Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Last Episode)Part 2
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Last Episode)Part 2
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
سب سے ملنے کے بعد واسم اپنے کمرے میں داخل ہوا جہاں ابیہا تکیوں کے سہارے بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔
پہلے ٹونز بچوں کے پورے دس سال بعد اللہ تعالٰی نے پھر ایک بار اسکی گود ہری کی تھی ۔۔۔
اور اب ڈلیوری میں بہت کم دن رہتے تھے ،،، جسکی وجہ سے فلحال وہ بیڈ ریسٹ پر تھی ۔۔۔
اسکے بالکل سامنے تاشے بیٹھی تھی ۔۔۔
جبکہ ابیہا کے ارد گرد اپنا حصار بنا کر اسکے دونوں ٹونز بیٹھے تھے بڑا مرتسم شاہ اور اس سے صرف پانچ منٹ چھوٹا معتصم شاہ جو اسے اپنے بیٹے کم اور دشمن زیادہ لگتے تھے ۔۔۔
کیونکہ جب سے وہ دنیا میں آئے تھے ،،،، دونوں نے ہی اسکی بیوی پر قبضہ جمایا ہوا تھا ۔۔۔
ہر وقت ابیہا کے ساتھ چمٹے رہتے تھے ۔۔۔حتی کے رات میں بھی وہ دونوں کے درمیان دیوار بن کر سوتے تھے ۔۔۔
بہت بار واسم نے انہیں دوسرے کمرے میں شفٹ کرنا چاہا ۔۔۔پیار سے سمجھایا کہ اب میرے شیر بڑے ہو گئے ہیں ۔۔۔ایسے ماما بابا کے کمرے میں سوتے اچھے نہیں لگتے ،،،، لیکن مجال تھی کہ انکے کان پر جوں تک بھی رینگی ہوں ۔۔۔
انکے لبوں پر ایک ہی جواب ہوتا تھا کہ بچے کتنے بھی بڑے ہو جائیں ماں باپ کیلئے ہمیشہ چھوٹے ہی رہتے ہیں ۔۔۔
پانچ سال کے ہونے کے بعد کہیں جا کر وہ ان دونوں کو اپنے کمرے سے نکالنے میں کامیاب ہوا تھا ۔۔۔
تب جا کر کہیں اسکی زندگی میں تھوڑا سکون آیا تھا ۔۔۔لیکن اس کے باوجود بھی جب واسم کا رومینٹک موڈ آن ہوتا یہ لوگ ہڈی بن کے ضرور آتے ۔۔۔
باز وقت تو وہ چڑتے دونوں کو باہر نکال کر دروازہ لوک کر لیتا ۔۔۔جسکے بعد باہر انکا اور اندر انکی ماں کا رونا دھونا شروع ہو جاتا ۔۔۔لیکن ڈریگن کے آگے نا کبھی ابیہا کی چلی تھی اور نا ہی آگے چل سکتی تھی ۔۔۔
اسکے بیٹوں کے مقابلے انکی ماں کو خاموش کروانا زیادہ آسان تھا جو کام وہ بخوبی انجام دیتا تھا ۔۔۔
حالانکہ نیچر وائز وہ دونوں بہت ریزروڈ اور کافی حد کھڑوس طبیعت کے مالک تھے ۔۔۔
اور ایک دوسرے کے علاوہ گھر کے باقی بچوں سے کم ہی انکی بنتی تھی ۔۔۔
لیکن اپنی ماں سے انکی محبت بےمثال تھی ۔۔۔جس کے بدلے وہ اپنے باپ سے لڑنے کو بھی ہر وقت تیار رہتے تھے ۔۔۔
شاید یہ خوبی واسم سے ہی انکے اندر ٹرانسفر ہوئی تھی وہ خود بھی تو روباب سے عشق کرتا تھا ۔۔۔
واسم نے گہرا سانس کھینچ کر اندر داخل ہوتے اونچی آواز میں سلام کیا تھا ۔۔۔
وعلیکم السلام ۔۔۔”
اسکے سلام کے جواب میں تاشے اور ابیہا نے تو مسکرا کر جواب دیا تھا البتہ مرتسم اور معتصم کا اسے دیکھتے ہی منہ بن چکا تھا ۔۔۔
انکے چہروں کے تاثرات سے صاف پتا چل رہا تھا کہ انہیں اپنے باپ کی واپسی کی کوئی خاص خوشی نہیں ہوئی تھی ۔۔۔
جسے ابیہا تاشے کے ساتھ واسم بھی سمجھ چکا تھا ۔۔۔
جس پر اس نے ان دونوں کو ہی گھوری سے نوازا تھا ۔۔۔البتہ ابیہا تاشے نے منہ نیچے کر کے مسکراہٹ چھپائی ۔۔۔
لالا کیسے ہیں آپ ؟؟؟
تاشے نے مسکراتے ہوئے سوال کیا تھا ۔۔۔
میں ٹھیک ہوں گڑیا تم سناؤ ۔۔۔جی میں بھی الحمداللہ ۔۔۔چلو آو ۔۔۔مرتسم معتصم ہم لوگ باہر جا کر کھیلتے ہیں ۔۔۔
واسم کا احساس کرتے نا صرف وہ خود اٹھی بلکہ ان دونوں کو بھی ساتھ چلنے کا بولا ۔۔تاکہ ان دونوں کو کچھ پرائیویسی مل سکے ۔۔۔
