Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 99)Part 2

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

بیڈ پر پڑی شیروانی پر نظریں ٹکائیں شہیر گہری سوچوں میں گم تھا ۔۔۔جب اسکی والدہ دروازہ ہلکا سا ناک کرتے اندر داخل ہوئی تھیں ۔۔۔

ارے بیٹا آپ ابھی تک تیار کیوں نہیں ہوئے ۔۔۔بارات نکلنے کا ٹائم ہو گیا ہے ۔۔۔

جس پر وہ کچھ ہوش میں آیا تھا ۔۔۔

جی ماں سا بس جا ہی رہا تھا ۔۔۔

زبردستی مسکرا کر کپڑے اٹھانے لگا ۔۔۔

جب انہوں نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے روکا ۔۔۔

اور اسکے ہاتھوں کو تھام کر بیڈ پر براجمان ہوتے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا ۔۔۔

جس پر وہ برابر بیٹھنے کی بجائے زمین پر انکے قدموں میں بیٹھتا چہرہ انکی گود میں چھپا گیا ۔۔۔

کیا ہوا میرے بیٹے کو ؟؟؟ کیوں اداس ہیں ؟؟؟

اسکے گھنے بالوں میں نرمی سے انگلیاں سہلاتے بہت محبت سے گویا ہوئیں تھیں ۔۔۔

جسکا اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا بس یونہی خاموشی سے انکی گود میں چہرہ چھپائے اپنے اندر کے درد کو سنبھالنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔جو اسکی آنکھوں سے بہنے کو بےتاب تھا ۔۔۔

شہیر میں آپ سے کچھ پوچھ رہی ہوں بیٹا ۔۔۔

کچھ نہیں ماں سا بس ویسے ہی ۔۔۔

شہیر نے انکے دوبارہ پوچھنے پر نرمی سے جواب دیا ۔۔۔البتہ چہرہ گود سے ابھی بھی نہیں اٹھایا تھا ۔۔۔

آپ اس شادی سے خوش نہیں ہیں کیا ۔۔۔اسکے بالوں میں یونہی اپنی نرم انگلیاں سہلاتے ایک اور سوال کیا ۔۔۔

لیکن اس بار جواب میں بس خاموشی تھی ۔۔۔

ادھر دیکھیں اوپر میری طرف ۔۔۔

اسکا وجیہہ چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامتے اوپر اٹھایا ۔۔۔شہیر خان نے اپنی جھکی ہوئی پلکیں اٹھائیں ،،،، اسکی آنکھیں حد سے زیادہ سرخ ہو رہی تھیں ۔۔۔جبکہ ٹوٹے ہوئے دل کی کرچیوں کا درد آنسوؤں کے ذریعے باہر آنے کو بےتاب تھا ۔۔۔

جسے دیکھتے ہوئے وہ تڑپ ہی تو گئیں تھیں ۔۔۔

کیا ہوا میرا بچہ ؟؟؟

ماں سا اللہ تعالٰی ہمیشہ ہمارا دل ایسی جگہ پر ہی کیوں لگاتے ہیں جو آپکا نصیب میں نہیں ہوتا ؟؟؟

نم لہجے میں بچوں کی طرح سوال کیا ۔۔۔

آپ کسی کو پسند کرتے ہیں ؟؟؟؟

اسکے سوال کا جواب دینے کی بجائے ۔۔۔انہوں نے سوال کیا تھا ۔۔۔

جس پر خان نے نظریں چرائیں ۔۔۔

اب ان سب باتوں کا کوئی فائدہ نہیں ۔۔۔

لیکن آپکو ہمیں بتانا تو چاہیے تھا ۔۔۔اسکا بھی کوئی فائدہ نہیں تھا ماں سا ۔۔۔کیونکہ ان تک میری رسائی ناممکن تھی ۔۔۔

شہیر ۔۔۔

معاف کیجئے گا ماں سا میں نے آپکو بھی پریشان کر دیا ۔۔۔آپ چلیں میں بس کچھ ہی دیر میں تیار ہو کر آتا ہوں ۔۔۔

خود کو کمپوز کرتے وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔

جب انہوں نے اسکا ہاتھ تھاما ،،، پھر خود بھی اٹھ کر اسکے مقابل آئیں تھیں ۔۔۔

بیٹا ایک بات میری ہمیشہ یاد رکھیے گا ۔۔۔اللہ تعالٰی جو بھی کرتے ہیں اسکے پیچھے انکی کوئی نا کوئی مصلحت چھپی ہوئی ہوتی ہے ۔۔۔

اور وہ بلاوجہ کسی کا بھی خیال کسی کے دل میں نہیں ڈالتے ۔۔۔

آپ کہہ رہے ہو ۔۔۔کہ آپ کے جو دل میں ہے اس تک آپکی رسائی ممکن نہیں ۔۔۔

لیکن یہ بات ہمیشہ یاد رکھیے گا ۔۔۔

اللہ تعالٰی ہر نامکمن کو مکمن بنانے والے بہتر کارساز ہیں ۔۔۔ہر نامکمن چیز انکے صرف ایک کن کی محتاج ہے ،،،، وہاں وہ صرف ایک کن فرماتے ہیں اور یہاں وہ چیز آپکا مقدر بنا دی جاتی ہے ۔۔۔جس تک پہنچ پانا آپکے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا ۔۔۔

مسکرا کر اسکے گال کو نرمی سے تھپتھپاتے ہوئے اسکی مشکل آسان کرنی چاہی ۔۔۔

جس پر شہیر نے کچھ چونک کر انکی طرف دیکھا ۔۔۔پھر انکے چہرے کی مسکراہٹ کو دیکھتے نرمی سے مسکرا کر ہاں میں سر ہلاتا انکی پیشانی کو لبوں سے چھوتے کپڑے اٹھا کر واشروم کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔

جبکہ پیچھے انہوں نے گہرا سانس کھینچ کر اسکی چوڑی پشت کو دیکھا ۔۔۔اگر وہ ضارب کو دیے گئے وعدے کی پابند نا ہوتیں ۔۔۔تو کبھی بھی یوں اپنے جان سے پیارے بیٹے کو تڑپنے نا دیتیں ۔۔۔

لیکن وہ مجبور تھیں وہ اپنی جان تو دے سکتیں تھیں ۔۔۔لیکن اپنے پیروں سے دھوکا یا وعدہ خلافی کا سوچ بھی نہیں سکتیں تھیں۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°

میرج ہال پہنچتے بارات کا شاندار استقبال کیا گیا تھا ۔۔۔

حیدر شاہ سمیت شاہ خاندان کے تقریبا سبھی چھوٹے بڑے اپنے ہونے والے داماد کا خیر مقدم کرنے کیلئے ہال کے دروازے پر موجود تھے ۔۔۔

شہیر خان کے اندر داخل ہوتے ہی حیدر شاہ نے آگے بڑھ کر خود اسے پھولوں کا ہار پہناتے ہوئے اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔

جس کے بعد بہت عزت و احترام سے انکے والدین سے ملتے ہوئے شہیر کو سٹیج پر پہنچایا گیا تھا ۔۔۔

جبکہ دوسری طرف زرتاشے اس وقت ہال کے برائڈل روم میں بیٹھی اپنی دم توڑتی محبت کی آخری ہچکیاں سن رہی تھی ۔۔۔

جس کا جنازہ ابھی کچھ ہی دیر میں پڑھایا جانا تھا ۔۔۔اور پھر اسکے بعد سرخ جوڑا پہنا کر بہت شان و شوکت سے اسکی میت روانہ کی جانی تھی ۔۔۔

لیکن اتنا سب کچھ سہنے کے بعد بھی اسے ہونٹوں سے افف تک نکالنے کی اجازت نہیں تھی ۔۔۔

اسے خود کی بےبسی پر بے پناہ رونا آ رہا تھا پر آنکھیں آنسو نکالنے سے انکاری تھیں۔۔۔جبکہ نازک وجود اس ظلم کو برداشت نا کرتے بخار سے تپتا اسکے ہوش و حواس گم کرنے کے در پر تھا ۔۔۔

جسے بہت حوصلے سے برداشت کرتی وہ ابھی تک صرف و صرف اپنے بھائی کی عزت کی خاطر خود کو سنبھالے بیٹھی تھی ۔۔۔

نہیں تو جس انداز میں اسکی پاک محبت کا گلا گھونٹا گیا تھا ،،، کوئی شک نہیں تھا ان قریب وہ اپنی سانسیں بھی ہار دیتی ۔۔۔

ابھی وہ انہیں سوچوں میں گم تھی ،،،، جب نجمہ بیگم کے ساتھ ابرش ابیہا اور زرمینے اندر داخل ہوئیں تھیں ۔۔۔

نجمہ بیگم نے آگے بڑھ کر اسکی پیشانی پر پیار کرتے ہوئے اسےسینے سے لگایا ۔۔۔

جب انہیں اسکے وجود سے اٹھتی گرمی کا احساس ہوا ۔۔۔

تاشے میری جان آپکو تو بہت تیز بخار ہو رہا ہے ۔۔۔اسکا خوبصورت نازک چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامتے فکرمندی سے گویا ہوئیں تھیں ۔۔۔

جبکہ انکی بات پر ابرش ابیہا اور زرمینے بھی پریشان ہوتیں اپنے اپنے گاؤن سنبھالتیں قریب آ گئیں تھیں ۔۔۔

ان تینوں نے ڈفرنٹ کلر میں ایک جیسے گاؤن بنوائیں تھے ۔۔۔جنہیں پہن کر وہ تینوں ہی اس وقت اپسرائیں لگ رہیں تھیں۔۔۔

خاص طور پر ابرش جسکی ممتا کا نور اسکے چہرے کے ساتھ جسم سے بھی اب ظاہر ہونے لگا تھا ۔۔۔

جس نے اسکے معصوم حسن میں مزید اضافہ کر دیا تھا ۔۔۔

شاہ خاندان کی وہ چھوٹی شہزادی اور سب سے بڑی بہوجسکے قدموں کے نیچے بہت جلد جنت آنے والی تھی وہ ضارب شاہ کے دل کی دھڑکن تھی جو ضارب کی محبت میں دن با دن نکھرتی جا رہی تھی ۔۔۔

کہ عظمی روباب سمیت پورا خاندان اسکی بلائیں لیتا نہیں تھکتا تھا ۔۔۔

کچھ نہیں ماما بس ہلکا سا ٹمپریچر ہے ۔۔۔خود ہی ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔

انکی فکر پر بمشکل اپنے لڑکھڑاتے لہجے کو سنبھالتے ہلکا سا مسکرا کر بولی ۔۔۔

آپکا دماغ تو ٹھیک نہیں ہو گیا کتنا تیز بخار ہے ۔۔۔اور آپ نے ہمیں بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا ۔۔۔

شاید ابھی تک آپ نے ہمیں دل سے قبول نہیں کیا۔۔۔

نہیں ماما کیسی باتیں کر رہی ہیں ۔۔۔

تو پھر کیسی باتیں کروں ۔۔۔اگر آپ سچ میں ہمیں اپنی ماما سمجھتی تو یوں کبھی اپنی تکلیف مجھ سے نا چھپاتیں ۔۔۔

میں نے سوچا آپ پریشان ہونگی بس اسی لیے ۔۔۔

تو کیا اب میں پریشان نہیں ہوئی ۔۔۔

اسکی فضول منتق پر نجمہ بیگم کے ساتھ ان تینوں نے بھی اسے گھورا تھا ۔۔۔

ماما اب کیا کریں ۔۔۔رومان بھائی تو ابھی مولوی کو لے کر آتے ہی ہونگے ،،، نکاح کا وقت جو ہو گیا ہے ۔۔۔

زرتاشے کے طبیعت خرابی کا ادراک ہوتے زرمینے پریشانی سے گویا ہوئی تھی ۔۔۔

ہاں کچھ نہیں ابھی تم اسے گھونگھٹ نکلواوں اور اسکے پاس سے ہلنا نہیں ۔۔۔تب تک میں کسی ڈاکٹر یا میڈیسن کا انتظام کرتی ہوں ۔۔۔

وہ ان تینوں کو ہدایت دیتیں تیز قدموں سے باہر کی جانب بڑھی تھیں ۔۔۔

جنکے جانے کے بعد وہ زرتاشے کے قریب بیٹھتیں اسے گھورنے لگیں ۔۔۔جس سے ایک خوبصورت مسکراہٹ نے تاشے کے لبوں کا احاطہ کیا تھا۔۔۔

بدتمیز تم ہمیں بتا نہیں سکتی تھی کہ تمہیں بخار ہے ہاں ؟؟؟ اسکے سجے سنورے روپ کو دیکھتے اسکا چہرہ جو بخار کی تمازت کی وجہ سے مکمل سرخ ہو رہا تھا اس نے تاشے کے حسن کو مزید دو آتشاں کر دیا تھا ۔۔دل میں اسکی نظر اتارتے ابیہا بظاہر غصے سے بولی تھی ۔۔۔

بیا یار پلیز ڈانٹے تو نا دیکھیں اسے کتنا تیز بخار ہے ۔۔۔ابرش اسکے قریب ہو کر حمایت میں بولتی فورا آنکھوں میں آنسو بھر لائی تھی ۔۔۔

