Rate this Novel
Episode 35
ماما اپنے مجھے دھوکے سے بلایا ؟؟.
پاپا اپنے بھی ماما کا ساتھ دیا میں جارہا ہو اسے لینے وہ بھی ابھی میری بیوی ہے وہ اور میں بیوی کا درجہ بھی دے چکا ہو اسے۔۔
وہاج صاحب غصہ میں شاہجاں کے کہنے پہ نکل تو گئے مگر گاڑی چلاتے وقت انکے دماغ میں صرف ماضی کی باتیں گونج رہی تھی۔۔
اگر تم اسے لینے گئے یہ اس سے کوئ بھی رابطہ کرا تو میں اپنی جان لے لونگی وہاج۔۔۔
رخسانہ بیگم کی بات پہ وہاج صاحب نے جب انکو دیکھا تو ا نکے ہاتھ میں پستل تھی۔۔
وہاج صاحب کی گاڑی ضرورت سے زیادہ اسپیڈ پہ تھی آنسوؤں مسلسل بہہ رہے تھے انکے۔۔
ماما یہ پسٹل نیچے کرے۔پاپا نمرہ کچھ بولو ماما کو۔۔
ماما۔پلیز بھائ کی بات مان جائے خوشبو بہت اچھی ہے اپ۔کو بے حد پسند آئے گی ایسا نہیں کرے ماما۔۔
میں کہہ رہی بلاج کھاؤ میری قسم کے اس سے کوئ رابطہ نہیں رکھوگے اسسے اسکے پاس پلٹ کر نہی جاؤگے میں جہاں کہونگی وہاں شادی کروگے ۔۔
ورنہ میں اپنی اجان لے لونگی۔۔۔
رخسانہ بیگم نے ٹریگر پہ ہاتھ رکھا ہوا تھا ۔۔۔
ماما مت کرے ایسا میں اس سے بہت محبت کرتا ہو اسکے بغیر مرجاونگا وہ میرا انتظار کررہی ہے ماما۔۔
وہاج صاحب روتے روتے وہی اپنی ماں کے قدموں میں بیٹھ کے ان سے فریاد کرنے لگے مگر رخسانہ بیگم کے سر پہ بس دولت سوار تھی جو ناصرہ کی صورت میں انہیں ملنے والی تھی ۔
ٹھیک ہے اگر تم نے اسے چن لیا ہے تو پھر میرے زندہ رہنے کا کیا فائدہ میں مار لیتی اپنے اپکو۔۔۔
یہ بول کے رخسانہ بیگم جیسے ہی ٹریگر دبانے لگی وہاج روتے روتے چیخ چیخ کے کہنے لگا۔۔
ٹھیک ہے میں نہیں رکھونگا اس سے رابطہ نہیں۔ جاؤنگا اسکے پاس پلٹ کے آپ جس سے کہی گی میں شادی کرونگا اس سے ماما یہ نیچے کردے پسٹل۔۔
اگر تم مکر گئے اپنی بات سے تو؟؟
آپکی قسم نہیں مکرونگا۔۔
بلال صاحب اس سارے معاملے میں خاموش تماشائ بنے رہے کیوں کے رخسانہ بیگم نے انہیں صاف کہا تھا کے وہ طلاق لے لینگی ان سے اگر وہاج کا ساتھ دیا تو۔۔۔
ماضی کی باتیں سوچتے ہوئے وہاج صاحب بہت دور نکل آئے تھے ۔۔
ساحل سمندر پہ گاڑی روک کے انہوں نے اپنا سر زور سے گاڑی کے اسٹیرنگ پہ رکھا اور زور زور سے رو کے اللّٰہ سے کہنے لگے۔۔
یااللہ مجھے موت دے دیں یہ پھر مجھے صبر دے دیں تو جانتا ہے میں کتنا مجبور تھا میرے مالک میں نے ماں اور بیوی میں سے ماں کو چنا اور بیوی کو انتظار کی سولی پہ لٹکا کے اسے دھوکا دیا مجھے سکون دے دے مالک اس بار میرے نصیب میں اسکا ساتھ لکھ دے اب جب کے وہ ایک بار پھر مجھے ملی ہے۔۔۔
رات کے نجانے کس پہر وہ گھر میں داخل ہوئے انہیں نہیں پتہ مگر نمرہ وہاج صاحب کا انتظار کررہی تھی اسے اظہر صاحب آج تقریب میں ہوا تماشہ بتا چکے تھے جسے سن کے نمرہ شاکڈ تھی 20 سال بعد آج اچانک خوشبو کا سامنے آنا اس بات کی گواہی تھی کے اب قسمت ،وقت اور تاریخ نے کروٹ لینا شروع کردی ہے ۔۔
زویان اور صائم کو اب انکے ماں باپ کی اصلیت پتہ لگ جائے گی۔۔۔۔
نمرہ کو اس پہر جاگتا دیکھ وہاج صاحب کو حیرانگی نہیں ہوئ بلکے انکو یقین تھا نمرہ جاگ رہی ہوگی۔۔۔
دونوں بہن بھائ بلکل خاموش ایک دوسرے کے برابر میں بیٹھے تھے۔۔۔۔
تم کیوں جاگ رہی ہو سو جاو جاکے نمرہ ہماری قسمت کہ سیاہی رات اب ہماری اولاد پر بھی پڑے گی۔۔۔انہیں بھی پتہ چلے گا انکے ماں باپ کیا کرچکے ہیں
بھائ میں مسلسل 21 سالوں سے جاگ رہی دوسروں کی نیندیں اڑا کے انکا۔سکون برباد کرکے کبھی کسی کو سکون کی نیند آئ ہے۔۔۔
وہاج نے اپنے آنکھوں سے بہنے والے اپنے آنسوؤں بے دردی سے صاف کیے اور کہا۔
جنکی مائیں ہماری ماں جیسی ہوتی ہیں نہ نمرہ انکی اولادیں ایسی ہی بے سکون رہتی ہیں ایک دولت کی خاطر رخسانہ بیگم نے چار خاندان اجاڑ دیے۔۔
اپنے بھائ کے منہ سے اپن ہی ماں کا نام سن کے نمرہ نے غور سے وہاج کو دیکھا تھا اور دل کی میں کہا ۔۔
چلو اسکی تو راضا شامل تھی اظہر سے نکاح میں مگر وہاج کی زندگی کو کتھ پتلی بنانے کیساتھ ساتھ امی نے ناصرہ کی بھی زندگی ویران کردی ایک ایسے شخص کی زندگی میں اسے زبردستی شامل کردیا جو دل۔کے ساتھ ساتھ اپنا جسم اپنی روح بھی کسی کے حوالے کرچکا تھا ۔
مرد پہلی بار جسے دل سے محبت کرکے اسے اپنالے تو پھر بیشک ہزاروں عورتیں اسکی زندگی میں اجائے اسکی روح اسکی ذات کی تسکین کا سامان نہیں بنتی۔۔
وہاج صاحب خاموشی سے وہاں سے اٹھے اور اپنے کمرے کی طرف چل دیے انکی چال میں لڑکھڑاہٹ نمرہ بیگم صاف محسوس کرسکتی تھی۔۔۔
#
ہیر ہیر؟
ہیر جو اپنی ہی دھن میں لائبریری سے نکل کے جارہی تھی اپنے نام کے پکار پہ بھی نہیں رکی نجانے کن سوچوں میں وہ چلی جارہی تھی جب زویان نے اسکے قریب آکے اسکا نام اسکے بلکل قریب سے پکارا تو وہ ایک دم ڈر گئ۔۔
کہاں گم ہو اتنی زور زور سے آوازیں دے رہا ہو پوری یونی نے سن لیا مگر جسکو پکار رہا ہو وہ بے خبر ہے۔۔۔
اسلام وعلیکم ۔۔
وہ زویان پتہ نہیں میں شاید اپنی ہی سوچوں میں تھی اسلیے شاید نہیں سنا آپ کیوں دے رہے تھے اوازیں؟؟
ہیر کے آپ کہنے پہ زویان نے غور سے اسکا چہرہ دیکھا تھا۔۔
واقعی میں وہ ایشین خوبصورتی تھی۔۔
وعلیکم السلام۔۔۔۔
زویان نے پہلے اسکے سلام کا جواب دیا جس پہ ہیر کے لب مسکرائے تھے جو زویان دیکھ چکا تھا۔۔۔
مسکرا کیوں رہی ہو؟؟
زویان کے پوچھنے پہ ہیر نے چلتے چلتے کہا۔۔
اچھا لگتا ہے آپکو منہ سے سلام کا جواب ۔۔
اوہہ ہاں ماما سے سیکھا ہے ۔۔
ہممم کون کون ہے اپکی فیملی میں اس دن تو مجھے کوئ دیکھا ہی نہیں آپکے گھر؟
ہیر پوچھ کے چلنے لگی تو زویان نے بھی اسکے قدم سے قدم ملا کے جواب دیا۔۔۔
میں ماما اور بابا۔۔
بس ۔۔۔
اکیلے ہیں آپ ؟؟کوئ بہن بھائ نہیں؟
نہیں بس میں اکیلا ہو اور ماما بابا دادو اور ماموں سے ملنے پاکستان گئے ہیں ۔۔
آپ نہیں گئے؟.اب کے زویان مسکرایا ہیر کے آپ کہنے پہ ۔۔۔
جاؤنگا مگر ابھی سمسٹر تھا تو اسلیے نہیں گیا۔۔
ہمم۔۔۔
لمحہ بھر کیلیے ان دونوں کے درمیان خاموشی ہوئ جسے زویان نے توڑا۔۔۔۔
آپکے گھر میں کون کون ہیں؟
میں بھی اکیلی ہو۔۔۔ہیر نے مسکرا کے کہا مگر اسکی مسکراہٹ میں اداسی تھی جو زویان نے کافی محسوس کی۔۔
اتنا اداس کیوں ہورہی ہو میں بھی اکیلا ہو۔۔۔زویان کے کہنے پہ ہیر نے اپنا بیگ اپنے کندھے پہ صحیح کرتے ہوئے کہا۔۔
آپ اکیلے ہیں مگر آپکے ماما بابا تو ہیں نہ میرے ماما بابا کی ڈیتھ ہوگئ تھی ایک کار ایکسیڈینٹ میں سو آنی کیساتھ رہتی ہو بچپن سے ۔۔
اوہ آئ ایم سو سوری ہیر۔۔۔۔
کوئ بات نہیں زویان۔۔
اچھا ایک بات پوچھو؟
اگر مائنڈ نہیں کرے تو۔۔۔
تمہاری کسی بات کا اب برا نہیں مانو گا پوچھو؟
اس حلیے میں الجھن نہیں ہوتی اپکو؟
ہیر ایک بار پھر اسکے حلیے کو ٹارگیٹ کرتے ہوئے کہا۔۔
زویان نے مسکرا کرکہا۔۔
تم کیسا چاہتی ہو میرا حلیہ؟
میں تو چاہتی ہو کے یہ اپنی آپ لمبی لمبی زلفے کٹ والے ڈھنگ کے کپڑے پہنے یہ ٹیٹو نیٹو سب صاف کروائے اور ۔۔۔
ہیر اپنی ہی دھن میں بولے جارہی تھی جب اسنے زویان کو دیکھا جو بہت غور سے اسے دیکھ رہا تھا۔
۔۔ہیر نے فورا اپنی زبان کو بریک لگائ ۔۔۔
آئ ایم سو سوری میں کچھ زیادہ ہی بول گئ مجھے کیا حق آپکو بدلنے کا آپکی لائف ہے جیسے چاہے گزارے۔۔
زویان پھر بھی خاموش رہا ہیر نے کن اکھیوں سے اسکا چہرہ دیکھا جہاں خلاف تواقع مسکراہٹ تھی۔۔۔
اچھا اب میں چلتی ہو اللّٰہ حافظ۔۔۔
ہیر کو زویان کچھ عجیب لگا اس لیے اس نے فورا وہاں سے بھاگنے میں ہی عافیت سمجھی۔۔۔
#
ایک کام کرو مارو آو مل کے مجھے سارے مارو۔۔
ارے ارے اتنا غصہ کیوں کررہی ہے میں تجھے کونسا ابھی بلا رہی ہو۔۔
شانزے تصور میں صنم کا لال پیلا چہرہ دیکھتے ہوئے اپنی ہنسی روکتے ہوئے کہا۔۔۔اور اسکے لہجے سے صنم اندازہ لگا چکی تھی کے وہ اپنی ہنسی روک رہی ہے ۔۔
ایک کام کر گھننی میسنی اپنی ہنسی کیوں روک رہی ہے قہقہ لگا میری حالت پہ۔
صنم کے بولنے کی دیر کے شانزے نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا ۔۔
تو اپنی گاڑی لانی تھی نہ اوبر میں کیوں ائ۔۔
شانزے اگر تو شام تک تو رک سکتی ہے تو رک ورنہ خود چلی جا شاپنگ کرنے۔۔
مجھے 3 بجے آپی کو پالر سے پک کرنا ہے پھر انہیں ڈارپ کرکے انکے کام سے سنار کے پاس جانا ہے۔۔۔
اچھا چل تو آجا شام تک میں ویٹ کررہی ہو۔۔۔شانزے نے اسکی حالت پہ رحم کھاتے ہوئے اسے شام تک کی مہلت دے دی۔۔
اففف ایک تو اتنی گرمی ہورہی ہے اوپر سے اوبر نہیں آرہی ابھی تک۔۔۔۔
صنم کا برا حال تھا گرمی میں اوپر سے تین بھی بجنے والے تھے اسے عترت کو پالر سے پک کرنا تھا۔۔
ایک بلیک لینڈ کروزر اسکے بلکل پاس اکے رکی ۔۔۔
بلاج جو اپنے کسی کام سے نکلا تھا راستہ میں اسکی نظر صنم پہ پڑی تو اس نے گاڑی روک دی۔۔
اتنی بڑی گاڑی اپنے آگے روکتے ہی صنم تھوڑی گھبراہی مگر جب گاڑی میں بیٹھے شخص کو دیکھا تو اس نے سکھ کا سانس لیا۔۔۔
یہاں کھڑی کیا کررہی ہو ؟
بلاج بھائ آپ ایک منٹ بتاتی ہو۔۔یہ بول کے صنم تیزی سے گھوم کے گاڑی تک آئ تو بلاج نے اسکے لیے گیٹ کھولا۔۔
ایسی میں بے بیٹھتے ہی صنم نے سکون سے اپنی۔انکھیں بند کری اور کہا۔
افف بلاج بھائ بہت گرمی ہے آج ۔۔۔
صنم نے آنکھیں بند کرے کرے کہا۔۔
ویسے تم دونوں بہنوں کو گرمی بہت لگتی ہے۔۔۔
بلاج نے صنم کا لال سرخ چہرہ دیکھ کے عترت کے گرمی میں لال چہرہ تصور میں لاتے ہوئے کہا۔۔
بلاج کی بات پہ صنم نے کن اکھیوں سے بلاج کو دیکھا اور کہا۔۔
واہ بھئ کیا کہنے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے نہیں کے موسموں کی حال میں رہنا بھی پتہ لگ گیا واہ بھئ کیا بات ہے۔۔
صنم کے کہنے پہ بلاج نے مسکرا کے اسکے سر ہلایا۔
تو صنم بھی مسکرانے لگی بلاج کی صورت میں اسے بڑا بھائ جو مل گیا تھا۔۔
بلاج بھائ چھوٹا ہونا بھی کسی سزا سے کم نہیں ۔۔۔
کیوں ؟؟
سارے کام میرے ذمہ ہیں آپی کے ابھی انہیں پالر سے پک کرنا ہے انکی سروس اور مہندی لگوانی تھی آج دوسرا انہیں کے کام سے ایک جیولر کے پاس جانا ہے انہیں گھر چھوڑ کے تیسرا شانزے میرا ویٹ کررہی ہے اسے شاپنگ کرنی ہے۔۔۔
افف بلاج بھائ میں تو آج تھک کے چور ہوجاونگی میں کب مہندی لگوانگی کب فیشل وغیرہ کروانگی۔۔
صنم کی روتلی صورت دیکھ کے بلاج نے گاڑی کا رخ موڑا ۔۔
ارے بلاج بھائ پالر اس طرف ہے ۔۔۔
ہاں مجھے پتہ ہے تم ابھی شانزے کے گھر جارہی ہو باقی کے کام میں کردونگا آپکی آپی کو پک بھی کرلونگا اور جیولرز کا کیا کام ہے وہ بھی بتا دو۔۔۔
بلاج بھائ اگر آپی نے غصہ کیا کے میں نے انکا۔کام آپکو کیوں دیا تو ویسے بھی انہوں نے کہا تھا کے یہ۔کام۔خالی میں کرونگی بنا کسی کو بتائے ماما کو بھی بتانے کو منع کیا تھا۔۔
کونسا ایسا کام ہے ؟؟.بلاج کے چہرے پہ تشویش دیکھ کے صنم نے اسکے آگے ایک کیلوری کا باکس کیا جیسے دیکھتے ہوئے بلاج نے بہت مشکل سے گاڑی کا۔کنٹرول سنبھالا تھا۔۔
یہ دیکھے بلاج بھائ کتنی خوبصورت پائل ہے پوچھ پوچھ کے تھک گئ آپی سے یہ کب لی کہاں سے لی مگر بہت پکی ہیں بتاتی نہیں کچھ بھی اسی کو پالش کروانے کا کام دیا ہے آپی نے کہہ رہی تھی اپنی برات میں پہنوگی۔۔۔
اچھا سامنے دش بورڈ پہ رکھ دو۔۔۔
میں کروادنگا اور آج شام کی مہندی میں دے دونگا تمہیں چپکے سے۔
ہائے سچی بلاج بھائ آپ کتنے سوئیٹ ہیں پتہ عترت آپی کیوں آپکو کھر۔۔۔۔۔۔
آگے کی بات بلاتے بولتے صنم نے خود کو باز رکھا مگر بلاج نے وہی سے صنم کی بات پکڑی اور اپنی انکھیں بڑی کرکے صنم سے پوچھا۔
کھڑوس کہتی ہیں نے تمہارے بہن مجھے۔۔ن
اللّٰہ کا واسطہ ہے بلاج بھائ میری سوئیٹ سے بھائ ہیں نے پلیز پلیز آپی کا مت بولیے گا ۔۔
ارے بھئ میں کیوں بولونگا پاگل ہو ۔بلاج نے فلحال اسے ٹالا۔۔۔
اب بتاؤ کہاں سے ٹرن لو شانزے کے گھر کے لیے۔۔۔
بس یہی روک دے سامنے گلی میں ہے اسکا گھر۔۔۔
صنم کے گاڑی سے اترنے کے بعد بلاج نے گاڑی کا رخ پالر کیطرف موڑ دیا تھا اسکی نظر مسلسل ڈش بورڈ پہ رکھے باکس میں تھی کچھ سوچتے ہوئے اس نے باکس گاڑی میں آگے پیچھے رکھ دیا۔۔۔
سر وہ کہہ رہی ہیں میں خود اجاونگی جب مہندی سوکھ جائے گی آپ جائے۔۔۔
دس منٹ سے زیادہ بلاج کو ہوگئے تھے پالر کا انتظار کرتے کرتے مگر وہ تھی کے باہر ہی نہیں آرہی تھی۔۔۔
عترت کو جب پالر والی نے بتایا کے انکے شوہر انہیں لینے آئے تو عترت کا دل کیا صنم کا گلا دبا دے اب پالر والی کو اپنی شوہر سے ورلڈ وار کا کیا بتاتی اسلیے مہندی کا بہانہ کردیا۔۔
پالر والی یہ بول کے واپس جانے لگی جب بلاج نے انہیں روک کے کہا۔۔
بات سنے سسٹر۔۔۔
جی۔۔
عترت مہندی سوکھ گئ ہیں نہ ۔۔؟
جی سر نہیں وہ ۔۔مطلب۔۔۔۔
دیکھے میں انکا شوہر ابھی یہاں آنے سے پہلے وہ مجھ سے ناراض ہوگئ تھی اسلیے میرے ساتھ نہیں جارہی اگر آپ تھوڑا کاپریٹ کرے تو میں اندر اکے انہیں لے جاو۔۔
پالر والی نے بلاج کی بات پہ اپنے اونر کو کال کرکے سیٹویشن بتائ تو انہوں نے بلاج کو اندرا نے کی اجازت دے دی۔۔
عترت سکھ کا سانس لیے بیٹھی تھی کے چلو جن ٹلا اور وہ صنم کو کال کرنے لگی۔۔
تںبھی اچانک اسے کسی نے گودھ میں اٹھالیا۔
عترت کے تو مانو ہاتھ پاؤں پھول گئے جو اسنے اپنے آپکو بلاج کی گودھ میں دیکھا۔۔
سارے پالر کی ورکر ان دونوں کو دیکھ کے مسکرانے لگی۔
یہ کیا بدتمیزی ہے بلاج نیچے اتارے مجھے۔۔عترت نے دانت پیس کے ہلکے سے کہا۔۔
ارے میری پیاری بیوی کی مہندی سوکھی نہیں نہ تو اس لیے میں نے سوچا اپکی مہندی میں آپکو گودھ میں لے کے سکھ والو۔۔
یہ بول کے بلاج نے غور سے عترت کو دیکھا خوبصورت تو پہلے سے ہی تھی مگر آج سروس کے بعد اور چمک رہی تھے مایوں کے جوڑے میں اسکے جسم سے اٹھنے والی ابٹن کی خوشبو بلاج کا دل بے ایمان کررہی تھی ۔۔
بلاج اسے لے کر جانے لگا جب پالر والی نے کہا ۔
سر یہ میم کے کھوسے؟؟
بلاج نے عترت کا تھوڑا اونچا کرکے صحیح سے لیا تو اسکا سر بلاج کے چوڑے سینے سے لگا بلاج کی ڈھرکن وہ آسانی سے سن سکتی تھی بلاج نے دو انگلیاں آگے کرکے پالر والی کو اشارہ کیا تو اسنے اس دو انگلیوں میں کھوسے تمادءے۔۔
گاڑی کے ڈور جیسے تیسے بلاج نے کھول کے عترت کو بٹھایا تو دونوں کے گال ایک دوسرے سے ٹکرائے ۔۔
عترت فوار اپنی نگاہیں جھکا گئ مگر بلاج اسنے اسکے پاؤں پکڑ کے اس پہ جھک کے اسکی سیٹ کو تھوڑا پیچھے کیا تاکے اسکے پاؤں اسٹریٹ رہے۔۔
بلاج کی ساری کاروائی عترت خاموشی سے دیکھ رہی تھی مگر بولی کچھ نہیں بس دل میں ایک ہی بات بولی۔۔
خیال تو ایسا کررہے ہیں جیسے بڑے عاشق ہیں میرے۔۔
گاڑی میں دونوں ہی خاموش تھے مگر بلاج کا دل چاہ رہا تھا آج عترت اس سے بات کرے مگر عترت نے آج بلاج کی طرف نگاہ بھی نہیں ڈالی تھی۔۔
گاڑی گھر کے پاس روکی تو بلاج نے کہا۔۔
میں چھوڑ کے او اندر؟؟
نہیں شکریہ میں نے خود چلنا سیکھ لیا ہے ۔۔
عترت کس بات پہ طنز کرکے گئ تھی بلاج اچھے سے سمجھ چکا تھا۔۔۔
عترت کو گھر چھوڑ کے بلاج نے جیولرز کا رخ کیا ۔۔
پائل کے ڈبہ کو جب شاپ والے نے کھولا تو اس کے نیچے سے ایک گلاب نکلا سوکھا ہوا بلاج نے کچھ دیر اس گلاب کو دیکھا اور اپنی جیب میں رکھ لیا۔۔
سر کل صبح تک ہوگی یہ پائل ۔۔؟
ٹھیک ہے اس پہ آپ چاندی کا ہی پانی پھیرے اور وہ جو سامنے رنگ رکھی ہے نہ اس پہ مجھے نام چاہیے ۔۔
جی سر ہو جائے گا کیا نام لکھو ۔۔۔
“عترت بلاج”
جاری ہے۔۔۔
