Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 85)

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

• رومان موسی شاہ ۔۔۔”

• موسی شاہ نے حیرت سے احسن حیات کی دائیں طرف کھڑے اس ستائیس اٹھائیس سالہ شخص کو دیکھا ۔۔۔۔

• جسے کل تک وہ آر جے کے نام سے جانتے تھے ۔۔۔۔ جسکی اوقات انکے نزدیک انکے انڈر کام کرنے والے ایک ملازم سے زیادہ نہیں تھی ،،،،، اور آج انہیں پتا چل رہا تھا کہ وہ انکا بیٹا تھا ۔۔۔۔

• انکا خون “

• انہوں نے اپنی پیشانی سے بہہ کر آنکھوں میں گرتے خون کو ایک ہاتھ سے صاف کرتے بہت غور سے اسکے نین نقش اور پھر اسکی آنکھوں کے کلر کو دیکھا ۔۔۔۔

• جو انکے بیٹے رومان سے بالکل میچ نہیں کرتی تھیں ۔۔۔

• کیونکہ اسکی آنکھوں کا رنگ بھی بالکل موسی شاہ جیسا تھا سرمئی ۔۔۔۔

• یہ میرا بیٹا نہیں ہے ۔۔۔۔

• میرے ساتھ گیم کھیل رہے ہو احسن حیات ؟؟؟؟

• غصے سے بھرپور لہجہ ۔۔۔

• تمہیں لگتا ہے کہ اس موڑ پر آ کر میں تم سے جھوٹ بولوں گا ۔۔۔ویسے تمہیں کیوں لگتا ہے کہ یہ تمہارا بیٹا نہیں ہو سکتا ؟؟؟؟

• انہوں نہایت پرسکون لہجے میں سوال کیا ۔۔۔

• کیونکہ میرے بیٹے کی آنکھوں کا رنگ میرے ساتھ میچ کرتا تھا ۔۔۔۔

• احسن حیات نے پاس کھڑے آر جے کی طرف دیکھا ۔۔۔جس نے بہت سکون سے آنکھوں میں لگے ہوئے لینز اتارے تھے ۔۔۔

• جس کے بعد شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں بچتی تھی ۔۔۔

• کیونکہ دکھنے میں وہ پہلے ہی کافی حد تک موسی شاہ سے ملتا جلتا تھا ۔۔۔۔

• کمرے میں ہر شخص جو اس نئے کھلنے والے انکشاف پر حیران تھا ،،،، وہی ابیہا کی سوچیں زرتاشے کی طرف چلی گئی تھیں ۔۔۔

• کیونکہ سامنے کھڑا شخص کوئی اور نہیں تاشے کا ہی بھائی تھا ،،،، تو کیا تاشے بھی موسی شاہ کی بیٹی تھی ۔۔۔۔

• یہ تو تاشے کے بھائی ہیں ۔۔۔۔

• زارون کے تھوڑا قریب ہوتے ابیہا نے سرگوشی کی تھی ۔۔۔۔جسے پاس کھڑے ہوئے واسم شاہ نے بھی سنا ۔۔۔۔

• اور اسے اگنور کر کے ابیہا کا زارون کے قریب ہونا اسے ایک آنکھ نہیں بھایا تھا ۔۔۔۔

• مجھے تو پہلے ہی شک تھا ،،،، اس بڈھے نے جوانی میں بہت گل کھلائیں ہونگے ،،،،، ابیہا کے مقابلے میں زارون کی سرگوشی بہت اونچی تھی ۔۔۔

• جسے ابیہا کے ساتھ کمرے میں موجود سبھی افراد نے بھی سنا ۔۔۔۔

• موسی شاہ نے اسے تیز نظروں سے گھورا ۔۔۔۔

• ابیہا نے اپنے امڈ آنے والے قہقہے کو دبانے کیلئے ،،،، اسکے کندھے میں سر دیا اور ساتھ بازو پر چھٹکی بھی کاٹی ۔۔۔۔

• سی “

• ظالم عورت ۔۔۔۔

• اپنے بازو کو سہلاتے ہوئے بولا ۔۔۔۔

• جس کے بدلے ابیہا نے اسے آنکھیں دکھائی ۔۔۔۔

• تم یہ بکواس ہلکی آواز میں بھی کر سکتے تھے ۔۔۔۔

• کیوں بھئی میں کسی سے ڈرتا ہوں کیا ،،،، ویسے بھی یہ میرا سٹائل نہیں میں جو کرتا ہوں ڈھنکے کی چوٹ پر کرتا ہوں ۔۔۔۔

• اس نے فخریہ کالر جھٹکا ۔۔۔۔

• اوں ہوں ۔۔۔

• اس بار ضارب نے آنکھیں دکھاتے ہلکا سا ڈپٹا ۔۔۔۔

• جس پر وہ فورا سیدھا ہوا تھا ۔۔۔۔

• البتہ ابیہا کی زارون سے اتنی فرینکنیس واسم کو بالکل ہضم نہیں ہوئی تھی ۔۔۔اس لیے ابیہا کا ہاتھ تھامتے ہوئے اس سے دور کرتا اپنے قریب کر گیا ۔۔۔۔

• جس پر وہ فورا ایک جھٹکے سے اس سے اپنی کلائی آزاد کرواتی دور کھڑی ہوئی ۔۔۔جبکہ اسکے چہرے کی طرف دیکھنے سے صاف گریز کیا تھا ۔۔۔۔اس نے ساتھ کھڑے زارون شاہ کی طرف دیکھا ۔۔۔

• جس نے واسم کے دیکھنے پر دانتوں کی نمائش کی تھی ۔۔۔۔

• واسم کا چہرہ غصے کی زیادتی سے مزید سرخ ہوا ۔۔۔

• تمہارے کس بل تو میں گھر جا کر نکالوں گا ،،،،، ابیہا کو زبردستی اپنے قریب کرتے جان لیوا سرگوشی کی تھی ۔۔۔۔

• جس سے اسکے پورے وجود میں سرسراہٹ سی ہوئی تھی ۔۔۔۔پیشانی پر پسینے کی ننھی بوندیں چمکی ۔۔۔

• موسی شاہ انکی بکواس کو اگنور کر کے دوبارہ رومان کی طرف متوجہ ہوئے تھے ،،،، جس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا ،،،، وہ سپاٹ چہرے سے انکی طرف ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔

• جس پر تیزی سے انکے شیطانی دماغ نے کام کرنا شروع کیا تھا ،،،، کیونکہ جس مشکل میں وہ پھنس چکے تھے اس سے نکل پانا اب تقریبا ناممکن ہی تھا ۔۔۔

• لیکن آخری بازی کے طور پر کوشش کر لینے میں کوئی حرج نہیں تھا ۔۔۔۔

• اصل میں تو انہیں رومان کے بارے میں جان کر کوئی بھی خوشی یا غمی والی فیلنگ نہیں آئی تھی ۔۔۔۔

• بس وہ اسے ایک مہرے کے طور پر استعمال کرنے والے تھے ،،،، کیونکہ انہوں نے زندگی میں اگر کسی سے دل سے پیار کیا تھا تو وہ تین لوگ تھے ،،،،، پہلے دو ابراہیم اور نینسی ،،،، لیکن ابراہیم کی حقیقت جاننے کے بعد وہ بےپناہ محبت نفرت میں بدل گئی تھی ۔۔۔

• اور اسکے بعد آتی تھی انکی بیٹی زرمینے ،،،، جس میں سچ مچ انکی سانسیں بسی تھیں ۔۔۔۔

• اسی لیے تو اسے حیدر شاہ کے فیصلے کے بعد انہوں نے اسے زارون سے بچانے کیلئے کئی جتن کیے تھے ۔۔۔

• پہلے اسکی پڑھائی کا بہانہ بنا کر نکاح سے انکار کرنا چاہا ،،،، جب اس میں کامیاب نا ہوئے تو ضارب کے کالج میں آگ لگوا کر اس پر حملہ کروایا ۔۔۔۔

• جس سے وہ ایک تیر سے دو نشانے لگانا چاہتے تھے ،،،، ایک تو ضارب کو راستے سے ہٹانے کا جو اس سے پہلے بھی کئی بار کروا چکے تھے ۔۔۔لیکن کبھی کامیاب نا ہو سکے ۔۔۔

• دوسرا ضارب کے وہاں نا موجود ہونے کی وجہ سے آٹو میٹک یہ نکاح رک جاتا ۔۔۔۔

• لیکن یہاں بھی ضارب شاہ نے وقت پر پہنچ کر انکے سارے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا ۔۔۔۔

• بعد میں انکا پلین تھا کہ رخصتی سے پہلے وہ ان سب کا قصہ تمام کر کے اپنی بیوی اور بیٹی کو لے کر یہ ملک ہمیشہ کیلئے ہی چھوڑ دیں گے ۔۔۔۔

• واسم کی زندگی میں معروف کو پلانٹ کر کے انکے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے اور حیدر شاہ کے خاندان کو توڑنے کا انکا منصوبہ عین وقت پر آ کر واسم کی سمجھداری کی وجہ سے ان پر ہی الٹ گیا ۔۔۔۔

• جس کے چلتے انہیں معروف حسن کا قصہ ہمیشہ کیلئے ہی ختم کرنا پڑا ۔۔۔یہ تو انہیں پتا ہی تھا کہ واسم شاہ خود کو بےقصور ثابت کر ہی لے گا ۔۔۔۔لیکن ضارب واسم شاہ کو اپنی بہن سے بیوفائی کرنے پر کبھی معاف نا کرتا ۔۔۔اور ایسے انکے رشتے میں داراڑ آتی ،،،، لیکن ان سب میں بھی انہیں خاطر خواہ کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔۔۔۔

• لیکن انہوں نے پھر بھی اپنی کوششیں جاری رکھی ہوئی تھی ۔۔۔۔کیونکہ ابراہیم اور حیدر شاہ کی نسل ختم کرنے کا خود سے کیا گیا وعدہ وہ نبھانا چاہتے تھے ۔۔۔۔

• جس پر وہ اب کی بار کچھ بڑا پلان کرنے کا سوچ رہے تھے ۔۔۔۔

• لیکن زرمینے کی پریگنیسی والے قصے نے انہیں اتنی مہلت ہی نہیں دی تھی ۔۔۔

• مجبوری میں انہیں رخصتی کیلئے ہامی بھرنی پڑی تھی ۔۔۔

• لیکن زارون شاہ کو وہ معاف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے ۔۔۔اس لیے سب سے پہلے اس مصیبت کی جڑ کو ہی ختم کرنے کا پلان بنایا ۔۔۔۔

• پر یہاں بھی ضارب شاہ نے اسکی سیکیورٹی سخت کرتے موقع ہاتھ آنے ہی نہیں دیا ۔۔۔

• اور اگر قسمت سے شادی کی رات موقع ملا بھی تو انکے بندوں کا نشانہ چوک گیا ۔۔۔جسکا ہرجانہ انہیں اپنی جان دے کر چکانا پڑا تھا ۔۔۔۔

• اور سب سے آخر میں انکا پلان تھا ،،،، ابیہا کو احسن حیات کے حوالے کرتے ،،،، ایک بار پھر پورے زمانے میں انکی بدنامی کا ،،،، جب وہ لوگ اسے ڈھونڈھنے میں مصروف ہوتے تو وہ آسانی سے زرمینے اور نجمہ کو لے کر اس ملک سے فرار ہو جاتے ۔۔۔۔

• کیونکہ انہیں کہیں نا کہیں یہ اندازہ تو تھا کہ جلد یا بدیر انکی اصلیت شاہ فیملی کے سامنے کھلنے والی تھی ۔۔۔۔

• اس لیے انہوں نے پہلے ہی بھاگنے کے تمام انتظامات مکمل کر لیے تھے ۔۔۔لیکن احسن حیات کے دھوکے نے انہیں مہلت ہی نا دی تھی ۔۔۔۔

• جسکا نتیجہ اس وقت وہ انکے سخت شکنجے میں بےبس بیٹھے تھے ۔۔۔جبکہ باہر سے بھی اس فارم ہاؤس کو آرمی نے چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا ۔۔۔۔

• کیونکہ وہ صرف شاہ خاندان ہی نہیں بلکہ ملک پاکستان کے بھی دشمن تھے ۔۔۔۔ حیدر شاہ کی بےجا پابندیوں شاہ خاندان کی نفرت اور پیسہ کمانے کے جنون نے انہیں سہی غلط کا فرق بھولا دیا تھا ،،،،، بیرون ممالک کے دشمن عناصر سے انکے گہرے تعلقات تھے ،،،، جن سے وہ شاہ انڈسٹری کی آڑھ میں چھپ کر ڈرگز امپورٹ کرواتے اور پھر یہاں کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ایک چین کے ذریعے سٹوڈنٹس تک پہنچاتے ۔۔۔۔

• جنکی جڑیں کاٹنے کیلئے آرمی نے زارون شاہ کو انڈر کور کے طور پر ایک سٹوڈنٹ کے روپ میں یونیورسٹی مشن پر بھیجا تھا ۔۔۔

• جس کے ساتھ اسکی پوری ٹیم یونیورسٹیز کے ساتھ کالجز میں بھی مختلف عہدوں پر فائز ہو کر اسکی جڑ تک پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔

• اور اسی سلسلے میں وہ بلیک ہڈی میں خود کو کور کرتے ابرش لوگوں کے کالج میں بھی گیا تھا ۔۔۔۔

• جہاں غلطی سے زرمینے نے اسے دیکھ لیا ۔۔۔اور اس نے اسے پہلی دفع ڈرایا تھا ۔۔۔۔جس سے ایک کمینی سی خوشی اسے ملی تھی ۔۔۔کیونکہ اصل حالت میں تو وہ اس سے ڈرنے کی بجائے اسے ڈرانے کی صلاحیت رکھتی تھی ۔۔۔۔جسکی اجازت اس نے خود ہی اپنی محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسے سونپی تھی ۔۔۔۔

• اور بعد میں اسکی جو حالت ہوئی ۔۔۔۔

• اسے اپنی حرکت پر کافی افسوس ہوا تھا ۔۔۔۔

• لیکن اسکی بعد کی ملاقاتوں میں مال اور اسکے بعد یونیورسٹی والے حملے میں وہ اسے ڈرانا نہیں چاہتا تھا ،،،،، پر وقت اور حالات کے چلتے مجبوری میں اسے ایسا کرنا پڑا تھا ۔۔۔۔

• اور خاص طور پر یونیورسٹی میں اسکا کسی اجنبی کے گلے لگنا ،،، اسکی محبت اور انا پر کاری ضرب لگا گیا تھا ۔۔۔۔

• جس پر وہ ضرورت سے زیادہ ہی ری ایکٹ کر گیا ۔۔۔۔اور نتیجہ اسکی بیہوشی کی صورت میں نکلا تھا ۔۔۔۔۔

• °°°°°°°°°°°°°°

• رومان بیٹے ۔۔”

• موسی شاہ نے لہجے میں لگاوٹ سماتے اسے پکارا تھا ۔۔۔۔

• خبردار ،،، خبردار اپنی اس گندی زبان سے میرا نام مت لینا موسی شاہ ،،،، میرا کوئی رشتہ نہیں ہے تم سے ۔۔۔۔

• میرا باپ تو اسی دن مر گیا تھا جب وہ میری ماں کو بےیارو مددگار طلاق دے کر اس ظالم دنیا کے حوالے کر گیا تھا ۔۔۔۔

• انکے بیٹا پکارنے پر وہ غصے سے دھاڑا تھا ۔۔۔۔

• ایک بار میری بات سن لیں ۔۔۔۔وہ ہم نے جان بوجھ کر نہیں کیا تھا بلکہ آپکی ماں نے مجھے کرنے پر مجبور کیا تھا ۔۔۔۔

• چہرے پر مظلومیت سجاتے انتہائی دکھ بھرے لہجے میں گویا ہوئے ۔۔۔۔

• آپکی ماں ایک اچھے کردار کی عورت نے نہیں تھی ،،،، میری ایبسینس میں وہ غیر مردوں کو ۔۔۔۔

• ابھی اسکا جملہ مکمل نہیں ہوا تھا ،،،، جب رومان نے آگے بڑھ اسکے چہرے پر مکہ جڑا ۔۔۔۔

• تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری پاک باز ماں کے کردار پر کیچڑ اچھالنے کی گھٹیا انسان ،،،، میں تمہیں جان سے مار دوں گا ۔۔۔۔

• اسکی گردن پر دباؤ بڑھاتے وہ چلایا ۔۔۔۔

• جس پر موسی شاہ کی آنکھیں ابل کر باہر آ گئی تھیں ۔۔۔۔زارون نے آگے بڑھ کر اسکی سخت گرفت سے بمشکل انہیں آزاد کروایا ۔۔۔۔

• جس کے آزاد ہوتے ہی وہ زور زور سے کھانسنے لگے تھے ۔۔۔۔

• تم انتہائی گھٹیا انسان ہو موسی شاہ ۔۔۔

• کیا ملا تمہیں یہ سب کر کے ،،،، اپنے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی بھی زندگی برباد کر دی تم نے ،،،،، احسن حیات انتہائی تاسف سے بولے ۔۔۔۔

• تمہیں زیادہ میرا باپ بننے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔مجھے پتا ہے میں نے کیا اچھا کیا کیا برا ۔۔۔۔

• تم اپنے گریبان میں جھانکوں ،،،، جو اپنے بزدل بھائی کی قدرتی موت کا بدلہ لینے نکلے تھے ۔۔۔

• میرے اس گناہ میں تم بھی برابر کے شریک ہو ۔۔۔۔

• احسن حیات کے طنز پر وہ بھی دوبدو بولے ۔۔۔۔

• میں نے جو کیا ہے میں اس سے مکر نہیں رہا ۔۔۔۔اور مجھے اس بات کا افسوس ہے ۔۔۔۔ لیکن تمہاری طرح جس تھالی میں کھایا اس میں چھید کرنے والا حساب نہیں کیا ۔۔۔۔اور نا ہی غلطی کرنے کے بعد اس پر ڈٹا ہوا ہوں ۔۔۔۔

• جس پر انہوں نے سر جھٹکا تھا ۔۔۔۔

• تبھی آرمی کے سینئر آفیسرز وہاں آئے تھے ۔۔۔۔اور ملک سے غداری ڈرگ مافیا کے ساتھ مل کر تعلیمی اداروں کے نظام کو برباد کرنے ،،،، اور مان حجاب کے ساتھ اور بھی بہت سارے قتل اور ریپ کے الزامات پر اسے گرفتار کیا ۔۔۔۔

• زارون شاہ نے آگے بڑھ کر خود اپنے ہاتھوں سے انہیں ہتھکڑیاں پہنائی تھی ۔۔۔۔

• جس پر موسی شاہ نے اسے قہر بھری نظروں سے دیکھا ،،،، جبکہ اسکے برعکس اپنی ماں ،، چچا آنی ،، اپنے اور ملک کے اصل مجرم کو گرفتار کرتے اسکے چہرے پر الوہی خوشی جھلک رہی تھی ۔۔۔۔

• تبھی ضارب شاہ آگے بڑھا ۔۔۔۔

• یہ صرف ایک فرضی کاروائی ہے ،،،،تم سے اپنے خاندان کا حساب ہم اپنے ہاتھوں سے لیں گے ۔۔۔۔

• بہت جلد دوبارہ ملاقات ہوگی ۔۔۔۔

• اسکی سرسراتی ہوئی سرگوشی نے موسی شاہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سرسراہٹ بھر دی تھی ۔۔۔۔

• لیکن خود کو کمپوز کرتے انہوں نے سپاٹ نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔

• آرمی کے افسران اسے ساتھ لیجانے کیلئے آگے بڑھے ۔۔۔۔جس پر وہ پیچھے ہوا ،،،، ضارب شاہ تبھی موسی شاہ نے اس سے مخاطب ہوئے ۔۔۔۔

• ضارب نے پلٹ کر سپاٹ نظروں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔

• تم یہ مت سمجھنا کہ موسی شاہ ہار گیا ۔۔۔۔میرا وقت بھلے ہی ختم ہو گیا ہے لیکن جاتے جاتے بھی تم لوگوں کو ایسا زخم دے جاؤں گا ۔۔۔۔

• جسکا درد تم لوگوں کو تمہاری آخری سانس تک تڑپائے گا ۔۔۔۔

• ضارب ، واسم ، زارون اور حیدر شاہ کی طرف دیکھتے وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولے تھے ۔۔۔۔

