Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 39)

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

نکاح مکمل ہوتے ہی درمیان میں لگا پردہ جو کہ مختلف پھولوں کی لڑیوں سے بنا ہوا تھا ،،،،، اسے ہٹا دیا گیا تھا ۔۔۔۔۔

جس کے بعد ایک ایک کر کے سبھی جوڑو نے اپنی جگہ سنبھالی تھی ،،،،،، جب بہت محبت اور چاہت کے ساتھ آگے بڑھ کر زارون نے زرمینے کی طرف اپنا دایاں ہاتھ بڑھایا ۔۔۔۔۔

جسے دیکھتے پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا ۔۔۔۔

جس پر کچھ پل دیکھنے کے بعد اس نے اپنا حنائی ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔۔۔

جسے نرمی سے تھامنے کے بعد وہ اسے لے کر صوفے کی طرف بڑھا اور مسکراتے ہوئے براجمان ہو گیا ۔۔۔۔

سبھی جوڑیوں کے فوٹو شوٹ اور رسمیں ادا کرنے کے بعد اس خوبصورت شام کا بہت لاجواب اختتام ہوا تھا ۔۔۔۔۔

جس کی تعریفیں وہاں موجود ہر مہمان کے منہ پر تھی ۔۔۔۔۔

دلہنوں کو تو انکے آرام کی غرض سے جلد ہی حویلی کے اندر پہنچا دیا گیا تھا ،،،،، البتہ دلہوں کو انکے دوست اور قریبی کزنز نے گھیر لیا جس سے چاہ کر بھی وہ تینوں جان نہیں چھڑوا پائے تھے ۔۔۔۔۔

ضارب واسم کے ساتھ اپنے سب سے چھوٹے اور شرارتی کزن کے اتنے جلدی گھوڑی چڑنے اور نکاح کے مکمل ہونے سے لے کر اب تک جو اسکی بتیسی اندر نہیں جا رہی تھی اسے خوب ریکارڈ کا نشانہ بنایا گیا ،،،،، جسکا اس نے بنا برا منائے بہت بےشرمی کے ساتھ سر جھکاتے خیر مقدم کیا تھا ۔۔۔۔۔

جس پر واسم ، ضارب نے سر نفی میں ہلایا تھا البتہ اپنے بھائی کی خوشی میں وہ دونوں بہت خوش تھے ۔۔۔۔۔

دیکھ لیں عاقب لالا ضارب اور واسم لالا کے نکاح والے دن جب آپ نے اس سے پوچھا تھا کہ یہ کسی لڑکی کو پسند کرتا ہے تو کیسے شریف بچہ بنتے ہوئے اس نے انکار کیا تھا ۔۔۔۔

اور اب دیکھیں ،،،،،، جب سے نکاح ہوا ہے محترم کے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے ۔۔۔۔۔

وہاں موجود ایک کزن نے اسکی خوشی کو دیکھتے جملہ کسا تھا ۔۔۔۔۔

جسے سنتے انہوں نےگھور کر اسکی طرف دیکھا جس پر وہ سٹپٹایا تھا ،،،،، لالا یہ جو نکاح ہوا ہے اس میں میرا کوئی عمل دخل نہیں صرف دادا سائیں کی خواہش ہے ۔۔۔۔۔۔

انکے خود کو گھورنے پر وہ سچ جھوٹ ملاتا انہیں یقین دلاتے بولا ۔۔۔۔۔

ہاں اتنے تم فرمانبردار بچے جیسے جانتے نہیں ہم تمہیں ،،،،، وہ اب بھی اسے ترچھی نظروں سے دیکھتے ہوئے طنزیہ بولے تھے ۔۔۔۔

جس پر زارون نے کچھ اور معصوم شکل بنائی تھی ۔۔۔۔۔۔

البتہ وہ اسکی نوٹنکی پر نفی میں سر ہلا کر رہ گئے ۔۔۔۔۔

تبھی خان ضارب کیلئے دادا سائیں کا پیغام لے کر آیا تھا کہ وہ انہیں اپنے کمرے میں بلا رہے ہیں ۔۔۔۔۔

جس کے اٹھتے ہی واسم بھی ضروری کال کا کہتے اٹھ گیا تھا ،،،،، جسے روکنے کی انہوں نے کوشش تو کی لیکن کامیاب نا ہو سکے ۔۔۔۔۔

البتہ زارون کافی دیر ان سب کے ہاتھوں ذلیل ہوتا رہا ،،،،، اینڈ عظمی بیگم کا پیغام آیا کہ انہیں اس سے ضروری کام ہے تب جا کر کہیں اس کی جان خلاصی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

اور وہ ایسے وہاں سے جان چھڑوا کر بھاگا ،،،،،، جیسے کسی قید سے آزادی ملی ہو ،،،،، جبکہ اسکی پتلی ہوئی حالت کو دیکھتے ہوئے وہاں سب کے قہقہے گونجے تھے ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ دھیرے سے دروازہ کھولتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا تھا ،،،، جہاں نیم اندھیرے نے اسکا استقبال کیا تھا ۔۔۔۔۔۔

جسے دیکھتے وہ کافی حیران ہوا ،،،، البتہ اسے بیڈ پر کسی وجود کے موجود ہونے کا احساس ضرور ہوا تھا ۔۔۔۔۔

ماما نے تو بولا تھا کہ زرمینے میرا انتظار کر رہی ہے ،،،،، کہیں میں نے آنے میں دیر تو نہیں کر دی اور وہ بیچاری انتظار کرتی کرتی سو گئی ۔۔۔۔۔

اس سوچ کے آتے ہی اپنے لیٹ آنے پر اسے کافی افسوس ہوا تھا ،،،،،، لیکن پھر نفی میں سر ہلاتے بیڈ کی طرف قدم بڑھائے کہ کم از کم زیادہ نہیں تو ایک بار قریب سے اپنے محبوب کا چہرہ دیکھ سکے ۔۔۔۔

اور تب اسکی خوشی کی انتہا نہیں رہی جب قریب جانے پر اس نے زرمینے کو گھونگھٹ میں بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے دیکھا ۔۔۔۔۔

اور اسکے وجود کی جنبش سے اسے اتنا اندازہ تو ہو ہی گیا تھا کہ وہ جاگ رہی ہے ۔۔۔۔۔ لیکن لائٹ کیوں آف کر رکھی تھی اس بات کی اسے سمجھ نہیں آئی ۔۔۔۔۔

شاید لگتا ہے مجھ سے شرما رہی ہے ،،،،، خود سے اندازے لگاتے اسکے لبوں پر شریر سی مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔۔۔

اور وہ چھوٹے چھوٹے قدم لیتا بیڈ پر بالکل اسکے قریب ہی براجمان ہو گیا ،،،،، السلام وعلیکم “

گلا کھنکارتے ہوئے بہت پیار سے سلام کیا تھا ۔۔۔۔۔

جس پر سامنے والے نے صرف سر ہلانے پر ہی اتفاق کیا ۔۔۔۔۔

جبکہ اپنے گھونگھٹ کو اور کھینچ کر لمبا کرتے خود کو مکمل طور پر چھپایا تھا ،،،،، جبکہ اس نیم اندھیرے میں بھی زارون اسکی ہاتھوں کی کپکپاہٹ واضح طور پر دیکھ سکتا تھا ۔۔۔۔۔

کیا ہو گیا زر آپ مجھ سے اتنا گھبرا کیوں رہی ہیں یار ،،،،،، اتنا کہتے زارون نے بہت نرمی سے اسکے ٹھنڈے یک ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیا ،،،،، جسے محسوس کرتے اسے کچھ گڑ بڑ کا احساس ہوا تھا ۔۔۔۔

اور اس نے فورا اٹھتے ہوئے کمرے کی مین لائٹ جلاتے اس وجود کا گھونگھٹ پلٹا تھا ،،،،، اور وہاں زرمینے کی جگہ مالی بابا کے سب سے چھوٹے بیٹے کو بیٹھے دیکھ کر اسکی حیرت کی انتہا نا رہی ۔۔۔۔۔

تم “

وہ ،،،وہ،، چھوٹے ،،،،، سائیں

کیا چھوٹے سائیں ہاں ،،،،، تم یہاں کیا کر رہے ہو ۔۔۔۔۔

وہ بی بی جی “

اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتا ابرش ابیہا ہنستی ہوئی ڈریسنگ روم سے باہر نکلی تھی ۔۔۔۔۔

جنہیں دیکھتے اسے سارا معاملہ سمجھ آ گیا تھا کہ یہ انکی ہی شرارت ہے ۔۔۔۔۔

تو چڑیلوں یہ تم دونوں کا کیا دھرا ہے نا ؟؟؟؟؟

بالکل ،،،، ابیہا اتراتے ہوئے بولی تھی جیسے کوئی بہت ہی زبردست کام انجام دیا ہو ۔۔۔۔

جبکہ انکی بےنیازی کو دیکھتے وہ جل بھن ہی تو گیا تھا ۔۔۔۔۔

اب تم لوگ شرافت سے مجھے بتاتی ہو کہ میری دلہن کہاں ہے ،،،،، یا پھر میں تم لوگوں کی شکایت ماما سے لگاؤں ۔۔۔۔۔

آپ جس سے مرضی شکایت لگالیں ،،،، لیکن اتنی آسانی سے تو ہم آپکو زر کا پتا نہیں بتائیں گے اس کیلئے آپکو جرمانہ بھرنا پڑے گا ۔۔۔۔۔

اسکی بات کے جواب میں اب کے ابرش شرارت سے گویا ہوئی ۔۔۔۔۔

کیوں کل تو تم لوگ بہت بڑی بڑی باتیں کر رہی تھیں ،،،،، ہمارے شوہر بہت امیر ہے ہمیں تمہارے پیسوں کی ضرورت نہیں وغیرہ وغیرہ

اور آج فقیرنیاں بن کر مانگنے کیلئے آ گئی ،،،،، جاو معاف کرو ،،،،، کچھ نہیں ملنے والا تم لوگوں کو ۔۔۔۔۔

جس پر ان دونوں نے اسے گھورا تھا ،،،،، سوچ لو ایک بار پھر تمہیں آج اپنی دلہن کا چہرہ دیکھنا ہے یا نہیں ،،،،، اسکے چہرے کی طرف دیکھتی ابیہا وارننگ دینے والے انداز میں بولی ۔۔۔۔۔۔

جسے سمجھتے ہوئے اس نے اسے گھورا تھا ،،،،، جس پر دونوں نے دانتوں کی نمائش کی تھی ۔۔۔۔۔

کیا چاہتی ہو تم لوگ ؟؟؟؟ آخر مجبوری کے تحت زارون کو ہی ہار ماننی پڑی اور وہ چڑتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔۔

زیادہ تو کچھ نہیں ،،،،، کیونکہ ہمیں پتا آپ غریب ہیں ،،،،، بس ایک اچھے سے ہوٹل میں نکاح کی ٹریٹ ،،،، منظور ہے ؟؟؟؟؟