جبکہ اسے رونے کو تیار دیکھتے ابیہا ،، زرمینے نے اپنا سر تھاما تھا ۔۔۔

یار تم تو اپنا بچپنا بند کرو ۔۔۔پہلے ہم ایک تو سنبھال لیں ۔۔۔ابیہا نے اسے ہلکے سے ڈانٹا ۔۔۔تاکہ وہ روئے نہیں ۔۔۔جس پر فورا منہ بناتے وہ خاموش ہوئی تھی ۔۔۔

جبکہ اسکی معصومیت کو دیکھتے وہ تینوں ہی مسکرائیں تھیں ۔۔۔

تبھی روم کا دروازہ ہلکا سا ناک ہوا اور ساتھ ہی زارون اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔

جلدی سے ڈوپٹے ٹھیک کر لو ۔۔۔لالا ، بابا مولوی صاحب کے ساتھ نکاح کی اجازت لینے آ رہے ہیں ۔۔۔

نرمی سے بولتے ہوئے آگے بڑھ کر تاشے کے سر پر ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔

جو نکاح کا سنتے ایسے ہو گئی تھی ۔۔۔جیسے اسکے وجود سے کسی نے روح کھینچ لی ہو ۔۔۔

اس نے بہت کوشش کی تھی اپنے دل کو سنبھالنے کی ،،،،خود کو یہ بتانے کی کہ شہیر خان تمہارا کبھی نہیں ہو سکتا ۔۔۔لیکن دل دیوانہ تھا کہ سمجھنے کو تیار ہی نہیں تھا ۔۔۔

اور اب نکاح کا سنتے ہی وہ اتنی دیر سے جو ہمت باندھ رہی تھی سب ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔

یکدم ہی جیسے روح تک سناٹے پھیل گئے ۔۔۔جس نے اسے آس پاس کا ہوش بھولا دیا ۔۔۔

جبکہ زارون کی بات سنتے ابیہا نے فورا اپنا ڈوپٹہ سیٹ کرتے اسکا گھونگھٹ نکالا تھا ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°

زرتاشے موسی شاہ ،،، ولد موسی شاہ آپکا نکاح شہیر خان ولد ظفر خان کے ساتھ بحق حق مہر ایک کروڑ روپے سکہ رائج الوقت طے پایا گیا ہے ،،،، کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے ؟؟؟؟

خاموش کمرے میں مولوی صاحب کی آواز گونجی تھی ۔۔۔جس میں اس کیلئے خوشیوں کی نوید تھی ،،، لیکن گم ہوتے حواسوں کے ساتھ تاشے اسے سننے سے محروم تھی ۔۔۔

جب اسکی طرف سے کوئی جواب نا آیا تو مولوی صاحب نے ایک بار پھر اپنے الفاظ دوہرائے تھے ۔۔۔

لیکن اس بار بھی جواب ندارد۔۔۔

حیدر شاہ سمیت ضارب ،، واسم اور زارون نے رومان کی طرف دیکھا ۔۔۔جس نے آگے بڑھ کر اسے اپنے حصار میں لیا تھا ۔۔۔

تب مولوی صاحب نے تیسری بار اپنے الفاظ دوہرا چکے تھے ۔۔۔تاشے جو رومان کے مظبوط حصار میں آتے کچھ ہوش میں آئی تھی اسکے کانوں سے انکے صرف آخری الفاظ ٹکرائے ۔۔۔

کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے ۔۔۔

اس نے نظر اٹھا کر اپنے بھائی کی طرف دیکھا ۔۔۔جس کے چہرے سے اب پریشانی جھلک رہی تھی ۔۔۔پھر اپنی ساری تکلیف اور دردکو پس و پشت ڈالتے اپنی محبت کو آخری بار شدت سے یاد کرتے ہوئے اپنا سر بےساختہ ہاں میں ہلایا تھا ۔۔۔

جسے دیکھ کر سب نے سکھ کا سانس لیا تھا ۔۔۔

اور پھر باری باری اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر دعائیں دیتے مولوی صاحب کے ساتھ کمرے سے نکلتے چلے گئے ۔۔۔

جبکہ رومان نے اپنی ننھی گڑیا کو پیار کرتے زور سے اپنے سینے میں بھینچا تھا ۔۔۔

آنسو بےاختیار ہوتے دونوں کے چہرے بھیگا رہے تھے ۔۔۔جسے دیکھ کر وہاں موجود ابرش ابیہا اور زرمینے بھی اب رونے لگیں تھیں ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°

