Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 35)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 35)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
باری باری آ کر سب نے دونوں جوڑیو کے ساتھ فوٹوگرافس بنائے تھے ۔۔۔۔۔
جس کے بعد زرمینے ہاتھ میں ٹرے لیے اوپر سٹیج پر آئی ،،،،، جس میں دو بہت پیارے دودھ کے گلاس رکھے تھے ۔۔۔۔۔
جسے دیکھتے ہوئے ضارب تو مسکرایا البتہ واسم شاہ کا چہرہ سپاٹ تھا ۔۔۔۔۔
لو بھئی آ گئی منگتی پیسے بٹورنے ،،،،،،اسے سٹیج پر آتے دیکھ کر وہاں کھڑے زارون نے لقمہ دیا ۔۔۔۔
جس کے بدلے زر نے اسے ایک گھوری سے نوازا تھا ۔۔۔۔
جبکہ باقی سب نے محظوظ ہوتے قہقہ لگایا ۔۔۔۔
لالا میں کہہ رہا ہوں آپ دونوں کو کوئی ضرورت نہیں ہے اسکے باسی دودھ کے بدلے میں اس کو پیسے دینے کی ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکی خاموشی کو دیکھتے ایک اور جملہ کسا جس پر زرمینے کی بس ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
جی نہیں یہ آپکے لالا نہیں بلکہ میرے لالا ہیں ،،،،، اور انہیں پتا ہے یہ بہنوں کا حق ہوتا ہے ،،،،، ویسے بھی میں آپ سے تو نہیں مانگ رہی نا پیسے تو پھر آپ کون ہوتے یہ فیصلہ کرنے والے کہ مجھے پیسے ملنے چاہیے یا نہیں ۔۔۔۔
ہاتھ میں پکڑی ٹرے کو وہاں موجود شیشے کی میز پر رکھتی منہ بناتے غصے سے بولی ۔۔۔۔۔
کیونکہ میں انکا چھوٹا بھائی ہوں اور ایسے کیسے اتنی آسانی سے اپنے بھائیوں کا نقصان ہونے دوں ۔۔۔۔
نہیں چاہیے ہمیں تمہارا دو نمبر پانی ملا دودھ جس کے ابھی تم نے تھوڑی دیر میں لاکھوں روپے مانگنے ہیں ۔۔۔۔۔
میں اپنے بھائیوں کو اس سے اچھا دودھ لاکر پلاوں گا وہ بھی مفت میں ،،،،، اس لیے یہ ٹرے اٹھاو اور یہاں سے نو دو گیارہ ہو جاو ۔۔۔۔۔۔
ایک نظر واسم اور ضارب شاہ کی طرف دیکھتے وہ اکڑتے ہوئے بولا تھا ۔۔۔۔۔
بھولیں مت ہم اتنی پیاری پیاری دلہنیں دے رہیں آپکے بھائیوں کو اور جب تک یہ رسم نہیں ہو جاتی رخصتی بھی نہیں ہوگی ۔۔۔۔
سوچ لیں آپ لوگوں کو پیسے زیادہ عزیز ہیں یا پھر میری بہنیں ،،،،،
وہ بھی اپنے دونوں بازو سینے پر باندھتی اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی تھی ۔۔۔۔۔
جس پر زارون نے داد میں آئی برو اٹھائی تھی ۔۔۔۔۔
لڑکی شاید تم بھول رہی ہو وہ دونوں بھی میری ہی بہنیں ہیں ،،،،، اور انہیں لیجانے سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا ۔۔۔۔۔
وہ اسکے معصوم چہرے کو اپنی نگاہوں میں سماتے جتاتے ہوئے بولا تھا ۔۔۔۔
جس پر یکدم اسکے چہرے کا رنگ پھیکا پڑا لیکن پھر گھونگھٹ میں بیٹھی اپنی دوستوں کو دیکھتی جب بولی تو لہجے میں ان کیلئے اسکا مان بول رہا تھا ۔۔۔۔
غلط فہمی ہے آپ کی یہ دونوں میری بہنیں ہیں ،،،،، اور تب تک اپنی جگہ سے نہیں ہلے گی جب تک مجھے اپنا حق نہیں ملتا ،،،،، اگر آپ چاہیں تو پوچھ سکتے ہیں ۔۔۔۔۔
اچھا ایسی بات ہے تو ابھی پوچھ لیتے ہیں ،،،،، وہ اسکی سرمئی خوبصورت آنکھوں میں اپنی شوخ رنگ چیلنج کرتی آنکھیں گاڑھ کر کونفیڈینس سے بولا ،،،،، جس کا اس نے کوئی خاص جواب نہیں دیا تھا بس ناک پر سے مکھی اڑائی تھی ۔۔۔۔۔
جیسے اسے یہ چیلنج قبول ہو ۔۔۔۔۔
جب وہ پیچھے مڑتا ابیہا اور ابرش سے ایک ساتھ مخاطب ہوا تھا ۔۔۔۔
تم دونوں میری بہنیں ہو آج تم لوگوں کو ثابت کرنا ہوگا ،،،،، کہہ دو صاف صاف اپنی سہیلی سے تم لوگ کوئی اسکی فضول قسم کی رسم کا حصہ نہیں بنو گی ،،،،،، سہی کہہ رہا ہوں نا میں اس نے دونوں کو پیار سے پچکارتے اینڈ میں تائید چاہی تھی ۔۔۔۔۔
جبکہ اب زارون اور زرمینے کے ساتھ وہاں موجود سب کی نظریں بھی ابرش ابیہا پر ٹکی تھیں کہ آخر وہ کس کا ساتھ دیتی ہیں ۔۔۔۔۔
نہیں ،،،،، دونوں نے ایک ساتھ جواب دیا تھا ۔۔۔۔
جس پر خوش ہوتے زارون نے یاہو کا نعرہ لگایا تھا دیکھا میں جیت گیا ابرش ابیہا بالکل بھی تمہارا ساتھ نہیں دے گی اس فضول رسم کیلئے ۔۔۔۔
جسے سنتے زرمینے کا منہ لٹک گیا تھا ۔۔۔۔
نہیں ہم کہہ رہے تھے ہم زرمینے کے ساتھ ہیں جب تک یہ رسم مکمل نہیں ہوتی اور اسے نیگ کے پیسے نہیں ملتے ہماری رخصتی نہیں ہوگی ۔۔۔۔۔
اب کہ وہ تفصیل کے ساتھ بولی تھیں ،،،،، جسے سنتے حیرت سے پیچھے مڑتے زارون نے گھونگھٹ میں چھپے انکے چہروں کو دیکھتے گھورا تھا ۔۔۔۔۔
جس پر ان دونوں نے اسے دانت دکھائے تھے ۔۔۔۔۔
ابھی بھی ٹائم پارٹی بدل لو ،،،،، کیونکہ فیوچر میں تمہارا یہی ہنڈسم اور دولت مند بھائی تمہارے کام آنے والا ہے ناکہ تمہاری یہ پھٹیچر دوست ،،،، سوچ لو میرا ساتھ دینے میں تم دونوں کا ہی فائدہ ہے ۔۔۔۔۔
اپنی بات نا بنتے دیکھ کر اب کہ وہ انہیں لالچ دیتے بولا تھا ۔۔۔۔
نہیں ہم اپنی دوست کا ساتھ دے گے ویسے بھی الحمدللہ ہمارے شوہر بہت امیر ہے ہمیں تمہارے پیسوں کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔
ابیہا نے ناک سے مکھی اڑاتے اسے جیسے حقیقت سے روشناس کروایا تھا ،،،، جس کی تائید میں ابرش نے بھی سر ہلایا ۔۔۔۔ جس پر ساتھ بیٹھا واسم دلکشی سے مسکرایا تھا ۔۔۔۔۔
کیونکہ اسے ابیہا کا اپنے بھائی نام لینے کی بجائے اس پر حق جتانا اچھا لگا تھا ۔۔۔۔۔
انہی کا تو نقصان ہونے سے بچا رہا تھا لیکن یہاں تو کسی کو قدر ہی نہیں ہے وہ اترے ہوئے منہ کے ساتھ افسردگی سے گویا ہوا ۔۔۔۔
جس کا ان دونوں نے کوئی خاص نوٹس نہیں لیا تھا ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکے اترے چہرے کو دیکھتے وہاں موجود گھر کے سبھی افراد نے قہقہہ لگایا تھا ۔۔۔۔۔
سب بڑے بچوں کی نوک جھونک کو دیکھتے کافی محظوظ ہوئے تھے ۔۔۔۔۔
ہو گئی تسلی اب پیچھے ہٹیں مجھے رسم کرنی ہے ۔۔۔۔۔
اسے ایک سائڈ کرتے زرمینے اب کہ ایک ہاتھ سے ٹیبل پر رکھی ٹرے کو دوبارہ اٹھاتی پہلے ضارب کی طرف بڑھی تھی ،،،،، جبکہ چہرہ چھپا کر اسے زبان چڑھانا نہیں بولی تھی جس کے بدلے زارون نے بھی برا سا منہ بنایا ،،،،، ضارب نے مسکراتے ہوئے ایک گلاس اٹھا لیا تھا ،،،،،
اور ساتھ ہی ایک طرف کھڑے خان کو خاص اشارہ کیا ۔۔۔۔
جس پر وہ سر ہلاتا باہر کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔۔
ضارب کو گلاس دینے کے بعد زرمینے ڈرتے ڈرتے ٹرے لے کر اب واسم شاہ کی طرف بڑھی تھی ۔۔۔۔۔
چاہے سب کچھ اب پہلے کی طرح ٹھیک ہو گیا تھا لیکن کل جیسے واسم نے غصے سے اسے ڈانٹا تھا ایک ڈر سا زرمینے کے دل میں بیٹھ گیا تھا اسے لے کر ۔۔۔۔
ابھی بھی وہ اس بات سے ڈر رہی تھی ،،،،، کہ کہیں وہ دودھ پینے سے انکار کر کے اسکی بیعزتی نا کر دے ۔۔۔۔۔
جس نے اس کے قدموں میں واضح لرزش پیدا کر دی تھی ۔۔۔۔
کہ اسے یہ دو قدم کا فاصلہ طے کرنا مشکل لگ رہا تھا ،،،،، لیکن اسے یہ کام تو مکمل کرنا ہی تھا اس لیے مرتے کیا نا کرتے کے مصداق وہ اسکے قریب جا کر رکی تھی ۔۔۔۔۔
اور ڈرتے ڈرتے اپنا ہاتھ بڑھایا تھا ۔۔۔۔۔
واسم شاہ نے پہلے سپاٹ نظروں سے اسکے دوپٹے میں ہالے میں چمکتے معصوم چہرے کو دیکھتے پھر دوسری نظر اسکے ہاتھوں کی کپکپاہٹ پر ڈالی تھی ۔۔۔۔
پھر بنا کوئی تاثر دیئے گلاس اٹھا گیا ،،،،، جس پر زرمینے نے دل میں رب شکر ادا کیا تھا ۔۔۔۔۔
اور مسکراتی ہوئی پیچھے ہو کر کھڑی ہو گئی ۔۔۔۔۔
جب خان اپنے ہاتھوں میں کچھ شاپنگ بیگز لے سٹیج پر آیا تھا اور وہ ضارب شاہ کے ہاتھوں میں تھمانے کے بعد ایک سائڈ پر نظریں جھکا کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔۔
ضارب اپنی جگہ کھڑا ہوتا زرمینے کے مقابل آتا اسکے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھتا بنا کچھ کہے ہی وہ شاپنگ بیگز اسکے ہاتھ میں تھما گیا ۔۔۔۔
جس پر اس نے خوش ہوتے ہوئے ضارب کا شکریہ ادا کیا تھا ۔۔۔۔
اور پھر خوش ہو کر بیگز کھول کر اس کے اندر دیکھنے لگی ،،،،، جن میں گفٹس ایک سے زیادہ تھے ۔۔۔۔۔اور بہت زیادہ مہنگے بھی ،،،،،،
پھر حیرانی سے اسکی طرف دیکھنے لگی جو مسکراتے ہوئے اسکے طرف ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
یہ سب کچھ ہم آپکی بہن کے شوہر ہونے کے ناطے نہیں بلکہ آپ کے لالا ہونے کی حیثیت سے دے رہیں ہیں ،،،،،، اور آپکا ہم پر اور ہماری ہر چیز پر بالکل ویسا ہی حق ہے جیسے کہ بیا کا ۔۔۔۔۔
اس لیے گڑیا آپکو ہم سے کوئی بھی چیز لینے یا پھر مانگنے میں ہچکچاہنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔
وہ بہت خوبصورتی سے اسے اپنی بہن ہونے کا مان بخشتا اسکے اندر کی ہچکچاہٹ کو پل میں ختم کر گیا ۔۔۔۔
رشتوں کو انکی مکمل خوبصورتی سے کیسے نبھایا جاتا ہے یہ تو کوئی ضارب شاہ سے سیکھتا ۔۔۔۔۔
جس پر وہ کھل کر مسکرائی تھی ۔۔۔۔۔
جبکہ دوسری طرف انکی باتیں سنتا واسم چہرے پر استہزائیہ مسکراہٹ سجاتے نفی میں سر ہلاتا دودھ کا گلاس لبوں سے لگا گیا ۔۔۔۔
جس کے ساتھ ہی اسکے منہ میں ایک خوش ذائقہ گھلا تھا اور وہ جو ایک سپ لے کر اسے واپس رکھنے کا ارادہ رکھتا تھا ۔۔۔۔
دو تین گھونٹ میں ہی گلاس آدھے سے زیادہ ختم کر گیا ۔۔۔۔۔
پھر اسے ٹیبل پر رکھتا اپنے پی اے سے چیک بک لے کر ایک بلینک چیک پر سائن کرتا زرمینے کو اشارے سے اپنے پاس بلاتا اسے اسکی طرف بڑھا گیا ۔۔۔
جسے مسکراتے ہوئے اس نے تھام لیا تھا ۔۔۔۔۔
اور پھر اسکا شکریہ ادا کرتی وہاں سے پیچھے ہٹ گئی ۔۔۔۔۔
واہ موٹی تمہارے تو عیش ہو گئے ۔۔۔۔۔
اسکو مسکراتے دیکھ کر زارون کی رگ ظرافت ایک بار پھر بھڑکی تھی ۔۔۔اس لیے وہ دوبارہ اسے چڑانے کیلئے مخاطب کر گیا ۔۔۔۔۔
میری بھی دعا ہے اللہ تعالیٰ سے کہ زارون لالا آپکو مجھ سے بھی دوگنی موٹی بیوی ملے جو دن رات آپکے بال کھینچ کھینچ کر آپکو وقت سے پہلے ہی گنجا کر دے ۔۔۔۔
جبکہ خود کو موٹا کہے جانے پر وہ غصے سے پلٹتی اسے بددعا دیتی بولی ۔۔۔۔
اور زارون جو واسم کا چھوڑا ہوا دودھ منہ سے لگا کر کھڑا تھا ،،،،،، اسکی بددعا کو سنتے گلے میں اسے زبردست قسم پھندا لگا تھا ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکے خود کو لالا پکارنے پر سینے میں موجود دل خون کے آنسو رویا تھا ۔۔۔۔۔
جسے وہ تھپک کر تسلی دیتا خاموش کروا گیا ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکی بری ہوئی حالت کو دیکھتے وہاں ایک بار پھر سب کا قہقہہ گونجا تھا ۔۔۔۔۔
حیدر شاہ نے مسکراتے ہوئے اپنے گھر کی رونق کو دیکھا تھا ،،،،،، جہاں ایک طرف ضارب شاہ ابرش کے ساتھ بیٹھا مسکرا کر کچھ بات کر رہا تھا ،،،،، جبکہ دوسری طرف واسم ابیہا کی کسی بات کو سنتے اسے غصے سے گھور رہا تھا ۔۔۔۔
جسے دیکھتے انہوں نے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔
اور تیسری طرف غصے سے سرخ چہرہ لیے لڑتی جھگڑتی زرمینے اور اسے مسکرا کر چڑاتا ہوا زارون ،،،،، لیکن اس لڑنے اور جھگڑنے کے پیچھے زارون کی آنکھوں میں چھپے زرمینے کیلئے پیار کے جذباتوں سے وہ اچھے طرح واقف تھے ۔۔۔۔
جنہیں دیکھتے انہوں نے اپنے رب کا شکر ادا کیا تھا ۔۔۔۔۔ آج سہی معنوں انہیں ان سب کو ایک ساتھ دیکھنے کی اپنی خواہش پوری ہوتی نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔
اب تو بس انکے لبوں پر صرف ایک یہی دعا تھی کہ سب ہمیشہ ایک ساتھ ایسے ہی خوش رہتے ،،،،،، جو انکے دل سے نکل کر عرش تک تو ضرور گئی تھی لیکن قبولیت کا شرف حاصل نہیں کر سکی ۔۔۔۔۔
کیونکہ ان سب کی زندگی میں ابھی بہت سے ایسے امتحانات باقی تھے جنہوں نے حیدر شاہ کے ان تین مظبوط قہارو کی بنیادوں کو جڑ سے ہلانا تھا ،،،،،، ابھی تو وقت کا گہرا وار باقی تھی ،،،،، ابھی تو اعتبار اور محبت کی دوڑ سے جڑے ان خوبصورت رشتوں کا امتحان باقی تھا ۔۔۔۔۔
ابھی تو زندگی کی بساط پر انکے عشق کو آزمایا جانا تھا ،،،،، جس میں کس نے ثابت قدم رہتے کامیاب ہونا تھا اور کس نے ناکام ٹہرنا تھا ابھی فلحال وقت پہلے اسکا حساب لگانا مشکل تھا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واسم ان سے ملو یہ ہیں میرے بہت اچھے دوست اور یونی فیلو احسن حیات ،،،،، اور احسن یہ میرا بڑا بیٹا واسم شاہ ،،،،،،
ارمغان شاہ واسم کو مخاطب اپنے بہت عزیز دوست سے اسکا تعارف کرواتےی بولے تھے ۔۔۔۔۔
بھی دجس پر انہوں نے مسکراتے ہوئے اسکی طرف اپنا دایاں ہاتھ بڑھایا تھا ۔۔۔۔۔
جسے منہ پر رسمی سی مسکراہٹ سجاتے واسم شاہ نے تھام لیا تھا ۔۔۔۔
لیکن ڈیڈ میں نے پہلے کبھی انہیں نہیں دیکھا آپ کے ساتھ ؟؟؟؟
وہ ایکچلی ،،،،
وہ اس لیے ینگ مین کیونکہ میں بیس سال پہلے یہاں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ہمیشہ کیلئے امریکہ شفٹ ہو گیا تھا ۔۔۔۔
اور ابھی کچھ دن پہلے ہی واپسی ہوئی ہے ۔۔۔۔
اور کچھ دن پہلے ایک ریسٹورنٹ میں ارمغان سے سرسری سے ملاقات ہوئی تھی اور انہوں نے اپنے بچوں کی شادی کا بتاتے ہوئے بہت پیار سے شادی میں آنے کی دعوت بھی دی تھی ۔۔۔۔
جسے میں چاہ کر بھی منع نہیں کر پایا ۔۔۔۔
اور آج آپ سامنے موجود ہوں ۔۔۔۔
اس سے پہلے ارمغان شاہ واسم کے سوال کا جواب دیتے ،،،،، احسن حیات انکی بات درمیان میں کاٹتے ہوئے تفصیلا بولے تھے ۔۔۔۔۔
جس پر انہوں نے مسکرا کر سر ہلایا تھا ۔۔۔۔۔
اور ینگ مین اور کیا ہو رہا ہے آجکل ؟؟؟؟؟ وہ واسم کی خاموشی دیکھتے خود سے ہی اسے مخاطب کرتے بولے ۔۔۔۔
کچھ خاص نہیں سر بس سارا دن آفس دن اور اسکے بعد گھر ،،،،،، انکے مختصر سوال کا واسم نے مختصر سا ہی جواب دیا تھا ۔۔۔۔۔
اور پھر اپنے ایک پارٹنر کی آواز پر ان سے ایکسیوز کرتا اسکی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔۔
جب وہ دوبارہ ارمغان شاہ کی طرف متوجہ ہوئے تھے ۔۔۔۔
اور اپنے داماد سے نہیں ملواو گئے ؟؟؟؟ ارے کیوں نہیں آو ابھی ملواتا ہوں ۔۔۔۔
وہ ہال میں نظر دوڑاتے ضارب کو دیکھتے انہیں اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتے اسکی طرف بڑھ گئے ۔۔۔۔۔
جب انہیں اپنی طرف آتے دیکھ ضارب اپنے سینئرز سے ایکسیوز کرتا خود انکی طرف آ گیا تھا ۔۔۔۔
اور ارمغان شاہ کے ساتھ ایک نئے چہرے کو دیکھتے انہیں سوالیہ نظروں سے دیکھا ،،،،، جنہوں نے اسکی آنکھوں میں چھپے سوال کو بھانپتے ہوئے مسکرا کر اپنے دوست کا تعارف کروایا تھا ۔۔۔۔۔
ارے انہیں کون نہیں جانتا ،،،،، ہمارے ملک کی شان ہیں یہ ماشاءاللہ ،،،،، جہاں کا چھوٹا چھوٹا ان سے واقف ہے ۔۔۔۔۔
ہمارے پنجاب کے ایم این اے ہیں سردار ضارب شاہ ۔۔۔۔۔
اور اس سے پہلے کہ ارمغان شاہ احسن سے ضارب کا تعارف کرواتے وہ انکی بات درمیان میں کاٹتے خوشامدی لہجے میں بولے تھے ۔۔۔۔۔
جس پر ارمغان شاہ کے ساتھ ضارب شاہ بھی مسکرایا تھا ،،،،، لیکن یہ مسکراہٹ صرف رسمی تھی کیونکہ اسے احسن حیات کا لہجہ خاصہ طنزیہ لگا تھا ،،،،، اور انکی آنکھوں میں بھی ایک الگ سی چمک ضارب کو محسوس ہوئی ،،،،، جس کا مطلب تو وہ فلحال نہیں سمجھ سکا لیکن کچھ تو ایسا تھا جو اسے محتاط رہنے کی طرف اشارہ کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
جسے نا سمجھتے ہوئے اس نے سر کو جھٹکا تھا ،،،،، اور پھر خود بھی نفی میں سر ہلاتا انکی باتوں میں شامل ہو گیا جو سیاست میں اس کے اب تک کے کیریئر کے حوالے سے ہی بات کر رہے تھے ۔۔۔۔۔
لیکن انکی یہ کنورسیشن زیادہ لمبی نہیں چل سکی کیونکہ دیر زیادہ ہو جانے کی وجہ دادا سائیں نے اب رخصتی کا حکم سنا دیا تھا ،،،، پھر سبھی لوگ اسی طرف متوجہ ہو گئے اور وہ جو بات کر رہے تھے اسے درمیان میں ہی ختم کرنا پڑا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک طرف یہاں شاہ حویلی میں خوشیوں کا راج تھا وہی معروف کے گھر آدھی رات قیامت ٹوٹ پڑی تھی ۔۔۔۔۔
شبنم بیگم طبیعت زیادہ خراب ہو جانے کی وجہ سے انہیں ارجنٹ ہاسپٹل لیجانا پڑا جہاں وہ آئی سی یو میں داخل اپنی زندگی کی آخری سانسیں گھن رہی تھیں ۔۔۔۔۔
ڈاکٹرز نے ارجنٹ آپریشن کا بولا تھا جس کے چارجز پورے دس لاکھ روپے بتایا تھا ۔۔۔۔۔۔
معروف کے ساتھ ہاسپٹل میں اس وقت اسکی ماں کے علاوہ صرف محلے کی ایک خاتون تھیں جو ان دونوں ماں بیٹی پر ترس کھا کر ساتھ آ گئی تھیں ۔۔۔۔
لیکن پیسوں کے معاملے میں تو وہ بھی اسکی کوئی مدد نہیں کر سکتی تھیں ۔۔۔۔
جس کا جواب انہوں نے اسے ڈاکٹر کی بات سنتے ہی اسے دے دیا تھا کہ کہیں وہ ان سے نا مانگ لیں ۔۔۔۔۔
اور اس مشکل گھڑی میں معروف کو صرف ایک ہی انسان یاد آیا جو اسکی مدد کر سکتا تھا ،،،،، اور وہ تھا واسم شاہ ۔۔۔۔۔
وہ ان آنٹی کو چند پل اپنی ماں کے کمرے باہر ٹہرنے کا بولتی خود ہاسپٹل سے باہر آ کر خود واسم کے پرسنل نمبر پر کال کرنے لگی جو مسلسل انریچبل آ رہا تھا ۔۔۔۔۔
جس کی وجہ سے اسے اپنی ماں کو بچانے کی آخری امید بھی اپنے ہاتھوں سے جاتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔
جس پر روتے ہوئے تھے اس نے آسمان کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔
لیکن پھر جیسے اسکے دماغ میں کچھ کلک ہوا تھا ۔۔۔۔۔ اور اس نے کونٹیکٹ لسٹ سے اسکے پی اے کا نمبر ڈھونڈا تھا ۔۔۔۔۔
جس کے مل جانے پر وہ رب کا شکر ادا کرتی اسے ڈائل کر گئی ،،،،،،
جسے پہلے تو اس نے اٹھایا نہیں اور فون مسلسل بج بج کر بند ہو گیا ،،،،، لیکن اسکے دوسری بار کوشش کرنے پر اس نے تیسری بیل پر اٹھا لیا ۔۔۔۔۔
پلیز کامران سر مجھے واسم سر سے بہت ضروری کام ہے آپ میری ان سے بات کروا سکتے ہیں میں معروف حسن بات کر رہی ہوں ۔۔۔۔۔
دوسری طرف ہیلو سنتے ہی وہ عجلت بھرے لہجے میں بولی تھی ۔۔۔۔۔
جسے واسم کا پی اے پیچھے شور زیادہ ہونے کی وجہ سے ٹھیک سے سن نہیں پایا ،،،،،، سوائے واسم اور معروف حسن کے نام سے جس پر وہ اسے ہولڈ رکھنے کا بولتے قدرے خاموش کونے کی طرف بڑھ گیا تاکہ ٹھیک سے اسکی بات سن سکے ۔۔۔۔
کیونکہ اتنی رات کو مس حسن کا اسے فون کرنا کچھ سمجھ نہیں آیا تھا ۔۔۔۔
جی مس حسن اب بولیں کیا کہہ رہی تھیں آپ ؟؟؟؟؟
جی ،،،، وہ میں کہہ رہی تھی ،،،،، کہ مجھے واسم سر سے بہت ضروری کام ،،،،، کیا آپ میری ان سے بات کروا سکتے ہیں ؟؟؟؟؟
دیکھیں پلیز انکار مت کیجئے گا میں انکا فون بھی پہلے ملا چکی ہوں لیکن وہ مسلسل بند آ رہا ہے ،،،،، یہ میری امی کی زندگی اور موت کا سوال ہے پلیز کسی طرح میری ان سے بات کروا دیں ۔۔۔۔۔۔
وہ روتے ہوئے اسے ساری بات تفصیل سے بتاتے بولی ۔۔۔۔۔
جس پر اس نے ایک لمبا سانس کھینچا تھا اور پھر پیچھے مڑ کر دیکھا یہاں رخصتی کی رسم ادا ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔
اور پھر اسے تسلی دیتے ہوئے سمجھانے کی کوشش کرنے لگا کہ وہ اس وقت واسم سے اسکی بات نہیں کروا سکتا ۔۔۔۔
دیکھیں مس حسن آپکو جو بھی مدد چاہیے آپ مجھے بتا دیں میں آپکی ہیلپ کر دوں گا ،،،،، لیکن فلحال سر آپ سے بات نہیں کر سکتے کیونکہ وہ مصروف ہیں ۔۔۔۔۔
لیکن اسکی بات وہ ہتھے سے اکھڑتی انکار کر گئی ،،،،، وہ ایسے کیسے مصروف ہیں آپ انہیں ایک بار بتائیں کہ میرا فون ہے ،،،،، مجھے پورا یقین ہے وہ انکار نہیں کرے گے ۔۔۔۔۔
دیکھیں مس حسن سمجھنے کی کوشش کریں سر اس وقت آپ سے بات نہیں کر سکتے کیونکہ وہ مصروف ہیں آج انکی شادی ہے ۔۔۔۔۔
اس کے غصے کو نظرانداز کرتے تحمل سے گویا ہوا ۔۔۔۔
جسے سنتے معروف نے بےیقینی کے ساتھ ایک بار فون کو دیکھا تھا جس سے واسم کی شادی کی خبر اسے سنائی گئی تھی ۔۔۔۔
لیکن ایسے کیسے ہو سکتا ہے انہوں نے تو بولا تھا وہ مجھے پسند کرتے ہیں اور مجھ سے ہی شادی کریں گے ،،،،، اس کے لب بےآواز پھڑپھڑائے تھے ۔۔۔۔
اور ساتھ ہی اسکی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر بے مول ہوتا زمین پر گرا تھا ۔۔۔۔۔
نہیں انہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی ،،،،،، واسم سر مجھے دھوکا نہیں دے سکتے تھے ۔۔۔۔۔
پھر اسکی بات کو جھٹلاتی خود کو تسلی دیتی دوبارہ فون کان سے لگا گئی ۔۔۔۔۔
دیکھیں سر میں آپ سے ریکویسٹ کرتی ہوں صرف ایک بار میری بات واسم سر کروا دیں میں ساری زندگی آپکی شکر گزار رہوں گی ۔۔۔۔
لیکن مس حسن میں آپکو بتا رہا ہوں کہ سر کی ،،،،،، پلیزززز سر وہ اس بار اونچی آواز میں روتی ہوئی بولی ۔۔۔۔
جس پر نا چاہتے ہوئے بھی اسے ہار ماننی پڑی تھی اور اسے تسلی کے دو لفظ بولتا انتظار کا کہتے ہوئے فون کاٹتا ہوا واسم شاہ کی طرف بڑھ گیا جو اپنی گاڑی کے قریب کھڑا ابیہا کو روتے ہوئے دلچسپ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرآن پاک کے سائے تلے جسے زارون نے اونچے سے ہاتھ تھام رکھا تھا ۔۔۔۔۔
ابیہا ضارب شاہ کے گلے لگے ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی ،،،،،، بیشک وہ رخصت ہو کر واپس اپنے ہی گھر جا رہی تھی ۔۔۔۔
لیکن شاید یہ وقت ہی ایسا ہوتا ہے کہ مظبوط سے مظبوط انسان کو بھی کمزور کر دے جیسے اس وقت اپنے سینے سے لگی روتی ہوئی اپنی کل متاع کو دیکھتے ضارب شاہ کی آنکھیں بھی ضبط سے پوری سرخ ہو چکی تھیں ۔۔۔۔۔
اور اس نے بمشکل اپنے سینے سے اسکا چہرہ نکال کر ہاتھ کے پوروں سے اسکے آنسو صاف کرتے ہوئے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔
اور ساتھ ہی اسکی پیشانی پر بوسہ دیتے صدا خوش رہنے کی دعا دی تھی ۔۔۔۔۔
اور پھر گاڑی کے پاس کھڑے واسم شاہ کے قریب جاتے ابیہا کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیتے خیال رکھنے کی تلقین کی تھی ۔۔۔۔
اور ساتھ ہی آگے بڑھ کر ایک بڑے بھائی کی طرح سبھی رنجشوں کو دل سے نکالتے اسے اپنے سینے سے لگایا تھا ۔۔۔۔۔
جس کے بدلے اس نے بھی اس کے گرد اپنا حصار بنایا جو دل سے تھا یا پھر رسمی یہ کہہ پانا فلحال مشکل تھا ۔۔۔۔۔
اور اس سے الگ ہوتے گاڑی کا دروازہ کھولتے ابیہا کو اس میں بیٹھنے میں ہیلپ کی تھی ۔۔۔۔۔
جس کے بعد اسی طرح قرآن پاک کے سائے تلے ابرش کی بھی رخصتی ہوئی جس نے رو رو کر پہلے سے خراب اپنی طبیعت کو اور زیادہ خراب کر لیا تھا ،،،،، باری باری اپنے باپ اور بھائیوں کے سینے سے لگتی روتے ہوئے سب کی آنکھیں اشکبار کر گئی ۔۔۔۔۔
جسے بہت مشکل سے سمجھانے بجھانے کے بعد کہ وہ اپنے ہی گھر جا رہی ہے چپ کروایا گیا تھا ،،،،، اور پھر اسے پھولوں کے ساتھ سجی ضارب شاہ کی میں بٹھاتے رخصت کیا گیا ۔۔۔۔۔
جس کے روانہ ہوتے ہی واسم اپنی گاڑی کی طرف بڑھا تھا ،،،،،، اور اس سے پہلے کہ وہ اس میں براجمان ہوتا اس کے پی اے نے آ کر اسے روکا تھا ۔۔۔۔۔
اور پھر مس حسن کے فون کال اور اس سے ہوئی بات کی تمام تفصیل اس کے گوش گزار کرتے ہوئے اپنے لیے اگلا حکم مانگا تھا۔۔۔۔۔
جس پر واسم نے ایک گہرا سانس کھینچتے ہوئے گاڑی میں بیٹھی ہوئی ابیہا کی طرف دیکھا تھا ،،،،، تم ایسا کرو دوبارہ اسے فون کال کر کے تمام تفصیلات معلوم کر کے اسکے پاس پہنچو ۔۔۔۔۔
اور پھر وہاں کے حالات دیکھنے کے بعد اگر تمہیں لگے کے میری ضرورت ہے تو مجھے فون کرنا ۔۔۔۔ بلکہ تب تک میں ان سب سے فارغ ہو کر خود تم سے کونٹیکٹ کرتا ہوں ۔۔۔۔۔
اوکے “
جس پر وہ خاموشی سے سر ہلا گیا تھا ۔۔۔۔۔
وہ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تھپتھاتا خود بھی گاڑی میں براجمان ہوتا وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔۔
جس کے جاتے ہی اس نے دوبارہ معروف کو کال ملائی تھی ۔۔۔۔
جی ہیلو ،،،،،،،،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حویلی پہنچتے ہی کچھ رسمیں ادا کرنے کے ان دونوں کی تھکاوٹ اور خاص طور پر ابرش کی بگڑتی طبیعت کا خیال کرتے انہیں واسم اور ضارب کے کمروں میں پہنچا دیا گیا ۔۔۔۔۔
تاکہ وہ لوگ کچھ دیر آرام کر کے تھکاوٹ اتار سکیں ۔۔۔۔۔
جب تک واسم اور ضارب اپنے دوستوں سے فارغ ہو جاتے جو ان دونوں کو مکمل گھیرے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔
ابرش کی تو اتنا بھاری جوڑا پہن کر مسلسل بیٹھنے کی وجہ سے طبیعت کچھ ہی خراب ہو چکی تھی ،،،،،، اس لیے اسے کچھ ہلکا پھلکا کھلانے کے بعد میڈیسن دیتے ہوئے زر اسے بنا چھیڑے ہی باہر آ گئی تھی ۔۔۔۔۔
البتہ اسکے برعکس ابیہا اسکے ہتھے چڑھ گئی تھی ،،،،،، جسے اس نے واسم کا نام لے لے کر اتنا زچ کر دیا تھا کہ وہ تپتے ہوئے گالوں سے اسے گالیوں سے نوازتی اسکے کمرے سے نکل جانے کا بولی تھی ۔۔۔۔۔
آئے ہائے میرا کمرہ ،،،،، ویسے بیا یہ کمرہ تو واسم لالا کا تھا نا تمہارے کیسے ہو گیا ،،،،،
اس کے منہ سے گالیاں سننے کے بعد بھی وہ باز نہیں آئی تھی ،،،،، ایک بار پھر واسم کے نام سے چڑاتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔
بالکل ویسے ہی جیسے آج سے تمہارے واسم لالا ہمیشہ کیلئے میرے ہو گئے ۔۔۔۔
جبکہ اسکی بات پر وہ چڑنے کی بجائے اتراتے ہوئے گویا ہوئی ،،،،، جس پر زرمینے نے داد میں آئی برو اٹھائی تھی ۔۔۔۔
سوچ لو بیا صرف ایسے خالی خولی تمہارے نہیں ہونگے اس کیلئے تمہیں بہت کچھ سہنا بھی ،،،،،،،
زرررررر
اس سے پہلے کہ زر ذومعنی انداز میں اپنا جملہ مکمل کرتی ابیہا نے چیخ کر اس اسکا نام لیتے پاس رکھا کشن اٹھا کر اسے مارا تھا ۔۔۔۔۔
جسے وہ بروقت کیچ کرتی شرارت سے ایک آنکھ دبا گئی ،،،،،، جس پر ابیہا نے شرماتے ہوئے لب دبا کر اپنی امڈ آنے والی مسکراہٹ چھپائی تھی ۔۔۔۔
جسے دیکھتے ہوئے زرمینے نے آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگاتے ہوئے صدا خوش کی دعا دیتی خیال رکھنے کا کہتی وہاں سے نکلتی چلی گئی ۔۔۔۔۔۔
جس کے جاتے ہی ابیہا نے بیڈ کراون سے ٹیک لگاتے کچھ دیر کیلئے اپنی آنکھیں بند کر کے انہیں سکون پہنچانے کی کوشش کی تھی اور ساتھ ساتھ زرمینے کی باتوں کو یاد کرتے اسکے لب مسکرا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوست اور رشتے داروں سے جان چھڑوانے کے بعد وہ تیز قدم لیتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا ،،،،،، کیونکہ شادی کے اس فارمل ڈریس کو کیری کر کر کے اب وہ تھک چکا تھا ۔۔۔۔۔
اور جلد از جلد فریش ہو کر اس تھکاوٹ سے جان چھڑوانا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔
ابھی وہ اپنے کمرے سے کچھ قدم کی دوری پر تھا جب اچانک سے اسکا فون رنگ ہوا تھا ۔۔۔۔۔
جسے اس نے کوفت سے سر ہلاتے پاکٹ سے باہر نکالا اور پھر اس پر اپنے پی اے کا نمبر بلنک کرتے دیکھ کر لمبا سانس کھینچتے کان سے لگایا تھا ۔۔۔۔
اور دوسری طرف سے جو اسے خبر سنائی گئی تھی اس پر وہ اپنی پیشانی کو انگلیوں سے سہلاتے ہوئے ایک نظر اپنے کمرے کے بند دروازے کو دیکھتا اسے اپنے آنے کا بولتا انہیں قدموں سے واپس ہوتا باہر کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔
کیونکہ اسے جلد از جلد شہر پہنچنا تھا ۔۔۔۔۔
ابھی وہ تیز تیز قدم لیتا حویلی کے باہر نکلتا جب بےدھیانی میں اندر داخل ہوتے ضارب کو نا دیکھ سکا اور اس سے ٹکرا گیا ۔۔۔۔۔
اور پھر لب بھینچ کر اسے ایک نظر دیکھنے کے بعد اگنور کرتا باہر کی طرف بڑھا جب ضارب نے اسے پیچھے سے مخاطب کیا تھا ۔۔۔۔۔
کیا ہم جان سکتے ہیں کہ آپ رات کے اس پہر کہاں جا رہے ہیں ؟؟؟؟؟
اور میرے خیال سے میں اپنے کسی بھی عمل کا کم از کم تمہیں جوابدہ نہیں ہوں ۔۔۔۔۔
اس کی بات پر پلٹ کر اسکی آنکھوں میں دیکھتا سپاٹ لہجے میں بولا ۔۔۔۔
جس پر ضارب نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچی تھیں ۔۔۔۔۔
بالکل آپ ہمیں اپنے کسی بھی عمل کے جوابدہ نہیں ،،،،،، لیکن یہ کبھی مت بھولیے گا کہ اب آپکے ساتھ ہماری بہن کی زندگی بھی جڑ چکی ہے ،،،،،، اور آپکے کسی بھی عمل سے اگر کبھی بھی انہیں کوئی تکلیف پہنچی تو ہم سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔
اسکی بات کے جواب میں وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتا ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔
جس کا واسم نے کوئی جواب نہیں دیا تھا ،،،،، صرف لب بھینچ کر اپنے غصے کو کنٹرول کرتا اسے ایک نظر دیکھنے کے بعد پلٹ گیا ۔۔۔۔۔
جبکہ ضارب نے اسے جاتے دیکھ کر اسکی پشت کو پرسوچ نظروں سے دیکھتے فون جیب سے نکال کر کان سے لگاتے کال ملائی تھی ۔۔۔۔۔
ہاں ہیلو خان ۔۔۔۔۔۔۔