منظور ہے ،،،،، ابرش کی بات پر وہ سر ہلاتے ہوئے بولا

جس پر دونوں نے یاہو وووو کا نعرہ لگایا تھا ،،،،، کیونکہ فطرتا اس معاملے میں زارون بہت کنجوس تھا اور اسکی جیب ہلکی کرنے کا موقع بہت کم ہی انکے ہاتھ آتا تھا ۔۔۔۔۔

جسے وہ گوانا نہیں چاہتی تھیں ۔۔۔۔۔

اچھا اب تو بتا دو زر کہاں ہے ،،،،، اب کہ عاجزی سے بولا

جبکہ اسکی اتری ہوئی شکل کو دیکھتے دونوں نے قہقہہ لگایا تھا ۔۔۔۔

اسی کمرے میں موجود ہے خود ہی ڈھونڈ لو ،،،،۔ اتنا کہتے ہوئے ابیہا اپنی بھاری میکسی سنبھالتی ابرش کو لے کر باہر کی طرف بڑھ گئی تھی ۔۔۔۔۔

جبکہ وہ لڑکا تو ابیہا ابرش کے آتے ہی وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔

جس پر سکھ کا سانس لیتے اس نے کمرے میں ایک طائرانہ نگاہ دوڑائی تھی ،،،،،، جب اسکی نظر ڈریسنگ روم کے بند دروازے کی طرف پڑی اور وہ مسکراتا ہوا اس طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ جب ڈریسنگ کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو زر اسے نکاح کے جوڑے میں ملبوس ایک طرف کھڑی ہوئی نظر آئی جس نے ابھی بھی گھونگھٹ سے اپنے چہرے کو مکمل طور پر کور کیا ہوا تھا ۔۔۔۔۔

جسے دیکھتے بےساختہ اسکے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی اور وہ دروازہ بند کرتا نپے تلے قدم لے کر اس سے چند قدم کے فاصلے پر رک گیا ۔۔۔۔۔

جبکہ نکاح کے بعد یوں پہلی بار اسکے قریب آنے پر زرمینے کی دھڑکنیں منتشر ہوئی تھی ۔۔۔۔

تم بھی شامل تھی ان دونوں کی شرارت میں ،،،،،، اسکی ہاتھوں کی لرزش کو دیکھتے وہ تھوڑا رعب سے گویا ہوا ۔۔۔۔۔

جس پر بےساختہ اس نے نفی میں سر ہلایا تھا ،،،،،، جبکہ اسکی اتنی فرمانبرداری اور اسکے ڈر کو دیکھتے ہوئے اس نے بمشکل اپنا امڈ آنے والا قہقہہ روکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

اور پھر بہت نرمی سے اسکے دونوں ہاتھ اپنی گرفت میں لیے تھے ۔۔۔۔۔۔

جس پر وہ کپکپائی تھی ،،،،،،، جسے محسوس کرتے اس نے نرمی سے انہیں سہلایا تھا ۔۔۔۔۔

تمہیں پتا ہے زر شاید میں خود بھی نہیں جانتا کہ کب تم میرے دل کو اتنی اچھی لگنے لگی ،،،،،، کہ وہ زندگی بھر کیلئے تمہارے ساتھ کی خواہش کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔

تمہیں ہر وقت صرف اپنے نگاہوں کے سامنے رکھنے کی خواہش ،،،،، مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ کب تم میرے لیے میری سانسوں کی طرح ضروری ہو گئی ۔۔۔۔۔

کہ جسے ایک پل کیلئے نا دیکھوں تو وہ رکنے لگتی ہیں ۔۔۔۔۔

اور آج صبح جب دادا سائیں نے کہا کہ وہ میرا نکاح کروانا چاہتے ہیں ،،،،، مجھے ایک پل کیلئے لگا کہ جیسے میں نے تمہیں ہمیشہ کیلئے کھو دیا ،،،،، تم سوچ بھی نہیں سکتی کہ وہ لمحے مجھ پر کسی قیامت کی گھڑیوں سے کم نہیں تھے ۔۔۔۔۔

لیکن شکر اللہ پاک کا کہ انہوں نے تمہیں ہمیشہ کیلئے میرے نصیب میں لکھ دیا ،،،،،، میں تمہیں بتا نہیں سکتا کہ میں اس وقت کتنا خوش ہوں ۔۔۔۔۔

تم صرف میری ہو ،،،،،، یہ احساس کتنا خوش کن ہے میرے لیے ،،،،،، اب تو بس یہی دعا ہے کہ میری آخری سانس تک یہ بندھن یونہی قائم رہے ،،،،،، وہ اسکے جھکے سر کو دیکھتے ہوئے بہت نرمی اور محبت سے اپنے احساسات بیان کر رہا تھا ۔۔۔۔۔

کیا کچھ نہیں تھا ان لفظوں میں محبت عزت چاہت جسے سنتے ہوئے بےساختہ زرمینے کو اپنی قسمت پر رشک ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔

جسکے بعد زارون نے اسکے ہاتھوں کو چھوڑتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں سے اسکا گھونگھٹ اٹھایا تھا ۔۔۔۔۔۔

اور اسے ایسا لگا کہ جیسے لمحے تھم گئے ہو ،،،،،، اور وہ مہبوت ہو کر اسکے خوبصورت چہرے کی طرف دیکھنے لگا جس نے اپنی جھکی ہوئی نظریں ابھی بھی نہیں اٹھائی تھی ۔۔۔۔۔۔

اسکی نظریں اسکی پیشانی پر سجے جھومر سے ہوتیں اسکی چھوٹی سی ستواں ناک میں سجی نتھلی پر آئی تھیں ،،،،، اور پھر وہاں سے ہوتے اسکے ریڈ لپ اسٹک سے سجے بھرے بھرے ہونٹوں پر اور اسکی ٹھوڑی سی پھسلتی ہوئی بالکل اسکی بیوٹی بون کے قریب تل پر رکی تھیں ۔۔۔۔۔

جسے اس نے آج پہلے بار دیکھا تھا ،،،،،، جو اسکا دل بری طرح دھڑکا گیا ،،،،، وائٹ کرتی شرارے کے ساتھ لال دوپٹے میں سجی سنوری کھڑی وہ اسے جنت سے آئی کوئی حور لگی ۔۔۔۔۔

پھر بےساختہ آگے ہوتے بہت عقیدت اور محبت کے ساتھ اسکی پیشانی پر اپنی محبت کی پہلی مہر ثبت کی تھی ۔۔۔۔۔۔

جس پر زرمینے کو اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی اس نے بےساختہ ہی اسکی شرٹ کو اپنی مٹھیوں میں بھینچا تھا ۔۔۔۔۔

جس سے وہ اسکے اور بھی قریب آ گئی تھی ۔۔۔۔۔ کہ زارون کو اسکی بڑھتی دھڑکنوں کا شور صاف سنائی دینے لگا تھا ۔۔۔۔۔

اور وہ مسکراتے ہوئے اس سے دوری بنا گیا ،،،،، جبکہ اپنی چھوٹی سی جسارت پر اسکے سرخ ہوئے چہرے کو دیکھتے اسکا دل اسے مزید شرارتوں پر اکسانے لگا تھا ۔۔۔۔۔

جس پر بمشکل بندھ باندھتے خود کو روکا ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکے پیچھے ہونے پر زرمینے شرم و حیا کے بھوج سے جھکی اپنی بھاری ہوتی پلکوں کو اٹھا کر اسکی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔۔

جو اپنی آنکھوں میں ہزاروں چاہت کے دیپ جلائے اسکی طرف ہی دیکھ کر رہا تھا ،،،،، جسکی تاب نا لاتے ہوئے وہ دوبارہ نظریں جھکا گئی ۔۔۔۔

جسے دیکھتے زارون نے قہقہہ لگایا تھا ،،،،،، جبکہ اسکو ہنستے دیکھ کر زرمینے نے حیرت سے سر اٹھاتے سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔

یار کیا ہو گیا ہے تمہیں ،،،،،، تم کب سے یوں شرمانے لگی ،،،،، وہ بھی مجھ سے ،،،،،، میں وہی زارون ہو ۔۔۔۔۔

رشتہ بدل جانے سے ،،،،، ہماری دوستی نہیں بدل جائے گی ،،،،، اور نا ہی میں تمہیں تنگ کرنا چھوڑو گا ،،،،، پتا ہے تمہیں شرماتے دیکھ کر مجھے کیسی فیلنگز آ رہی ہیں ،،،،، تمہیں ایسے دیکھ کر میرا دل ہے ایمان ہو رہا ہے اور اگر پھر مجھ سے کوئی ایسی ویسی حرکت سرزد ہو گئی تو اسکی زمہ دار تم خود ہوگی ۔۔۔۔۔

ہلکے پھلکے لہجے میں بات شروع کرتے آخر میں اسکے تھوڑا قریب ہوتا گمبھیرتا سے بولا ۔۔۔۔۔

جس پر وہ سٹپٹاتی اس دوری بنا گئی جبکہ اپنی سرمئی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے گھوری سے نوازا تھا ۔۔۔۔۔

جس پر زارون نے دوبارہ قہقہہ لگایا ۔۔۔۔۔

میرے خیال سے بہت ہو گئی منہ دکھائی ،،،،، اور وقت بھی بہت زیادہ ہو گیا تو اب آپکو یہاں جانا چاہیے ۔۔۔۔۔

وہ اپنی ساری شرم و حیا ایک طرف رکھتی اپنی پرانی ٹون میں واپس آتے بولی ۔۔۔۔۔

اور ساتھ ہی قدم باہر کمرے کی طرف بڑھائے ،،،،،، جبکہ اسکی بےمروتی کو دیکھتے ہوئے زارون کا منہ حیرت سے کھل گیا تھا ۔۔۔۔۔

اور پھر نفی میں سر ہلاتے مسکراتے ہوئے وہ بھی اس کے پیچھے آیا ۔۔۔۔۔

وہ اسکی سرگوشی پر تیز ہوتی دھڑکنوں کو سنبھالتی ،،،،، اپنی شرم کو غصے کے لبادے میں چھپاتے بمشکل خود کو کمپوز کرتے ہوئے جلدبازی میں باہر کی طرف بڑھی جب بےدھیانی میں خود کے کپڑوں میں الجھ کر اس سے پہلے کہ منہ کے بل گرتی پیچھے آتے زارون نے اسے اپنے حصار میں لیتے گرنے سے بچایا تھا ۔۔۔۔۔۔

اور اسکی بند آنکھوں کو دیکھتے ہوئے اس کے لب مسکرائے جبکہ خود کو محفوظ محسوس کرتے اس نے اپنی آنکھیں کھولیں تھیں ۔۔۔۔

جب اسکی سرمئی آنکھیں سیدھی زارون کی بلیک شوخ رنگ آنکھوں سے ٹکرائی تھیں جن میں اس کیلئے جذبات کا سمندر موجزن تھا ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکی قربت پر دھڑکنوں نے الگ شور مچا رکھا تھا ،،،،،، دل میں جاگتے اس نئے رشتے اور اپنی ملکیت کا احساس کرتے وہ جھکا اور اسکے سرخ اپنی قربت کی وجہ سے تپتے گال پر اپنے دہکتے ہوئے لب رکھ گیا ۔۔۔۔۔۔

جبکہ اسکی جسارت پر زرمینے کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی ،،،، جنہیں باری باری نرمی سے چھوتے زارون نے اس کے کان کے پاس جھکتے سرگوشی کی تھی ۔۔۔۔۔

اپنے نئے نئے بننے والے مجازی خدا سے بدتمیزی کرنے کی سزا ملی ہے تمہیں ،،،،، سوچو اگر میں یہاں نا ہوتا تو تمہارا کیا بنتا ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکی بات پر زرمینے نے حیران نظروں سے اسکی طرف دیکھا ،،،،، کب کی میں نے بدتمیزی ؟؟؟؟؟

اسکے حصار سے نکلتے ہوئے حیرانی سے پوچھا ۔۔۔۔

ابھی تھوڑی دیر پہلے جو کمرے سے نکل جانے کا بولا ،،،،، اتنی جلدی بھول گئی ۔۔۔۔۔۔

کتنے بڑے جھوٹے ہو آپ ،،،،،، صرف وقت کا احساس دلایا ،،،،، نا کہ نکل جانے کا بولا ۔۔۔۔۔

اسکا مطلب تم نہیں چاہتی میں یہاں سے جاؤں ؟؟؟؟؟ اسکی بات سے اپنی مطلب کی بات نکالتے بولا اور ساتھ آرام سے بیڈ پر براجمان ہو گیا ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکو آرام سے بیڈ پر براجمان ہوتے اور اسکی بات سنتے زرمینے نے ہونق چہرے سے اسکی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔۔

جو اسکی باتوں کے خود ہی الٹے مطلب اخذ کیے جا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

یہ آپ کیسی ،،،،،، وہ اسکے تھوڑا قریب آتی اس سے پہلے کے اپنی بات کا مطلب اسے سمجھاتی زارون نے اسے ایک ہاتھ سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا جس سے وہ اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکی اور لہرا کر اس کے اوپر گری تھی ۔۔۔۔۔

جب وہ اسے بیڈ پر منتقل کرتے ہوئے خود اس پر حاوی ہوا ۔۔۔۔۔

اور ذرا سا جھکتے ہوئے اسکی گردن پر نظر آتے تل پر اپنے ہونٹ رکھے تھے ۔۔۔۔۔

جس سے زرمینے کو اپنے وجود سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی اور وہ تڑپ کر اسکے کندھوں کو تھام گئی ۔۔۔۔۔

لیکن زارون تو اسکے نرم لمس میں کھویا مکمل اس پر اپنی شدت نچھاور کرنے لگا ،،،،، جس پر وہ نا چاہتے ہوئے بھی اپنی آنکھیں بند کر گئی ۔۔۔۔۔

اسکی گردن کو مکمل اپنے لمس سے بھگونے کے بعد وہ اسکی ٹھوڑی کو ہونٹوں سے چھوتے چہرے کی طرف آیا تھا ۔۔۔۔۔

اور اس سے پہلے کے وہ اسکے ہونٹوں پر جھکتا زرمینے نے اسکے لبوں پر ہاتھ رکھتے اسے روکا تھا ۔۔۔۔۔

نہیں پلیز “

یہ سب ،،،،، ٹھیک نہیں

وہ بمشکل اسکی قربت کی وجہ سے پھولتی سانسوں کو سنبھالتی اٹکتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔

جس پر زارون نے محبت سے اسکی نرم ہتھیلی کو چوما تھا ۔۔۔۔۔

جس پر وہ فورا اسے پیچھے کر گئی ۔۔۔۔۔

مجھے اپنی لمٹس بہت اچھے سے پتا ہے جاناں ” اس بات کی آپ ٹینشن بالکل مت لیں ۔۔۔۔۔

بس کچھ پل کیلئے آپکو محسوس کر کے اپنی محبت اپنی دسترس میں ہونے کا یقین کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔

اس کے ڈر کو سمجھتے ہوئے بہت نرمی کے ساتھ اسکے سرخ نرم و نازک گال کو سہلاتے ہوئے بولا ،،،،،، جس پر اس نے اسکی آنکھوں میں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔

پھر اسکی چاہت کو دیکھتی دھیرے سے اپنی آنکھیں بند کر گئی ۔۔۔۔۔

جسے اسکی رضامندی جانتے وہ جھکا اور اس پر اپنی نرم گرفت جماتے بہت نرمی اور محبت سے اسے محسوس کرنے لگا ۔۔۔۔۔

اور جیسے جیسے وقت بڑھتا جا رہا تھا اسکے لمس میں نرمی کے ساتھ شدت بھی آتی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔

جس سے زرمینے کی بند آنکھیں نم ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

اور جب زارون کو لگا کہ وہ اب بالکل سانس نہیں لے پا رہی تو آرام سے پیچھے ہٹ گیا ،،،،، اور بہت غور سے اسکا چہرہ دیکھنے لگا جو اسکے آزادی بخشنے پر اب گہرے سانس لیتی اپنی بکھری سانسیں سنوار رہی تھی ۔۔۔۔۔

بس چند ہی پلوں میں اس نے زرمینے کی حالت بری طرح بگاڑ دی تھی ،،،،، جسے دیکھتے اس نے شرارت سے لب دبایا تھا ۔۔۔۔

ایسے کام نہیں چلے گا دادا سائیں سے کہہ کر رخصتی جلدی کروانی پڑے گی ۔۔۔۔

اسے اپنے حصار سے آزاد کر کے اٹھ کر بیٹھتا اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر نفی میں سر ہلاتا بولا ۔۔۔۔۔

جسے سنتے زرمینے نے حیرت سے فورا اپنی آنکھیں کھولیں تھیں ۔۔۔۔۔

جسے دیکھتے اس نے شرارت سے ایک آنکھ ونک کی تھی ،،،،،، جبکہ اسکا مطلب سمجھتے ہوئے زرمینے نے شرم سے سرخ پڑتے پاس رکھا پلو اٹھا کر اسے مارا تھا ۔۔۔۔۔

جسے کیچ کرتے وہ اسکی پتلی ہوئی حالت کو دیکھتا جاندار قہقہہ لگا گیا ،،،،، جبکہ اسکی معنی خیز نظروں سے بچنے کیلئے بیڈ پر رکھے کنفرٹر کو اوپر کھینچتے خود کو مکمل طور پر چھپایا تھا ۔۔۔۔۔

آپکو کیا لگتا ہے یہ آپکے حفاظتی اقدامات مجھے آپکے قریب آنے سے روک سکتے ہیں تو ایسا بالکل نہیں ہے ۔۔۔۔۔

اس کے چہرے سے کمفرٹر کو کھینچتے معنی خیزی سے گویا ہے ۔۔۔۔۔۔

زارون پلیز ،،،،،

جبکہ اسکو دوبارہ خود کے قریب آتے دیکھ کر وہ التجائی لہجے میں گویا ہوئی ۔۔۔۔

جس پر وہ نرمی سے مسکرایا ۔۔۔۔

اچھا ریلکس رہو کچھ نہیں کر رہا ،،،،،، بس ایک بات یاد رکھنا کہ اب سے تم صرف میری ہو ،،،،،، اور اب کبھی تمہیں خود کی طرف سے لاپرواہی برتتے ہوئے نا دیکھوں ۔۔۔۔۔

سمجھ آئی میری بات ۔۔۔۔۔

یکدم ہی اسکا لہجہ اور ٹون بدلی تھی ۔۔۔۔۔

اسکی گال کو نرمی سے سہلاتے شدت پسندی سے گویا ہوا ۔۔۔۔۔

جبکہ آنکھوں میں بھی عجیب سا تاثر تھا ۔۔۔۔۔

جسے دیکھتے وہ کافی حیران ہوئی تھی ،،،،، کیونکہ زارون کا یہ روپ اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔

پھر اسکی نظروں کو خود پر جمی دیکھ کر دھیرے سے ہاں میں سر ہلا گئی ۔۔۔۔۔

گڈ گرل ،،،،،، اسکی گال کو نرمی سے سہلاتے ہوئے اسکی پیشانی پر دھیرے سے لب رکھتا اٹھ گیا ۔۔۔۔۔

جبکہ زرمینے نے پیچھے سے اسکی چوڑی پشت کو دروازے سے باہر نکل جانے تک پرسوچ نظروں سے دیکھا تھا ،،،،، لیکن کچھ سمجھ نا آنے پر سر جھٹکتے ہوئی اٹھتی کپڑے چینج کرنے کیلئے دوبارہ ڈریسنگ کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عظمی بیگم نے حیرت سے ان دونوں کو زر کے کمرے سے نکلتے دیکھا تھا ،،،،، وہ تو سمجھ رہی تھیں کہ یہ دونوں اپنے اپنے کمرے میں موجود ہونگی ،،،،، لیکن پھر انکے چہرے پر شرارتی مسکراہٹ دیکھتے سب سمجھ گئی کہ ضرور زارون کو تنگ کر کے آ رہی ہیں ۔۔۔۔۔

جس پر انہوں نے ان دونوں کو مصنوعی گھوری سے نوازا تھا ،،،،، جس پر ان دونوں نے مسکراتے محبت سے انہیں گلے لگایا ۔۔۔۔۔

اور پھر وہ انہیں اپنی نگرانی میں لے کر کمرے تک چھوڑنے آئی تھیں اور ساتھ ساتھ ان دونوں کو شادی شدہ زندگی کے طور طریقے اور اونچ نیچ سمجھانے کا سیشن بھی جاری تھا ۔۔۔۔

پہلے ابیہا کو واسم اور اسکے کمرے کے باہر چھوڑتے ہوئے اور اسکی پیشانی پر پیار کر کے خود ابرش کو لے کر اوپر ضارب کے پورشن کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔۔

جبکہ انکی محبت اور باتوں کو یاد کرتے ہوئے ابھی تک ابیہا کے لب مسکرا رہے تھے جب وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی ۔۔۔۔

لیکن خالی کمرے کو دیکھتے ہوئے اسکی مسکراہٹ سمٹی تھی ۔۔۔۔۔

اور بےساختہ اسے کل رات کا واقعہ یاد آیا کہ کیسے شادی کی پہلی رات واسم اسے اکیلا چھوڑ کر چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔

بھلے ہی اسکے وجہ بتانے پر وہ اسکی سچویشن کو سمجھ گئی تھی لیکن اس ویڈیو میں نظر آتے نظارے کو یاد کرتے اسکے دل میں ایک ڈر سا بھی بیٹھ گیا تھا ۔۔۔۔۔

اور آج پھر اسکی غیر موجودگی کو دیکھتے دل میں بدگمانی سی ابھرنے لگی تھی ۔۔۔۔۔

جبکہ خوبصورت سنہری آنکھوں میں آنسو بھر آئے ۔۔۔۔۔

جسکے چلتے غصے میں آ کر اس نے دوپٹہ اپنے سر سے نوچنے کے انداز میں اتارتے بیڈ پر پھینکتے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جاتے جیولری اتارنی شروع کی تھی ۔۔۔۔۔۔

اتار بھی کیا رہی تھی بلکہ نوچ رہی تھی جس کی وجہ سے اسکی کلائیاں کافی حد تک زخمی بھی ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔

جبکہ کان اور ناک حد سے زیادہ سرخ ،،،،،، جن میں تکلیف محسوس کرتے اسکے بہتے آنسوؤں میں کچھ اور اضافہ ہوا تھا ۔۔۔۔۔

اصل میں رونا اسے اس ظاہری درد پر نہیں بلکہ اپنی ذات کی بےوقتی پر آ رہا تھا ،،،،،، آج شدت سے اسے اپنے ماں باپ یاد آئے تھے ،،،،، اور اس نے غصے میں ڈریسنگ ٹیبل پر ہاتھ مارا ۔۔۔۔۔

جس سے اس پر موجود چیزیں زمین پر گری تھیں ۔۔۔۔۔۔

واسم جو کمرے کی بالکنی میں موجود ضروری کال اٹینڈ کر رہا تھا کمرے میں ہوتے شور سنتے فون ڈسکنیکٹ کرتا اندر داخل ہوا ۔۔۔۔۔

اور اسے ہچکیوں کے ساتھ روتے اور چیزیں اٹھا اٹھا کر پھینکتے دیکھ کر آگے بڑھ کر اپنے حصار میں لے گیا ۔۔۔۔

جس پر وہ احتجاج کرتی خود کو اس سے چھڑوانے کی کوشش کرتی اسکے ہاتھ جھٹکنے لگی ۔۔۔۔۔

کیا ہو گیا ؟؟؟؟؟ تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے ؟؟؟؟؟؟ کہیں پاگل واگل تو نہیں ہو گئی ؟؟؟؟؟ یہ کیا کر رہی ہو ؟؟؟؟؟

اسے جھنجھوڑتے ہوئے ہوش میں لانے کی کوشش کرتا غصے سے بولا ۔۔۔۔۔۔

جس پر اس نے اپنی رونے کی وجہ سے سرخ ہوئی نظریں اٹھا کر اسکی طرف غصے سے دیکھا ۔۔۔۔۔

ہاں ہو گئی ہوں میں پاگل ،،،،، لیکن آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ،،،،، جائیں یہاں سے چلے جائیں ،،،،، میں آپکی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی ۔۔۔۔۔

خود کو اسکے حصار سے آزاد کراتے چیختی ہوئی بولی تھی ۔۔۔۔۔۔

جس سے واسم کی کشادہ کی پیشانی پر بل پڑے تھے ۔۔۔۔۔

البتہ ابیہا نے اپنا رخ پلٹتے ہوئے دوبارہ پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا تھا ۔۔۔۔۔

جسے دیکھتے وہ تھوڑا نرم پڑا تھا ،،،،،، پھر نرمی سے اسکا رخ بدلتے ہوئے اپنے سینے سے لگاتے چپ کروانے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔۔۔

لیکن وہ تھی کہ چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ،،،،،، پتا نہیں اپنے اندر کب سے جمع غبار آنسوؤں کے ذریعے نکال رہی تھی ۔۔۔۔۔

لیکن کافی دیر گزرنے کے بعد جب وہ چپ نا ہوئی تو اسکا چہرہ اپنے سینے سے نکالتے ہوئے بہت نرمی اسکے آنسو صاف کیے تھے ۔۔۔۔۔

کیا ہوا ہے کسی نے کچھ کہا ہے تمہیں کیوں ایسے رو رہی ہو ؟؟؟؟؟

وہ اسکے خوبصورت چہرے کو دیکھتے جس میں رونے کی وجہ سے سرخیاں گھلی ہوئی تھی نرمی سے گویا ہوا ۔۔۔۔۔

جس سے یکدم وہ ہوش میں آئی تھی ۔۔۔۔۔

پھر خود کو کمپوز کرتی اسکی نرم گرفت سے نکلتے ہوئے نفی میں سر ہلا گئی ۔۔۔۔۔

نہیں کچھ نہیں ۔۔۔۔۔

سپاٹ لہجے میں بولتے اسے اگنور کر کے وہاں سے واشروم جانا چاہا ۔۔۔۔۔

جب واسم شاہ نے اسکے دائیں بازو پر گرفت جماتے اسے اپنی اور کھینچا تھا ،،،،،، اچھا کچھ نہیں ۔۔۔۔

لیکن رو تم ایسی رہی تھی جیسے تمہارا کوئی اپنا مر گیا ہو ،،،،،،، خود کو اگنور کرنے پر اب کہ غصے سے دھاڑتے ہوئے بولا ،،،،،،

جس پر ابیہا نے اسے گھوری سے نوازا تھا ،،،،،،، اب وہ اسے کیا بتاتی کہ وہ اسکی وجہ سے رو رہی تھی ،،،،،، جسکا پہلے ہی دماغ ساتویں آسمان پر تھا کچھ اور اونچا ہو جاتا ۔۔۔۔۔

جب میں آپکو کہہ رہی ہوں کہ کوئی بات نہیں میں بس ویسے ہی ،،،،،، اس سے پہلے کے وہ اپنی بات مکمل کرتی وہ اسکے لبوں پر جھکتے ہوئے اسکی بولتی بند کر گیا ۔۔۔۔۔

اور جو اسکے جھوٹ بول کر بات چھپانے پر غصہ آیا تھا وہ نکالنے لگا ۔۔۔۔۔

ابیہا نے اسکے سینے پر دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے اسے خود سے دور دھکیلنا چاہا جس پر وہ پچھتائی تھی ۔۔۔۔۔

کیونکہ وہ اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیتے پشت پر سختی سے باندھتے اپنے عمل میں اور شدت لے آیا تھا ۔۔۔۔۔

اور اچھی طرح اسکی سانسیں بکھیرنے کے بعد پیچھے ہٹا ،،،،، جس پر ابیہا گہرا سانس لیتے غصے سے اسکی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔۔

جس کا بنا کوئی اثر لیے اس نے ایک جھٹکے سے اسے اپنی گود میں اٹھایا اور بیڈ کی طرف بڑھنے لگا ،،،،، جس سے اسکے ارادوں کو سمجھتے ابیہا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی تھیں ۔۔۔۔۔

چھوڑیں مجھے یہ کیا کر رہے ہیں آپ ،،،،، اسکی گود میں ہاتھ پیر چلاتی اترنے کی کوشش کرتی غصے بولی ۔۔۔۔۔

کیوں تم بچی ہو جو نہیں جانتی کہ میں کیا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔

اسے بیڈ پر اتارتے ہوئے اس پر حاوی ہوتا معنی خیزی سے گویا ہوا ،،،،،، لیکن “

ابیہا نے کچھ کہنا چاہا جب اس نے دوبارہ جھکتے ہوئے اسکی سانسوں پر اپنا قبضہ جمایا تھا ۔۔۔۔۔۔

ایک لفظ نہیں سنوں گا میں ،،،،، اسکے لبوں کو آزادی بخشتے ہوئے نرمی سے سہلاتے بولا اور پھر بنا وقت ضائع کیے اسکی گردن میں جھکا تھا ۔۔۔۔۔

اور اپنے لمس سے بھگونے لگا ،،،،، جبکہ اسکے حکم چلانے والے انداز کو دیکھتے ابیہا کو غصہ تو بہت آیا اور جی میں آیا کہ اسے جھٹک دے لیکن پھر اسکے نرم لمس کو اور عظمی بیگم کی باتوں کو یاد کرتے نا چاہتے ہوئے بھی خاموشی اختیار کر گئی ۔۔۔۔۔

واسم نے اسے تھوڑا اوپر اٹھاتے ہوئے ایک جھٹکے سے اسکی میکسی کی زیپ کھولی تھی پھر اسے کندھے سے سرکاتے ہوئے وہاں اپنے بھیگے دہکتے ہوئے لب رکھے ۔۔۔۔۔

جبکہ ابیہا اسکے گردن میں بازو حائل کرتی آنکھیں بند کرکے جیسے اسے مکمل طور پر اجازت دے چکی تھی ۔۔۔۔۔

اور اس سے پہلے کہ وہ اپنے اور اسکے درمیان حائل پردے کی تمام دیواریں گراتا سائڈ ٹیبل پر رکھا ہوا اسکا فون رنگ ہوا تھا ۔۔۔۔۔

جسکا واسم نے تو کوئی خاص نوٹس نہیں لیا البتہ ابیہا نے اسکا کندھا ہلایا تھا ،،،،، جو اسکے وجود کے نرم لمس میں مکمل طور پر کھو چکا تھا ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکے ڈسٹرب کرنے پر واسم نے ناگواری سے چہرہ اٹھا کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔۔

وہ ،،،،، وہ آپکا فون بج رہا ہے ۔۔۔۔۔۔

بمشکل اپنی بکھری سانسوں کے درمیان بولی تھی ۔۔۔۔۔

بجنے دو ،،،،، اتنا کہتے وہ دوبارہ اس پر جھکنے لگا جب فون دوبارہ رنگ ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔

جس پر واسم نے ابیہا کے ساتھ ساتھ فون کو بھی گھورا تھا ۔۔۔۔

البتہ ابیہا نے لب دبا کر مسکراہٹ چھپائی تھی ۔۔۔۔۔

اور واسم نے ہاتھ بڑھا کر فون کو اٹھایا جس پر اس کے پی اے کا نمبر بلنک ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔

اور پھر ایک نظر ابیہا کی طرف دیکھتے گہرا سانس کھینچتے ہوئے اٹھ گیا ۔۔۔۔۔

جس کے اٹھتے ہی ابیہا نے اپنی حالت کے پیشے نظر کمفرٹ کھینچتے ہوئے خود کو اس میں چھپایا تھا ۔۔۔۔۔

جس پر وہ مسکرا کر نفی میں سر ہلا گیا ،،،،،، ایسا کرو تم کپڑے چینج کر لو میں آتا ہوں کچھ دیر میں ۔۔۔۔۔

جس پر اس نے سر ہلایا تھا ۔۔۔۔

جسے ایک نظر دیکھنے کے بعد واسم فون اٹینڈ کرتا کمرے سے منسلک سٹڈی روم کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *