Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 94)Part 2

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

کون ہو تم لوگ کیوں مجھے پچھلے ایک ہفتے سے یرغمال بنا کر رکھا ہوا ہے ؟؟؟

بتاتے کیوں نہیں ؟؟؟

موسی شاہ کو اس کال کوٹھڑی میں بند ہوئے تقریبا ایک ہفتہ مکمل ہونے کو آیا تھا ۔۔۔

لیکن ابھی تک انہیں یہ معلوم نہیں ہو سکا تھا ۔۔۔کہ انہیں یوں قید کرنے کے پیچھے آخر کس کا ہاتھ تھا ۔۔۔

کہیں نا کہیں انہیں لگتا تھا کہ یہ سب کچھ ضارب شاہ کے کہنے پر ہو رہا تھا ۔۔۔ جو کہ حقیقت بھی تھا ۔۔۔لیکن پھر وہ اب تک ان سے ملنے اپنا بدلہ لینے کیوں نہیں آیا ۔۔۔

جہاں تک وہ ضارب شاہ کو جانتے تھے ۔۔۔وہ اپنے دشمنوں کو ایک لمحے کی رعایت نہیں دیتا تھا ۔۔۔

تو پھر انہیں اب تک زندہ کیوں رکھا ہوا تھا ۔۔۔

لیکن وہ نہیں جانتے تھے ،،،، ضارب شاہ کا اپنا ہی ایک قانون تھا ،،،، اپنے الگ اصول تھے ۔۔۔جن کے تحت ہر مجرم کو الگ سزا سنائی جاتی تھی ،،،، وہ اپنے شکار کو مارنے سے زیادہ تڑپانے پر یقین رکھتا تھا ۔۔۔

وہ ایسی دردناک موت دینے والا سفاک درندہ تھا ،،، کہ جس کے ہتھے چڑھنے سے بہتر لوگ مرجانے کو ترجیح دیتے تھے ۔۔۔

ایسے ہی تو نہیں وہ دہشت کی دنیا میں سٹون ہارٹ کے نام سے جانا جاتا تھا جس کے اندر احساس نامی کوئی چیز نہیں پائی جاتی تھی ۔۔۔

اسکے آدمی جو پچھلے ایک ہفتے سے انہیں الگ الگ طریقے سے ٹارچر کر رہے تھے ۔۔۔جسکی وجہ سے انہیں اپنے پورے جسم میں درد کی ٹیسیں اٹھتی محسوس ہو رہی تھیں ۔۔۔

حتی کہ درد کو سہتے سہتے انکا وجود مکمل نڈھال ہو چکا تھا ۔۔۔نقاہت اس قدر زیادہ تھی کہ منہ سے الفاظ بھی اب رک رک کر نکل رہے تھے ۔۔۔

زخموں سے خون بہہ بہہ کر پورے وجود پر جم چکا تھا ۔۔۔

لیکن سامنے والوں کو اس سے کوئی غرض نہیں تھی ۔۔۔وہ بالکل کسی روبوٹ کی طرح اپنے مالک کے حکم مانتے ،،، انہیں سزا دے رہے تھے ۔۔۔

چوبیس گھنٹوں میں انہیں صرف ایک بار کھانا دیا جاتا تھا ۔۔۔اور وہ بھی ایسا کہ کیا ہی جیل کے قیدیوں کو بھی دیا جاتا ہو ۔۔۔باسی روٹی اور ساتھ پتلی سی دال جس میں ڈھونڈنے سے بھی دال کا دانہ نا ملے ۔۔۔

جسے پہلے دن دیکھتے ہی انہوں نے کھانے سے صاف انکار کر دیا تھا ۔۔۔

اور پھر جو طریقہ انہوں نے اپنایا تھا ،،،، موسی شاہ کی ہمت نہیں ہوئی تھی کہ وہ دوبارہ اسے کھانے سے انکار کرتے ۔۔۔

اب بھی کمرے میں داخل ہوتے وجود کو محسوس کرتے ،،،، انہوں نے اپنی نقاہت زدہ آنکھیں کھولیں اور پھر ایک بار وہی سوال دوہرایا جو وہ پچھلے ایک ہفتے سے پوچھ رہے تھے ۔۔۔

لیکن ہمیشہ کی طرح اس بار بھی جواب میں بس خاموشی ہی تھی ۔۔۔شاید وہ لوگ انہیں جسمانی عزیت کے ساتھ دماغی عزیت بھی دینا چاہتے تھے ۔۔۔اس لیے خاموشی کی مار مار رہے تھے ۔۔۔

کھانا تو انہیں صبح ہی وہ لوگ کھلا چکے تھے ۔۔۔ یہ وقت تو انہیں انکے کیے گئے گناہوں کی سزا دینے کا تھا ۔۔۔

موسی شاہ نے اپنی ادھ کھلی آنکھوں سے ۔۔۔آج دیے جانے والی سزا کے سامان کو دیکھا تھا ۔۔۔

جہاں ایک آدمی کے ہاتھ میں باربی کیو کرنے کیلئے جو چھوٹی بھٹی استعمال کی جاتی تھی ویسا باکس تھا ،،،، اس کے اندر کوئلے دہک رہے تھے ۔۔۔ جنکی تپش دور ہونے کے باوجود انہیں اپنے بہت قریب محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔

جبکہ دوسرے کے ہاتھ میں برف کی بڑی والی سل تھی جسے دو آدمیوں نے مل کر اٹھایا ہوا تھا ۔۔۔

ان لوگوں نے وہ دونوں چیزیں انکے پاؤں کے قریب لا کر زمین پر رکھی تھیں ۔۔۔

پھر گہری خاموشی کے ساتھ جلدی جلدی انکے بندھے ہوئے پاؤں کھولنے لگے تھے ۔۔۔

نہیں ،،،، نہیں ،،،، نہیں پلیز

انہوں نےبند آنکھوں کے ساتھ نفی میں سر ہلاتے ہوئے اپنے پاؤں انکی قید سے آزاد کروانے چاہے ۔۔۔

لیکن زخموں سے چور چور نقاہت زدہ وجود سے وہ ان ہٹے کٹے جوانوں کا مقابلہ کہاں کر سکتے تھے ۔۔۔

جنہوں نے انکی مزاحمت کو کسی خاطر میں نا لاتے ۔۔۔

انکے دونوں پاؤں اٹھا کر ۔۔۔دہکتے شعلوں سے گرم ہوئیں ان سلاخوں پر رکھ دیئے تھے ۔۔۔

جس سے کمرے میں موسی شاہ کی درد ناک چیخیں گونج اٹھیں۔۔۔

وہ اپنے پاؤں کھینچنے کی کوشش کرتے مسلسل نفی میں سر ہلا رہے تھے ۔۔۔ ساتھ آنکھوں سے آنسو ایک لڑی کی صورت بہہ رہے تھے ۔۔۔

اس چھوٹے سے کوٹھڑی نما کمرے میں حبس کے ساتھ اب ماس جلنے کی بدبو بھی پھیل گئیں تھی ۔۔۔

جبکہ درد کی شدت برداشت کرتے موسی اب اپنے ہوش گنوانے کے در پر تھے ۔۔۔جب انہوں نے یکدم ہی ان سلاخوں سے انکے پاؤں اوپر اٹھائے ۔۔۔

اور ایک پل ٹھہرنے کے بعد ۔۔۔برف کی سل پر رکھ دیئے ۔۔۔سرخ و سفید پاؤں جنکی اوپری جلد پوری طرح زخمی تھی ۔۔۔جس پر چھوٹے چھوٹے کٹ لگا کر اس میں نمک کے ساتھ سرخ مرچیں بھری گئیں ،،،، جبکہ نچلا حصہ بری طرح جلنے کے بعد سلاخوں کی وجہ سے شگاف پڑ گئے تھے ۔۔۔اس پر آگ جیسی ٹھنڈی برف نے جیسے تیزاب کا کام کیا ۔۔۔

جبکہ اس ناقابل برداشت درد کو محسوس کرتے ہوئے ،،،، ایک درد ناک چیخ انکے ہونٹوں سے برآمد ہوئی ۔۔۔

اور اسکے بعد انکا سر بےدم ہو کر ایک طرف لڑھک گیا ۔۔۔

انہیں بیہوش ہوتے دیکھ وہ لوگ جس خاموشی سے آئے تھےاسی خاموشی سے سارا سامان سمیٹ کر واپس بھی چلے گئے ۔۔۔

اور موسی شاہ کا وجود پیچھے بے یارو مددگار پڑا تھا جسکے زخموں کی صفائی نا کرنے پر اس میں کیڑے پڑنے شروع ہو چکے تھے ۔۔۔

لیکن کسی کو ان پر رحم نہیں آیا تھا ۔۔۔اصل میں یہ انکے ہی انجام دیئے جانے والی گناہوں کی سزا تھی ۔۔۔کل وہ جو دوسروں کو مارتے وقت خود کو زمینی خدا سمجھتے ظلم کی انتہا کرتے تھے آج مکافات بن کر انکے سامنے کھڑا تھا ۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°

اپنے کمرے سے نکل کر وہ سیدھا لاؤنج میں آئی تھی ۔۔۔

جہاں اس وقت گھر کے سبھی بڑے چھوٹے افراد موجود تھے جو شام کی چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔۔۔

اس نے ایک نظر سب پر دوڑائی اور پھر تیز قدموں سے ضارب شاہ کے قریب آن کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔

لالا ۔۔۔”

جس پر ضارب کے ساتھ باقی سب گھر کے افراد بھی اسکی طرف متوجہ ہوئے تھے ۔۔۔

جبکہ اسکے نم لہجے کو سنتے وہ فورا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑاہوا تھا ۔۔۔

جی لالا کی جان ۔۔۔

زر میرے ساتھ آو ۔۔۔ مجھے ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔

تبھی اسکے پیچھے پیچھے زارون بھی لاؤنج میں آیا تھا ،،، اور اسے ضارب کے قریب کھڑے دیکھ کر اسکے بولنے سے پہلے ہی سختی سے کہتے اپنے ساتھ چلنے کا بولا ۔۔۔

لالا آپ نے بولا تھا نا کہ آپ ہمیشہ میرا ساتھ دینگے ۔۔۔ہر فیصلے میں ساتھ کھڑے ہونگے ۔۔۔زارون کی بات سرے سے نظر انداز کرتے ،،، ضارب کا ہاتھ تھام کر نم لہجے میں بولتی امید بھری نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔۔

جبکہ اسکو روتے دیکھ کر ضارب نے فورا اسے اپنے ساتھ لگایا تھا ۔۔۔

جی گڑیا۔۔۔” ہم ہمیشہ آپکے ساتھ ہیں ۔۔۔

لیکن اس سے پہلے ہمیں بتائیں آپ رو کیوں رہی ہیں ؟؟؟

لالا اگر آج میں آپ سے کچھ مانگوں تو کیا آپ مجھے وہ دینگے ؟؟؟ اسکے سوال نظر انداز کرتے اگلا سوال کیا ۔۔۔

زرمینے ۔۔۔”

زارون نے تنبیہ کرتی نگاہوں سے دیکھا ۔۔۔ضارب شاہ نے اسے گھورا ۔۔۔

لالا میں ۔۔۔

زارون شاہ اب آپکی آواز نہیں آنی چاہیے ۔۔۔

وارننگ دیتا لہجہ ۔۔۔ جس پر زارون نے سختی سے لب بھینچتے ہوئے سر جھکایا ۔۔۔

بولیں ہم سن رہے ہیں ۔۔۔

زارون کے جھکے سر کو ایک نظر دیکھنے کے بعد زرمینے کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔

لالا مجھے آزادی چاہیے ؟؟؟

آزادی ؟؟

ضارب نے سوالیہ دیکھا ۔۔۔

زارون شاہ سے طلاق ۔۔۔

زرمینے کے منہ سے طلاق کا لفظ سن کر جہاں زارون نے غصے سے مٹھیاں بھینچی تھیں البتہ ضارب کی وجہ سے ہونٹوں پر چپ کے تالے لگائے خود کو کچھ بھی بولنے سے باز رکھا ۔۔۔ وہی باقی گھر کے افراد جو اسکی باتوں کو سنتے معاملہ سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے ۔۔۔

ابرش ابیہا نے حیرت سے اسکے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔آخر ان سے بہتر کون جان سکتا تھا کہ وہ زارون سے کتنی محبت کرتی تھی ۔۔۔

پھر یہ علیحدگی کی بات ۔۔۔

حیدر شاہ کے ساتھ اماں سائیں ارمغان شاہ روباب اور عظمی جہاں زرمینے کے منہ سے طلاق کا لفظ سنتے پریشان ہوئے تھے ۔۔۔وہی واسم شاہ کو زرمینے کی یہ بات بہت ناگوار گزری تھی ۔۔۔

آپکا کہیں دماغ تو خراب نہیں ہو گیا ۔۔۔

نجمہ بیگم نے فورا غصے سے آگے بڑھ کر اسکا بازو اپنی گرفت میں لیتے ہوئے اسے ڈانٹا ۔۔۔

البتہ اس نے کوئی بھی جواب دینا ضروری نا سمجھا ۔۔۔اسکی نظریں اب بھی ضارب شاہ کے چہرے پر ٹکی ہوئیں تھیں ۔۔۔

جو پریشان نظروں سے کبھی اسکے اور کبھی زارون شاہ کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔اور کچھ حد تک اسے معاملہ سمجھ بھی آ رہا تھا ۔۔۔

دیکھو گڑیا ۔۔۔”

نہیں مجھے کچھ نہیں دیکھنا ،،،،، آپ مجھے صرف اتنا بتائیں کہ آپ میری مدد کرینگے یا نہیں ۔۔۔

ضارب نے مصلحتاً کچھ کہنا چاہا ۔۔۔

جب وہ اسکی بات درمیان میں کاٹتے ہولی ۔۔۔

زرمینے ۔۔۔”

جبکہ اسے ایک بات کرتے دیکھ نجمہ بیگم تنبیہ سے بولیں ۔۔۔

جب ضارب نے انہیں آنکھوں سے ہی چپ رہنے کا اشارہ کیا تھا ۔۔۔

گڑیا ہم نے بولا نا ہم ہمیشہ آپکے ساتھ ہیں ۔۔۔لیکن جب تک آپ ہمیں اپنے اس فیصلے کے پیچھے کی وجہ نہیں بتا دیتیں ،،،، آخر آپ کیوں زارون کے ساتھ نہیں رہنا چاہتیں ۔۔۔

ہم آپکی کوئی مدد نہیں کر پائے گے ۔۔۔

اور وجہ بھی معقول ہونی چاہیے ۔۔۔

کیونکہ چھوٹے چھوٹے معمولی جھگڑوں پر یوں گھر نہیں توڑے جاتے ۔۔۔

وجہ ہے لالا ۔۔۔” بہت بڑی وجہ ہے ۔۔۔

نہیں رہ سکتی میں ایسے انسان کے ساتھ جس کی نظر میں میری ذات کی کوئی اہمیت نہیں ۔۔۔

جس کیلئے میرا وجود ایک ضرورت کے سامان سے زیادہ کچھ نہیں ۔۔۔

جو دوسروں کے کیے کی سزا مجھے دیتا ہے ،،،، جس نے میرے احساسات اور جذبات کو بری طرح اپنی انا کے پیروں تلے کچلا ہے ۔۔۔

اور سب سے بڑی اور معقول وجہ ۔۔۔میرے ہونے والے بچے کا قاتل ہے ۔۔۔

پھوٹ پھوٹ کر اونچی آواز میں روتے اتنے دنوں سے اپنے اندر چھپے درد کو لفظوں کی صورت باہر نکالتی چیخی ۔۔۔

جس پر دنگ ہوتے سب نے افسوس بھری نظروں سے زارون شاہ کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔

جبکہ نجمہ بیگم تو ایسے تھیں ۔۔۔جیسے کسی نے انکے وجود سے روح کھینچ لی ہو ۔۔۔تاشے نے فورا آگے بڑھ کر انہیں سنبھالتے گرنے سے بچایا ،،، ورنہ وہ زمین بوس ہو جاتیں ۔۔۔

کیا کچھ نہیں جھیلا تھا انکی معصوم بیٹی نے ۔۔۔وہ جو واسم شاہ کے ری ایکشن کو دیکھ کر اس دن سوچ رہی تھیں کہ پتا نہیں زارون شاہ سچ جان کر کیا کرے گا ۔۔۔

انہیں پتا ہی نہیں چلا کہ انکی بیٹی پر یہ قیامت صغری آ کر گزر بھی گئی تھی ۔۔۔

اور وہ کتنی بےخبر رہیں ۔۔۔آخر کب تک اپنے باپ کے کیے کی سزا انکی معصوم بچی جھیلے گی ۔۔۔یہ سوچ آتے ہی انکے آنسو جو کب سے رکے ہوئے تھے ۔۔۔انکے چہرے پر بہہ نکلے ۔۔۔

ضارب شاہ نے ساری حقیقت جاننے کے بعد غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچی تھیں ۔۔۔جبکہ زارون شاہ کیلئے افسوس کے ساتھ آنکھوں میں لہو اتر آیا تھا ۔۔۔

کتنا سمجھایا تھا اس نے زارون شاہ کو کہ جو کچھ بھی ہوا ہے ۔۔۔اس چیز کا غصہ وہ زرمینے پر مت نکالے لیکن ۔۔۔”

اس نے بمشکل ہی لب بھینچ کر خود کو کچھ کہنے سے روکا تھا ۔۔۔

جبکہ واسم شاہ جو زرمینے کے طلاق مانگنے پر اسے ڈانٹنے والا تھا ۔۔۔اس حقیقت نے اسکے لبوں پر چپ کے تالے لگا دیئے تھے ۔۔۔اور اسے زارون شاہ پر اتنا غصہ آیا تھا ۔۔۔کہ دل کر رہا تھا ابھی اسکا منہ توڑ دے ۔۔۔

لیکن زرمینے نے مدد ضارب سے مانگی تھی اس سے نہیں ۔۔۔اس لیے وہ اس بات کا فیصلہ بھی ضارب پر چھوڑتے ہوئے ۔۔۔بمشکل خود کو کنٹرول کر کے کھڑا تھا ۔۔۔

ابرش ابیہا کے تو ساری بات سننے کے بعد آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے ۔۔۔

جبکہ روباب اس سب کی ذمہ دار خود کو سمجھ رہی تھی ۔۔۔آخر کہیں نا کہیں زارون کے غصے کے پیچھے کی وجہ وہی تھیں ۔۔۔

زارون ہمیں آپ سے یہ امید نہیں تھی ۔۔۔

کافی دیر گزر جانے کے بعد حیدر شاہ کے لبوں سے بس یہ چند الفاظ نکلے تھے ۔۔۔

اور کیا کچھ نہیں تھا ان لفظوں میں ۔۔۔اپنے مان کے ٹوٹنے کا درد جس کے ساتھ انہوں نے زرمینے کو اسے سونپا تھا ،،، یہ حرکت انجام دے کر زارون شاہ نے انکی تربیت پر سوال اٹھا دیا تھا ۔۔۔

دادا سائیں ۔۔۔”

زارون نے کچھ کہنا چاہا جب انہوں نے ہاتھ اٹھا کر اسے بولنے سے روکا ۔۔۔اور افسوس بھری نظروں سے دیکھنے کے بعد اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے ۔۔۔

زارون نے گہرا سانس لیتے اپنے چہرے پر دونوں ہاتھ پھیرے اور پھر ایک نظر اپنی زندگی کی طرف دیکھا ۔۔۔جسکی رو رو کر اب ہچکیاں بندھ گئیں تھیں ۔۔۔

پھر آگے بڑھ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔

زر یار میں نے جان بوجھ کر کچھ نہیں ،،،،، اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی زرمینے کا ہاتھ اٹھا تھا ۔۔۔

اور اسکے وجیہہ چہرے پر اپنی چھاپ چھوڑ گیا ۔۔۔

زارون کو پڑنے والے تھپڑ کی آواز پورے لاؤنج میں گونجی ۔۔۔

میں نے بولا مجھے ہاتھ مت لگائیے گا ۔۔۔ساتھ ہی وہ اپنی پوری قوت سے چیخی تھی ۔۔۔

جبکہ لاؤنج میں موجود سبھی عورتوں نے اپنے لبوں پر ہاتھ رکھ لیے تھے ۔۔۔

زرمینے کی اس حرکت پر زارون شاہ نے آنکھوں میں چنگاریاں بھر کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔

جس پر زرمینے تو نہیں البتہ نجمہ بیگم کا دل ضرور کانپا تھا ۔۔۔

زارون نے جو کچھ بھی کیا لیکن وہ یہ کبھی نہیں چاہتی تھی کہ انکی بیٹی کا گھر ٹوٹے ۔۔۔

زرمینے ۔۔”

انہوں نے غصے سے کہتے اسے اسکی حرکت کا احساس دلایا تھا ۔۔۔

جس پر وہ کچھ ہوش میں آئی ۔۔۔پھر اپنے انجام دیئے جانے والے فعل کا احساس ہوتے ہی لبوں پر ہاتھ رکھتے تیز قدموں سے اوپر اپنے کمرے کی طرف بھاگی تھی ۔۔۔

جبکہ پیچھے زارون نے ایک نظر لاؤنج میں موجود سبھی افراد پر دوڑائی ۔۔۔

واسم اور ضارب شاہ کو دیکھتے جو اپنی جگہ خاموش لب سییے کھڑے تھے ۔۔۔

طیش کے عالم میں حویلی سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°

آج شام میں جو کچھ بھی ہوا ۔۔۔اس نے گھر میں ایک تناو پیدا کر دیا تھا ۔۔۔

سب اپنی اپنی جگہ پریشان اپنے اپنےکمروں میں بند تھے ۔۔۔

جس پر ابرش ابیہا اور تاشے نے مل جل کر بہت مشکل سے سب کو کچھ نا کچھ کھلایا تھا ۔۔۔

البتہ زارون شاہ شام کا نکلا ہوا ابھی تک گھر واپس نہیں آیا تھا ۔۔۔

انہی سبھی چیزوں کے چلتے تاشے کا دل بری طرح گھبرانا شروع ہو گیا تھا۔۔۔اور اس وقت تو رومان بھی اسکے قریب نہیں تھا اوپر سے گھر کے جو حالات تھے ۔۔۔ابیہا ابرش کی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی ۔۔۔

کہ کسی کا بھی اسکی طرف دھیان نہیں گیا ۔۔۔اور آج سے پہلے اس نے کبھی ایسے حالات نہیں دیکھے تھے ۔۔۔اس وقت اسکے احساسات بہت عجیب ہو گئے تھے ۔۔۔

جس کے چلتے وہ رات کے اس پہر کھلی فضاء میں سانس لینے کیلئے حویلی کے لان میں نکل آئی تھی ۔۔۔

جبکہ سوچوں کا محور ابھی بھی زرمینے کی ذات ہی تھی ۔۔۔

اس کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا تھا ۔۔۔اور موسی شاہ کی وجہ سے اس نے جو بھی جھیلا ۔۔۔اس نے موسی شاہ کیلئے اسکی نفرت میں مزید اضافہ کیا تھا ۔۔۔

جبکہ زارون شاہ سے اسے اس رویے کی ذرا توقع نہیں تھی ۔۔۔وہ ان دونوں کے شادی کے فنکشنز کے دوران جتنا اس نے اسے جانا تھا ۔۔۔وہ ایسا تو بالکل بھی نہیں تھا ۔۔۔

ابھی وہ اپنی انہی لایعنی سوچوں میں گم تھی ۔۔۔جب اسکی نظر گیٹ کے پاس کھڑے شہیر خان پر پڑی ۔۔۔جو کہ شاید ضارب کی گاڑی تیار کروا رہا تھا ۔۔۔

اور ساتھ ساتھ کسی سے فون پر بات بھی کر رہا تھا ۔۔۔

پچھلے کئی دنوں سے تاشے نے اسے ٹھیک سے نہیں دیکھا تھا ۔۔۔اور ایک آدھ بار نظر پڑی بھی تو اس نے تاشے کو دیکھتے فورا اپنی نظریں جھکا لی تھیں ۔۔۔اور اب رات کے اس پہر اسے یوں اپنے سامنے دیکھتے بےساختگی میں اسکے قدم شہیر کی طرف بڑھے تھے ۔۔۔

شہیر ۔۔۔”

اسکے قریب پہنچتے ہی تاشے نے نرمی سے اسے پکارا ۔۔۔۔دوسری طرف خان جو کال پر مصروف تھا ۔۔۔

خود کو اس نام سے بھولائے جانے پر حیران ہوتا پلٹا ۔۔۔کیونکہ اسکی ماں کے علاوہ اسے اس نام سے کوئی نہیں پکارتا تھا ۔۔۔

خصوصا حویلی میں سب لوگ اسے خان ہی کہہ کر پکارتے تھے ۔۔۔

اس لیے تھوڑا حیران ہونا تو بنتا تھا ۔۔۔

جبکہ اپنے پیچھے موجود وجود کو دیکھتے اس نے فوراً اپنی نظریں جھکائیں ۔۔۔

جی بی بی سائیں کوئی کام تھا ؟؟؟؟

اپنے نظروں کو جھکائے نہایت ادب کے ساتھ سر جھکا کر بولا ۔۔۔

جس پر تاشے نے افسوس سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔

پہلی بات میں کوئی آپکی بی بی سائیں نہیں ہوں ۔۔۔اس لیے بہتر یہی ہوگا آپ مجھے میرے نام سے ہی بولائے ۔۔۔

اور میرے سامنے یوں اپنا سر بھی مت جھکایا کریں مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا ۔۔۔

شہیر کو ٹوکتے ہوئے نہایت نروٹھے پن سے بولی ۔۔۔

جبکہ اسکی بےتکلفی پر خان نے حیرت سے سر اٹھایا تھا ۔۔۔جب اسکی نظریں ایک بار پھر اسکے معصوم نقوش میں الجھنے لگیں ۔۔۔

جس پر اس نے فورا خود کو کمپوز کرتے دوبارہ نظریں جھکائیں ۔۔۔

گستاخی معاف بی بی سائیں ۔۔۔آپ میرے سردار سائیں کے خاندان سے ہیں ۔۔۔میرے لیے نہایت قابل احترام ۔۔۔میں آپکو آپکے نام سے پکارنے کی گستاخی سر انجام نہیں دے سکتا ۔۔۔

لیکن ۔۔”

آپ کو اگر کوئی کام ہے تو مجھے بتا سکتیں ہیں ۔۔۔ورنہ مجھے اجازت دیں ۔۔۔مجھے سردار سائیں کے ساتھ شہر نکلنے کیلئے گاڑی تیار کروانی ہے ۔۔۔

تاشے کی بات درمیان میں کاٹتے دو ٹوک لیکن ادب کے ساتھ بولا ۔۔۔

وہ جو پہلے ہی ڈسٹرب تھی اسکے یوں بیگانگی برتنے پر تاشے کے سرمئی نینا بھیگے تھے ۔۔۔۔

نہیں آپ جا سکتے ہیں ۔۔۔

نم لہجے میں بولتی ہوئی وہ تیز قدموں سے اندر حویلی کی جانب بھاگی تھی ۔۔۔

جبکہ اسکے لہجے کے بھیگے پن کو خان نے شدت سے محسوس کیا ۔۔۔لیکن نظریں اٹھا کر اسکی پشت کو نا دیکھا ۔۔۔۔کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا ۔۔۔کہیں اسکا خود پر کیا کنٹرول ختم ہو جائے اور اس سے ایسی کوئی گستاخی سرزد ہو جائے ۔۔۔جس سے وہ اپنے سردار سائیں کی نظروں میں گنہگار ٹھہرایا جائے ۔۔۔

معاف کیجئے گا تاشے ۔۔۔مجھے آپکے جذباتوں کی قدر ہے ۔۔۔لیکن میں انکی پذیرائی کر کے ،،،، اپنے سردار سائیں کو دھوکہ نہیں دے سکتا ۔۔۔انہوں نے مجھ پر جو اعتبار کر کے اس گھر کا اپنی عزتوں کا محافظ بنایا ہے ۔۔۔

میں انکے مان اور اعتبار کو نہیں توڑ سکتا ۔۔۔

اسکے چلے جانے کا یقین ہوتے ہی اس نے اپنی نظریں اٹھائیں تھیں ۔۔۔جو ضبط کے چکر میں انتہائی سرخ ہو چکیں تھیں ۔۔۔پھر حویلی کی طرف دیکھتے ہوئے خود کلامی کے انداز میں بولتا باہر کی جانب بڑھ گیا ۔۔۔

یہ جانے بنا کہ کال پر دوسری طرف موجود ہستی نا صرف ان دونوں کی باتیں سن چکی تھی بلکہ انکے جذبات سے بھی آگاہی حاصل کر لی تھی ۔۔۔جسے تاشے کے پکارنے پر وہ جلدبازی میں بند کرنا بھول گیا تھا ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°

رات کا آخری پہر ۔۔۔ جب ہر ذی روح خواب و خرگوش کے مزے لوٹ رہا تھا ۔۔۔ایسے میں ایک وجود ۔۔جس نے اپنے آپ کو مکمل کالے لباس میں چھپایا ہوا تھا ۔۔۔

ہر طرف احتیاط سے دیکھتے ہوئے ۔۔۔ ایک کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔ جہاں ایک پری پیکر اسکی نیند اور چین چرا خود مزے سے سو رہی تھی ۔۔۔

اسکے پرسکون چہرے کو دیکھتے ہوئے ۔۔۔اس وجود کی آنکھوں میں ایک گہری چمک آئی تھی ۔۔۔

اپنی ہڈی کی پاکٹ سے ایک رومال نکالتے جو مکمل کلوروفام سے بھیگا ہوا تھا ۔۔۔

اسکے ناک پر رکھا ۔۔۔اور چند پل بعد اسکی سانسوں سے م اسکے بیہوش ہو جانے کا یقین کر لینے کے بعد اسے اپنے کندھے پر ڈالتے جس خاموشی سے آیا دبے قدموں ویسے تیزی سے ہی باہر نکلتا چلا گیا ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *