Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 41)

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

ماضی

وقت کا کام ہے گزرنا چاہے اچھا ہو یا برا گزر ہی جاتا ہے ۔۔۔۔۔

حیدر شاہ نے بھی اپنے بھائی کے غم کو دل میں دفن کر کے خود کو سنبھال لیا تھا ۔۔۔۔۔۔

کیونکہ اب ان پر صرف گاؤں اور اپنے بچوں کی نہیں بلکہ ابراہیم شاہ کی تین نشانیوں کی بھی ذمہ داری تھی ۔۔۔۔۔

جو وہ بخوبی انجام دے رہے تھے ۔۔۔۔۔

اپنے بچوں سے بڑھ کر انہوں نے انکا خیال رکھا تھا ۔۔۔۔۔

موسی شاہ کو ہر معاملے میں ارمغان اور یمان شاہ سے آگے رکھا تاکہ اسے کبھی یہ محسوس نا ہو کہ وہ یتیم یا لاوارث ہے ۔۔۔۔۔

ابراہیم شاہ کی ننھی پریوں کو شہزادیوں کی طرح پالا ،،،،، بالکل اپنی بیٹیاں بنا کر ،،،،، جبکہ حجاب کے ساتھ یمان کا لگاو دیکھتے ہوئے ،،،، انہوں نے بچپن میں ہی انکا رشتہ طے کر دیا تھا ۔۔۔۔۔

جسکی خبر عمائمہ بیگم کے ساتھ ساتھ ارمغان شاہ اور موسی شاہ کو بھی تھی ۔۔۔۔۔

البتہ گھر کے چھوٹے بچوں سے یہ بات پوشیدہ رکھی گئی تھی ۔۔۔۔۔

دوسری طرف بڑھتی عمر کے ساتھ یمان شاہ کی دوستی حجاب شاہ سے گہری سے اور گہری ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔

اگر یمان کیلئے وہ اسکی زندگی تھی تو حجاب کیلئے بھی وہ روباب کے بعد اسکی پوری دنیا ۔۔۔۔۔

فطرتا ڈرپوک ہونے کی وجہ سے وہ ہما وقت کسی نا کسی مسئلے کا شکار ہی رہتی تھی ۔۔۔۔۔

اور یمان شاہ اسکے ہر مسئلے کا حل ۔۔۔۔۔

یہ دونوں بہنیں اپنی بھائی ( موسی شاہ ) سے زیادہ یمان اور ارمغان شاہ کے قریب تھیں ،،،،، کیونکہ وہ ایک الگ ہی نیچر کا مالک تھا ،،،،، صرف اپنی دنیا میں مگن رہنے والا ،،،،، اسے ان دونوں سے کوئی سروکار نہیں تھا ۔۔۔۔

اور نا ہی اس نے کبھی انہیں بڑے بھائیوں والا مان دیا تھا ،،،،، البتہ یہ دونوں اپنی زندگی سے بڑھ کر اسے چاہتی تھی ۔۔۔۔۔

لیکن اسکے سرد رویے کو دیکھتے کبھی اظہار نہیں کر پائی ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج ان دونوں کی یونیورسٹی کا پہلا دن تھا ،،،،،، جسے لے کر روباب جتنی ایکسائٹڈ تھی حجاب اتنی ہی نروس ۔۔۔۔۔

یہ دونوں بہنیں ایک ساتھ دنیا میں آئی تھیں ،،،،، جو شکل و صورت میں بھی بالکل ایک جیسی تھی ۔۔۔۔۔

لیکن دو چیزیں تھیں جو انہیں الگ بناتی تھیں ،،،،، ایک ان دونوں کے آنکھوں کا رنگ اور دوسرے انکے بال ،،،،، حجاب شاہ کی آنکھیں گہری سبز جبکہ روباب کی نیلی گہرے سمندر جیسی ،،،،،، حجاب کے بال یہاں گھنگھریالے تھے ،،،، وہی روباب کے حد سے زیادہ سلکی اور سٹریٹ ۔۔۔۔۔

اور اسکے علاوہ روباب جتنی پراعتماد تھی حجاب اتنی ہی بزدل ،،،،،، اب بھی وہ اپنے ہرے نگینوں سے آتے جاتے سٹوڈنٹس کو سہمی ہوئی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔

اسکی یہ گھبراہٹ اسکے حسن اور معصومیت کو اور حسین بنا رہی تھی ۔۔۔۔۔

کیا ہو گیا ہے حجاب میں ساتھ ہوں نا تمہارے پھر کیوں گھبرا رہی ہو ،،،،، کیا تمہیں اپنی آپی پر یقین نہیں ۔۔۔۔۔

اپنے سے صرف پانچ منٹ چھوٹی بہن کو اپنے ساتھ کا یقین دلاتے پیار سے بولی ۔۔۔۔۔

نہیں آپی بس نئی جگہ اور لوگوں کو دیکھ کر ہلکی سی گھبراہٹ ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔۔

میرے ہوتے ہوئے تمہیں ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے ،،،،، چلو مسکراو

اسکے ہاتھ کو پکڑ کر سہلاتے ہوئے مسکرا کر بولی ۔۔۔۔

جسکے بدلے وہ بھی مسکرائی تھی ۔۔۔۔۔

اچھا چلو تم وہاں بینچ پر جا کر بیٹھو میں ذرا کسی سے اپنے کلاس روم کا پوچھ کر آتی ہوں ۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے ۔۔۔۔

جس پر وہ سر ہلا گئی ،،،،، جبکہ روباب اسکا ہاتھ چھوڑ کر اندر کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔۔۔

جبکہ پیچھے اکیلے رہ جانے سے اسکی گھبراہٹ میں مزید اضافہ ہوا تھا ۔۔۔۔۔

اور جسم سے یکدم جان نکلتی محسوس ہونے لگی ،،،،، جس کے چلتے اس نے جلدبازی میں قدم بینچ کی طرف بڑھائے تھے ۔۔۔۔۔

اور سامنے سے آتے وجود کو نہیں دیکھ پائی ۔۔۔۔۔

نتیجتا دونوں کا زبردست قسم کا تصادم ہوا تھا ،،،،، جس سے حجاب کو دن میں بھی اپنی آنکھوں کے سامنے تارے ناچتے ہوئے نظر آئے ۔۔۔۔

اور اس سے پہلے کے وہ گرتی سامنے والے نے اسے ایک بازو سے تھامتے ہوئے گرنے سے بچایا ۔۔۔۔

جبکہ کسی کے ہاتھ کا لمس اپنے بازو پر محسوس کر کے اس نے اپنی سہمی ہوئی نگاہیں اٹھائی تھیں ۔۔۔۔۔۔

جن میں سامنے والے کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا تھا ،،،،،،

سو ،،،،، سوری

اسکی پکڑ سے بازو آزاد کرواتی بمشکل اٹکتی بولی ۔۔۔۔۔

جس پر وہ ہوش میں آتا مسکرایا ۔۔۔۔

اٹس اوکے ۔۔۔۔۔

ارے تم ابھی تک یہی کھڑی ہو چلو ہمیں کلاس کیلئے دیر ہو رہی ہے ۔۔۔۔

اور اس سے پہلے کہ وہ اس سے کوئی اور بات کرتا روباب وہاں آتی جلدبازی میں آگے پیچھے دیکھے بنا ہی اسے کھینچ کر اپنے ساتھ لے گئی ۔۔۔۔۔

جبکہ پیچھے کھڑے محسن حیات کو ایک پل کیلئے اپنا دل بھی اسکے ساتھ خود سے دور جاتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔۔۔

لیکن پھر مسکرا کر سر جھٹکتے وہ بھی اندر کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حال

واسم آفس جانے کیلئے تیار ہو رہا تھا جب ابیہا اسکا کوٹ لے کر اسکے پیچھے آ کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔

جسے آئینے سے واسم نے حیران نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔۔

لیکن اسکے عمل سے اسی خوشی بھی ہوئی تھی ،،،،، جو اس نے ظاہر نہیں کی البتہ بازو سیدھے کر کے کوٹ پہن لیا تھا ۔۔۔۔۔

جس کے بعد وہ پلٹتی جب واسم نے اپنا رخ بدلتے ایک ہاتھ سے اسکا بازو تھامتے ہوئے اسے روکا تھا ۔۔۔۔۔

جبکہ دوسرے کی پشت اسکی پیشانی پر رکھی ،،،، البتہ چہرے پر ناقابل فہم سے تاثرات تھے ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکے عمل پر اب کہ حیران ہونے کی باری ابیہا کی تھی ۔۔۔۔۔

کیا چیک کر رہے ہیں ؟؟؟؟؟

دیکھ رہا ہوں کہ کہیں تمہیں بخار تو نہیں ،،،،،، اس کی بات کے جواب میں لب دبا کر بولا ۔۔۔۔۔

مطلب ؟؟؟؟

تمہاری یہ فرمانبرداری اور خدمت گزاری ہضم نہیں ہو رہی ۔۔۔۔۔

جبکہ اب اسکا مطلب سمجھتے ابیہا نے اسے گھورا تھا ،،،،،، زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ،،،،،، بس بڑی ماما نے بولا شوہر کے کام اپنے ہاتھ سے کرنے چاہیے اس پر عمل کر رہی ہوں ۔۔۔۔۔

ورنہ مجھے کوئی شوق نہیں ہے ۔۔۔۔۔

وہ ٹکا سا جواب دیتی پلٹنے لگی جب واسم نے دوبارہ کھینچ کر اسے اپنے حصار میں لیا تھا ۔۔۔۔۔

اسکے علاوہ شوہر کی دوسری ضرورتوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے یہ نہیں بتایا تمہیں تمہاری بڑی ماما نے ؟؟؟؟؟

اسکے گال کو نرمی سے سہلاتے معنی خیزی سے بولا ۔۔۔۔۔

جس پر وہ سرخ ہوئی تھی ،،،،،، جبکہ نظریں اٹھانا مشکل ہو گیا ۔۔۔۔۔

ابیہا مجھے تمہارے ان کاموں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ تمہارے اعتبار اور ساتھ کی ہے ۔۔۔۔۔

نیکسٹ ٹائم جب بھی تمہیں میرے خلاف کوئی بھی بات پتا چلے تو اپنے دل میں میرے لیے بدگمانی لانے سے پہلے ایک بار مجھ سے پوچھ ضرور لینا ۔۔۔۔۔۔

کیونکہ ہر عمل کے پیچھے کوئی نا کوئی وجہ ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔۔

اور یہ میں تمہیں اپنی عادت کے برخلاف جا کر بتا رہا ہوں ،،،،،، کیونکہ میری زندگی میں صرف چند گھنے چنے لوگ ہیں جنہیں میں کوئی اہمیت دیتا ہوں ۔۔۔۔۔

ورنہ باقی ساری دنیا جو مرضی سوچتی رہے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔۔

وہ یکدم ہی سیریس ہوتے اسے نرمی سے سمجھاتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔

جس پر ابیہا کافی حیران ہوئی ،،،،،، کیونکہ اس نے ڈریگن کا یہ روپ پہلی بار دیکھا تھا ،،،،، اور اتنا نرم لہجہ کہ بمشکل ہی اسے غش آتے آتے بچا ۔۔۔۔۔

ورنہ اس نے تو اسے ہمیشہ آگ اگلتے ہی دیکھا تھا ۔۔۔۔۔

لیکن وہ اس کے لیے اہم تھی یہ جان کر اسے بہت خوش بھی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

سمجھ آئی بات “

اسے خاموش نظروں سے خود کی طرف دیکھتے پایا تو اسے تھوڑا اور اپنے قریب کرتا پیار سے گویا ہوا ۔۔۔۔۔

جس پر ابیہا نے مسکرا کر سر ہلایا تھا ۔۔۔۔۔

اور واسم نے آگے بڑھ کر بہت محبت کے ساتھ اسکی پیشانی پر اپنے لب رکھے ،،،، جس پر ابیہا نے آنکھیں بند کر کے اپنی روح میں سکون اترتا محسوس کیا ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائیں ” آپ ابھی ،،،،، تک ناراض ،،،،، ہے مجھ سے ؟؟؟؟؟

ابرش کے سوال پر آئینے کے سامنے کھڑے تیار ہوتے ضارب شاہ کے بالوں میں برش کرتے ہاتھ ایک پل کیلئے تھمے ۔۔۔۔۔

لیکن پھر اسے بنا کوئی رسپانس دیئے اس نے اپنا کام دوبارہ شروع کر دیا ۔۔۔۔۔

برش کرنے کے بعد خود پر پرفیوم سپرے کرتے ڈریسنگ ٹیبل سے گھڑی اٹھائی تھی ۔۔۔۔۔

اور اس سے پہلے کہ وہ پہنتا ابرش نے آگے بڑھ کر اسکے ہاتھ کو تھاما تھا ۔۔۔۔۔

جس پر اس نے اپنے لب بھینچے البتہ کہا کچھ نہیں اور نا اسکا ہاتھ جھٹکا بس خاموش نظریں اسکی طرف اٹھائی تھیں ۔۔۔۔

میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا تھا ،،،،،، پلیز سوری

اسکے چہرے کی طرف دیکھتی معصومیت سے بولی ۔۔۔۔۔

جس کے جواب میں اب بھی بس خاموشی تھی ۔۔۔۔

پھر اسے ایک سائڈ کرتے بیڈ پر رکھی اپنی چادر اٹھائی تھی ۔۔۔۔۔

جس پر ابرش کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور وہ آگے بڑھ کر اسکے سینے کا حصہ بنتی پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔

جس پر ضارب نے اسکے خوبصورت بالوں کو ایک ہاتھ میں پکڑ کر اسکا چہرہ مقابل کیا تھا ۔۔۔۔۔

ہم نے آپ کو پہلے ہی بتایا تھا ،،،،، ہمارے قریب آنے پر ہمیں جھٹکنے یا پھر روکنے کی کوشش مت کریئے گا ۔۔۔۔۔

اس بات پر ہم کوئی کمپرومائز نہیں کرینگے ۔۔۔۔۔

ہم اگر چاہیں تو پل میں آپکی سانسوں پر قابض ہو کر آپکی روح میں اتر جائیں ،،،،،، آپکے پور پور پر اپنے لمس کی چھاپ چھوڑ کر حکمرانی کریں ۔۔۔۔۔

لیکن ہم ایسا نہیں چاہتے ،،،،،، ہم آپکے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنا چاہتے ہیں ،،،،، ہمیں جھٹک کر ہماری انا کو ٹھیس پہنچا کر ہمیں ہمارے اصل روپ میں آنے پر مجبور نا کریں ۔۔۔۔۔

کیونکہ یہ آپکی ننھی سی جان پر بہت بھاری پڑے گا ۔۔۔۔۔

وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک ایک لفظ ٹھہر ٹھہر کر بولا تھا ۔۔۔۔۔

جس پر ابرش نے اسکی طرف سہمی ہوئی نگاہوں سے دیکھا ۔۔۔۔۔

جبکہ آنکھوں سے دو موتی ٹوٹ کر گالوں پر بہہ نکلے ،،،،،، اور وہ جو ایک بار پھر سوری کہنے والی تھی ،،،،،، اسکے غصے کو دیکھتے لب بےآواز پھڑپھڑا کر رہ گئے ۔۔۔۔۔۔

جنہیں اتنے قریب سے ضارب نے بہت غور سے دیکھا تھا ۔۔۔۔

جی میں تو آیا کہ یہ دو انچ کا فاصلہ مٹا کر اسے چھو لے لیکن وہ اسے اتنی جلدی معاف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا ۔۔۔۔۔

اس لیے لب بھینچ کر اپنے جذبات پر کنٹرول کرتا اسے ایک سائڈ کرتے چادر اوڑھ کر وہاں سے جانے لگا جب کچھ یاد آنے پر پلٹا ۔۔۔۔

اپنی پیکنگ کر لیجئے گا ،،،،،، شام میں ہم شہر واپس جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔

جسے سنتے ابرش نے پریشانی سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔

لیکن سائیں ،،،،

اینی پروبلم “

پھر اسکے سپاٹ لہجے پر نفی میں سر ہلا گئی ۔۔۔۔۔

جسے ایک نظر دیکھنے کے بعد وہ پلٹ کر وہاں سے نکلتا چلا گیا ،،،،،، جبکہ ابرش پریشان سی بیڈ پر بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔

یہ تو اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا ،،،،،، کہ وہ ضارب کے ساتھ اسکے شہر والے گھر میں رہے گی ۔۔۔۔۔

وہ کیسے رہے گی اپنے اپنوں سے دور اکیلے وہاں اسکے ساتھ ۔۔۔۔۔

لیکن ضارب کو انکار بھی نہیں کر سکتی تھی ،،،،، وہ پہلے ہی اس سے ناراض تھا ،،،،، نا جانے یہ بات سن کر کیسا ری ایکشن دیتا ۔۔۔۔۔

اس نے پریشانی سے نظریں اٹھا کر سامنے لگی اسکی تصویر کو دیکھا تھا ،،،،، اور اسکی بےرخی کو یاد کرتے ہوئے آنکھیں لبا لب آنسوؤں سے بھر گئی ۔۔۔۔۔

دوسری طرف شہر جانے کی ٹینشن اسکے بہتے آنسوؤں میں اور روانی لے آئی تھی ،،،،،، لیکن اس مسئلے کا اسے کوئی حل نظر نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔۔

سوائے رونے کے جو وہ بخوبی انجام دے رہی تھی ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابرش اپنے کمرے میں پیکنگ کر رہی تھی ،،،، جب ابیہا اور زرمینے دروازہ ناک کرتی اندر داخل ہوئی ۔۔۔۔۔

جنہیں دیکھ کر وہ مسکرائی تھی ۔۔۔۔۔

کیا کر رہی ہو بھئی ؟؟؟؟؟

یہ کہاں جانے کی تیاری ہو رہی ہے ؟؟؟؟؟

جبکہ اسکو پیکنگ کرتے دیکھ کر دونوں نے باری باری سوال کیا تھا ۔۔۔۔۔

جس پر اس نے اداس نظروں سے ان دونوں کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔

انہوں نے بولا ہے پیکنگ کرنے کو شام میں وہ واپس شہر جا رہے ہیں اور ساتھ مجھے بھی لے جا رہے ۔۔۔۔۔

ان کے سوال کرنے پر وہ افسردگی سے گویا ہوئی ۔۔۔۔۔

لالا شہر جا رہے ہیں ،،،،، لیکن انہوں نے تو گھر میں کسی کو نہیں بتایا ،،،،، ابھی دن ہی کتنے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔

شادی کو ۔۔۔۔۔

پتا نہیں بیا انہوں نے مجھے تیاری کرنے کا بولا ۔۔۔۔۔اسکی بات کے جواب بس اتنا ہی بولی ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکی اداسی ان دونوں کو واضح محسوس ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

اچھا یہ چھوڑو تم ادھر آو ہمارے پاس ،،،،، جسے دیکھتے اس نے بیڈ پر جگہ بناتے اسے اپنے پاس بلایا تھا ۔۔۔۔۔

اور اسے درمیان میں بٹھا کر خود دائیں بائیں بیٹھ گئیں ۔۔۔۔۔

تم کیوں اتنی اداس ہو ،،،،، کیا تم لالا کے ساتھ شہر نہیں جانا چاہتی ؟؟؟؟؟

اسکا جھکا چہرہ اوپر اٹھاتے ہوئے نرمی سے پوچھا ۔۔۔۔۔

نہیں ایسی بات نہیں ہے بس آپ سب سے دور جانے کا سوچتے دل گھبرا رہا ۔۔۔۔۔

کبھی گئی نہیں نا اکیلی کہیں بس اسی لیے ۔۔۔۔۔

ارے پاگل تم اکیلی تھوڑی جا رہی ہو لالا بھی تو تمہارے ساتھ ہونگے ،،،،، ویسے بھی ہر لڑکی کا اصل گھر وہی ہوتا ہے جہاں اسکا شوہر رہے ۔۔۔۔۔

اور ویسے بھی لالا ہر ہفتے حویلی کا چکر لگاتے تو ہیں ،،،،، تم بھی آ جایا کرنا ساتھ ۔۔۔۔۔

اسکی بات کے جواب میں رسان سے سمجھاتی بولی ۔۔۔۔۔

جس پر اس نے صرف سر ہلانے پر ہی اتفاق کیا تھا ۔۔۔۔۔

کیا ہوا ہے ابرش اسکے علاوہ بھی کوئی بات ہے ؟؟؟؟؟ اسکی پریشان صورت دیکھتے ایک بار پھر نرمی سے سوال کیا تھا ۔۔۔۔۔

جس پر اس نے نظر اٹھا کر ان دونوں کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔

تم ہم دونوں پر بھروسہ کر سکتی ہو ۔۔۔۔۔ اسے شش و پنج کا شکار ہوتے دیکھ اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے بولی ۔۔۔۔۔۔

و ،،،،، وہ

ہاں بولو ۔۔۔۔۔

وہ مجھ سے ناراض ہیں ۔۔۔۔۔۔

جس پر حیرت سے ان دونوں نے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔

لالا ناراض ہیں تم سے ،،،،، کیا کیا تھا تم نے ؟؟؟؟؟ مطلب وجہ کیا تھی ؟؟؟؟؟

دونوں نے حیران ہوتے باری باری سوال کیا تھا ۔۔۔۔۔

جس پر وہ سوچنے لگی اب ان دونوں کو کیا جواب دے ،،،،، اب اصل وجہ تو انہیں بتانے سے رہی ،،،،، جسے سوچتے ہی اسکے نرم و نازک گال سرخ ہونے لگے تھے ۔۔۔۔۔

وہ تم لوگ چھوڑو بس منانے کا طریقہ بتاو مجھے ،،،،،

لیکن ایسے کیسے پہلے تم وجہ تو بتاؤ تبھی ہم کچھ مدد کر پائیں گے ۔۔۔۔

اب کہ اسکا رخ پلٹتے ہوئے زرمینے بولی تھی ۔۔۔۔

جس کی تائید ابیہا نے بھی کی ،،،،،،

یار اب میں کیا بتاؤں ،،،،، تم لوگ خود ہی سمجھ جاو نا ،،،،،، وہ سرخ چہرے کے ساتھ چڑتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔

اووووو تو ایسی بات ہے ۔۔۔۔۔

اسکی سرخ تپے چہرے کو دیکھتے ہوئے دونوں نے اوو کو لمبا کھینچا تھا ۔۔۔۔۔

جسے سنتے ابرش نے شرما کر اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپایا ۔۔۔۔۔۔

جس پر وہ دونوں قہقہہ لگا کر ہنسی تھیں ۔۔۔۔۔

تو پاگل سوری بول دینا سمپل ،،،،، بولا تھا لیکن وہ نہیں مان رہے ۔۔۔۔۔

تو پھر وہ والا گانا گا کر ان سے ہی طریقہ پوچھ لینا تھا ،،،،،، زرمینے کی بات پر ابرش نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔

یار وہی

روٹھے ہو تم ،،، تم کو کیسے مناوں پیا

بولو نا ،،،،،،،، ہائے بولو ناااااااااں

وہ شرارت سے نا کو لمبا کھینچتی بولی جس پر ابرش نے اسکے کندھے پر ایک م*کہ جڑا تھا ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکے برعکس ابیہا نے قہقہہ لگایا ۔۔۔۔۔

کمینی دفع ہو جا ،،،،، اتنا کہتے خود سے دور دھیکلا ۔۔۔۔۔

البتہ وہ ہنستے اسکے گلے لگی تھی ۔۔۔۔۔

جبکہ ابرش نے اب رونے والی صورت بنائی تھی ۔۔۔۔۔

اچھا یار سوچتے ہیں کچھ تم پریشان تو نا ہونا ۔۔۔۔۔۔

تم ایسا کرنا ابھی کچھ دنوں بعد لالا کی برتھڈے آ رہی ہے ،،،،، تم انہیں اچھا سا سرپرائز دینا اور ساتھ سوری بھی بول دینا ۔۔۔۔۔

مجھے پکا یقین ہے وہ مان جائیں گے ۔۔۔۔۔

آپ سچ کہہ رہی ہیں وہ مان جائیں گے ،،،،، ابیہا کی بات پر اس نے خوش ہوتے دوبارہ تائید چاہی تھی ۔۔۔۔

بالکل میری جان ۔۔۔۔

اسے پیار سے اپنے گلے لگاتی بولی تھی ۔۔۔۔

اور اگر نا مانے تو میرے آئیڈیے پر عمل کر کے دیکھ لینا ۔۔۔۔۔

زرمینے کی بات پر اس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔۔

ارے وہی روٹھے ہو تم تم کو کیسے مناوں پیا

بولو نا ،،،،، ہائے بولو

اس سے پہلے وہ جملہ مکمل کرتی ابرش نے پاس رکھا پلو اٹھا کر اسے مارا تھا

جس پر ہنستے ہوئے اس نے ایک آنکھ دبائی تھی ۔۔۔۔۔

جسے دیکھتے ابرش نے شرماتے ہوئے ابیہا کے سینے میں اپنا چہرہ چھپایا ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکی اس حرکت اور معصومیت کو دیکھتے کمرے میں دونوں کے قہقہے گونجے تھے ۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *