Rate this Novel
Episode 22
داستان عشق محبت 🔥❣️
از قلم مریم عمران ✍️
قسط نمبر #22
زی کا آج موڈ تو خراب ہو ہی چکا تھا جسکی وجہ سے وہ یونی کے پارکنگ ایریا میں بیٹھا مسلسل اسموکنگ کررہا تھا۔۔
ماشا کو وہ منا چکا تھا۔۔
مگر پھر بھی اسکو آج عجیب سی بے چینی ہورہی تھی اور وہی بیچینی دور کرنے کیلیے وہ سگریٹ پہ سگریٹ پی رہا تھا۔
سامنے گیٹ پہ اسکی نگاہ تھی اور اسکا انتظار شاید ختم ہوا تھا وہ سدرہ کے ساتھ یونی میں اینٹر ہوئ تھی۔۔
زی اسے مسلسل دیکھ رہا تھا اور ماشا کا بس نہیں چل رہا تھا کے ہیر کو کہی غائب کروادے۔۔
ہیر جو سدرہ سے باتوں میں مگن تیز تیز قدم اٹھاتی ہوئ اپنا اسائمنٹ جمع کروانے جارہی تھی اچانک کسی سے ٹکرائ۔۔
روبرٹ اور اسکے دوست جان بوجھ کے ہیر سے ٹکرائے تھے اور یہ بھی زویان دیکھ چکا تھا۔۔
اندھے ہو دیکھ کے نہیں چلتے؟
ہیر نے انگلش میں ان لوگوں کو ڈانٹا۔
نو بی بی۔۔
یہ کہہ کے روبرٹ نے جیسی ہی ہیر کا گال چھونا چاہا زی فورا درمیان میں اگیا۔
روبرٹ اسٹے آوے رائٹ ناو۔۔
یہ ڈونٹ انٹر فئیر دس میٹر ہو گو آوے رائٹ ناو۔۔روبرٹ نے تقریبا زویان کو دھکا دیتے ہوئے کہا
(روبرٹ اس سے دور رہو۔۔
تم اس مسئلے میں نہیں گھسو زی جاؤ یہاں سے ابھی۔)
آپ جاؤ ۔
زی نے پلٹ کے ہیر کو دیکھ کے کہا۔۔
ہیر نے موقع غنیمت جانی اور جیسی جانے لگی روبرٹ ۔ے دوبارہ اسکا راستہ روکا۔۔
زی نے اسی وقت ایک زور دار مکا روبرٹ کے منہ پہ جڑ دیا۔۔
دیکھتے دیکھتے ان دونوں کی ہاتھا پائی ہوگئ۔۔
ہیر اور سدرہ تو کافی گھبرا گئ تھی۔۔
پرنسپل کے آنے پہ معملہ تھاما دونوں کو لاسٹ وارننگ دے کر چھوڑ دیا گیا۔۔
ہیر کا نام اناونس ہوتے ہی ہیر اسائمنٹ جمع کروانے پہنچی مگر اسکا اسائمنٹ تو موجود ہی نہیں تھا۔۔
سدرہ میرا سائمنٹ نہیں یے؟
کیا کیا بول رہی ہے بہن تجھے پتہ ہے نمبر کٹ جائنگے ہمارے سسپینڈ کردیا جائے گا ہمیں دو دن کیلیے۔۔
کہی تو ہاسٹل میں تو بھول کے نہیں ا گئ۔۔؟؟
نہیں نہیں میں لائ تھی جب اس لفنگے نے میرا راستہ روکا تھا تب تک میرے ہاتھ میں تھا۔۔
ہیر تقریبا رونے لگی۔۔
جب پیچھے سے زی نے اسے پکارا۔۔
ہیر؟؟
اپنے نام کی پکار پہ وہ پلٹی تو زویان کھڑا تھا اسکے ہاتھ میں کچھ تھا جو اس نے ہیر کو دیتے ہوئے کہا۔۔
یہ اپکا۔یےشاید آپکا نام لکھا ہے وہی گرگیا تھا ۔۔
ہیر نے دیکھا تو وہ اسکا اسائمنٹ تھا۔۔
ہیر نے خوشی خوشی وہ لے لیا اور آگے بڑھ گئ مگر کچھ یاد آنے پہ جیسی پلٹی تب تک زی جا چکا تھا۔۔
سدرہ اور ہیر دونوں ایک دوسرے کو دیکھا اور آگے بڑھ گئ۔۔
#
دو دن ہے نکاح میں میرے تو بہت ہاتھ پاؤں پھول رہے ہیں کیسے ہوگا سب ابھی دعوت نامہ بھی دینے ہیں
۔۔اماں!!!!!!
