Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 67 Part 1

زویان کسی بھی صورت میں ہیر کو چھوڑ نہیں رہا تھا اور ہیر کا لگا اسکا سانس رک جائے گا اسنے پوری طاقت لگا کے زویان کو خود سے دور کیا ۔۔۔
پاگل ہوگئے ہیں کیا!!؟
ہیر نے لمبی لمبی سانس لیتے ہوئے غصہ میں کہا اور واش روم سے چلی گئ۔
زویان نے ہیر کے جاتے ہی ایک لمبی سانس لی اور یہ مانا کے واقعی اسکی کسس کا دورانیہ کچھ ذیادہ ہی لمبا ہو گیا تھا۔۔
زویان نے باقی کا نہانہ خود کیا اور یہ سوچتے ہوئے کیا کے پتہ نہیں ہیر اسے معاف کری گی یہ نہیں۔۔
زویان جب باہر نکلا تو ہیر کمرے میں نہیں تھی !!!
ہیر کی غیر موجودگی محسوس کرکے زویان کا دل پھر اداس ہونے لگا ۔۔
اس نے بہت بیزاری سے اپن ٹراؤزر بدلہ اور ساتھ میں بڑبڑانے لگا۔۔
بہت بڑا ہیرو سمجھتا ہے زویان تو خود کو یہ بہت ہی کوئ۔ہینڈسم ہے تو جو تو اپنی بیوی کو کس کرے گا اسے پیار کرے گا تو وہ تیری ساری غلطیوں کو بھولا دے گی۔۔۔
ہوننہہہ۔!!!
زویان پتہ نہیں کیا کیا بڑبڑا رہا تھا یہ دیھان دیے بنا کے ہیر اسکے کمرے میں اسکے لیے گرم گرم کافی لے کے بیٹھی تھی اور مسکرا کے اسکی باتیں سن رہی تھی۔۔
اگر اپکا بڑبڑانہ پورا ہوگیا ہو تو یہ کافی پی لیں۔۔
ہیر کی اواز پہ زویان جو غصہ میں اپنی شرٹس دیکھ رہا تھا ایک دم پلٹ کے حیران کن نظروں سے ہیر کو دیکھنے لگا۔
زویان نے دیکھا تھا کے اس کے چہرے پہ کچھ انوکھا سا ۔۔
ہاں تھا انوکھا کچھ زویان نے سوچا اور غور کرنے پہ معلوم ہوا کے وہ انوکھی چیز کچھ اور نہیں ہیر کی مسکراہٹ تھی۔۔
ہاں ہیر زویان کو دیکھ کے مسکرا رہی تھی ۔۔
زویان دھیرے سے اسکے پاس ایا اور بیڈ پہ بیٹھ گیا۔۔
ہیر نے پاس رکھا ٹول اٹھایا اور زویان کے سامنے اکے اسکے بال خشک کرنے لگی۔۔
زویان نے دھیرے سے اسے کمر سے تھام کے خود سے قریب کیا اور اپنا سر اسکے پیٹ پہ رکھ دیا۔۔
زویان کے اس عمل سے ہیر کے ہاتھ تھم گئے۔۔۔
زویان نے نگاہ اٹھا کے ہیر کو دیکھا تو وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی مگر اسکی انکھوں میں آنسو تھے۔۔۔
زویان کو پتہ تھا اسکے رونے کی وجہ !!
زویان نے اسکے ہاتھ سے ٹول لے کے سائیڈ پہ رکھا اور اسے اپنی تھائ پہ بیٹھا کے اسے کمر سے تھاما۔۔
ہیر نگاہیں نیچے کرکے مسلسل روئے جارہی تھی !!
زویان نے اسکے گیلے لمبے بال جو اسکے چہرے پہ تھے کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا۔۔
ہیر ادھر دیکھو میری طرف!!
زویان کے کہنے پہ ہیر نے نگاہ اٹھا کے زویان کو دیکھا تو زویان اسکی انکھیں دیکھ کے پل بھر کیلئے ٹہر سا گیا۔۔
غصہ ہو مجھ سے ؟؟
زویان کے سوال پہ ہیر نے نفی میں گردن ہلائ۔۔
مگر میں تم سے ایک بار پھر معافی مانگتا ہو اپنے ہر اس عمل کی جس سے تمہارا دل بری طرح ٹوتا ہے۔۔
یہ کہہ کے زویان نے اسکے دونوں گالوں کو باری باری چوما جہاں اسنے ٹھپڑ مارے تھے اسکے سر کے اس حصے کو چوما جہاں سے اسنے اسکے بالوں کو مٹھی میں لیا تھا۔۔
ہیر اج میں تم سے اللّٰہ کو گواہ بنا کے کہتا ہو۔۔۔
جس دن میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا اسی دن تمہاری ان انکھوں نے مجھے اپنی طرف اٹریکٹ کیا تھا مگر میں نے اپنے دل کی نہیں سنی۔۔
میں تم سے بدلہ لینا نہیں چاہتا تھا مگر ماشا اور روبرٹ کی باتوں میں اکے وہ سب کیا ۔۔
مگر دیکھو سب کچھ ڈراما تھا مگر اللّٰہ نے ہمارا نکاح ڈراما نہیں رکھا وہ تو سچ مچ تم سے ہوگیا۔۔
میں تم سے محبت عشق دونوں کرتا ہو دل کی ڈھرکن تھمنے لگتی ہو جب تم دور جاتی ہو۔۔
پلیز ایک بار خالی ایک بار اعتبار کرلو مجھ پہ۔۔۔۔
زویان کے لہجہ میں کیا کچھ نہیں تھا التجا ،افسوس ،ندامت۔۔
ہیر اسے تھوڑی دیر تک دیکھتے رہی اور کہا۔۔
میں نے اپکو معاف کیا زویان!!!
یہ بول کے ہیر زویان کے گلے لگ گئ۔۔
زویان کو لگا اج اللّٰہ نے اسے فرش سے عرش پہ پہنچا دیا وہ ہیر کو اسی انداز میں لیے لیے بیڈ پہ گر گیا ۔۔
اپنی پوزیشن بدل کے ہیر کے چہرے کو چومتے ہوئے کہا۔۔
سچ میں مجھے معاف کردیا نہ!!!
ہیر نے اسکے چہرے پہ ہاتھ رکھا اور کہا۔۔
ہاں زویان میں نے اپکو دل سے معاف کیا اگر زندگی میں دوبارہ اپنے میرا اعتبار توڑا تو موت کو گلے لگا لونگی۔۔۔۔
ہیر کہ بات سن کے زویان نے فورا اسکے لبوں پہ اپنا ہاتھ رکھا اور کہا۔۔
اگر دوبارہ تم نے اپنے مرنے کی بات کی تو میں ہمیشہ کیلئے ناراض ہوجاو گا۔۔
یہ بول کے زویان ہیر کے لبوں کو چومنے لگا جب ہیر نے فورا اسکے لبوں پہ ہاتھ رکھا اور پوچھا۔۔
نکاح والے دن جو اپنے میرے سامنے ماشا کو کس کیا تھا اسکی سزا اپکو ملے گی۔۔
ہیر!!!!
زویان نے حیران ہوکے ہیر کو دیکھ کے کہا۔
ہاں اور اپکی سزا یہ ہے کے اب اپ میرے ہونٹوں کو جبھی چومیں گے جب میں چاہونگی۔۔
اوہ ہیلو !!
یہ کیسی سزا ہے ہیر میں نہیں مانتا۔۔۔۔
یہ بول کے زویان ہیر کے لبوں چومنے کیلئے جھکا جب ہیر نے فورا کہا۔۔
اپکو میری قسم !!!
ہیررررر!!
یہ غلط ہے نہ کرو پلیز چومنے دونہ۔۔۔۔
نہیں اب ہٹے میں کھانا لاؤ اپکے لیے !!
ہیر کے ایسے کہنے پہ زویان نے مسکرا کے اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور کہا۔
جاؤ جانی کھانا لاؤ تم پہ ایسی ہزاروں کس قربان۔۔۔۔

#

صنم کے کمرے سے جب صائم اپنے کمرے میں ایا تو اسکے ہونٹوں پہ صنم کے ہونٹوں کا خون لگا تھا۔۔
وہ ایسا صنم کیساتھ کرنا نہیں چاہتا تھا بس غصہ میں ہوگیا۔۔
صائم نے غصہ میں اپنا ہاتھ زور سے ڈریسنگ کے مرر پہ مارا۔۔
اسکے ہاتھ سے بھی تیزی سے خون نکلنے لگا۔۔
اتنے میں اسکے کانوں میں عشاء کی اذان کی اواز ائ۔۔۔
صائم نے پہلے اپنے ہاتھ سے خون بہنا روکا اور پھر وضو کرکے مسجد چلا گیا۔۔
جتنی دفعہ بھی وہ سجدے میں گیا اتنی بار رو روکے اپنے اللّٰہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی۔۔
نماز پڑھنے کے بعد اسنے میڈیکل اسٹور سے صنم کیلئے ایک کریم لی اور گھر اگیا۔۔
اسنے دھیرے سے صنم کے کمرے کا دروازہ کھولا تو اسے صنم کہی نہیں دیکھی مگر واش روم کی لائٹ اون تھی وہ بیڈ پہ بیٹھ صنم کے واش روم سے باہر انے کا ویٹ کرنے لگا۔۔
صنم واش روم سے باہر نکلی تو صائم کو دیکھ کے بل بھر کیلئے وہ ڈر کے وہی رک گئ۔۔
صائم نے پہلی بار صنم کے چہرے پہ ڈر کو دیکھا تھا اور اسے اپنے کیے پہ پچھتاوا ہونے لگا۔۔
صائم نے اس تک پہنچ کے اسکا ہاتھ تھاما جو صنم نے بہت چھڑوانا چاہا اور ایسے کرتے ہوئے وہ رو رہی تھی۔۔
صائم نے اسے بیڈ پہ بیٹھایا اور خود بھی اسکے سامنے بیٹھ گیا۔۔
اپنی جیب سے ٹیوب نکال کے وہ صنم کے ہونٹوں پہ لگاتے ہوئے کہنے لگا۔۔
ائ ایم سوری ایک بار پھر میں تمہاری تکلیف کی وجہ بنا یہ کہتے ہوئے صائم کا گلا رندھ گیا۔۔
صائم نے اسکے ہونٹوں کے زخم پہ ٹیوب لگا کے اسکا ہاتھ تھاما اور گردن جھکا کے کہنے لگا۔۔
مجھے کوئ حق نہیں تمہارے ساتھ زبردستی کرنے کا تمہیں پورا حق ہے اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کا ۔۔۔
صائم نے یہ کہہ کے اپنی جیب سے نہال والی انگھوٹی نکال کے اسکے ہاتھ میں رکھ دی ایسا کرتے ہوئے صائم کے ہاتھ لرزے تھے ۔۔
صنم نے بہت غور سے صائم کے جھکے سر کو دیکھا تھا جس پہ ٹوپی تھی اس سے نکلتے بال تھوڑے تھوڑے گیلے تھے ۔۔
صنم کے سامنے پل بھر کیلئے پہلے والے صائم کو روپ ایا اس صائم میں اس صائم میں بہت فرق تھا۔۔
صائم نے انگوٹھی رکھنے کے بعد اسکے اگے اپنے دونوں ہاتھ جوڑے اور کہا۔۔
معاف کردو صنم مجھے میرے لیے نہ صحیح اللّٰہ کی رضا کیلئے تاکے مجھے سکون مل جائے۔۔
یہ بول کے صائم خاموشی سے چلا گیا اور صنم صائم کے اس عمل سے پتھرا گئ۔۔

#

ہنزہ مسلسل اپنے سامنے بیٹھے ہارون کو گھور رہی تھی اور وہ تھا کے ایپل جوس سے انصاف کررہا تھا۔۔
تم اتنے گھنے میسنے نکلو گے اسکا مجھے اندازہ نہیں تھا۔۔
ہنزہ نے اسکے اگے سے جوس اپنے طرف کھینچتے ہوئے کہا۔
اسکے عمل سے بازل کیساتھ ساتھ نوشی کی بھی ہنسی نکلی۔۔
افف کتنا بڑا ڈراما کیا ہارون تم نے پزا ہٹ کا ۔۔ہنزہ نے باقاعدہ اسے مکا دیکھاتے ہوئے کہا۔۔
ہاں تو تم تھی کے بات سننے کو تیار ہی نہیں تھی بازل بھائ کی انہوں نے فیصلہ کرلیا تھا تمہاری خوشی کیلئے تمہیں چھوڑ دینگے ۔۔
اپنا یہ فیصلہ وہ بہزاد بھائ کو بتا رہے تھے جب میں نے سن لیا۔
ایک منٹ !!
تم بہزاد بھائ کو کیسے جانتے ہو۔۔۔؟؟
میری وجہ سے !!
اچانک نوشی بولی ۔۔۔
میں بہزاد سر کی مینیجر ہو میرے سامنے ہی بازل بھائ اپنا فیصلہ انہیں بتا رہے تھے ایسا کرتے ہوئے وہ رو رہے تھے۔۔
نوشی کی بات پہ ہنزہ نے بازل کو دیکھا تو وہ مسکرا رہا تھا۔۔۔
میں جو اپنی پچپن کی منگیتر کو پک کرنے گیا تھا سارا معملہ سمجھ گیا اور میں نے یہ ڈراما کیا ۔۔
ہارون کی بات پہ ہنزہ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
نوشی تمہارے بچپن کی منگیتر ہے یہ بات تم نے مجھے تو نہیں بتائ گھنے میسنے۔۔۔۔
مگر اس سب ڈرامے کے اصل ڈاریکٹر بہزاد بھائ ہے انہوں نے ہی ہمیں یہ کرنے کو کہا۔۔
چلو نہ اب چھوڑو کیا بچے کی جان لوگی۔۔بازل نے ہنزہ کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔
ہارون نے مظلوم شکل بنا کے ہاں میں گردن ہلائ تو ہنزہ ہنس پڑی اور نوشی سے کہا۔
سوری یار تمہیں غلط سمجھا۔۔۔
ارے نہیں ہنزہ تم نے مجھے غلط سمجھا جبھی اج تم نے صحیح فیصلہ کیا۔۔
ارے ایسی ہی میں ان پہ پچپن سے فدا نہیں۔
ہارون نے یہ کہہ کے نوشی کو انکھ ماری جہاں نوشی نے شرما کے نگاہ جھکائ وہی سب کا قہقہ گونجا۔۔

#

سب ہی اس فیصلے پہ خوش تھے کے ہیر نے زویان کو معاف کردیا ہے اب سارے گھر والے ان دونوں کی شادی کا سوچ رہے جسکا فلحال ابھی زویان اور ہیر نے منع کردیا تھا اور وجہ تھی صائم اور صنم۔۔
اج چھٹی کا دن تھا سب ہی لان میں بیٹھ کے شام کی چائے پی رہے تھے اور خلاف توقع ان سب کے درمیان صائم اور صنم بھی تھے۔۔۔
مگر وہ دونوں بلکل خاموش تھے۔۔
جبھی ایک گاڑی گیٹ کے اندر داخل ہوئ جسے دیکھ سب ہی اجنبیت دیکھا ریے تھے تبھی اسمیں سے نہال نکلا اور ساتھ میں ایک خوبصورت سی لڑکی۔۔
صائم نے جب نہال کو دیکھا تو اٹھ کے اندر جانے لگا جب نہال نے اسے اواز لگا کے کہا۔۔
صائم ایک منٹ!!
نہال کے روکنے پہ صائم رک گیاجبکہ صنم نے نہال کو کافی غصہ میں دیکھا تھا۔۔
صنم نے باری باری نہال کا سب سے تعارف کروایا ۔۔
سب ہی کے درمیاں وہ دونوں بیٹھ گئے جب نہال نے ایک کارڈ نکال کے اظہر صاحب کو دیا۔۔
انکل یہ میری شادی کا کارڈ ہے اپ لوگوں کو ضرور انا ہے ۔۔
ہاں مگر میں اپنی نند کو دو دن پہلے لے جاو نگی۔۔۔
ان دونوں کے انکشاف پہ صائم نے حیران ہوکے صنم کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔
انکل یہ میری منکوحہ ہے صائمہ !!
میں صنم کا جتنا شکر ادا کرو کم یے۔۔
اگر یہ ہم دونوں کو نہیں ملاتی تو اج ہم دونوں نجانے کہاں ہوتے ۔۔۔
صائمہ کے انکشاف پہ صائم کو دیکھ کے زویان کی ہنسی نکلی جو وہ کافی مہارت سے چھپا گیا۔۔
کیونکہ کل رات ہی صائم نے اسے بتایا تھا کے وہ صنم اور نہال کے درمیان نہیں ائے گا۔
وہ دونوں تھوڑی دیر بیٹھ کے چلے گئے باقی سب بھی باری باری اندر چلے گئے جب زویان نے صائم کے پاس اکے دھیرے سے کہا۔
“اپنی تو جیسے تیسے تھوڑی ایسے یہ ویسے کٹ جائے گی۔۔۔
اپ کا کیا ہوگا جناب عالی”
اتنا کہہ کے زویان نے اندر کو ڈور لگائ اور صائم بیچارا صرف اسے گالیوں سے ہی نواز سکا وہ بھی دل میں۔۔
جاری ہے۔۔