لیکن ان دونوں نے جانے سے صاف انکار کر دیا ۔۔۔
سوری آنی ہمارا کھیلنے کا موڈ نہیں ۔۔۔
ایک نظر واسم کی طرف دیکھتے ہوئے مرتسم سپاٹ لہجے میں بولا تھا ۔۔۔
جس پر تاشے ایک بےبس نظر واسم کی طرف دیکھتی وہاں سے نکلتی چلی گئی ۔۔۔
بری بات ہے بیٹا ۔۔۔آنی کیا سوچ رہی ہونگی ۔۔۔کہ میرے بیٹے کتنے بدتمیز ہیں انہیں بڑوں سے بات کرنے کی بالکل تعمیز نہیں ۔۔۔
مرتسم کا تاشے کے ساتھ رویہ ابیہا کو خود بھی اچھا نہیں لگا تھا اس لیے پیار سے سمجھاتے ہوئے بولی ۔۔۔
ماما میں نے کچھ غلط نہیں بولا ۔۔۔اور آپ ہی تو کہتی ہیں ،،، انسان کے جو دل میں ہو اسے ہونٹوں سے بول دینا چاہیے ۔۔اور ہمارا اس وقت بالکل موڈ نہیں کھیلنے کا ۔۔اس لیے منع کر دیا ۔۔۔
لیکن پھر بھی بیٹا بڑوں کی عزت کرنی چاہیے ،،،، اور کبھی کبھی آپکا دل نا بھی کر رہا ہوں تو انکی بات مان لینے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔۔۔
چلو اٹھو دونوں جا کر آنی سے معافی مانگ کر آو ۔۔۔چلو شاباش ۔۔۔
لیکن ماما ۔۔۔
مرتسم بحث نہیں ۔۔۔
اوکے ۔۔۔
مرتسم کے اٹھتے ہی معتصم بھی اٹھا تھا ۔۔۔
لیکن جانے سے پہلے پتا نہیں دل میں کیا سمائی جو دونوں ایک ساتھ واسم کے گلے لگے تھے ۔۔۔
ویلکم بیک ڈیڈ ۔۔۔
اسکے شیوزدہ گالوں پر پیار کرتے ۔۔ہلکا سا مسکرا کر بولے ۔۔۔بالکل واسم کی طرح ۔۔۔
جس پر اس نے بھی دھیرے سے مسکراتے دونوں کو پیار کیا تھا ۔۔۔
جسکے بعد وہ شرافت سے باہر چلے گئے تھے ۔۔۔کیونکہ وہ اپنی ماں کا حکم مر کر بھی نہیں ٹال سکتے تھے ۔۔۔
دروازہ بند ہوتے واسم اسکے قریب ہوا ۔۔۔
کیسی ہو مسز ۔۔۔اور ساتھ ہی اسکی پیشانی کو ہونٹوں سے چھوا ۔۔۔
ناراض ہوں آپ سے ۔۔۔
اور وہ کیوں بھلا ؟؟؟
آپ کو پتا ہے نا میری کنڈیشن پھر بھی مجھے اکیلا چھوڑ کر چلے گئے ۔۔۔واسم سے الگ ہو کر وہ نروٹھے پن سے بولی تھی ۔۔۔
جس پر وہ نرمی سے مسکرایا تھا ۔۔۔ جانا ضروری تھا بیا ورنہ تم جانتی ہو ۔۔۔میں کبھی نا جاتا ۔۔۔اور دیکھو وقت سے پہلے لوٹ بھی تو آیا ہوں ۔۔۔
اسکے سرخ پھولے ہوئے گال پر پیار کرتے منانے کی کوشش کی تھی ۔۔
تو بڑا کوئی احسان کیا ہے ۔۔۔اب بھی نا آتے ۔۔۔
اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کرتی اب بھی غصے سے بولی ۔۔۔جس پر واسم نے اسے آنکھیں دکھائیں تھیں ۔۔۔
اور اب بھی دیکھیں کیسے آنکھیں دکھا رہے ہیں ۔۔۔اسکے گھورنے پر رندھے ہوئے لہجے میں بولتے رونے کی تیاری پکڑی ۔۔۔
واسم نے گہرا سانس کھینچتے اسے دوبارہ اپنے ساتھ لگایا ۔۔۔
اچھا بس نا جان ،،،، دوبارہ ایسا نہیں ہوگا ۔۔۔
اسکی کنڈیشن کو سمجھتے پیار جتایا ۔۔۔ایسے نہیں وعدہ کریں پہلے ۔۔۔ابیہا نے اسکے سینے سے سر اٹھا کر اپنا پھولا ہوا سرخ ہاتھ پھیلایا ۔۔۔
وعدہ ۔۔۔
جسے بہت محبت سے تھامتے واسم نے لبوں سے لگایا ۔۔۔
ابیہا کے ہونٹوں پر حسین مسکراہٹ چھلکی ۔۔۔اس نے دوبارہ سر اسکے سینے پر رکھنا چاہا ۔۔۔جب واسم نفی میں سر ہلاتے ہوئے اسکے لبوں پر جھکا تھا ۔۔۔
اور نرمی سے اسکے گرد حصار تنگ کرتے ہوئے اس پر اپنا پیار نچھاور کرنے لگا ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°
بلیک شیفون کی خوبصورت فراک میں ملبوس ابرش ابھی شاور لے کر واشروم سے باہر نکلی تھی ۔۔۔
اور ایک نظر صوفے پر براجمان بلیک ہی لٹھے کے کلف دار سوٹ میں نک سک سے تیار ضارب شاہ پر ڈالنے کے بعد آئینے کے سامنے جا کر کھڑے ہوتے ڈرائیر سے بال سکھانے لگی ۔۔۔
