Rate this Novel
Episode 15
داستان عشق محبت 🔥❣️
از قلم مریم عمران ✍️
قسط نمبر #15
مجھ سے جو نظریں چرانے لگے ہو۔۔
لگتا ہے کوئ اور گلی جانے لگے ہو۔۔۔
بازل نے ہنزہ کے کمرے کے بیچ وبیچ کھڑے ہوکے گانا شروع کردیا۔۔
ہنزہ جو تین دن سے کمرے میں بند ہوکے اپنے فائنل ٹرمز کی تیاری کررہی تھی۔۔
سب سے ہی تقریبا اس نے بات چیت بند کری ہوئ تھی کھانا بھی وہ اپنے کمرے میں منگوا لیتی تھی۔۔
ہنزہ جو آج سیکنڈ لاسٹ پیپر دیں کے آئ تھی اور لاسٹ پیپر کی تیاری کررہی ہے تھی بازل کے گنگنانے پہ وہ اچھی خاصی بھرم ہوچکی تھی۔۔
بازل کے بچے سیدھی۔۔ابھی ہنزہ کی بات منہ میں ہی تھی کے بازل نے فورا موقع سے فائدہ اٹھا کے کمرے میں گھس کے کمرے کا دروازہ بند کرکے کہا۔۔
ہائے کیا کہا بازل کے بچے ۔۔
کہاں ہے کدھر ہیں میرے بچے ؟
ہائے اللّٰہ کب آئینگے میرے بچے۔۔ویسے میرے کتنے بچے تم افورڈ کرسکتی ہو۔
بازل نے مجنوں والے اسٹائل میں دیوار پہ اپنا سر مارتے ہوئے کہا۔
بہت ہی کوئ بیہودہ انسان ہو تم بازل ابھی اسی وقت میرے کمرے سے دفعہ نہیں دفعان ہوجاو۔۔
ہیں کیا کہا بیہودہ؟؟
میڈم کونسی بیہودہ حرکت کی میں نے آپکے ساتھ ۔۔
آپکے لبوں کو چوما کیا ایسے میں نے ۔۔
بازل نے اسے کمرے سے تھام کے تیزی سے اسکے لبوں کو چوم کے کہا۔
یہ پھر کبھی آپکی گردن پہ ایسے لب رکھے میں نے۔۔
بازل نے اسے تیزی سے گھما کے اسکے بال ہٹا کے اپنے لب رکھتے ہوئے کہا۔۔
ہنزہ تو ہکا بکا رہ گئ یہ اسکے ساتھ ہوا کیا۔۔
یہ کبھی میں نے ایسے تمہیں کمر سے تھام کے خود سے قریب کرکے تمہارے ماتھے کو چوما۔۔
بازل نے اسےکمر سے تھام کے ماتھے پہ اپنے لب رکھتے ہوئے کہا۔
بس وہی ہنزہ کو غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا اور وہ بازل سے نگاہیں چرانے لگی۔۔
بازل کے لبوں پہ بہت ہی دلکش مسکراہٹ آئ اسے اندازہ تھا وہ اپنا مقصد میں کامیاب ہو چکا ہے چھوٹی موٹی گستاخی کرکے۔۔
اچھا اوپر تو دیکھو میری طرف۔۔
بازل نے اسے خود سے لگائے لگائے کہا۔۔
نہیں تم جاؤ یہاں سے پلیز پڑھنے دو۔۔
ہنزہ نے بنا اسکی طرف دیکھے اسے خود سے دور کرتے ہوئے کہا۔
اچھا اچھا اترا لو ہنزہ جانی کل لاسٹ پیپر ہیں نہ تمہارا مجھ سے بچ کے دیکھاؤ تم۔۔
ابھی تو جارہا ہو کیا یاد کروگی کیسے سخی عاشق سے پالا پڑا ہے تمہارا۔۔
یہ بول کے بازل بنا اسے تنگ کیے ہنزہ کے کمرے سے چلا گیا۔
بازل کے جاتے ہی ہنزہ کی رکی سانس بحال ہوئ اور شرماتے شرماتے وہ دوبارہ پڑھنے لگ گئ جو کے اب بہت مشکل تھا
۔
!!!!!!!!
پہلا لیکچر وہ لوگ ابھی لے کر نکلے تھے کے زی کے گینگ نے انہیں گھیر لیا۔
بہت ہی ڈھیٹ ہو تم۔لوگ دوبارہ آگئے ۔۔
ہیر نے جنیفر کو دیکھ کے کہا ۔۔
زی جو یونی کے بیچ و بیچ اپنی بائیک روک کے انکا۔راستہ روک چکا تھا اور اچھی خاصی بھیڑ لگا چکا تھا۔۔ہیر کے بولنے پہ اسکے سامنے ایا۔۔
ہیر نے ایک نظر اوپر سے نیچے تک زی کو دیکھا اور کہا۔۔
اب تم کون ہو بھئ ۔۔؟
ہیر نے کچھ سوچتے ہوئے اسے دیکھ کے دوبارہ کہا۔۔اوہہ تم ہو زی۔۔۔
ویسے ہو کس کیٹیگری کے بوائے یہ گرل۔۔
یہ کہہ کے ہیر نے خودی قہقہ لگایا ۔۔
ہیر بس کر۔۔
سدرہ نے زی کا غصہ سے لال بھبھوکا چہرہ دیکھ کے کہا۔
ارے بھئ میں تھوڑی انکا راستہ روک کے کھڑی ہو یہی نمونہ میرے سامنے کھڑا ہے۔۔
ہیر نے ایک بار پھر زی کو نمونہ کہا۔
اس سے پہلے وہ اور کچھ کہتی ہیر کے نمبر پہ خوشی کی کال آنے لگی۔۔
جیسی اس نے بیگ سے موبائل نکالا کال سننے کے لیے
زی نے آگے بڑھ کے اسکا موبائل چھینا اور نیچے زمین پہ زور سےمار کے اسے اپنے پیروں سے کچلا اپنے دوسرے ساتھی۔سے جوس لے کر ہیر کے سر پہ انڈیل دیا۔۔
ساتھ ساتھ اسکے گروپ کے میمبروں کے ہاتھ میں جو جو کھانے کی چیزیں تھی زی نے ایک ایک کرکے ان سے لے کر ہیر پہ انڈیلنا شروع کردی۔۔
ہیر کا سکارف کپڑے بیگ سب ہی خراب ہوچکا تھا ہیر ایک دم سناٹے میں کھڑی تھی۔۔
پوری یونی کے سامنے ہیر کا تماشہ لگ چکا تھا ۔۔
اب کے قہقہ لگانے کی باری زی اور اسکے دوستوں کی تھی۔۔
اب بتاؤ گائز نمونہ کون لگ رہا ہے۔۔
زی کے کہنے پہ سب کا اشارہ قہقہوں کیساتھ ہیر کی طرف گیا۔
ویسے اب تم بتاؤ لگ کیا رہی ہو لڑکی ہہ۔۔۔۔۔
آگے کا جملہ زی کے کہنے پہ ہیر نے نگاہ اٹھا کے زی کو دیکھا ۔۔
کچھ تھا اسکی آنکھوں میں ایسا کے پل بھر کیلیے زی چونکا مگر پھر دوبارہ قہقہ لگانے لگا۔۔
اوو زی تم نے تو بیچاری کے سارے کپڑے خراب کردیے ۔۔
اب دیکھو اس حالت میں یہ بیچاری یونی کیسے اٹینڈ کرے گی ہمیں اسکی مدد کرنی چاہیے۔۔
ماشا نے ہیر کا مزاق اڑاتے ہوئے جیسی ہی سن کھڑی ہیر کے اسکارف کو ہاتھ لگایا۔۔
بس ہیر کی ہمت وہی تک تھی اس نے وہی ماشا کا ہاتھ پکڑا اور ایک زناٹے دار تھپڑ اسکے منہ پہ مارا ۔۔
دو منٹ کیلیے پورے ہجوم میں ماتم چھاگیا۔
ابھی ماشا پہلے تھپڑ سے سنبھلی نہیں تھی کے ہیر کا ایک اور زناٹے دار تھپڑ پڑا اور ماشا وہی زمیں پہ گری۔۔
ہیر نے آگے بڑھ کے زی کا کالر پکڑا۔
اسکی اس ہمت پہ زی نے پہلے اسے دیکھا اور پھر اپنے کالر کو۔
ابھی کے ابھی میں تمہاری اس حرکت کا جواب دے سکتی ہو ۔
مگر افسوس مجھے میری آنی کی نصیحت ہے کے گندگی میں ہاتھ ڈالو گی تو ہاتھ خود کے گندے ہوگے۔۔
ہیر خان اس وقت گندگی کے ڈھیر میں ہااتھ ڈالنے کے موڈ میں نہیں۔
تم۔کیا ہو آج تم خود ثابت کرچکے ہو ایک لڑکی کے منہ لگ کے ۔
پوچھنا ضرور اپنی ماں سے کے تمہاری جینٹک ہے کیا
مرد میں تو تمہارا شمار ہوتا نہیں۔عورت والے بھی تم میں ڈھنگ نہیں ہاں چھکے ضرور لگتے ہو۔۔زی ٹی پی۔
یہ بول کے ہیر نے زی کالر چھوڑا نیچے گری ماشا کے گلے میں پڑا مفلر کھینچ کے اتار کے اپنا منہ صاف کیا اور وہی مفلر زی کے منہ پہ اچھالا اور انگلی دیکھا کے کہا۔
میرے راستے میں اب کبھی مت انا مسٹر زی بھلے ہو میں پاکستانی تو یہ مت سمجھنا کے غیر ملکی سمجھ کے مجھے دبا دوگے۔۔
ہم پاکستانی جہاں جاتے سامنے والے کو اچھے سے سمجھا کے آتے ہیں کے ہم کس ملک سے ہیں۔۔
مگر اس سے پہلے ایک لڑکی ہو اور وہ بھی ایسی لڑکی جو اپنا دفاع خود کرسکتی ہے اسے کسی کتے کی ضروت نہیں تمہاری طرح۔۔
یہ بول کے ہیر نے زی کو اپنے سامنے سے ہٹایا اور چلی گئ ۔
زی کی نظروں نے اسکا دور تک پیچھا کیا اور مسکرایا۔۔
جاری ہے۔۔
See translation
