Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 62 Part 2

ہیر اسکے بے حد قریب تھی اتنی کے اسکے چہرے کی سوجن وہ دیکھ سکتی تھی۔۔
ہیر کی نظر اسکے دل کے مقام پہ گئ جہاں پٹی تھی سائیڈوں کو مشینوں سے کور کیا ہوا تھا اسکے جسم پہ شرٹ نہیں تھی تھی تو صرف مشینوں کی تارے جس نے اسکے جسم کو جکڑا ہوا تھا۔۔
ہیر کی انکھوں سے انسو مسلسل گررہے تھے اس نے بھلے منہ سے کتنی دفعہ بولا تھا زویان کو مرجانے کا مگر دل وہ اپنے ہی کہے ہوئے الفاظوں پہ اللّٰہ نے کرے بولتی تھی۔۔۔
عورت ایک بار جس مرد سے محبت کرلے نہ تو اسکی جگہ کسی کو دیتی ہے نہ اس سے کبھی نفرت کرتی ہے ۔۔۔
ہیر نے اپنا ہاتھ بہت ارام سے زویان کے دل کے مقام پہ رکھا۔۔
ہیر کا ایسا کرنا تھا کے زویان کے دونوں ہاتھ زور زور سے ہلنے لگے۔۔
ہارٹ کی سی ٹی اسکین مشین میں اسکی ہارٹ بیٹ تیز تیز چلنے لگی۔۔
زویان کی انکھوں میں جنبش ہوئ اسکے لبوں نے دھیرے سے کہا۔۔
“ہیر”
ہیر نے بہت غور سے اپنا نام سنا تھا اسنے زویان کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا تو زویان نے بند انکھوں میں بھی اسکا ہاتھ مظبوطی سے تھام لیا۔۔
بہزاد جو ہیر کے اندر جانے کے بعد شیشے کے اس پار سے اندر کا سارا نظارہ دیکھ رہا تھا اسنے زویان کا ہیر کا ہاتھ تھامنے والا عمل بھی دیکھا تھا۔۔
بہزاد نے تقریبا چیختے ہوئے ڈاکٹر کو اواز دی تھی۔۔
دس منٹ بعد ڈاکٹرز زویان کے روم سے باہر نکلے اور کہا۔۔
اسے معجزہ کہہ لے کے زویان کو ہوش اگیا ہے۔۔
ڈاکٹر کی بات سن کے ہیر نے انکھیں بند کرکے ایک لمبی سانس لی تھی وہاں کھڑا ہر نفوس خوش تھا ۔۔
مگر بہزاد سر ایک بات میں اپکو واضح کردو !!
کیا ڈاکٹر !؟
اس بار پوچھنے والے اظہر صاحب تھے۔۔۔
زرا سی بھی کوئ پریشانی یہ کوئ دکھ کوئ تکلیف انکے ہارٹ اٹیک کا سبب بن سکتی ہے۔۔
بیشک انکا دل ڈھڑکنے لگا یے مگر اب انکا دل کمزور ہوچکا ہے ہم انکا دل پہلے طرح مضبوط کرنے کی کوشش کرینگے دوائیوں کے ذریعے مگر اسمیں وقت لگے گا۔۔
یہ بول کے ڈاکٹرز چلے گئے !!!
سب ہی تقریبا خوش تھے جب ہیر نے صائم سے کہا۔۔
بھائ مجھے گھر چھوڑ دے ۔۔
سب ہی کو بہزاد نے زبردستی گھر بھیج دیا اور خود رکنا چاہ۔رہا تھا مگر ڈاکٹر نے انہیں بھی گھر جانے کو کہا کیونکہ ہارٹ پیشنٹ کیساتھ وہاں کسی کو بھی رکنے کی اجازت نہیں تھی وہ لوگ خود دیھان رکھتے تھے ۔

#

بازل جب سے ہسپتال سے ایا تھا بہت چپ چپ تھا۔
زویان کی اس حرکت پہ وہ کچھ سوچنے پہ مجبور تھا۔۔
اس نے ہر طرح سے ہنزہ کو منانے کی کوشش کری تھی معافی تک مانگی تھی مگر وہ تھی کے اسے ایک موقع بھی دینے کو تیار نہیں تھی۔۔
ابھی وہ انہیں سوچوں کو سوچ کے انکھیں موندیں صوفے سے ٹیک لگا کے بیٹھا تھا جب کسی کی باتوں کی اواز پہ اسنے انکھیں کھول کے دیکھا تو ہنزہ کسی سے کال پہ بات کرتی ہوئ اندر آرہی تھی ۔
ہنزہ کی نظر جب بازل پہ پڑی تو وہ اسے ہیں دیکھ رہا تھا اور چند سیکنڈ بعد وہاں سے اٹھ کے اپنے کمرے کی طرف جانے لگا ۔
ہنزہ کی نگاہوں نے اسکا دور تک پیچھا کیا وہ بات بات کرتے کرتے دو پل کیلئے رک چکی تھی ایسا پہلی بار ہوا کے ہنزہ کو دیکھ کے بازل نے اپنا راستہ بدلہ تھا اور یہ بات ہنزہ کے دماغ پہ لگی تھی۔۔

#

وہاج اپ چپ کیوں ہوگئے؟
میری بات سن کے کچھ تو بولے۔۔۔
کیا بولو عترت میں۔۔۔صنم اپنی جگہ صحیح ہے۔۔
انٹی نے کوئ کسر نہیں چھوڑی اسکی ذات کو مجروح کرنے میں ۔۔
واقعی میں اگر شانزے اسکے ساتھ نہیں ہوتی تو وہ اج ایک سائیکو چائلڈ ہوتی۔۔۔
انٹی کا اور صنم کا مسئلہ تھا تم تو کم از کم اس سے اپنے تعلق خراب نہیں کرتی۔۔۔۔
وہاج مجھے بس غصہ تھا اسنے پاپا کیساتھ اسطرح سے بات کری تو !!!
پاپا وہ تمہارے تھے خالی عترت !!
صنم کے وجود کو پیدا ہونے سے پہلے ہی وہ فراموش کرچکے تھے دوسری بیٹی کی پیدائش کا سن کے ہی انہوں نے اپنی محبت سے بیوفائ کی اور بیٹے کی خواہش میں ہی انہوں نے دوسری شادی کی۔۔۔
وہاج مگر !!
اگر مگر کچھ نہیں عترت جب تمہارے اور میرے درمیان بیوفائ کی جھوٹی دیوار ائ تھی یاد ہے ہم چار سال الگ رہے اور واقعی میں اگر مجھے سچائ پتہ نہیں چلتی تو نجانے کتنی دفعہ میں اب تک تمہیں بیوفا سمجھ کے سزا دے چکا ہوتا۔۔
جس پہ بیتی ہے عترت وہی جانتا ہے ۔
میں تم سے بس اتنا کہونگا تمہیں صنم کا ساتھ دینا چاہئے تھا اور میں چاہتا ہو پرسوں تک تم صنم کیساتھ اپنے سارے معاملات کلئیر کرلو کیونکہ اسکے بعد تم کراچی نہیں ا سکو گی ڈیلوری تک۔۔
وہاج نے ایک دو باتیں اور کرکے کال بند کردی کچھ دیر سوچنے کے بعد عترت نے شانزے کو کال کی۔۔۔

#

ویسے ماننا پڑے گا تم تو مجھ سے بھی دو ہاتھ اگے نکلی۔۔۔
بہزاد نے ڈریسنگ کے سامنے بال بناتے ہوئے شانزے کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
جو اپنے ہاتھ پاؤں پہ لوشن لگا رہی ہے تھی۔۔
بہزاد کی بات سن کے اسنے ایک نظر اسے دیکھا اور کہا۔۔
کیوں میں نے کونسا کسی سے گن پوائنٹ پہ نکاح کرا ہے جو میں اپ سے بھی دو ہاتھ اگے ہو۔۔
شانزے کے طعنے پہ بہزاد کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔
اسنے بیڈ پہ چڑھ کے شانزے کے دونوں پاؤں پکڑ کے کھینچے اور اس پہ جھکتے ہوئے کہا۔
تمہارے دماغ میں ابھی تک یہ بات ہے کے میں نے تم سے نکاح تمہاری مرضی کے بغیر کیا۔۔۔
ہاں تو اپ مردوں کے دل ودماغ سے جب عورت کی چھوٹی سے غلطی چھوٹی سے بیوفائی نہیں نکلتی تو اپ مرد حضرات یہ امید خالی عورت سے کیوں رکھتے ہیں کے وہ سب کچھ بھول کے اپنا دل صاف کرلے اور معاف کردے اپکے اگے پیچھے کے سب گناہ ۔۔
شانزے کا اشارہ کس طرف تھا بہزاد اچھے سے جانتے تھا ۔
زویان کو خود اذیت دینا اس بات کی دلیل ہے کے وہ کسی قیمت پہ بھی ہیر کو کھونا نہیں چاہتا۔۔
بھلے ہیر اسکے ساتھ رہنا نہ چاہتی ہو ۔؟؟
بہزاد نے شانزے کے بولنے پہ اسکے بال کان کے پیچھے بہت پیار سے کیے اور کہا۔
ہیر زویان سے بہت محبت کرتی ہے جبھی اسکو تکلیف میں دیکھ کے بیہوش ہوگئ۔۔
میں نے خود اسے سجدے میں اللّٰہ سے اپنے شوہر کی زندگی مانگتے دیکھا ہے یہ اطراف کرتے دیکھا ہے کے وہ نہیں رہ سکتی زویان کے بنا۔
بہزاد کے کہنے پہ شانزے کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئ۔۔
اسنے اپنی آنکھوں کو سکڑتے ہوئے کہا ۔
اچھا !!سن لیا میں نے اپکا لیکچر اب میرے اوپر سے ہٹے۔۔۔
زیادہ ننھے کاکے نہ بنا کرے میرے سامنے اپکو اچھے سے ہتہ تھا صنم کہا ہے!!!.
نہیں سچ میں مجھے نہیں پتہ میں تو اس شہر کا ایک عام سا بندہ ہو۔۔۔۔
بہزاد نے اپنی چہرے پہ کافی مظلومیت لاکے یہ بات کہی ۔
ہاں وہ تو مجھے پتہ ہے اپ کتنے مظلوم اور معصوم شہری ہیں اس شہر کے !! مرتضی کو دیکھ لیا تھا میں نے پاپا کے گھر کے باہر جو آئسکریم والا تو ایسے بن کے ایا تھا جیسے پوری igloo والوں کی آئسکریم وہ اج ہی بیچ دے گا۔۔۔
شانزے نے اتنا سڑا ہوا منہ بنا کے یہ بات کہی کے۔۔
بہزاد کا قہقہ پورے کمرے میں گونجا اور اسنے جھک کے شانزے کے لبوں کو چوم لیا۔
جتنا میں سمجھتا تھا اتنی معصوم ہو نہیں تم اچھی خاصی چالاک ہو۔۔
ہاں ہو اور ایک چالاکی ابھی کرنے والی ہو میں۔۔
اس سے پہلے بہزاد کچھ سمجھتا شانزے نے اسکے ہاتھ پہ زور سے چٹکی نوچی تا کے وہ تکلیف محسوس کرکے اسے چھوڑے مگر افسوس شانزے کے نازک ہاتھوں کی چٹکی ۔۔جو بہزاد کے پھولے مسلز پہ پتہ بھی نہیں چلی۔۔
شانزے نے افسوس سے بہزاد کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
اپکو پتہ نہیں چلا میرا نوچنا۔۔۔۔
نہیں نہ جان مگر ایک ٹرائ تم نے کرا مجھےخود سے دور کرنے کا اب ایک ٹرائ میں کرونگا تمہیں مدہوش کرنے کا۔۔
اس سے پہلے شانزے کچھ سمجھتی بہزاد اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں قابو کرکے اسکی گردن پہ جھک چکا تھا ۔۔۔

#

ہاں ہاں نوشی تم نکلو میں تمہیں راستے میں پک کرتا ہو ۔۔
باذل نے ہہ کہہ کے کال کٹ کی جب اچانک اپنے سامنے ہنزہ کو کھڑا پایا جو بہت ہی مشکوک انداز میں اسے دیکھ رہی تھی۔۔
مگر بازل نے اسے اگنور کیا اور اسکے سائیڈ میں سے نکل کے ناشتے کی ٹیبل پہ ایا۔۔
اسٹڈی کمپلیٹ ہونے کے بعد بازل نے اب اپنے بابا کا بزنس جوائن کرلیا تھا۔۔۔
سب ہی ناشتے میں مصروف تھے جب بابر صاحب نے فہیم صاحب کو مخاطب کرکے کہا۔۔
فہیم اج این جے گروپ کیساتھ میٹنگ ہے۔۔
جی بھائ !!
تو پھر ہم لوگ ایک ساتھ نکلتے ہیں۔۔۔
بھائ ایک پروبلم ہے۔!
کیا فہیم ؟؟
بھائ وہ گاڑی کل سے بہت تنگ کررہی تھی اسلیے بننے دی ہے میں نے ابھی ایک ہفتہ لگے گا!!
اپکی والی گاڑی جابر (ڈرائیور ) اپکے کسی کام سے لے کے گیا ہے۔۔
اوہو یہ تو مسئلہ ہوگیا۔
بابر صاحب نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
ارے پاپا اور تایا اپ لوگ میری گاڑی لیجائے میں کریم سے چلی جاؤں گی۔۔۔
ارے بیٹا کریم سے کیوں بازل چھوڑ دے گا تمہیں!!
بابر صاحب کے کہنے پہ ہنزہ نے ایک نظر بازل کو دیکھا تھا مگر اسنے ایک نگاہ بھی ہنزہ پہ نہیں ڈالی اور خاموشی سے ناشتہ کرنے لگا۔۔

#

بازل گاڑی سے ٹیک لگائے اسکا ویٹ کررہا تھا اسکے اتے ہی وہ گاڑی میں بیٹھ گیا ہنزہ بھی خاموشی سے گاڑی کا فرنٹ ڈور کھولنے لگی جب بازل نے کہا۔۔
پیچھے بیٹھ جاو مجھے اپنی ایک دوست کو پک کرنا ہے۔۔
ہنزہ کو لگا اس نے کچھ غلط سنا ۔۔اسکے دل میں کچھ چھن سا توٹا۔۔۔
ایسا پہلی بار ہوا تھا کے بازل نے اسکے لیے گیٹ نہیں کھولا تھا خود جھک کے اسکی سیٹ بیلٹ نہیں باندھی تھی۔۔۔
ہنزہ خاموشی سے پیچھے بیٹھ گئ۔۔
بازل نے گاڑی اسٹارٹ کرکے اگے بڑھا دی۔۔
بازل نے کچھ سوچتے ہوئے میوزک پلے اون کیا۔۔
“مجھے لگتا ہے کے باتیں دل کی۔
ہوتی لفظوں کی دھوکے بازی۔۔۔
تم ساتھ ہو یہ نہ ہو کیا فرق ہے۔۔”ہنزہ نے سامنے مررر پہ دیکھے تھا مگر وہاں صرف بازل کی انکھیں نظر ائ تھی جو سامنے مرکوز تھی۔۔
ایک دم گاڑی کو بریک لگا۔۔
ہنزہ جو اپنی دھن میں مگن تھی ایک دم گاڑی رکنے پہ دیکھا تو ایک بہت ہی خوشگوار شکل کی لڑکی بازل کی فرنٹ سیٹھ پہ اکے بیٹھی۔۔
ہنزہ نے ایک آ ئیبرو اچکا کے اسے دیکھا ۔۔
اففف شکر ہے بازل تو ٹائم پہ اگئے۔۔
میڈم اپ کہے اور بازل نہ ائے ایسا ہوسکتا ہے۔۔
میٹنگ کب کی ہے۔۔؟؟
ابھی بس ایک گھنٹے بعد ۔۔
شکریہ بازل تمہاری وجہ سے مجھے یہ جاب ملی۔۔
ارے نوشی میری وجہ سے نہیں تمہیں تمہاری قابلیت نے جاب دلوائ ہے۔۔
وہ دونوں اپس میں باتیں کررہے تھے اور پیچھے بیٹھی ہنزہ کا وجود بازل بھلا چکا تھا۔
تب اچانک نوشی کی نظر پیچھے بیٹھی ہنزہ پہ پڑی۔۔
ارے یہ بیوٹی فل لیڈی کون ہے بازل ؟؟
کزن ہے میری۔۔
بازل کے تعارف پہ ہنزہ کی نظر فورا بازل پہ گئ !!
نوشی وقفے وقفے سے اس سے بات کررہی تھی۔۔
ہسپتال کے پاس گاڑی روکتے ہی ہنزہ اتر کے اندر جانے لگی۔۔
جب بازل نے تیزی سے گاڑی اگے بڑھا دی جسکا پیچھا ہنزہ کی نگاہوں ںے دور تک کیا۔۔
جاری ہے۔۔