• اور بنا وقت ضائع کیے اپنے قدموں کے پاس گری گن اٹھائی تھی ۔۔۔ جسے وہ ان سب سے باتوں کے دوران نا محسوس اندازہ میں اپنے قریب کر چکے تھے ۔۔۔۔اور پھر انہیں بنا سمجھنے کا موقع دیئے پلک جھپکتے گولی چلائی ۔۔۔۔

• ٹھاہ ” کی آواز کمرے میں گونجنے کے بعد ایک بار پھر سکوت چھا گیا تھا ،،،،

• بیا ” کمرے میں ایک ساتھ کئئی آوازیں گونجی ۔۔۔

• تبھی آگے بڑھ کر آرمی کے آفیسرز نے انہیں قابو کیا ،،،، اور انکے ہاتھ سے گن چھینی تھی ۔۔۔۔

• اور انہیں کھینچ کر اپنے ساتھ لے گئے ۔۔۔۔جبکہ انکے ساتھ جاتے ہوئے شاہ خاندان والوں کو ایک بار پھر بےبس ہوتے دیکھ انکا قہقہہ جاندار تھا ۔۔۔

• ضارب واسم نے فورا لمحے کی دیر کیے بنا اسے اپنے حصار میں لیا ،،،، جسکی آنکھیں آہستہ آہستہ بند ہونے لگی تھی ۔۔۔۔

• ابیہا ” واسم نے اسکا چہرہ تھپتھپا کر اسے ہوش میں لانا چاہا ۔۔۔۔

• “Don’t you dare “

• جب ضارب نے اسکا ہاتھ بری طرح جھٹکتے وارننگ دیتی نگاہوں سے دیکھا ۔۔۔۔

• اور اسے گود میں اٹھا کر تیز قدموں سے باہر کی جانب بڑھا ۔۔۔۔واسم شاہ نے حیران نظروں سے اسکی پشت کو دیکھا ۔۔۔۔

• چاہے جو کچھ بھی تھا ،،،، لیکن ضارب شاہ نے کبھی بھی اس سے ایسے بات نہیں کی تھی ۔۔۔۔اور جس طرح آج اس نے واسم کا ہاتھ جھٹکا تھا ۔۔۔۔

• اس نے بمشکل مٹھیاں بھینچ کر اپنے غصے کو کنٹرول کرتے قدم باہر کی جانب بڑھائے ۔۔۔۔۔

• °°°°°°°°°°°°°°

• اس وقت سب لوگ ہاسپٹل کے کوریڈور میں کھڑے ابیہا کی سلامتی کی دعا کر رہے تھے ۔۔۔۔

• جب ڈاکٹرز ایمرجنسی روم سے باہر آئے تھے ۔۔۔۔

• ضارب واسم ایک ساتھ انکی جانب بڑھے ۔۔۔۔ڈاکٹر میری بہن کیسی ہے ؟؟؟؟ ضارب کے لہجے میں بےچینی بڑھی ہوئی تھی ۔۔۔۔

• ڈونٹ وری ینگ مین گولی صرف انکے کندھے کے اوپری حصے کو چھو کر گزری ہے ۔۔۔۔اس لیے کوئی گھبرانے والی بات نہیں ۔۔۔۔

• وہ بیہوش بھی صرف شاک کی وجہ سے ہوئی تھیں ۔۔۔۔اور شاید پچھلے دو تین دنوں سے انہوں نے کچھ ٹھیک سے کھایا پیا بھی نہیں ۔۔۔۔

• جسکی وجہ سے انہیں کافی کمزوری ہو گئی ہے ۔۔۔۔اس کے علاوہ وہ بالکل ٹھیک ہیں ۔۔۔۔

• بلکہ ہمارے پاس آپ کیلئے ایک خوشخبری ہے ۔۔۔۔

• اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے تسلی دیتے ہوئے مسکرائے تھے ۔۔۔۔

• خوشخبری “

• اس بار سوال واسم کی طرف سے تھا ۔۔۔۔

• جی خوشخبری “

• آپ انکے ہزبینڈ ہیں ؟؟؟؟؟

• اس ڈاکٹر کے ساتھ کھڑی لیڈی ڈاکٹر نے اسکے سوال کا جواب دیتے پوچھا ۔۔۔

• جس پر اس نے سر ہلایا تھا ۔۔۔۔

• بہت مبارک ہو آپکو آپکی بیوی امید سے ہے ۔۔۔۔

• She is two months pregnant ….

• جس پر پہلے تو اس نے حیرت سے اس ڈاکٹر کی طرف دیکھا ،،،،، لیکن جب اسے انکی بات سمجھ آئی تو واسم شاہ کے چہرے پر دنیا فتح کر لینے والی مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔۔

• تھینک یو تھینک یو سو مچ ،،،،، کیا میں ان سے مل سکتا ہوں ؟؟؟؟

• جی ابھی تو نہیں کیونکہ وہ فلحال ابھی دواوں کے زیر اثر ہیں ۔۔۔لیکن جلد ہی ہم انہیں دوسرے روم میں شفٹ کر دیں گے تب آپ مل سکتے ہیں ۔۔۔

• ڈاکٹرز پروفیشنل انداز میں مسکرا کر بولتے وہاں سے چلے گئے تھے ۔۔۔۔

• جب زارون شاہ نے آگے بڑھ اسے گلے لگایا تھا ۔۔۔۔

• بہت مبارک ہو لالا آپ بھی پاپا بن گئے ۔۔۔۔اسکے لہجے میں شرارت سی تھی ۔۔۔۔

• جس پر واسم نے اسے گھوری سے نوازا تھا ۔۔۔۔

• یار آج تو خوش ہو جائیں اتنی بڑی خبر ملی ہے ۔۔۔۔

• واسم کے گھورنے پر زارون نے منہ بنایا ۔۔۔۔ جسے دیکھتے واسم نے اسکے سر پر چپت لگائی تھی ۔۔۔۔

• اور پھر دھیرے سے مسکرایا ۔۔۔۔

• بہت مبارک ہو آپکو ہمارے شیر ۔۔۔۔اپنے سینے میں بھینچتے حیدر شاہ نے اسکی پیٹ تھپتھپائی تھی ۔۔۔۔

• جس پر وہ کھل کر مسکرایا تھا ۔۔۔۔آپکو بھی ۔۔۔۔

• جبکہ ان سب کے دوران ضارب ایک سائڈ ہو کر کھڑا ہو گیا تھا ۔۔۔۔اسے یہ خبر سن کر خوشی تو بہت ہوئی تھی لیکن اس نے واسم شاہ کے سامنے کوئی بھی ری ایکٹ دینا ضروری نا سمجھا ۔۔۔۔

• اصل میں اسے واسم کا موسی شاہ کو ابیہا کو مارنے کا بولنا بالکل پسند نہیں آیا ۔۔۔۔

• وہ جو اپنی بہن کے معاملے میں اس حد تک پازیزیو تھا کہ اگر کوئی اس کے بارے میں برا خیال بھی دل میں لائے تو وہ اسکی سانسیں بند کر دے اور واسم شاہ نے تو صاف اسے گولی مارنے کا بولا ۔۔۔۔

• بھلے ہی اسکے پیچھے اسکی جو بھی اٹینشنز تھی ۔۔۔۔لیکن ضارب شاہ کو قطع منظور نہیں تھی ۔۔۔۔

• اور رہی بات موسی شاہ کی تو وہ نہیں جانتا اس نے ضارب شاہ کی بہن پر گولی چلا کر کتنی بڑی غلطی کی تھی ۔۔۔۔

• اپنی موت کو کس قدر اپنے ہاتھوں سے مزید تکلیف دہ اور دردناک بنا لیا تھا ۔۔۔۔

• واسم حیدر شاہ کے اشارے پر ضارب کی طرف بڑھا تھا ،،،، جو ان سب سے لاپرواہ اپنے فون پر مصروف تھا ۔۔۔۔

• وہ ٹھیک اسکے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔

• ضارب نے فون سے نظریں اٹھا کر سپاٹ نظروں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔

• بدلے میں واسم شاہ مسکرایا ۔۔۔۔جسکی دل موہ لینے اور لڑکیوں کے دل کو گھائل کر دینے والی مسکراہٹ اسے زہر سے بھی زیادہ بری لگی تھی ۔۔۔۔

• میں تو سمجھتا تھا ،،،،کہ دنیا میں صرف میں ایک ہی پاگل ہوں ۔۔۔۔لیکن آج پتا چلا ضارب شاہ اس معاملے میں مجھ سے بھی دو ہاتھ آگے ہے ۔۔۔۔

• اس کا لہجہ سپاٹ ہونے کے باوجود شرارت سے بھرپور تھا ۔۔۔۔

• واسم شاہ فلحال ہم آپکی کوئی بھی بات سننے کے موڈ میں نہیں ہیں ۔۔۔۔اس لیے بہتر یہی ہوگا ،،،، اپنی یہ شکل ہمارے سامنے سے گم کر لیں ورنہ ہم اسکا نقشہ بگاڑنے میں ایک لمحہ نہیں لگائے گے ۔۔۔۔

• اس کی وارننگ پر واسم نے داد میں آئی برو اٹھائی ۔۔۔۔

• لیکن پھر نفی میں سر ہلاتے مسکرایا ۔۔۔۔اور آگے بڑھ کر سختی سے اپنے سینے میں بھینچا تھا ۔۔۔۔

• سوری بھائی “

• ضارب نے اسے جھٹکنا چاہا جب اسکے ان لفظوں پر ضارب کے ہاتھ تھمے تھے ۔۔۔۔

سارا غصہ کہیں ہوا میں تحویل ہوتا محسوس ہوا ۔۔۔۔

اور نا چاہتے ہوئے بھی خود با خود اسکے ہاتھوں نے واسم کے گرد گھیرہ بنایا ۔۔۔۔

آپکو وہ سب نہیں کہنا چاہیے تھا ۔۔۔۔

سوری “

اس سے بنا الگ ہوئے ہی ایک بار پھر سوری بولا ۔۔۔کیونکہ اسے بھی اپنے لفظوں کی سنگینی کا پتا تھا جس کی وجہ سے نا صرف ضارب بلکہ اسکی شیرنی بھی اس سے ناراض ہو گئی تھی ۔۔۔۔

بہت مبارک ہو آپکو ،،،،، ضارب کی بات پر واسم کے لب مسکرائے ۔۔۔۔تمہیں بھی ،،،،، جس پر ضارب نے اسکی پیٹھ تھپتھپائی ۔۔۔۔

ابھی وہ اس سے الگ ہوا تھا ۔۔۔۔

جب رومان کے ساتھ احسن حیات وہاں آئے تھے ۔۔۔۔جنہوں نے حیدر شاہ کے ساتھ ان سب سے بھی معافی مانگی تھی ۔۔۔

کیونکہ کہیں نا کہیں موسی شاہ کی چال میں برابر کے شریک تھے ۔۔۔۔

بھلے ہی قتل انہوں نے نہیں کیے ،،،، لیکن ساتھ دینے کی ہامی تو بھری تھی ۔۔۔۔

واسم نے تو انکے قریب آتے ہی نفرت سے رخ پھیر لیا تھا ۔۔۔۔

میں جانتا ہوں شاہ جی ،،،،، میں اس لائق تو نہیں کہ مجھے معاف کیا جا سکے ،،،، لیکن پھر بھی اگر ہو سکے تو مجھے معاف کر دیجئے گا ۔۔۔۔

میں جانتا ہوں آپ سب کو میرا یہاں آنا ناگوار گزرا ہے ۔۔۔۔اور آپ لوگ مجھے مزید برداشت نہیں کر سکتے ۔۔۔۔

ضارب واسم اور زارون کی طرف دیکھتے مسکرا کر بولے ۔۔۔۔

لیکن مجبور تھا اپنی شکل دکھانے پر ۔۔۔۔کیونکہ میرے پاس آپ لوگوں کی ایک امانت ہے جسے میں آپ کو لٹانا چاہتا ہوں ۔۔۔

اسکے بعد دوبارہ کبھی زندگی میں آپ کے سامنے نہیں آوں گا ۔۔۔۔

جس پر حیدر شاہ کے ساتھ باقی سب نے بھی سوالیہ انکی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *