا دیکھ کے ایک دن حیران رہ کے اسے دیکھنے لگی۔۔
صائم اپ یہاں کیا کررہے ہیں؟؟
کوئ اجائے گا پلیز جائے!!!
صائم جو اسے مسلسل اپنے نظروں کے حصار میں لیا ہوا تھا اٹھ کے اسکے پاس انے لگا۔۔۔
صنم کے بلکل پاس اکے صائم نے اسے کمر سے تھام کے خود سے قریب کیا اور غور غور سے اسکا چہرہ دیکھنے لگا۔۔
صنم بھی خاموش تھی بس اسے تکے جارہی تھی۔۔
صائم نے بہت سیریس ہوکے اسکے چہرے کو کھوجتے ہوئے کہا۔
جب سے رشتہ پکا ہوا ہے ہمارا تم نے تو میرے سامنے ہی انا چھوڑ دیا۔۔
وہ جو پانچ منٹ لیٹ انے پہ مجھے سے پاگلوں کی طرح لڑتی تھی جو اتے ہی سب سے پہلے میرے گلے لگتی تھی مجھ سے ہر دو منٹ بعد فون پہ بات کرنے والی صنم جو مجھ سے ملتے ہی پہلے میری انکھوں کی نظر اتارتی تھی وہ صنم تو کہی کھو گئ ۔۔
اب جو صنم میرے سامنے ہے اس میں اور میری صنم میں بہت فرق ہے ۔
مجھے میری پرانی صنم چاہیے!!
صنم نے مسکرا کے اسے دیکھا اور کہا۔
جو ہو جیسے ہو اسی حال میں قبول کرو پرانی صنم کو اپنے کھودیا۔۔
صنم کی بات پہ صائم کی انکھوں میں ایک کرب سا اتر ایا اسنے صنم کی کمر کو چھوڑا اور اسکا ہاتھ تھام کے بیڈ پہ بیٹھایا اور کہا ۔
جو تمہیں دھوکا ملا اسے بھولنا بہت مشکل ہے مگر ناممکن نہیں۔جب میں نے گمراہی کا گناہ کا راستہ چھوڑ کے اللّٰہ کی طرف جانے والے راستے پر چلنا چاہا تو مجھے بہت مشکل ہوئ اتنی کے تمہیں اندازہ نہیں مگر دیکھو اج میں تمہارے سامنے ہو۔۔
اگر تم خوش نہیں دوبارہ مجھ سے تعلق جوڑنے میں تو کوئ زبردستی نہیں صنم۔۔
اگر میری منتیں کرنے پہ میرے معافی مانگنے پہ اگر تم مجھ پہ ترس کھا کے یہ رشتہ جوڑ رہی ہو تو مت جوڑو صنم۔۔صائم نے اسکے گال پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
مجھے تمہاری خوشی عزیز ہے اپنی محبت سے بھی ذیادہ جب تم ہی خوش نہیں ہوگی تو پھر اگے کہ زندگی گزارنا بہت مشکل ہوجائے گا۔۔۔تم مجبوری میں رشتہ نبھاؤ اس سے بہتر ہے یہ رشتہ ہی نہ بنے۔۔۔
میں خوش ہو صائم !!
مجھے جب تک میری پرانی صنم اس صنم میں نہیں دیکھے گی میں تمہاری اس بات پہ کبھی یقین نہیں کرونگا کے تم خوش ہو۔۔
مجھے تھوڑا وقت دے صائم !!!
ہاں تو ٹھیک ہے لو جتنا بھی وقت لینا ہے میں اگے بڑھا دیتا ہو شادی کوئ بھی بہانہ کرکے۔۔
نہیں نہیں صائم شادی اپنے وقت پہ ہہ ہوگی !!
صائم نے ایک بار پھر اسکا چہرہ دیکھا اور کہا۔
میں ساری زندگی اپنی پرانی صنم کا انتظار کرسکتا ہو۔۔
یہ بات بول کے صائم نے صنم کے ماتھے پہ اپنے کب رکھے۔۔
کچھ دیر تک وہ اسی پوزیشن میں رہا اور کہا۔
مرکر تمہیں دیکھا نہیں سکتا کے اس دل میں اب تم کیا مقام رکھتی ہو۔
کیونکہ ساری زندگی تمہارے ساتھ گذارنا چاہتا ہو۔۔
صائم کی گرین انکھوں میں نمی دیکھ کے صنم نے کہا۔۔
ایک بات پوچھو ؟؟
اپ سے اگر سچ سچ جواب دے تو۔۔
ہاں پوچھو!!!
جو اپنے میرے ساتھ کیا اگر وہی میں نے اپکے ساتھ کیا ہوتا اپکی جگہ اگر میں اپکو کسی کیساتھ ایسے ملتی تو۔۔۔
صنم کے سوال صائم کے چہرے پہ چٹان جیسی سختی ائ جو صنم سے چھپ نہیں سکی مگر صائم نے کمال ضبط سے تحمل کا مظاہرہ کیا اور کہا۔۔
اگر میں تمہیں ایسے دیکھتا تو تمہیں جان سے ماردیتا اور خود بھی مرجاتا۔۔
کیونکہ ایک مرد سب کچھ برداشت کرسکتا ہے بس اپنی من پسند بیوی یہ من پسند عورت کی بیوفائ نہیں بھلے وہ پھر کسی روپ میں ہو۔۔
بیشک اللّٰہ نے مرد کو عورت کا حاکم بنایا ہے مگر اسمیں قربانی کا صبر کا برادشت کا جزبہ عورت سے کئ گناہ کم رکھا ہے۔۔
مجھے بیشک تم سے شروع میں محبت نہیں تھی صنم مگر جب بھی میں تمہارے ساتھ کچھ غلط کرنے کا سوچتا میرا دل مجھے روکتا ۔۔۔مجھے نہیں یاد میں نے تم سے محبت کرنے سے پہلے کتنی لڑکیوں کیساتھ فلرٹ کیا ہے مگر اگر میں نے انکے ساتھ فلرٹ کیا تو دودھ کی دھلی وہ بھی نہیں تھی۔۔
مگر جب تم سے ملا تو دل الگ انداز میں ڈھرکا۔۔
اسی لیے جب تمہارے سامنے وہ سب ایا تو میرے پاؤں سے اس وقت بھی ذمین نکل گئ تھی اور جب تمہیں نہال کیساتھ دیکھا تب بھی۔۔
اج جو صائم تمہارے سامنے ہے وہ صرف صنم کا ہے۔۔یہ بول کے صائم نے اسکا ہاتھ تھام کے اپنی دی ہوئ انگھوٹی پہ اپنے لب رکھے اور چلا گیا۔۔

#

عترت نے دو خوبصورت بچوں کو پیدا کیا تھا ہر کوئ خوش تھا زویان تو ڈھیروں کھلونے لے کر ہسپتال پہنچ گیا۔۔
تو ادھر صنم نے اسکے ویلکم کیلے پورا گھر سجا دیا۔۔
بازل اور ہنزہ نے بھی عترت اور اسکے دونوں بچوں کیلئے ڈھیڑوں شاپنگ کی تھی۔۔
ہنزہ بھی اسکی ڈیلوری میں ڈاکٹروں کی ٹیم میں تھی۔۔
بہزاد نے اپنے دونوں بھانجے کہہ لو یہ نواسوں کی پیدائش پہ پورے ہسپتال میں جہاں مٹھای بانٹی وہی نرسوں کو بھی پھر پور بخشش دی۔۔
سب ہی خوش تھے سوائے عترت کے خوش تو عترت بھی تھی مگر اندر سے کافی اداس تھی اور وجہ تھی بلاج۔۔۔

#

اج بچوں کی پیدائش کو پورے دس دن ہوگئے تھے مگر ابھی تک بلاج نہیں ایا تھا۔۔
سب ہی عترت کی مایوسی محسوس کررہے تھے مگر اسکا دل بہلانے کی کوشش بھی کررہے تھے۔۔
گھر میں شادیوں کا ہنگامہ تھا اسلیئے عترت نے بھی اپنے اپکو مصروف رکھنے کا سوچا۔۔۔
ارے یار سالے تو تو کافی خوبصورت لگ رہا ہے۔۔۔
زویان نے بازل کو شیروانی پہناتے ہوئے کہا۔۔
لائٹ گرین کلر کی شیروانی میں بازل کی گوری رنگت کافی دمک رہی تھی۔۔
صائم نے اسکو قلا پہناتے ہوئے کہا۔
بیٹا بچ کے رہنا تھوڑا اپنا روب رکھنا اج کے دن زن مرید بننے کے عہد نامے پہ سائن مت کردینا۔۔
لو جی بول بھی کون رہا ہے یہ بات جو خود زند مرید کے ریکارڈ توڑنے والا ہے۔۔۔
بازل کے کہنے پہ صائم نے اسکی کمر پہ ایک گھونسا مارا۔۔
ارے یار کتنا ٹائم لگاو گے تم لوگ!!
ہنزہ پہنچ چکی ہے ہال چلو جلدی۔۔
بہزاد کے تھوڑا غصہ کرنے پہ وہ لوگ فورا ریڈی ہوکے بارات لے کے نکلے۔۔
بارات کا شاندار استقبال بال کیا گیا۔۔
زویان اور صائم شامل تو برات کیساتھ ہوئے تھے مگر وہاں پہنچتے ہی ہنزہ کی طرف سے شامل ہوکے بھائیوں کا حق ادا کرنے لگے۔۔
عترت فلحال اپنے دونوں بچے لے کے سائیڈ میں بیٹھی تھی شانزے ،ہیر اور صنم پوری محفل سنبھال رہے تھیں۔
ہارون بھی اپنی فیملی کیساتھ ایا ہوا تھا اور ساتھ میں نوشی بھی۔۔
ہیر شانزے اور صنم نے ایک جیسی ڈریسنگ کری ہوئ تھی ڈارک بلو اور ریڈ کنٹراس کی ہیوی قمیض شلوار کیساتھ ہیوی جیولری پہنے وہ تینوں شان محفل بنی ہوئ تھی۔۔
یار ان لڑکیوں کے اتنے نخرے کیوں ہوتے ہیں خاص کر جب یہ تیار ہوتی ہیں۔۔
زویان کے کہنے پہ صائم نے مسکرا کے اسکے سر پہ ہاتھ مارا اور کہا تو کبھی نہیں سدھر سکتا ادھر دیکھ ہنزہ اگئ۔۔
ریڈ اور پستائ کلر کے ہیوی ڈریس میں اس پہ ہیوی راجپوتوں اسٹائل میں جیولری پہنے ہنزہ کو جو دیکھ رہا تھا ماشاءاللہ کہہ رہا تھا۔۔
بازل نے جب ہنزہ کو دیکھا تو پلکیں جھکانا بھول گیا ۔۔ بے خودی میں وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور ہنزہ کی طرف اگے ہاتھ بڑھایا ۔۔
صنم اور ہیر نے اسکا شرارہ اسٹیج پہ چھوڑا تو وہاں سے بازل نے اسے تھام لیا۔۔
ایک فوکس لائٹ ان پہ پڑی اور ڈھیروں گلاب کی پتیاں بھی۔
بے شمار انکی پکس لی گئ۔۔
بہزاد کے کہنے پہ زویان اور ہیر صائم اور صنم کا بھی فوٹو سیشن کراویا گیا۔۔
بہت خوبصورت لگ رہی ہو صنم!!
صائم کی گرین انکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھتے ہوئے صنم مسکرائ اور کہا۔۔
تم پہ بھی یہ ڈراک براؤن کلر کافی سوٹ کرتا ہے خوبصورت لگ رہے ہو مگر مجھ سے کم۔۔
صنم کے لہجے کو محسوس کرکے صائم چونکا تھا۔۔
بات سنو اس محفل میں تمہارا ایک عدد شوہر بھی موجود ہے۔۔
زویان نے ہیر کے کمر پہ ہاتھ رکھ کے تصویر کھچواتے ہوئے کہا۔۔
مجال ہے جو تم نے ایک نگاہ بھی ڈالی ہو۔۔
اوہ اچھا مجھے تو دیکھائ ہی نہیں دیا میرا شوہر ۔۔
ہیر نے اپنی لائٹ براون انکھوں کو گھوماتے ہوئے کہا۔۔
رات میں اچھے سے بتاونگا شوہر کے بارے میں۔۔
عترت اپنے بچوں کو ڈھونڈ رہی تھی جو کچھ دیر پہلے صائم کے پاس تھے جب بہزاد نے کہا۔۔
عترت تم بھی پکس بن والو ۔
نہیں بہزاد بھائ میرا موڈ نہیں۔۔
سامنے اسٹیج پہ نگاہ ڈالو کیا پتہ ارادہ بدل جائے۔
بہزاد کے کہنے پہ عترت نے سرسری نگاہ اسٹیج پہ ڈالی تو بلاج اپنے دونوں بچوں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں اٹھائے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
عترت کی خوشی کا کوئ ٹھکانہ نہیں رہا وہ تیزی سے اسٹیج کی طرف جانے لگی مگر جاتے جاتے بہزاد کے گلے لگنا نہیں بھولی۔۔
یار میری والی کہاں ہے؟؟
بہزاد نے ادھر ادھر نگاہ ڈوارتے ہوئے کہا ۔۔
تو شانزے اسے ڈریسنگ روم سے نکلتی دیکھائ دی۔
اسکا چہرہ کافی تھکا تھکا سالگ رہا تھا۔۔
جاری ہے۔۔۔