شہیر خان ولد ظفر خان آپکا نکاح زرتاشے موسی شاہ ولد موسی شاہ کے ساتھ بحق حق مہر ایک کروڑ روپے سکا رائج الوقت طے پایا گیا ہے کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے ۔۔۔

زرتاشے کی طرف سے اجازت کے بعد تمام مرد حضرات سٹیج پر شہیر کے پاس چلے آئے تھے جہاں اب اسکا نکاح پڑھایا جا رہا تھا ۔۔۔

جو یہاں ہو کر بھی یہاں موجود نہیں تھا ۔۔۔وہ یہاں ہو بھی کیسے سکتا تھا اسکا دل اسکی روح تو تاشے کے خیالوں میں کھوئی تھی ۔۔۔

جو کب کی اسکی مقدر میں لکھی جا چکی تھی ۔۔۔جس سے انجان وہ ابھی تک اپنی بدقسمتی پر افسوس کر رہا تھا ۔۔۔

مولوی صاحب کے تیسری بار الفاظ دوہرانے پر اسکے سر کے قریب کھڑے ضارب شاہ نے ہلکا سا اسکے کندھے پر دباؤ ڈالا تھا ۔۔۔

جس پر ہوش میں آتے اس نے کچھ چونک اسکی طرف دیکھا اور پھر مولوی صاحب کی طرف جو اسے ہی منتظر نگاہوں سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔

پھر اپنے دل پر پتھر رکھتے سر ہلا کر اپنی رضا مندی دے دی ۔۔۔

جس کے بعد چاروں طرف مبارک باد کا شور بلند ہوا تھا ۔۔۔سب مسکراتے ہوئے باری باری اسکے گلے لگتے اسے نکاح کی مبارک باد دے رہے تھے ۔۔۔

جسے وہ جبراا ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے قبول کر رہا تھا ۔۔۔

جبکہ اسکی حالت کو سمجھتے ہوئے ضارب شاہ کے لبوں پر شریر مسکراہٹ ناچ رہی تھی ۔۔۔

یار خان لالا لوگ تو اپنی شادی والے دن خوش ہوتے ہیں ۔۔۔لیکن آپ کے چہرے سے تو ایسا لگ رہا ہے ۔۔۔جیسے آپکو عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہو ۔۔۔

اسکے سنجیدہ چہرے کو دیکھ کر زارون نے شگوفہ چھوڑا تھا ۔۔جسے سن کر محفل زعفران بنی تھی ۔۔۔

ایسی بات نہیں چھوٹے سائیں ۔۔۔

تو پھر کیسی بات ہے خان لالا ؟؟؟؟

زارون کو اپنی ٹانگ کھینچتے دیکھ خان نے کچھ کہنا چاہا جب اسکی بات درمیان میں کاٹتے اس نے شرارت سے سوال کیا تھا ۔۔۔

جس پر اس نے خجل سا ہوتے ضارب شاہ کی طرف دیکھا ۔۔۔

اسے ضارب کی طرف دیکھتے پاکر زارون فورا سیدھا ہوا تھا ۔۔۔

جبکہ اسکی پتلی ہوئی حالت کو دیکھ کر اس بار سب سے زیادہ اونچا قہقہ خان کا گونجا تھا ۔۔۔

زارون نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے اپنی جھینپ مٹانی چاہی ۔۔۔

جس پر ضارب نے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°

آنٹی آپ ٹھیک ہیں ؟؟؟

ابیہا جو زرتاشے کی بگڑتی حالت دیکھتے ہوئے ۔۔نجمہ بیگم کو دیکھنے آئی تھی ۔۔۔

راستے میں ایک آنٹی کو لڑکھڑاتے دیکھ فورا آگے بڑھ کر سنبھالتے نرمی سے بولی ۔۔۔

جی بیٹا میں ٹھیک ہوں ۔۔۔

اسکے من موہنے چہرے کو دیکھ کر وہ آنٹی بہت محبت سے گویا ہوئیں تھیں ۔۔۔

آئیں میں آپکو آپکے ٹیبل تک چھوڑ دیتی ہوں ۔۔۔

انکی ایج کا خیال کرتے ابیہا نے مسکراتے ہوئے انکے ہاتھ کو تھاما ۔۔۔

جس پر وہ چاہ کر بھی انکار نہیں کر پائیں تھیں ۔۔۔

اور مسکراتے ہوئے اسکے ساتھ ہو لیں ۔۔۔

ابیہا انکے بتائے گئے ٹیبل پر چھوڑنے انکے ساتھ آئی تھی۔۔جہاں ان کے باقی فیملی ممبر بھی موجود تھے ۔۔۔اور انکو آتے دیکھ ایک ہینڈسم سا ینگ لڑکا فورا آگے بڑھا تھا اور ان آنٹی کو تھام کر چیئر پر بٹھایا ۔۔۔

اچھا آنٹی میں چلتی ہوں ۔۔۔

ارے بیٹا رکو تو سہی ۔۔۔تمہیں اپنے بچوں سے ملواتی ہوں ۔۔۔

ابیہا کو روکتے کو وہ اپنے بچوں کا تعارف کروانے لگیں ۔۔۔

یہ میرا بیٹاہے ۔۔۔اسد خان ،،، اور یہ میری بیٹی بشری خان اور ارے آپکا نام تو میں نے پوچھا نہیں ۔۔۔

جی میرا نام ابیہا ہے ۔۔۔

انکی محبت کو دیکھتے اس نے نرمی سے جواب دیا تھا ۔۔۔

ابیہا بہت پیارا نام ہے بالکل آپکی طرح ۔۔۔ابیہا کے اخلاق اور اسکی خوبصورتی کو دیکھتے وہ اسکے واری صدقے جا رہی تھیں ۔۔۔

جبکہ ساتھ ساتھ اشاروں میں اپنے بیٹے سے کچھ پوچھ بھی رہی تھیں ۔۔۔

جس نے ابیہا کو ایک نظر دیکھنے کے بعد مسکرا کر سر ہلایا تھا ۔۔۔

دوسری طرف واسم جو اپنے کسی بزنس پارٹنر کے ساتھ مصروف تھا ۔۔۔اچانک سے اس کی نظر اس ٹیبل پر پڑی ابیہا کو وہاں کھڑے اور کسی اجنبی کو مسکراتی نگاہوں سے اسے تکتے دیکھ یکدم اسکی رگیں تنی ۔۔۔

نیلے سمندر میں سرخی اتر آئی ۔۔۔اور وہ ان سے ایکسکیوز کرتے ہوئے فورا اسکی طرف بڑھا ۔۔۔

اچھا بیٹا آپکی ماما کہاں ہے ۔۔۔بیٹے کی طرف سے رضامندی ملنے کے بعد انہوں نے ابیہا سے اگلا سوال کیا تھا ۔۔۔

جس پر وہ یکدم ہی اداس ہوئی تھی ۔۔۔

جی میرے ماما بابا نہیں ہے ۔۔۔

او سن کر بہت افسوس ہوا ۔۔۔بیٹا اللہ پاک آپکو صبر دیں ۔۔۔جو اس مالک کی رضا ۔۔۔نرمی سے اسکا ہاتھ تھامتے تسلی دی تھی ۔۔۔

جس پر اس نے مسکرا کر سر ہلایا تھا ۔۔۔اچھا بیٹی آپکا کوئی بڑا تو ہوگا نا جو آپکا والی وارث ہو ۔۔۔

اس سے پہلے ابیہا انکی بات کا کوئی جواب دیتی واسم اسکے قریب پہنچتے اسے اپنے حصار میں لے چکا تھا ۔۔۔

میں ہوں انکا وارث ۔۔۔

اسکا لہجہ نہایت سپاٹ تھا جبکہ نظریں سامنے کھڑے نوجوان پر ٹکی تھیں جو اسکی ایک ہی گھوری پر ابیہا کے چہرے سے نظریں پھیر چکا تھا ۔۔۔

چلو مجھے تم سے کچھ کام ہے ۔۔۔

سپاٹ لہجے میں کہتے اسے اپنے ساتھ لیجانے لگا ۔۔۔جب ان آنٹی نے ایک بار پھر مداخلت کرتے انہیں روکا تھا ۔۔۔

ارے بیٹا رکے تو سہی ۔۔۔آپ انکے بھائی ہیں ماشاءاللہ بہت پیاری بہن ہیں آپکی ۔۔۔

ان دونوں کے نقوش کو ملتے دیکھ وہ واسم کو ابیہا کا بھائی سمجھیں تھیں ۔۔۔

جسے سن کر واسم کا چہرہ سرخ ہوا تھا ،،، یہ دوسری مرتبہ تھا جب کسی نے اسے ابیہا کا بھائی بولا ،،، جبکہ اسکے تاثرات کو جانچتے ابیہا نے بمشکل اپنے نکلنے والے قہقہے کو روکا ،،،، جسکے ہونٹوں پر مچلتی مسکراہٹ کو دیکھتے واسم نے اسے گھوری سے نوازا اور مٹھیاں بھینچ کر غصے کو کنٹرول کرتے ابھی کچھ کہنے کیلئے اپنے لب کھولے تھے ۔۔۔جب ان آنٹی کی اگلی بات سنتے اسکے تن بدن میں آگ لگی تھی ۔۔۔

بیٹا یہ میرا بیٹا ہے ،،، اسد خان ماشاءاللہ سے اپنا بزنس چلاتا اور اللہ پاک کے کرم سے ہمارے گھر دولت کی بھی کوئی کمی نہیں ۔۔۔اصل میں مجھے آپکی بہن اپنے بیٹے کیلئے ۔۔۔

بہن نہیں ہے یہ میری ۔۔۔

ابیہا واسم شاہ ،،، آنٹی بیوی ہے یہ میری ۔۔۔آپکی ہمت کیسے ہوئی مجھ سے میری ہی بیوی کا رشتہ مانگنے کی ۔۔۔

انکی بات پوری ہونے سے پہلے وہ اونچی آواز میں انہیں ٹوک گیا تھا ۔۔۔جبکہ اسکے لہجے کے سرد پن اور چہرے کی سختی کو دیکھتے ابیہا بھی فورا سیدھی ہوئی تھی ۔۔۔

اور اسد خان جو اپنے رشتے کی بات پر سر جھکا چکا تھا ۔۔۔اسکی بات پر فورا سر اٹھا کر حیرت سے انکی طرف دیکھا ۔۔۔

جس پر واسم نے وارننگ دیتی نگاہوں سے اسکی طرف دیکھا تھا ۔۔۔

معاف کیجئے گا بیٹا مجھے نہیں پتا تھا ،،،، انکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ ابیہا کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے غصے سے گھسیٹتا ہوا ایک خاموش کونے میں لے آیا تھا ۔۔۔

بہت شوق ہے اپنی تعریفیں سننے کا ،،،، تم بتا نہیں سکتی تھی انہیں کے تم شادی شدہ ہو ۔۔۔

پاس رکھی چیئر کو ٹھوکر مارتے غصے سے چلایا ۔۔۔

جس پر وہ پوری جان سے کانپی ۔۔۔

جبکہ سنہرے کانچ میں فورا نمی اتر آئی ۔۔۔

واسم مجھے نہیں پتا تھا وہ آنٹی ۔۔۔میں تو صرف انکی ہیلپ ،،،، اسے غصے میں دیکھ کر صفائی دینی چاہی ۔۔۔جب اس نے غصے سے ابیہا کو کندھوں سے تھام کر اپنے قریب کیا ۔۔۔

تمہیں پتا بھی ہے وہ لڑکا تمہیں کن نگاہوں سے دیکھ رہا تھا اور وہ نظریں کیسے برداشت کی ہیں میں نے ۔۔۔میرا بس چلتا تو منہ توڑ دیتا میں اسکا ۔۔۔

اسکے کندھوں میں اپنی سخت انگلیاں گاڑھتے پوری قوت سے دھاڑا تھا ۔۔۔

سم ۔۔۔

جبکہ اسکی جارحانہ گرفت پر ابیہا نے نم لہجے میں اسے پکارا ۔۔۔

اسکی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو دیکھتے وہ کچھ نرم پڑا تھا ۔۔۔اور فورا اپنی گرفت ہلکی کرتے اسے اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔

تم صرف میری ہو ۔۔۔صرف اور صرف میری ۔۔۔تمہاری طرف کوئی نگاہ تو اٹھا کر دیکھے میں اسکی آنکھیں نکال لوں ۔۔۔

اسے سختی سے خود میں بھینچتے شدت پسندی سے گویا ہوا تھا ۔۔۔

جس پر ابیہا کچھ سہمی تھی ۔۔۔

بولو کہ تم صرف میری ہو ۔۔۔صرف واسم شاہ کی ۔۔۔

یکدم ہی اسے خود سے الگ کرتے واسم نے اس سے اظہار چاہا ۔۔۔

جبکہ اسکے پاگل پن کو دیکھتے ہوئے ۔۔۔ابیہا ششدر اپنی جگہ کھڑی تھی ۔۔۔

، ڈیم اٹ بولو

کہ تم صرف میری ہو ۔۔۔

اسے خاموش بت بنا دیکھ وہ اسے جھنجھوڑتے ہوئے دھاڑا ۔۔۔

جس پر ابیہا نے فورا آگے بڑھ کر اسکے گلے میں دونوں بازو باندھتے اپنے مخملی لب گھنی مونچھوں تلے اسکے سرخ و سفید لبوں سے جوڑے تھے ۔۔۔اور دھیرے دھیرے جنبش دیتے اپنے نرم لمس سے اسکا غصہ کم کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔

جبکہ اسکی حرکت پر وہ چند پل کیلئے ساخت ہوا تھا ۔۔۔پھر ہوش میں آتے اس پاس کا خیال کرتے بنا اس سے الگ ہوئے اسے کمر سے پکڑ کر اوپر اٹھاتا قدرے اندھیرے والی جگہ پر لے آیا ۔۔۔

جہاں ان پر کسی کی نظر نا پڑے ۔۔۔

اور نرمی سے اسکا ساتھ دیتے اسے محسوس کرنے لگا ۔۔۔

سانسوں کے ٹوٹنے پر ابیہا دھیرے سے پیچھے ہوئی تھی اور پھر گہرا سانس کھینچ کر اسکے چہرے کی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔

جسکی آنکھوں میں اب غصے کی جگہ خمار اور لبوں پر نرم مسکراہٹ تھی ۔۔۔

میں صرف آپکی ہوں صرف واسم شاہ کی ۔۔۔

اسکی تیکھی ناک کے ساتھ اپنی ستواں ناک سہلاتے اسے نرمی سے لبوں سے چھوتے بہت محبت سے بولی تھی ۔۔۔

جس سے واسم شاہ کے لبوں کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی ۔۔۔

جانتا ہوں ۔۔۔

ایک حرفی جواب ۔۔۔

جس پر کچھ چونک کر ابیہا نے واسم کی طرف دیکھا ۔۔۔اس کا مطلب آپ نے مجھے بیوقوف بنایا اور مجھے لگا ۔۔۔

واسم کی آنکھوں میں ناچتی شرارت کو دیکھتے ،،، ابیہا نے غصے سے کچھ کہنا چاہا جب واسم نے اسکے ہونٹوں پر قفل لگاتے خاموش کروایا تھا ۔۔۔

کیا لگا تمہیں ؟؟؟

کچھ دیر بعد الگ ہو کر شرارت سے سوال کیا ۔۔۔

سم آپ کتنے وہ ہیں ،،، آپکو پتا بھی ہے آپکے غصے نے میری جان نکال دی تھی اور آپ ۔۔۔

غصے سے بولتے اسکی گرفت سے نکلنا چاہا ۔۔۔جب واسم نے نفی میں سر ہلاتے گرفت مظبوط کی ۔۔۔

میں کیا مسز ؟؟؟

اسکے ناک پر نرمی سے لب رکھتے بات مکمل کرنے پر اکسایا ۔۔۔

ابیہا نے اسے گھورا ۔۔۔

چھوڑیں مجھے ،،،، مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی ۔۔۔

ایسے کیسے چھوڑ دوں ۔۔۔اور کیوں بات نہیں کرنی مجھ سے ۔۔۔اسکے سرخ ہوتے چہرے کو چھوتے ۔۔۔

وہ من مانیوں پر اتر آیا ۔۔۔

سم چھوڑیں کوئی آ جائے گا ۔۔۔

ابیہا نے اسکی وارفتگی سے گھبراتے آس پاس کا ہوش دلانا چاہا ۔۔۔

اوں ہوں ابھی نہیں ۔۔۔

اسکے نازک گال کو چھوتے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔

سم ۔۔۔”

ابیہا نے التجا کرنی چاہی ۔۔

لیکن وہ کچھ نا بولا اور نا ہی اسے اپنی گرفت سے رہائی دی ۔۔۔ بس خاموش نظروں سے اسکی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔

ابیہا نے بےبس ہوتے اسکی آنکھوں میں دیکھا ،،، پھر اسکی آنکھوں میں نظر آتی طلب کو دیکھتے ،،،، اسکے بالوں میں اپنی مخروطی انگلیاں پھنساتے اسے خود پر جھکا کر نرمی سے سانسوں کا تال میل جوڑ دیا ۔۔۔

جس پر ایک حسین مسکراہٹ نے واسم شاہ کے لبوں کا احاطہ کیا ۔۔۔

اور وہ مزید اسے خود میں بھینچتے چند پل کیلئے اپنے نرم لمس سے اسے دنیا سے بالکل غافل کر گیا ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *