Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 59

ہنزہ رات بھر سے ڈیوٹی دے رہی تھی ۔۔۔
صبح تقریباً 7 بجے وہ گھر ائ تھی۔۔۔
منہ ہاتھ دھو کے وہ باہر نکلی تو بازل کے ہاتھ میں ناشتے کی ٹرے تھی۔۔
آجاؤ ہنزی مل کے ناشتہ کرتے ہیں!!
بازل نے ناشتے کی ٹرے بیڈ کے درمیان میں رکھ کے ہنزہ سے کہا۔۔
اسنے سوچ لیا تھا ہنزہ اسے کتنی ہی طنزیہ باتیں کہے مگر وہ اپنے اور اسکے درمیان سب صحیح کرکے رہے گا۔۔۔
ہنزہ اسے اگنور کرکے کمرے سے جانے لگی جب بازل نے ایک دم اسکا ہاتھ پکڑ کے کہا۔۔
میں ناشتہ لایا ہو ہنزہ ناشتہ تو کرلو کھانے سے کیسی دشمنی!!!
میں کیوں کھانے سے دشمنی نکالو نگی!!!
ہنزہ نے یہ کہہ کے اپنا ہاتھ تیزی سے بازل کے ہاتھ سے چھڑوایا۔۔۔۔
مجھے تمہارے ساتھ بیٹھ کے تمہارے ہاتھ کا بنا ناشتہ نہیں کھانا ۔۔۔
یہ بول کے ہنزہ دوبارہ کمرے سے جانے لگی جب بازل نے اسے اس بار کمر سے پکڑ کے خود سے لگایا اور کہا۔۔
میرے غصہ کو ہوا مت دو ہنزہ بازل بہت پچھتاؤ گی!!!!
پچھتاوا تو اب ساری زندگی کا ہے بازل کے میں اس شخص کی بیوی ہو جو چند دن پہلے میری عزت کو نیلام کرنے والا تھا جس نے مجھے ہوس کا نشانہ بنانا چاہا صرف اپنے ذاتی مفاد کیلئے ۔۔۔
یہ بول کے ہنزہ نے ایک بار بار پھر بازل کو خود سے چھڑ وایا۔
میں ان سب کیلئے تم سے اس وقت بھی اور ابھی بھی معافی مانگ چکا ہو۔۔
تمہارے معافی مانگنے سے کیا میرا ٹوتا ہوا مان جڑ جائے گا میری محبت پہ میرا بھرم دوبارہ قائم ہوپائے گا۔۔
بھاڑ میں گئ تمہاری معافی۔۔۔۔۔۔
تم مرد اپنے اپکو سمجھتے کیا ہو ؟؟
بڑے سے بڑا ظلم عورت کیساتھ کرلیتے ہو بعد میں دیدا دلیری سے معافی مانگنے آ جاتے ہو شرم نہیں اتی کوئ غیرت نہیں آتی اسی عورت کے سامنے دوبارہ جانے سے۔۔۔
بازل سینے پہ ہاتھ باندھے فرصت سے ہنزہ کا سارا غصہ دیکھ رہا تھا اسے پتہ تھا وہ غصہ میں ہے !!
کان کھول کے ایک بات اپنے دماغ میں بیٹھا لو۔ !!.
تم سے نکاح میں نے اس خاندان کی عزت بچانے کیلیئے کیا تھا محبت کی وجہ سے نہیں !!!!
محبت تو اسی دن ختم ہوچکی تھی جس دن تم نے ہماری دوستی کو ہمارے ساتھ کو ایک ہوس کی نظر کرنے والے تھے۔۔
کچھ دنوں بعد میں تم سے خلا لے لونگی ائ سمجھ !!
ہنزہ کا اتنا بولنا تھا کے بازل نے اگے بڑھ کے اسے اپنے قابو میں کیا اور لیجا کے پیچھے الماری سے لگایا۔۔
بازل چھوڑو مجھے !!!!
ہنزہ اپنے ہاتھ پاؤں چلانے لگی بازل کا وجود اپنے اپ سے چھڑوانے کیلیے۔۔۔
کیا کہا پھر سے کہو؟؟؟
بازل نے انکھوں میں آنسوؤں لیے ہنزہ سے پوچھا!!
ہنزہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر اسکی انکھوں میں آنکھیں ڈال کے کہا۔
وہی جو تم نے سنا میں تم سے خلا اس سے پہلے ہنزہ اپنا پورا جملہ مکمل کرتی بازل پورے استحاق سے اسکے لبوں پہ جھک گیا ۔۔
اسکے دونوں ہاتھ اپنے ایک ہاتھ پہ قابو کرکے اپنا دوسروں ہاتھ اسکے پورے جسم پہ چلانے لگا۔۔۔
بازل کے اس عمل سے ہنزہ ہچکیوں سے رونے لگی مگر بازل کو اس پہ رحم نہیں ایا۔۔
چند منٹ بعد اس نے ہنزہ کے وجود کو اذاد کیا تو ہنزہ اسی ۔پوزیشن میں الماری سے لگ کے کھڑی رہی جس پوزیشن میں بازل نے اسے چھوڑا تھا ۔
پہلے میں نے سوچا تھا میں نے واقعی گناہ کیا تھا تمہیں پانے کیلئے تمہارے ساتھ زبردستی کرکے مگر اج مجھے یقین ہوگیا ہے کے میری بے جا محبت اور کئیر نے تمہیں عرش پہ بیٹھا دیا ہے اور وہاں بیٹھ کے تم اپنے اپکو کوئ اپسرا سمجھنے لگی ہو اور مجھے حقیر۔۔
ایک بات کان کھول کے سن لو ہنزہ بازل!!!
تم پہلے میری محبت تھی مگر اب میری ضد ہو مجھ سے دور جانے کا خیال نکال دو اپنے اس بیکار دماغ سے بازل نے باقاعدہ اسکی دماغ کے سائیڈ پہ اپنا ہاتھ مارا۔۔
تمہیں چھوڑونگا نہیں کسی قیمت پہ بھی بلکے تمہیں اس قابل نہیں چھوڑونگا کے تم مجھے چھوڑ سکو۔۔۔
یہ بول کے بازل کمرے سے جانے لگا ابھی اس نے اپنا ایک پاؤں کمرے کے باہر ہی رکھا تھا کے ناشتے سے بھری ٹرے اسکے سائیڈ کی دیوار پہ اکے زور سے لگی۔
ہنزہ نے غصہ میں کہا۔۔
تم سے تو کیا تمہارے وجود سے تمہارے سائے سے بھی مجھے نفرت ہے اپنا یہ محنوس چہرہ ائیندہ مجھے مت دیکھانا بازل۔۔
اتنا کہہ کے ہنزہ واش روم میں بند ہوگئ۔۔
بازل نے ایک نظر ذمین پہ پڑی ناشتے کی ٹرے کو دیکھا اور خاموشی سے کمرے سے نکل گیا۔۔۔
!!!!!!!!
نمرہ زویان اور ہیر ایک ہی گاڑی میں تھے۔۔۔
گاڑی گھر کے اندر داخل ہوئ نمرہ نے جب اترنے لگی تب اسنے دیکھا کے ہیر بے خبر سوئ ہوئ ہے۔۔
زویان یہ تو سو رہی ہے !!!
اپ جائے میں اسے لاتا ہو۔۔۔۔
نمرہ نے ہاں میں گردن ہلائ اور اندر بڑھ گئ۔۔
زویان نے پیچھے کا دروازہ کھول کے ہیر کو آواز دی۔۔
ہیر ہیر!!
مگر ہیر اتنی بے خبر سورہی تھی کے اسنے اتنے قریب سے اتی زویان کی اواز کو بھی نہیں سنا۔۔
زویان نے ایک نظر اسے دیکھا۔۔
اپنے چاروں طرف اسنے چادر لپیٹے ہوئ تھی پاؤں سیٹ کے اوپر رکھ کے سو رہی تھی۔
زویان نے غور سے اسکا چہرہ دیکھا اج بھی وہ پہلے کی طرح معصوم تھی بس فرق تھا تو اتنا اب اسکے دل میں زویان نہیں تھا۔۔
زویان نے کچھ سوچتے ہوئے پہلے اسکے کھوسے اپنے ہاتھ میں لیے اور پھر جھک کے اسے اپنی گودھ میں اٹھالیا اور ارام سے گاڑی کا دروازہ بند کیا۔۔
زویان اسے لے کے ارام ارام سے چلنے لگا۔۔
ہیر نے نیند میں ہی زویان کے شرٹ کو تھاما اور اسکے سینے سے اپناسر لگالیا!!!
ہیر کی اس حرکت سے زویان کا دل بے ایمان ہونے لگا پل بھر کیلئے اس قدم رک گئے مگر پھر اس نے اپنے قدم بڑھائے اور دل میں کہا۔۔
زیادہ خوش مت ہو زویان اظہر ابھی نیند میں ہے ہوش میں وہ تیرے سینے پہ اپنی گردن نہیں بلکے تیرا گلا ہی دبائے گی۔۔۔
بہت آرام سے اس نے ہیر کو اس کے کمرے میں لیٹایا اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھ کے اس نے اسے چادر اڑائ چادر اڑا کے وہ جیسی ہی پلٹا چونک کے ایک دم وہ دوبارہ ہیر کی طرف گھوما۔۔
اسنے ہیر کا سیدھا ہاتھ تھاما تو پل بھر کیلئے حیران ہوکے اس نے دوبارہ سوئ ہوئ ہیر کا چہرہ دیکھا
ہیر جسکے سیدھے ہاتھ کی تیسری انگلی میں اج بھی زویان کی دی ہوئ پرپوز ڈے والی رنگ تھی۔۔۔
یعنی یہ اج بھی مجھ سے محبت کرتی ہے؟؟
زویان نے خودی خودی اندازہ لگایا۔۔
زویان نے کچھ سوچتے ہوئے بہت ارام سے اسکے ہاتھ سے رنگ نکال لی۔۔۔

#

ماما مجھے اپ سے بات کرنی ہے؟؟
ہیر کے کمرے نے نکل کے زویان نے نمرہ بیگم کے کمرے کا رخ کیا۔۔
نمرہ بیگم جو ابھی ابھی شکرانے کے نفل پڑھ کے بیٹھی تھی زویان کے کہنے پہ انکا دل انہونی خدشات سے ڈرنے لگا۔۔
ہاں بیٹا بولو!!!!
ماما مجھے یہ بات تو پہلے سے پتہ تھی کے پاپا کی اپ دوسری وائف ہیں میں نے کئ بار پاپا کو اپ سے کہتے سنا تھا کے میں نے تمہارے لیے شاہجاں کو دھوکا دیا۔۔۔
اج اپ مجھے خلاصہ کرے ماما کونسا دھوکا دیا پاپا نے اور اپنے شاجہاں انٹی کو ؟؟
کیوں صنم پاپا سے اتنی بدگمان ہے؟؟
مجھے سچ جاننا ہے ماما؟؟؟
نمرہ بیگم ایک ٹھنڈی اہ بڑھ کے بیڈ پہ بیٹھ گئ جس سوال کا سامنا کرنے سے وہ ڈر رہی تھی اج وہی سوال انکے سامنے انکا بیٹا دہرا رہا تھا۔۔
نمرہ بیگم نے سب کچھ سچ سچ زویان کو بتا دیا!!!
ساری بات جاننے کے بعد زویان سکتے میں تھا اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کے کیا بولے۔۔۔۔۔
ماما اپنے اپنی لالچ میں زبردستی کی محبت پانے تعویز گنڈو کا استمال کیا۔۔
شاہجاں انٹی کی دوست ہوکے انکے شوہر پہ ہاتھ ڈالا۔۔۔
افف ماما یہ کیا کیا اپنے؟؟.
زویان ایک دم چیخ پڑا۔۔۔
ایک لڑکی کی ذات کو پیدا ہونے سے پہلے سوالیہ نشان بنادیا۔۔۔
مجھے شرم اراہی ہے ماما اپنے اپ سے ۔۔۔
سلام ہے صنم کو وہ اپکو اور پاپا کو اپنے سامنے برداشت کرتی ہے چپ رہتی ہے۔۔
واقعی اعلیٰ ضرف کی مالک ہے شاہجاں انٹی کے انہوں نے اپکو معاف کردیا نانی کو معاف کردیا پاپا کی تکلیف پہ وہ ٹرپ گئ ۔۔
مگر صنم اتنی ذلت کی حقدار نہیں وہ اپنی جگہ بلکل ٹھیک ہے پاپا کو کوئ حق نہیں اسکی زندگی کا کوئ بھی فیصلہ کرنے کا۔۔
وہ اپنی انکھوں کے سامنے اپ دونوں کو برداشت کرتی ہے یہ ہی اسکے ضرف کی مثال ہے اسکی جگہ اگر میں ہوتا تو پتہ نہیں اپ دونوں کے ساتھ میں کیا کر بیٹھتا
اس شخص کا نجانے کیا حال کرتا جس نے میرا وجود میری شخصیت کو سوالیہ نشان بنادیا۔۔
یہ بول کے زویان غصہ میں کمرے سے نکل گیا اور نمرہ بیگم ایک بار پھر پچھتاوے کی اگ میں جلنے لگی۔۔

#

بہزاد کافی دیر سے شانزے کا انتظار کررہا تھا وہ صبح ہی صنم کیساتھ ہسپتال سے نکل گئ تھی بہزاد دوپہر میں ایا تو اسے پتہ چلا شانزے ابھی تک گھر نہیں ائ پہلے اسے پریشانی ہوئ مگر جب اسکے نمبر پہ شانزے کا ٹیکس ایا کے وہ شام تک گھر اجائے گی ابھی صنم کیساتھ ہے تو وہ ریلکس ہوگیا شام سے رات ہونے کو تھی مگر شانزے کا کچھ پتہ نہیں تھا اس پہلے بہزاد غصہ میں کمرے سے نکلتا شانزے نے کمرے میں قدم رکھا۔۔
تم نے کہا تھا شام تک آجاؤ نگی !؟
بہزاد نے غصہ میں شانزے سے پوچھا!!!
شانزے نے اپنا بیگ سائیڈ میں رکھا اور بیڈ پہ تقریباً لیٹتے ہوئے کہا۔۔
ہاں میں صنم کیساتھ تھی اسلیے لیٹ ہوگئ۔۔۔
اپ کو بتایا تھا میں نے دیر سویر ہوجاتی ہے ۔۔
یہ بول کے شانزے بہزاد کو اگنور کرکے جانے لگی تب بہزاد نے اسکا ہاتھ تھام کے کہا۔۔
مجھ سے کس بات کی ناراضگی ہے شانزے میں نے کیا کیا ہے؟؟
بہزاد اس ٹاپک کو نہ ہی چھیڑے تو بہتر ہوگا !!
یہاں بیٹھو ۔۔
بہزاد نے اسے صوفے پہ بیٹھایا اور کہا۔۔
اب بتاؤ میرا کیا قصور ہے؟
بہزاد صنم کا کیا قصور ہے یہ بتائے مجھے۔۔۔
کیوں اسے ہر دفعہ تنہائ کی سزا سنائ جاتی ہے کیوں ہر دفعہ اسے شاہجہاں انٹی ذلیل کرتی ہیں۔۔
اب نے بھی اسے ہی قصور وار ٹہرایا۔۔۔
کیوں؟؟
شانزے تم جانتی ہو اظہر بھائ کی حالت اگر انہیں کچھ ہوجاتا تو۔۔۔
میں یہ سب نہیں جانتی بہزاد اپنے خالی صنم پہ نظر رکھی ہوئ تھی میں نے اسکے ساتھ وقت گزارا ہے۔۔
پچپن سے میں اسکے ساتھ ہو۔۔
اگر اظہر انکل نے اسکے ساتھ ناانصافی کی تو انصاف شاہجہاں انٹی نے بھی نہیں کیا۔۔
12 سال کی بچی تپتی ہوئ دھوپ میں سزا میں اسلیے کھڑی ہوتی تھی کیونکہ اسکی ماں کے پاس اسکو پڑھانے کا ٹائم نہیں ہوتا تھا ۔
جس دن رزلٹ ہوتا تھا سب کے پیرنٹس اتے تھے مگر صنم کی ماما بزنس میٹنگ میں مصروف ہوتی تھی۔۔
صنم جب بالغ ہوئ تو اگے کے معملات اسکی ماں کے ہوتے ہوئے میری ماں نے سمجھائے۔۔۔
کیوں بہزاد کیوں؟؟
عترت اپی کی واہ واہ کرتے نہیں تھکتی تھی انٹی اور صنم کی چھوٹی سی غلطی پہ بھی شاہجاں انٹی اسے باپ کا طعنہ دینا نہیں بھولتی تھی۔۔
کیوں بہزاد کیوں ؟؟
کیا وہ اپنی مرضی سے دنیا میں ائ تھی ۔۔
جب صنم 7 سال کی تب شاہجاں انٹی نے اسے اسکی شرارت پہ پہلا تھپڑ یہ کہہ کے مارا تھا۔
باپ تو پہلے ہی اسکی وجہ سے مجھے زمانے میں رسوا کر گیا اب یہ بھی میرا نام خراب کرے گی۔۔
اسکی شرارت کیا تھی خالی یہ کے اسنے سامنے والی آنٹی کی دروازے کی بیل بجائ تھی وہ بھی اس وجہ سے کے انکا کتا گھر سے کودنے کی کوشش کررہا تھا۔۔
شانزرے روتے روتے صنم کے ساتھ ہوئے ظلم گنوا رہی تھی۔۔
اظہر انکل کی اج شاجہاں انٹی کو اتنی لگ رہی ہے کے انکی زندگی کی دعائیں مانگ رہی ہیں تو پہلے معاف کردیتی نہ انہیں تہ کے ایک لڑکی کی ذات تو مجروح نہں ہوتی اسے یہ طعنہ تو سننا نہیں پڑتا کے اس محنوس کی وجہ سے اسکا باپ چھوڑ کے گیا۔۔
کاش یہ پیدا ہی نہیں ہوتی۔۔
ایک شخص کو دل میں جگہ دی تھی اس پہ بھروسہ کرنا شروع کیا تھا مسکرانے لگی تھی صنم بھولنے لگی تھی اپنا پچپن تو اسنے بھی اپنی اوقات دیکھا دی ۔۔
اب جب وہ اپنے حق کیلئے بولی تو اسے ہی قصور وار بنادیا اپ سب نے۔۔
شانزے بے تحاشہ رو رہی تھی ادھر بہزاد بھی خاموش تھا اسے اندازہ نہیں تھا کے اسکی ملکہ اس بچی کو اس جرم کی سزا بچپن سے دیتی ائ ہے جو اسنے کیا ہی نہیں۔
بہت تکلیف تھی نہ سب کو صنم سے اسکی ذات سے چلی گئ ہے وہ سب سے دور کبھی واپس نہ انے کیلئے ۔۔۔۔
کہاں گئ ہے صنم شانزے مجھے بتاؤ !!!
بہزاد نے پریشان ہوے پوچھا۔۔
کوئ ضرورت نہیں اپکو اسکے لئے پریشان ہونے کی اپ صرف اپنی ملکہ اپنے بھانجے کیلئے پریشان ہو۔۔
قسم ہے اپکو بہزاد اگر اپنے یہ بات شو کی کے صنم گھر پہ نہیں ہے یہ چلی گئ ہے کہیں۔۔!!
اگر اپنے ایسا کیا تو یقین جانے میں اپ سے کبھی بات نہیں کرونگی۔۔
شانزے یہ بول کے کمرے سے چلی گئ۔۔
جاری ہے۔۔