شاہجاں بیگم کیٹرنگ والے کو آڈر دے کے بیٹھی تھی کچھ سوچتے ہوئے انہوں نے دائ جان سے کہا۔۔
اماں؟؟
ہممم
خالہ جان کے ہاں دعوت دے آئے اپ؟؟
دائ جان جو آنکھیں بند کرکے بیٹھی تھی حیرانگی سے اپنی آنکھیں کھول کے شاہجاں بیگم کو دیکھنے لگی اور تعجب سے دوبارہ پوچھا۔۔
کیا بولا تم نے ابھی شاہجاں ؟؟
وہی خالہ جو اپنے سنا۔۔
لڑائ ناراضگی میری ہے عترت اور صنم کی نہیں جب عترت کا خاندان اسکے بڑے موجود ہیں تو پھر وہ کیوں لاوراثوں کی طرح اس گھر سے رخصت ہو۔۔
شاہجاں بیگم یہ بول کے آبدیدہ ہوگئ۔۔
تو پھر تو تمہیں سب سے پہلے عترت کے باپ کو کال کرنی چاہیے ؟
دائ جان نے اسکا چہرہ بھانپتے ہوئے کہا۔۔
نمبر نہیں ہے میرے پاس انکا؟؟
شاہجاں بیگم جس ٹوپک سے بچنا چاہ رہی تھی آج وہی ٹاپک انکی زندگی میں دوبارہ آگیا تھا ۔
آپ کردے کال انہیں؟
میں کیوں کرو بھئ مجھے تو معاف کرو پھر تم مجھ سے خفا ہوجاوگی کے اپنے کال کری؟ کیوں کری ؟؟
خالہ جان پلیز؟!!
شاہجاں 22 سال کا عرصہ بہت ہوتا ہے کسی کو سزا دینے کیلیے تمہارا دل نہیں تو مت دو بلاوا کوئ مسئلہ نہیں ہے بیٹیوں کو جب 22 سالوں سے نہیں دیکھا تو اب اگر اپنے ہاتھوں سے رخصت نہیں کرے گا تو کوئ مسئلہ نہیں ہے۔۔۔
شاہجاں بیگم گردن جھکائے خاموشی سے دائ جان کی باتیں سن رہی تھی اور یہ موقع ٹھیک لگا دائ جان کو گرم لوہے پہ چوٹ مارنے کا۔۔
دائ جان نے اپنے موبائل سے اظہر صاحب کو کال ملاکے شاہجاں بیگم کو دے دی۔۔
یہ لو نمبر ملادیا ہے میں نے اب چاہو تو بات کرلو بیٹی کی ہی خاطر بھلے وہ خاموش ہے مگر اسکا دل بھی چاہتا ہوگا کے وہ کیوں بن باپ کے رخصتِ ہو جبکے اسکا باپ زندہ ہے۔۔
میں زرا جوڑا دیکھ لو جو ندا نے بھیجوایا ہے۔
کال پہ رنگنگ ہوکے بند ہوچکی تھی ۔۔
شاہجاں بیگم اس سے پہلے دوبارہ ملاتی کال آنے لگی۔۔
شاہجاں بیگم کا دل زور زور سے ڈھرک رہا تھا 22 سالوں بعد آج وہ اظہر صاحب کی آواز سننے جارہی تھی ۔
کال یس کرتے ہی موبائل شاہجاں بیگم نے کان سے لگایا۔۔
آگے سے اظہر صاحب بولے۔۔
سوری اماں وہ میٹنگ میں مصروف تھا اس وجہ سے کال اٹینڈ نہیں کرپائ
اظہر صاحب کی آواز اتنے سالوں بعد سن کے شاہجاں بیگم اپنی آنکھیں بند کرگئ ٹپ ٹپ انکی آنکھوں سے آنسوؤں جاری تھے۔۔
ہیلو اماں آواز آرہی ہے آپکو ؟ بول کیوں نہیں رہی آپ کچھ ؟؟
اسلام وعلیکم !!!
اظہر صاحب اس سے پہلے آگے کچھ بولتے شہاجاں بیگم کی آواز سن کے انکے ہاتھوں میں موجود تمام فائلز نیچے گر گئ جن پہ وہ سائن کررہے تھے۔۔
شاہی یہ تم ہو ہیلو شاہی شاہی۔۔۔۔
اظہر صاحب کی بھی آنکھیں بھیگنے لگی انہیں لگا آج شاہجاں نے کال کرکے شاید انکی سزا ختم کردی مگر یہ انکی بھول تھی۔۔
جی میں شاہجاں بول رہی ہو۔
ہاں ہاں میں پہچان گیا شاہی تمہاری آواز میں لاکھوں میں پہچان سکتا ہو۔
اظہر صاحب کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔۔
کیسی ہو تم ؟
عترت کا نکاح ہے دو دن بعد اور دو ہفتے بعد شادی میں نہیں چاہتی وہ بنا باپ کے رخصت ہو۔۔۔
اظہر صاحب کا سوال وہ گول کرگئ تھی اور یہ بات اظہر صاحب محسوس کرچکے تھے۔۔۔
میں آؤنگا انشاللہ شاہجاں کل ہی میں پاکستان کی فلائٹ بک کرواتا ہو۔۔۔
اوکے اللہ حافظ۔۔
شاہجاں بیگم نے فورا کال رکھ دی۔۔
کال رکھتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔
دائ جان جب کمرے میں۔ آئ تو شاہجاں بیگم رو رہی تھی انہوں نے آگے بڑھ کر انہیں گلے لگالیا۔۔۔
#
صنم صنم ؟؟
صنم جو صائم سے بات کررہی تھی شاہجاں بیگم کی آواز پہ وہ صائم کی کال کٹ کرتے ہی تقریبا ڈورتی ہوئ نیچے ائ۔
جی ماما؟؟
فری ہو تم؟؟
جی ماما ۔۔
تو چلو میرے ساتھ پانچ منٹ میں تیار ہوکے آجاؤ میں ویٹ کررہی ہو گاڑی میں۔ انویٹیشن دینے جانا ہے۔۔
اوکے ماما میں آتی ہو آپ جائے۔۔۔
صنم تقریباً بھاگتے ہوئے اوپر آئ تھی کیونکہ پہلے دفعہ ایسا ہوا تھا کےشاہجاں بیگم نے اسے اپنے ساتھ کہی چلنے کو بولا تھا۔
صائم کو اس نے فورا ویٹ کا میسج کیا اور تقریبا بھاگتے ہوئے گاڑی تک پہنچی۔۔
شاہجاں بیگم نے ڈرائیور کو ایک اڈریس سمجھا کے وہاں چلنے کو بولا۔۔
صنم اڈریس سن کے وہاں کے مکین کا نام سن کے ایک دم چونکی اور شاہجاں بیگم سے پوچھا۔۔
ماما یہ بہزاد مینشن وہاں کون یے؟؟
بہزاد چوہدری کا نام تو سنا ہوگا تم نے میرے ماموں کا بیٹا ہے وہ ..
شاہجاں بیگم نے اتنے ریلکس انداز میں یہ بات کہی تھی جبکہ بہزاد چوہدری کا نام سن کے صنم کے سامنے سب سے پہلے شانزے کا چہرہ آیا تھا۔۔
جاری ہے ۔
ان ریڈرز کیلے جو میرے ساتھ شروع سے ہیں❣️❣️
See translation