جبکہ ضارب لیپ ٹاپ پر مصروف ہونے کے ساتھ ایک نظر گاہے بگاہے اپنی باربی پر بھی ڈال لیتا ۔۔۔جسکا حسن وقت کے ساتھ مزید پرکشش ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔
اسکی سمارٹنس اور خوبصورتی کو دیکھتے کوئی بھی یہ نہیں بتا سکتا تھا کہ یہ لڑکی دو بچوں کی ماں بھی ہو سکتی ہے ۔۔۔
بال سکھانے کے بعد ڈرائیر ٹیبل پر رکھتے ابرش نے ہاتھوں میں چوڑیاں سجانی شروع کی تھی ۔۔۔
چوڑیاں پہنے کے بعد کانوں میں آویزے ڈالتے ابرش نے اپنی دونوں آنکھوں میں کاجل کی لکیر کھینچی تھی ۔۔۔
جس نے اسکی خوبصورتی میں مزید اضافہ کیا تھا ۔۔۔
اس کے بعد ہونٹوں پر لگانے کیلئے اس نے ریڈ لپ اسٹک اٹھائی ہی تھی جب ضارب شاہ نے بنا اسکی طرف دیکھے اسے ٹوکا تھا ۔۔۔
اوں ہوں یہ مت لگائیں ۔۔۔
جس پر ابرش نے حیرانی سے پیچھے مڑ کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔لیکن وہ اسکی طرف متوجہ نہیں تھا ۔۔۔اسے بےساختہ ہی اپنی شادی کی پہلی صبح یاد آئی تھی ۔۔۔
اس وقت بھی ضارب نے ایسے ہی اسے لپ اسٹک لگانے سے روکا تھا جو وہ سمجھ نہیں پائی تھی اور اس کے بعد جو ہوا تھا ۔۔۔سوچ کر اسکے گلابی گال سرخ پڑنے لگے ۔۔۔
یکدم ہی ابرش کو شرارت سوجھی اور اس نے اسکی بات سمجھ نا آنے کی ایکٹنگ کرتے ۔۔۔ہاتھ میں پکڑی لپ اسٹک کو چھوڑتے ضارب کی فیورٹ ریڈ کلر کی لپ اسٹک جسکا ٹیسٹ اسے بہت پسند تھا ،،، شرارت سے مسکراتے اسے اپنے ہونٹوں کی زینت بنایا ۔۔۔
اور توقع کے عین مطابق وہ پل میں اپنے سارے کام چھوڑتے ہوئے اسکے قریب پہنچ چکا تھا ۔۔۔
لیکن اس بار ابرش چونکی تھی اس لیے ضارب کے جھکنے سے پہلے ہی وہ اسکے ہونٹوں پر اپنا نازک ہاتھ رکھ کر اسکی کوشش ناکام بنا دی ۔۔۔
جس پر ضارب نے اسے تیکھی نگاہوں سے گھورا ۔۔۔
ہماری کہی ہوئی بات آپ کو ایک بار میں سمجھ نہیں آتی ۔۔۔اسکا ہاتھ لبوں سے ہٹاتے ہوئے درشتگی سے بولتا اسکے سرخ لبوں پر جھکا ۔۔۔اور اپنی بات نا ماننے پر دانتوں کا استعمال کرتے اسکی جان لبوں پر لے آیا ۔۔۔
ضارب کے جان لیوا لمس پر ابرش کی آنکھوں سے آنسو چھلکے تھے ۔۔۔جسے محسوس کرتے وہ نرمی سے پیچھے ہوا ۔۔۔
لیکن تب تک ابرش کی سانسیں بری طرح بکھر چکی تھیں ۔۔۔جنہیں وہ گہرا سانس کھینچ کر درست کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔
میں نے صرف مذاق کیا تھا ۔۔۔ضارب کے خود کو غصے سے گھورنے پر وہ نروٹھے پن سے بولی تھی ۔۔۔
لیکن ہمیں نہیں پسند مذاق میں بھی آپ ہماری بات کو رد کریں اس لیے آئندہ احتیاط کیجئے گا ۔۔۔
اسکی آنکھوں سے چھلکتے ہوئے آنسوؤں کو اپنے لبوں سے چنتےوہ تھوڑا سا پیچھے ہٹا ۔۔۔لیکن سپاٹ لہجے میں وارننگ دینا نہیں بھولا ۔۔۔
سائیں ۔۔۔”
ابرش نے شکوہ کن نظروں سے دیکھا ۔۔۔
سائیں کی جان اتنے سال ہو گئے آپکو ہمارے ساتھ رہتے ہوئے لیکن افسوس آپ اب تک ہماری نیچر سے واقف نہیں ہو سکیں ۔۔۔
یہ غلط ہے ،،، سب سمجھتی ہوں میں ۔۔۔اصل حقیقت میں آپ مجھے نہیں سمجھتے ۔۔آج بھی آپکی وہی عادت ہے ہر بات میں اپنی مرضی چلانے کی ۔۔۔
اسکا حصار توڑنے کی کوشش کرتی ناراضگی سے بولی ۔۔۔
جس پر ضارب نے پہلے اسے گھورا لیکن بعد میں اسکے بنا ہوا منہ دیکھتے نرمی سے مسکرایا تھا ۔۔۔
اور پھر دھیرے سے جھکتے ہوئے اپنے دیئے گئے زخم کو نرمی سے چھوا ۔۔۔
جس پر ابرش سسکی ۔۔۔
سب جانتے بھوجتے بھی آپ اپنی ان حرکتوں سے باز نہیں آتیں ۔۔۔
لیکن آپ ۔۔۔
بس بحث نہیں ۔۔۔ابرش کے جواب میں کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ اسے خاموش کرواتا ،،،، ذرا غصے سے بولا ۔۔۔
ابرش نے خاموش ہوتے ناراضگی سے اسکی طرف دیکھا ،،، جسکی پرواہ کیے بنا وہ دوبارہ اسکے ہونٹوں پر جھکنے لگا ۔۔۔
جب دروازہ بنا ناک کیے عارض شاہ ابرش سے مخاطب ہوتا اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔
باربی آپ ابھی تک تیار نہیں ہوئیں ۔۔۔
وہ ابرش کو ماما کہنے کی بجائے اپنے ڈیڈ کی طرح باربی کہہ کر بلاتا تھا ۔۔۔
جسکی آواز سن کر دونوں ایک دوسرے سے جدا ہوئے تھے ۔۔۔
عارض ہم نے آپ کو کتنی بار منع کیا ہے ۔۔۔ابرش کو ماما کہہ کر بلایا کریں ۔۔۔باربی وہ صرف ہماری ہیں ۔۔۔
عارض کو بار بار ٹوکنے کے باوجود بھی وہ ابرش کو ماما کہنے کو تیار نہیں تھا اور اس کے علاوہ ابرش کو کوئی باربی بلائے یہ ضارب کو منظور نہیں تھا ۔۔۔چاہے وہ اسکی خود کی اولاد ہی کیوں نا ہو ۔۔۔
اس لیے اسے سمجھانے کیلئے اس بار ذرا سختی سے بولا ۔۔۔جبکہ اسکے لہجے میں ہلکی ہلکی جیلسی بھی جھلک رہی تھی ۔۔۔جسے محسوس کرتے عارض شاہ خوبصورتی سے مسکرایا تھا ۔۔۔جسکے ساتھ ہی اسکی آنکھوں نے اپنا رنگ بدلہ ،،،، اور لائٹ گرین سے ڈارک براون میں بدل گئیں ۔۔۔
چل ڈیڈ ،،،، اٹس نارمل بات ایک ہی تو ہے ۔۔۔ہم باربی بلائیں یا آپ کیا فرق پڑتا ہے ۔۔۔
اسکے غصے کو کسی خاطر میں نا لائے وہ ابرش کے قریب ہوا ،،،، جس نے ایک نظر ضارب کے غصے والے چہرے کو دیکھنے کے بعد مسکرا کر بہت محبت سے عارض کی پیشانی کو چھوا ۔۔۔
جبکہ ان ماں بیٹے کے پیار کو دیکھتے وہ جل بھن ہی تو گیا تھا ۔۔۔
پھر ان دونوں کو اگنور کرتے ہوئے جا کر دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا ۔۔۔
جب ابرش اور ضارب شاہ کا چھوٹا شہزادہ بھاگتا ہوا آکر اسکی گود میں بیٹھا ۔۔۔
بابا دانی ہم حویلی تب جائیں گے ؟؟؟؟
بابا جانی ہم حویلی کب جائیں گے ؟؟؟؟
پانچ سالہ عارش شاہ نے اپنی توتلی آواز میں اپنے بابا سے سوال کیا تھا ۔۔۔
اگر عارض شاہ اپنی ماں کا دیوانہ تھا تو یہ کہنا بالکل غلط نہیں ہوگا کہ ضارب میں عارش کی جان بستی تھی ۔۔۔
شروع سے ہی وہ ابرش سے زیادہ ضارب کی گود میں کھیلا تھا ۔۔۔اس لیے فرینک بھی اس سے ہی زیادہ تھا ۔۔۔
بس بابا کی جان ابھی تھوڑی دیر میں ۔۔۔آپکی ماما اور بھائی تیار ہو جائیں تو نکلتے ہیں ۔۔۔
اسکے پھولے ہوئے گال پر پیار کرتے بہت محبت سے جواب دیا ۔۔۔
یےےےےےے ،،،، بابا آپ تو پتا ہے پھوپھو دانی تو اللہ تعالٰی نے ایک پیالی شی پرنشز
دی ہے ۔۔۔
ہم اش کے شاتھ تھیلے گے ۔۔۔
( یہ بابا آپکو پتا ہے پھوپھو جانی کو اللہ تعالٰی نے ایک پیاری سی پرنسز دی ہے ۔۔۔ہم اس کے ساتھ کھیلے گے ۔۔۔)
جی بابا کی جان ضرور ۔۔۔اسکے بال سنوارتے ہوئے نرمی سے مسکرایا ۔۔۔
بابا آپ تی شگریت کہاں پل ہے ؟؟؟
( بابا آپکی سگریٹ کہاں پر ہے ؟؟؟)
سوال کرتے ساتھ ہی اٹھ کر سامنے ٹیبل پر نظر آتی سگریٹ کی ڈبی اور لائٹر اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں اٹھا کر اسکے ہاتھ میں پکڑائی ۔۔۔
جبکہ اسکی بات کو سمجھتے ہوئے ،،،، ضارب نے ایک سگریٹ نکال کر لبوں میں دباتے سلگائی تھی ۔۔۔
جسے دیکھتے عارش نے تالیاں بجانا شروع کی تھیں ۔۔۔
جس پر مسکرا کر ضارب نے اسکے چھوٹے سے وجود کو اپنے سینے سے لگایا تھا ۔۔۔
عارش شاہ کو اپنے بابا کی ہر ایک انداز ہر ایک چیز سے عشق تھا ۔۔۔جبکہ اسکے برعکس اپنی ماں کی طرح عارض شاہ کو ضارب کی اس عادت سے چڑ تھی ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°
بس کر دیں بیگم اور کتنا تیار ہونگی ۔۔۔
ہم ایک معصوم بچی کے فنکشن پر جا رہیں ہیں ۔۔۔ نا کہ کسی کے ولیمے پر ۔۔۔گھڑی پر ٹائم کو دیکھتے ہوئے شہیر نے کوئی تیسری بار تاشے کو بلایا تھا ۔۔۔
آ رہی ہوں شہیر آپ تو پیچھے ہی پڑ جاتے ہیں ۔۔۔ اپنے دوپٹے کو سیٹ کرتے ہوئے وہ اسکے قریب آ کر رکی تھی ۔۔۔
جسکے حسن کو دیکھتے ہوئے شہیر خان کا دل آج بھی پہلے دن کی طرح دھڑکا تھا ۔۔۔
اور جو اتنے ٹائم سے لیٹ ہونے کا رولا ڈالے ہوئے تھا ۔۔
مہبوت نگاہوں سے اسے تکنے لگا ۔۔۔جسے دیکھ کر بےساختہ ہی تاشے مسکرائی تھی ۔۔۔
اب آپ بھی بس کر دیں نظر لگانے کا ارادہ ہے مجھے کیا ؟؟؟؟
اسکی آنکھوں پر ہاتھ رکھتے مسکرا کر بولی ۔۔۔جس سے ایک حسین مسکراہٹ نے شہیر خان کے لبوں کا احاطہ کیا ۔۔۔
اور اسکا ہاتھ اپنی آنکھوں سے ہٹاتے ہوئے ایک ہاتھ سے اسکی کمر کو تھامتے اپنے قریب کیا ۔۔۔
میں کیا سوچ رہا ہوں بیگم ۔۔۔کیوں نا آج کا یہ پروگرام ہم کینسل کر دیں ۔۔۔میں سائیں سے کوئی بہانہ کر دوں گا ۔۔۔
اسکی پیشانی سے پیشانی ٹکراتے ہوئے وہ گھمبیر لہجے میں بولا ۔۔۔
اچھا جی ۔۔۔اگر ہم فنکشن میں نہیں جائیں گے ۔۔۔تو پھر کہاں جائیں گے ۔۔۔
اسکی گردن میں بازو باندھتے وہ بھی اسی کے انداز میں بولی تھی ۔۔
کہیں جانے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔
ہم تم یہ کمرہ اور تنہائی ۔۔۔” زومعنی انداز میں کہتے اسکی ستواں ناک کو نرمی سے چھوا ۔۔۔
تاشے کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری ۔۔۔
نہیں یہ ناممکن ہے مجھے تین بار زرمینے کا فون آ چکا ہے صرف یہ پوچھنے کیلئے کہ تم لوگ کب نکل رہے ہو ۔۔۔اور میں نے بولا ابھی ۔۔۔
چپ چاپ سیدھے طریقے سے لے کر چلے مجھے ۔۔۔اسکے ارمانوں پر پانی پھیرتے ہوئے نروٹھے پن سے بولی ۔۔۔
اچھا اگر نا لے کر جاؤں تو ؟؟؟؟
تو ٹھیک ہے میں اپنے بھائیوں کو فون کر دوں گی وہ خود آ کر لے جائیں گے ۔۔۔
اسکی بات کے جواب میں وہ اسکے حصار سے نکل کر لاپرواہی بولی ۔۔۔
تاشے ۔۔۔”
شہیر کا منہ حیرت سے کھل گیا ۔۔۔
کیا تاشے ؟؟؟
آپ میرے ساتھ اب ایسا کرینگی ؟؟؟
جی بالکل ۔۔۔
تاشے میڈم کے تو آج انداز ہی نرالے تھے ۔۔۔جس پر شہیر نے آگے بڑھ کر دوبارہ اسے اپنے حصار میں لے کر اسکی کمر پر گرفت سخت کی اور اسکے لپ اسٹک سے سجے ہونٹوں پر جھکنے لگا ۔۔۔
جب تاشے نے اسکے لبوں پر ہاتھ رکھتے اسکی کوشش ناکام بنائی ۔۔۔
میری لپ اسٹک خراب ہو جائے گی ۔۔۔
نہیں ہوگی ۔۔۔اسکا ہاتھ پیچھے کرتے بہت نرمی سے بولا اور پھر اس سے بھی زیادہ نرمی سے اسکے لبوں پر اپنے دہکتے ہونٹ رکھے ۔۔۔
اور پھر دو سیکنڈ بعد ہٹا لیے ۔۔۔اور توقع کے عین مطابق لپ اسٹک پر کوئی فرق نہیں پڑا تھا ۔۔۔
جس پر خوش ہوتے شہیر نے اپنا یہ عمل بار بار دوہرایا تھا ۔۔۔
تاشے پر اسکی قربت کا نشہ طاری ہونے لگا اور وہ بھی دھیرے دھیرے اسکا ساتھ دینے لگی ۔۔۔
ماما بابا اور کتنی دیر ؟؟؟
وہ لوگ ایک دوسری کی قربت میں کھوئے ہوئے تھے جب ہانیہ دروازہ ناک کرتے ایکدم سے اندر داخل ہوئی ۔۔
جس پر وہ کرنٹ کھا کر ایک دوسرے سے دور ہوئے ۔۔۔
یہ تو شکر تھا کہ زرتاشے کی پیٹھ دروازے کی طرف تھی ورنہ ۔۔۔
بس بیٹا آ رہے ہیں ۔۔۔
شہیر نے خود کو کمپوز کرتے نرمی سے جواب دیا اور پھر آگے بڑھ کر اسے اپنی گود میں اٹھایا تھا ۔۔۔
جس پر ہانیہ نے محبت سے اسکی شیوزدہ گال کو چھوا ۔۔۔
بابا آج آپکے لپس پہلے سے زیادہ ریڈ اور پیارے لگ رہے ہیں ۔۔۔کیا آپ نے بھی ماما کی طرح لپ اسٹک لگائی ہے ؟؟؟
ہانیہ کے سوال پر دونوںنےایک دوسرے کی طرف ہڑبڑا کر دیکھا ۔۔۔
نہیں تو جان ۔۔۔آپکے بابا کے تو اوریجنل ہی ایسے ہیں ۔۔۔
تاشے نے آگے بڑھ کر بات سنبھالنے کی کوشش کی ۔۔۔اچھا مجھے لگا آج زیادہ ریڈ ہیں ۔۔۔ جو بھی ہو میرے بابا اس دنیا کے سب سے ہینڈسم بابا ہیں ۔۔۔
اسکے دوسرے گال پر بھی پیار کرتے ہوئے ۔۔۔اسکے گلے میں دونوں بازو باندھے ۔۔۔
جس پر شہیر نے مسکراتے اسکے سر پر پیار کیا ۔۔۔اور وہ لوگ اپنی بیٹی کو لے کر شاہ حویلی جانے کیلئے نکلے تھے ۔۔۔
ہاں شہیر میں آپکو بتانا بھول گئی کہ ۔۔۔آج بھائی کا فون آیا تھا ۔۔۔وہ کچھ دنوں میں بھابھی کو لے کر آنے کا بول رہے تھے ۔۔۔
اچھا یہ تو بڑی اچھی بات ہے ۔۔۔
ہانیہ کو پچھلی سیٹ پر بٹھاتے ہوئے ۔۔۔وہ مسکرا کر بولا ۔۔۔
ہاں ناں کتنے دن سے مجھے بھائی کی یاد آ رہی تھی ۔۔۔اور ایک اوربات جو میں بتانا بھول رہی ہوں ۔۔۔بھائی نے بتایا ۔۔۔کہ میں پھوپھو بننے والی ہوں ۔۔۔میں آپکو بتا نہیں سکتی کہ میں کتنی خوش ہوں ۔۔۔
بھئی بہت بہت مبارک ہو آپکو ۔۔۔اللہ پاک رومان کو صحت یاب اولاد سے نوازے ۔۔۔
اپنی محبت کی دل میں نظر اتارتے ہوئے ۔۔۔وہ مسکرا کر بولا اور پھر اسکی سیٹ بیلٹ باندھتے گاڑی سٹارٹ کی تھی ۔۔۔
رومان نے وہیں اپنے یونٹ میں ایک آرمی آفیسر سے پسند کی شادی کی تھی ۔۔۔جنہیں آرمی نے رہنے کیلئے ایک کوارٹر دے دیا تھا ۔۔۔جس میں وہ اپنی بیوی کے ساتھ ایک خوشحال زندگی بسر کر رہا تھا اور ساتھ ساتھ وہ دونوں میاں بیوی اپنے ملک کی خدمت میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ ڈال رہے تھے ۔۔۔
اور اب اس رب تعالٰی نے مہربان ہوتے انہیں اولاد جیسی نعمت سے نوازتے انکی فیملی کو مکمل کر دیا تھا ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°
حویلی میں ہر طرف خوشیوں کا سما تھا ۔۔۔اور ہوتا بھی کیوں نا ،،،، ابرش کے تیس سال بعد شاہ خاندان کی نئی پیڑی میں لڑکی پیدا ہوئی تھی ۔۔۔
جس کی خوشی میں خاص دعوت کا احتمام کیا گیا تھا ۔۔۔
واسم اور ابیہا شاہ کی بیٹی مرتسم اور معتصم شاہ کی بہن ،،،،، جسکا نام اسکی پھوپھو یعنی کے واسم شاہ کی لاڈلی بہن اور ضارب شاہ کی باربی نے بہت محبت سے اپنے نام سے ملاتے ہوئے ابریشم رکھا تھا ۔۔۔
جو پورے خاندان والوں کو بہت پسند آیا تھا ،،،، البتہ چھوٹے بچوں کو یہ نام لینے میں بہت دقت کا سامنا تھا ۔۔۔
اس لیے انہوں نے ابریشم کا شورٹ کرتے اسکا نک نیم ریم رکھ دیا ۔۔۔جس سے انہیں کافی آسانی ہو گئی تھی ۔۔۔
حتی کہ سب سے چھوٹے عارش کو بھی یہ نام بہت پسند آیا تھا تبھی تو پوری حویلی گھومتے ہوئے اس نے تیم تیم کا شور مچایا ہوا تھا ۔۔۔
جسے سن کر سب بڑوں سمیت بچوں نے بھی قہقہے لگائے تھے البتہ اپنی بہن کا نام بگاڑے جانے پر مرتسم اور معتصم نے اسے ڈانٹا تھا اور ریم کو اسے کبھی نا دینے کی دھمکی بھی لگائی ۔۔۔
جس پر وہ روتا ہوا اپنے بابا کو اپنے ماموں اور دادا سائیں کے ساتھ مصروف دیکھتے ابرش کے پاس کھڑے ہوئے عارض کے پاس آیا تھا ۔۔
عارج لالا میلے شاتھ آئیں ۔۔۔
عارض لالا میرے ساتھ آئیں ۔۔۔
اور اسکا ہاتھ کھینچ کر مرتسم اور معتصم کے پاس لے کر آیا جو لاؤنج میں بیٹھے ہوئے ابریشم کو گود میں لے کر اسے کھلا رہے تھے ۔۔۔
یہ دیتھے مرتشم لالا مجھے تیم بےبی شے تھیلنے نہیں دے لہے ۔۔
( یہ دیکھے مرتسم لالا مجھے ریم بےبی سے کھیلنے نہیں دے رہے )
عارض نے اسکے رونے اور اسکی بات سننے کے بعد سپاٹ نظروں سے ان دونوں بھائیوں کی طرف دیکھا ۔۔۔
جو عارش کو گھورتے ہوئے اپنی بہن کو لے کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے ۔۔۔
تمہیں کیا لگتا ہے ہم تمہارے عارض لالا سے ڈرتے ہیں ؟؟؟؟ عارض کی آنکھوں پر اپنی اوشن بلو اپنے باپ جیسی آنکھیں ٹکاتے مرتسم استہزائیہ بولا تھا ۔۔۔
ابریشم ہماری بھی بہن ہے ہم ان کے ساتھ کھیل سکتے ہیں ۔۔۔پھر آپ کیوں عارش کو منع کر رہے ہیں ؟؟؟
مرتسم کی بات پر غصہ ہونے کی بجائے عارض نے تحمل کا مظاہرہ کرتے نرمی سے پوچھا ۔۔۔
جبکہ باقی بچوں کے برعکس اسے ریم کہنے کے بجائے اسکا پورا نام لیا تھا ۔۔۔
نہیں عارض شاہ ریم صرف ہماری پرنسز ہے تم لوگوں کی نہیں اس لیے ہم تمہیں اجازت نہیں دیتے اسس سے کھیلنے کی ۔۔۔
جاو اپنا کام کرو ۔۔۔
مرتسم شاہ بیہیو ۔۔۔
مرتسم کے بدتمیزانہ لہجے پر عارض نے اسے ٹوکا تھا۔۔۔
نہیں کرتا کیا کر لو گے تم ۔۔۔وہ بھی اسکی آنکھوں میں آنکھیں
ڈال کر غصے سے بولا ۔۔۔
جبکہ ان سب کے دوران وہاں موجود ہونے کے باوجود بھی زاور اور بالاج شاہ نے ان دونوں کو روکنے ٹوکنے کی زحمت نہیں کی تھی ۔۔۔
بس وہ سپاٹ نگاہوں سے آگے ہونے والے تماشے کا انتظار کر رہے تھے ۔۔۔
بچوں کو بحث کرتے دیکھ اب گھر کے بڑے بھی انکے قریب آ گئے تھے ۔۔۔
چلو عارش ہمیں کوئی ضرورت نہیں ہے انکی بہن کے ساتھ کھیلنے کی ۔۔۔آپ ہمارے ساتھ کھیل لیں ۔۔۔
اپنے غصے کو کنٹرول کرتے وہ عارش کا ہاتھ تھام کر اسے وہاں سے لیجانے لگا جو مسلسل نفی میں سر ہلاتے ہوئے ۔۔۔صرف ایک ہی الفاظ دوہرائے جا رہا تھا ۔۔۔
نہیں مجھے تیم بےبی کے ساتھ کھیلنا ہے ؟؟؟
ایک منٹ عارض رکیں ۔۔۔
مرتسم یہ کونسا طریقہ ہے بھائیوں سے بات کرنے کا ۔۔۔اور عارش کو کیوں کھیلنے نہیں دے رہے تم ابریشم سے ۔۔۔
عارش کو ضد کرتے دیکھ واسم نے عارض کو روکتے ہوئے مرتسم کو ڈانٹا ۔۔۔
اس لیے ڈیڈ کے ریم ہماری پرنسز ہم اسے کسی کو بھی نہیں دینگے ۔۔۔
اگر عارض عارش کو زیادہ ہی شوق ہے ،،،، تو وہ بڑے بابا اور پھوپھو جانی کو بولیں ،،،،، وہ انہیں لا کر دیں انکی بہن ۔۔۔
جبکہ اتنی صاف بات پر ضارب شاہ کی طرف دیکھتے ابرش کے چہرے پر گلال بکھرا تھا ۔۔۔
مرتسم ۔۔۔ابیہا نے کچھ کہنا چاہا ۔۔
جب صاف لفظوں میں جواب دیتے ہوئے وہ دونوں بھائی اپنی بہن کو سنبھالتے ہوئے اپنے ساتھ اپنے کمرے میں لے گئے ۔۔۔
جنکے جانے کے بعد انکی پشت کو گھورتے ہوئے واسم نےغصے سے ابیہا کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔
جسکے بدلے اس نے بھی اسے ڈبل گھوری سے نوازا ۔۔۔
کیا ہے آپ میری طرف کیوں ایسے دیکھ رہے ہیں آپکی ہی اولاد ہے اور آپ پر ہی گئی ہے ۔۔۔غصیلی اور بےباک ۔۔۔دوٹوک کہتے ہوئے ابرش کا ہاتھ تھام کر یہ جا وہ جا ۔۔۔
جبکہ پیچھے اتنی صاف بات پر واسم کا چہرہ سرخ ہوا تھا ۔۔۔
جسے دیکھتے ہوئے ضارب شاہ کے ساتھ زارون شاہ نے بھی قہقہہ لگایا تھا ۔۔۔
حیدر شاہ جو اب پہلے سے بھی مزید بوڑھے ہو گئے تھے۔۔۔ لیکن اپنے خاندان کی خوشحالی اور بچوں کی خدمت گزاری نے انہیں ڈگمگانے نہیں دیا تھا ،،،، لاؤنج میں ہی ایک طرف صوفے پر براجمان اپنی ہمسفر کے ساتھ اپنے چمن کے پھولوں کو ہنستے ہوئے دیکھ سرشاری سے مسکرائے تھے ۔۔۔جبکہ عارض شاہ اور مرتسم کی لڑائی کو دیکھتے انہیں ضارب واسم کا بچپن یاد آیا تھا ۔۔۔جس پر نفی میں سر ہلاتے آنے والے وقت کا اندازہ لگاتے مسکرا کر انکی خوشیوں کی دعا تھی ۔۔۔
ایک طرف جہاں خوشیوں کا راج تھا ۔۔۔
وہی دوسری طرف کوئی اپنی موت کی آخری ہچکیاں لے رہا تھا ۔۔۔
زوہان بیٹا یہ آدمی ،،،، یہ آدمی ،،،، ہمارے گھر کی بربادی کا ذمہ دار ہے بیٹا ،،،، وعدہ کرو مجھ سے ،،،،، جیسے اس نے ہمارے خاندان کو برباد کیا ،،،، ویسے ہی تم بھی اسکے خاندان کو برباد کرو گے ۔۔۔
جیسے اس نے ہمارا سکون اور چین چھینا تھا ،،،،، تم بھی بالکل ویسے ہی اسکے خاندان کو چین نا لینے دینا ۔۔۔
وعدہ کرو مجھے سے زوہان بیٹا وعدہ کرو ۔۔۔
اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ میں اپنے آٹھ سال کے بچے کا ہاتھ تھامتے ایک آدمی اپنی زندگی کی آخری گھڑیوں میں اس سے وعدہ لے رہا تھا ۔۔۔
میں وعدہ کرتا ہوں بابا ،،،، جیسا آپ نے بولا ہے بالکل ویسا ہی کروں گا۔۔۔۔ لیکن پلیز مجھے چھوڑ کر نا جائیں ۔۔۔
وہ معصوم بچہ اپنے باپ کی تکلیف پر تڑپ کر وعدہ کرتا روتے ہوئے اسکے سینے کا حصہ بنا تھا ۔۔۔
نہیں میری جان تم نے رونا نہیں ہے ،،،، کیونکہ یہ آنسو تو کمزور لوگوں کا گہنا ہوتے ہیں ،،،، اور تم نے کمزور نہیں بہت بہادر بننا ہے۔۔۔
وعدہ کرو آج کے بعد تم کبھی رو گے نہیں ۔۔۔میری موت پر بھی نہیں ،،،، وعدہ کرو ،،،، مجھ سے ۔۔۔۔تکلیف کے عالم میں جب اسے سانس بھی رک رک کر آ رہا تھا ۔۔۔وہ اسے اپنے سینے سے الگ کرتا غصے سے بولا ۔۔۔
جس پر وہ معصوم بچہ سہما تھا۔۔۔
ہاں بابا میں وعدہ کرتا ہوں اب کبھی نہیں رووں گا ۔۔۔
اور ساتھ ہی اپنے بہتے ہوئے آنسو ،،،، بےدردی سے صاف کیے تھے ۔۔۔
اماں بی یہ میری امانت ہے آپکے پاس آپ نے اسے اتنا مظبوط بنانا ہے،،،، کہ کوئی بھی دیوار اسے اپنا بدلہ لینے سے نا روک سکے ۔۔۔
اپنے بیڈ کے ساتھ ہی کھڑی ایک ملازمہ کے ہاتھ میں اپنے بچے کا ہاتھ دیتے ہوئے وہ مضبوطی سے بولا ۔۔۔
جس پر اس نے عورت نے زوہان کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے سر ہلایا تھا ۔۔۔
الوداع ۔۔۔
اور اسکے ساتھ ہی اس وجود کی آنکھیں ساخت ہو گئیں تھیں ۔۔۔
اپنے باپ کو بےجان محسوس کرتے ہوئے وہ بچہ ایک بار پھر تڑپ کر اسکے سینے کا حصہ بنا ۔۔۔لیکن اپنا وعدہ یاد کرتے ہوئے اس نے اپنے آنسوؤں کو بہنے نہیں دیا تھا ۔۔۔
بلکہ اپنے اندر ہی کہیں جذب کرتے ایک آگ کے شعلے میں بدلنا شروع کیا ۔۔۔
میں وعدہ کرتا ہوں بابا اپنا ایک ایک وعدہ نبھاؤں گا ۔۔۔اپنے دشمنوں کو ایسے تڑپاوں گا کہ وہ مجھ سے رحم کی بھیک مانگے گے ۔۔۔لیکن میں رحم نہیں کھاؤں گا ۔۔۔
اس تصویر کو ہاتھ میں لیتے وحشت زدہ لہجے میں بولا تھا۔۔۔
جسکے پیچھے بڑے حروف میں اس شخص کا نام لکھا گیا تھا ۔۔۔
موسی شاہ ۔۔۔۔
جہاں آج ایک بدلے کی کہانی ختم ہو رہی تھی وہی سے ایک نفرت اور نئی محبت کی داستان شروع ہو رہی تھی ۔۔۔
جسکے کرداروں کو چنتے ہوئے ایک نئی بساط بچھا دی گئی تھی ۔۔۔
لیکن اس داستان میں فاتح بنتے کس کے مقدر میں جیت اور کس کی قسمت میں ہار لکھی جانی تھی ۔۔۔اسکا فیصلہ آنے والا وقت کرنے والا تھا ۔۔۔
ختم شد ۔۔
