Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 02)

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

وہ اس وقت سیاہ اندھیری کوٹھڑی نما کمرے میں موجود تھا ۔۔۔ جس میں روشنی کا کہیں دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں تھا ۔۔۔وہاں بس اسے ایک کونے سے ہلکی سی آواز سنائی دے رہی تھی ۔۔۔

جیسے کوئی اسے مدد کیلئے پکار رہا ہو ۔۔۔آہستہ آہستہ وہ آواز تیز ہوتی جا رہی تھی ۔۔اور تیز ہوتے ہوتے اب چیخوں میں تبدیل ہو گئی تھی ۔۔ جن میں درد کی انتہا تھی ،،، اس نے اپنے قدم اس طرف بڑھائے تھے ۔۔جہاں سے آواز آ رہی تھی ۔۔۔

لیکن جب اسے لگا کہ وہ قریب پہنچ گیا ہے تو آواز دوسرے طرف سے آنی شروع ہو گئی ۔۔۔اس نے دوسری طرف دوڑ لگائی لیکن وہاں بھی کچھ نہیں تھا ۔۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے ۔۔۔

کیسے مدد کرے ،،، لیکن اس اندھیرے کمرے میں کچھ بھی سجھائی نہیں دے رہا تھا ۔۔۔اب وہ آواز کمرے میں چاروں طرف سے گونج رہی تھی ۔۔۔ اس نے ان چیخوں سے بچنے کیلئے اپنے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ لیے ۔۔۔

پھر اچانک وہاں ایکدم سے سکوت چھا گیا ۔۔جیسے کچھ دیر پہلے کچھ ہوا ہی نا ہو ۔۔پھر ایک طرف اسے سفید روشنی دکھائی دی اور اس روشنی میں ایک چہرہ نظر آیا تھا ۔۔۔ جسے وہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتا تھا ۔۔۔جیسے ہی اس نے اپنے قدم اس طرف بڑھائے ۔۔وہ روشنی آہستہ آہستہ پیچھے ہوتی ختم ہوگئی اور وہ چہرہ بھی اندھیرے میں کہیں گم ہو گیا ۔۔۔

لیکن پھر اچانک سے سارا منظر بدل گیا ۔۔۔ اب وہ ایک بڑے سے ہال میں موجود تھا ۔۔۔جس کے بالکل درمیان میں ایک چارپائی پڑی تھی ۔۔۔ اس چارپائی پر کفن میں لپٹا ایک وجود پڑا تھا ۔۔۔ جس کے ارد گرد سینکڑوں لوگ کچھ کھڑے اور کچھ بیٹھے ہوئے رو رہے تھے ۔۔۔

وہ آگے بڑھا اور راستہ بناتے ہوئے بالکل اس چارپائی کے قریب آ گیا ۔۔۔لیکن اس وجود کا چہرہ نا دیکھ سکا کیونکہ اسے کپڑے سے ڈھکا گیا تھا ۔۔۔

پھر کسی نے اس کے چہرے سے کپڑا ہٹایا تھا ۔۔۔اس نے اس خوبصورت چہرے کی طرف دیکھا تھا جس پر لاتعداد زخموں کے نشان تھے ۔۔۔ جیسے اس پر بہت زیادہ تشدد کیا گیا ہو ۔۔۔۔وہ چہرہ اسکی ماں کا تھا ۔۔۔

وہ کفن میں لپٹی لاش کسی اور کی نہیں بلکہ اسکی ماں کی تھی ۔۔۔

وہ ایک جھٹکے سے بیدار ہوا تھا اے سی کی کولنگ فل ہونے کے باوجود اس کا پورا جسم پسینے سے شرابور تھا ۔۔۔

اس نے سائڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھا کر لبوں سے لگایا ،، اور ایک سانس میں ہی ختم کر گیا ۔۔

یہ کوئی پہلا خواب نہیں تھا ۔۔۔ایسے خواب اسے بچپن سے ہی آتے تھے ۔۔۔لیکن بہت کوشش کرنے کے باوجود بھی وہ ان خوابوں کے پیچھے کیا وجہ ہے نہیں جان پایا تھا ۔۔۔

ان خوابوں کے پیچھے کیا وجہ تھی وہ تو وقت ہی بتانے والا تھا ۔۔۔ماضی میں دفن راز جن پر وقت نے اپنی دھول جمادی تھی ۔۔۔جب پرت در پرت کھلنے تھے تو انکی سہل چل رہی زندگی میں ایک طوفان برپا ہونا تھا ۔۔۔جس نے اپنے ساتھ سب کچھ بہا لے جانا تھا ۔۔۔۔

**********************

وہ آئینے کے سامنے کھڑا تیار ہو رہا تھا ۔۔۔بلیک شلوار قمیض کے اوپر بلیک ہی کوٹ پہن رکھا تھا ۔۔۔ کالے خوبصورت بالوں کو جیل لگا کر ایک طرف سیٹ کیا گیا تھا ۔۔۔

کشادہ پیشانی ، گہری سبز آنکھیں جن میں ہمہ وقت سرخی چھائی رہتی تھی ،،، کھڑی ستواں ناک ، خوبصورت عنابی لب جو سگریٹ نوشی کرنے کی وجہ سے کناروں سے ہلکے کلیجی مائل ہو گئے تھے ،،بڑھی ہوئی شیو اور گھنی مونچھیں ،،، سرخ و سفید مضبوط کلائی میں (Sveston) کی مہنگی گھڑی پہنے ،،،وہ مکمل وجاہت کا شہکار لگ رہا تھا ۔۔۔

اپنے اوپر پرفیوم سپرے کرتے ایک آخری نظر اپنی تیاری پر ڈالی تھی ۔۔۔اور ہاتھ کے اشارے سے خان کو بس کرنے کا بولا جو اسے اسکی تیاری میں مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اسے آج کا شیڈول بھی بتا رہا تھا ۔۔

خان اسکا خاص آدمی تھا ،،، سیکورٹی ہیڈ ہونے کے ساتھ اسکے پرسنل سیکرٹری کا کام بھی وہی انجام دیتا تھا ۔۔۔

الیکشن کی وجہ سے آج کل اسکی روٹین کافی ٹف ہو گئی تھی ۔۔۔جسکی وجہ سے وہ سہی سے نیند بھی نہیں لے پا رہا تھا ۔۔۔اس نے ایک نظر گھڑی کی طرف دیکھا جو صبح کے نو بجا رہی تھی ۔۔۔

پورے دس بجے پارٹی ممبران کے ساتھ اسکی بہت اہم میٹنگ تھی ۔۔۔اپنی تیاری سے مطمئن ہوتے اس نے قدم باہر کی طرف بڑھائے تھے ۔۔۔ اور پیچھے ہی اس کی ضروریات کی چیزیں اٹھاتا جھکے سر کے ساتھ خان بھی نکلا تھا ۔۔۔

وہ جب نیچے آیا تو ملازم ناشتہ لگا چکے تھے ،،، کیونکہ وہ اپنے مالک کی نیچر سے اچھی طرح واقف تھے اگر ان سے ذرا بھی دیری ہو جاتی تو سب کی شامت آ جانی تھی ۔۔۔

خان نے آگے بڑھ کر اس کیلئے کرسی کھنچی تھی ۔۔۔ اسکے بیٹھتے ہی ملازم نے ناشتہ سرو کرنا شروع کیا ۔۔۔ابھی اس نے پہلا نوالا ہی لیا تھا کہ اسکا پرسنل فون رنگ ہوا تھا ۔۔۔

جسے سن کر وہ ہلکے سے مسکرایا تھا شاید اسے پتا تھا کہ فون کس کا ہوگا ۔۔۔اور جب اس نے موبائل کی سکرین پر نظر ڈالی تو توقع کے عین مطابق اوپر دادا سائیں کالنگ لکھا آ رہا تھا ۔۔۔

السلام و علیکم دادا سائیں !! اس نے فون اٹینڈ کرتے ہوئے ادب سے سلام کیا تھا ۔۔

وعلیکم السلام کیسے ہیں برخوردار ۔۔۔ انہوں نے سلام کا جواب دیتے اسکا حال احوال پوچھا تھا ۔۔۔

الحمدللہ ہم بالکل ٹھیک ہیں ،،، آپ سنائیں کیسے ہیں ۔۔۔ وہ اپنے لہجے میں شائستگی اور نرمی سموتے محبت سے بولا تھا ۔۔۔

ہم بھی ٹھیک ہیں ۔۔۔پھر کیا ارادہ ہے حویلی کا چکر کب تک لگائیں گے ۔۔۔اس بار آپ نے کچھ زیادہ ہی دن لگا دیئے ۔۔۔انہوں نے جیسے ہلکا سا شکوہ کیا تھا ۔۔۔

جی دادا سائیں بس الیکشن کمپین میں بالکل ٹائم نہیں مل سکا ،، ورنہ ہم ضرور آتے ۔۔۔ آپ جانتے ہیں ہم آپ سے زیادہ دن دور نہیں رہ سکتے ۔۔۔

اسکی بات پر وہ مسکرائے تھے ۔۔اچھا چلیں پھر آج جلسے کے بعد گھر کا ایک چکر لگا لیں ۔۔۔اس کے بعد تو آپکی مصروفیت اور بڑھ جانی ہیں ۔۔۔

جی بہتر !! ہم اپنی پوری کوشش کریں گے کہ وقت نکال کر آ سکیں ۔۔۔

اس کے بعد اس نے الیکشن کے بارے میں چند ضروری باتیں کرکے اور انکی ہدایات سن کر الوداعی کلام کہے ۔۔۔اور اپنا ناشتہ مکمل کرتے قدم باہر کی طرف بڑھائے تھے ۔۔۔

اسکے باہر آنے سے پہلے ہی ساری گاڑیاں گارڈز سمیت تیار تھیں ،،، خان نے آگے بڑھ کر اس کیلئے دروازہ کھولا تھا ۔۔اور اسکے بیٹھتے ہی دراوزہ بند کرتے ،،، خود ڈرائیور کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا ۔۔۔جبکہ اس نے سگریٹ سلگائی تھی ۔۔۔

شاہ مینشن سے ایک ساتھ قطار در قطار گاڑیاں نکلی تھیں ،،، آگے پیچھے گارڈز جبکہ درمیان والی میں سردار ضارب شاہ موجود تھا ۔۔۔

**********************

اسکی فورن ڈیلیکیشنز کے ساتھ بہت امپورٹنٹ میٹنگ تھی ۔۔۔جس کے لیے وہ دوبئی آیا تھا ۔۔۔شاہ انڈسٹری جس کا شمار پاکستان کی ٹاپ ٹین کمپنیوں میں ہوتا تھا ۔۔۔واسم شاہ نے دن رات محنت کر کے اسے ترقی کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا ۔۔۔کہ اب پاکستان کے ساتھ ساتھ باہر کے ممالک بھی اس کے ساتھ جڑنا چاہتے تھے ۔۔۔

اسی سلسلے میں آج یہ میٹنگ رکھی گئی تھی ۔۔۔ابھی بھی وائٹ ٹیکسڈو میں ملبوس وہ شاندار سا شخص مغرور چال چلتا ہر آتے جاتے شخص کو اپنی طرف متوجہ کر رہا تھا ۔۔۔

اس کا رخ اس روم کی طرف تھا جہاں کچھ دیر میں میٹنگ سٹارٹ ہونے والے تھی ۔۔اور ساتھ ساتھ وہ اپنے پی اے کو ضروری پوئنٹس بھی نوٹ کرواتا جا رہا تھا ،،،کہ تبھی اسکا فون رنگ ہوا تھا ۔۔

سکرین پر نظر پڑتے ہی اس کے چہرے پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔اس نے فون اٹینڈ کرتے کان سے لگایا تھا ۔۔۔دوسری طرف روٹھی ہوئی آواز میں سلام کیا گیا تھا ،،وہ ایک بار پھر گہرا مسکرایا تھا ۔۔

وعلیکم السلام کیسا ہے میرا بچہ وہ لہجے میں پیار سموئے اتنی محبت سے بولا تھا کہ اسکا پی اے غش کھاتے کھاتے بچا ۔۔۔وہ اپنے اس کھڑوس بوس کو حیران نظروں سے دیکھ رہا تھا ،،، جسے شاید ہی کبھی مسکراتے دیکھا ہو اور اتنا میٹھا لہجہ ورنہ ورکرز سے بات کرتے تو ہر وقت مرچیں ہی چبائے رکھتا تھا ۔۔

اس بیچارے کا حیران ہونا تو بنتا تھا ۔۔۔لیکن وہ جانتا نہیں تھا کہ دوسری طرف فون پر اسکی زندگی موجود تھی ۔۔۔جس کیلئے واسم شاہ اپنی جان دے بھی سکتا تھا اور کسی کی جان لے بھی سکتا تھا ۔۔۔

میں آپ سے ناراض ہوں ،،، بالکل بھی آپ سے بات نہیں کروں گی ۔۔۔ دوسری طرف ابرش کی نخریلی آواز ابھری تھی ۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ ابرش کو کوئی جواب دیتا اسے اپنے چہرے پر کسی کی نظروں کا ارتکاز محسوس ہوا تھا ۔۔۔

اس نے آس پاس دیکھا تو اپنے پی اے کو حیران نظروں سے خود کو تکتے پایا ،،، اسکے مسکراتے لب فورا سے پہلے سکڑے تھے ۔۔اس نے ایک آبرو اچکا کر اسکی طرف دیکھا تھا ۔۔۔

جبکہ وہ اسے واپس اپنے جلاد روپ میں آتے دیکھ جلدی سے سنبھلا تھا ۔۔۔اور خجل ہو کر سر جھکا گیا ۔۔۔

تم چلو میں آتا ہوں تھوڑی دیر میں اپنے مخصوص سرد و سپاٹ لہجے میں حکم دیتے اسے جانے کا بولا تھا ۔۔جبکہ اتنے ہلکے میں جان بخشی ہو جانے پر اس نے رب کا شکر ادا کیا تھا ۔۔۔ورنہ اس سرپھرے کا کیا پتا تھا چھوٹی سی بات پر نوکری سے فارغ کر دیتا ۔۔

اس نے وہاں سے جانے میں ہی اپنی عافیت جانی تھی ۔۔

جبکہ وہ دوبارہ سے فون کی طرف متوجہ ہوا تھا ۔۔۔جہاں سے اب بھی بھرپور ناراضگی کا اظہار کیا جا رہا تھا ۔۔۔اچھا ٹھہریں بات سنے ابھی آپ نے تھوڑی دیر پہلے کیا کہا کہ آپ مجھ سے ناراض ہیں اور بات نہیں کروں گے ۔۔۔لیکن آپ تو مجھ سے بات کر رہے ہو ۔۔اس کا مطلب آپ مجھ سے ناراض نہیں ہو ۔۔سہی کہہ رہا ہوں نا میں ،،، اس نے اسے اپنی باتوں لینا چاہا ۔۔۔

نہیں میں یہ بات صرف اس لیے کر رہی ہوں تاکہ آپکو بتا سکوں کہ میں آپ سے ناراض ہوں ۔۔۔ورنہ جب آپ گھر آئیں گے پھر بات نہیں کروں گی ۔۔۔

اس نے اسکی بات سن کر سر ہلایا تھا جیسے وہ جو اسے سمجھانا چاہ رہی تھی وہ سمجھ گیا ہو ۔۔۔اچھا چلیں پہلے وجہ بتائیں کہ میرا بچہ مجھ سے کیوں ناراض ہے ۔۔

میں آپ سے اس لیے ناراض ہوں کیونکہ آپ کراچی میٹنگ کیلئے گئے تھے اور وہی سے سیدھا دوبئی چلے گئے ۔۔نا جانے سے پہلے مجھ سے ملنے آئے اور نا ہی

مجھے فون کیا ۔۔۔اس نے اپنا منہ پھلا کر کہا تھا جیسے وہ اس کے سامنے بیٹھا ہو ۔۔۔

وہ اس کی معصوم سی بات پر مسکرایا تھا ۔۔یہ تو بہت بڑی غلطی ہو گئی مجھ سے مجھے سچ میں آپ کو بتا کر آنا چاہیے تھا ۔۔۔اچھا آئندہ میں خیال رکھوں گا اس بات کا ۔۔۔ لیکن ابھی کیلئے صلح کا کوئی راستہ نہیں نکل سکتا ۔۔۔

ہمم اس بارے میں کچھ سوچا جا سکتا ہے اگر ،،،اس نے اگر کو تھوڑا لمبا کھینچا تھا ۔۔۔آپ میرے لیے دوبئی سے اچھے اچھے گفٹس اور ڈھیر ساری چاکلیٹس لے کر آئیں تو ۔۔۔اس نے اترا کر کہاں تھا ۔۔

اوکے ڈن ۔۔۔اس نے فورا سے ہامی بھری تھی ۔۔۔اس کیلئے یہی کافی تھا کہ وہ اتنی جلدی مان رہی تھی ۔۔۔اور چیزوں کو کیا تھا ۔۔اگر وہ واسم شاہ سے اسکی جان بھی مانگتی تو وہ اسکی ہتھیلی پر رکھ دیتا تھا ۔۔۔

دوسری طرف خوش ہو کر اس نے یاہو کا نعرہ لگایا تھا ۔۔۔اچھا گڑیا میں آپ سے بعد میں بات کروں گا ابھی مجھے میٹنگ کیلئے دیر ہو رہی ہے ۔۔۔اسے خوش رہنے کی ہدایت کرتا وہ فون بند کرتے اندر کی طرف بڑھا تھا ۔۔جہاں میٹنگ میں اس کا انتظار ہو رہا تھا ۔۔۔

************************

لاہور مینار پاکستان جسے یادگار پاکستان کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ۔۔وہاں آئی پی پی کی طرف سے بہت بڑے پیمانے پر جلسے کا انتظام کیا گیا تھا ۔۔۔

مینار پاکستان کی طرف آتی مین شاہراہوں کو کنٹینر لگا کر بند کیا گیا تھا ۔۔صرف دو راستے کھلے جہاں سے لوگ اندر اور باہر جا سکتے تھے ۔۔وہاں پر بھی آرمی کو تعینات کیا گیا تھا ۔۔۔

ہر طرف پارٹی کے بڑے بڑے بینر لگے ہوئے تھے ۔۔ جن پر سردار ضارب شاہ کی تصویر تھی ،،، جبکہ وہاں آنے والے افراد کے ہاتھ میں بھی آئی پی پی کے جھنڈے موجود تھے ۔۔۔

مینار پاکستان کے بالکل سامنے ایک خوبصورت سا سٹیج تیار کیا گیا تھا جہاں اس نے عوام سے خطاب کرنا تھا ۔۔۔

وہاں بہت سے میڈیا کے اہلکار بھی موجود تھے جو اپنے کیمرے اور سپیکر سیٹ کر رہے تھے ۔۔۔کیونکہ جلسہ ملک بھر میں لائیو دکھایا جانا تھا ۔۔۔

تقریباً پنجاب کی پوری یوتھ ہی ضارب کے ساتھ تھی ۔۔۔جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا تھا کہ وہاں موجود افراد میں آدھے سے زیادہ حصہ نوجوان نسل پر مشتمل تھا ۔۔۔

اور وہ وقت بھی آ گیا تھا جسکا سب کو بے صبری سے انتظار تھا مینار پاکستان کے انٹرنس کے پاس قطار در قطار گاڑیاں آ کر رکی تھیں ۔۔۔ جن میں سے سب سے پہلے خان باہر نکلا تھا ۔۔۔اور آس پاس کا اچھے سے جائزہ لیتے ہوئے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا تھا ۔۔۔

جس سے ضارب شاہ اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ باہر نکلا تھا ۔۔۔جسے دیکھتے ہی عوام میں ایک طوفان بدتمیزی پیدا ہوا تھا ہر طرف سردار ضارب شاہ زندہ باد کے نعرے لگائے جا رہے تھے ۔۔۔

گارڈز نے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا تھا ۔۔اور وہ گارڈز کے حلقے میں سٹیج کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔جہاں اسکی پارٹی کے کچھ سینئر ممبران بھی موجود تھے ۔۔۔

اس نے سٹیج پر چڑتے ہی اپنا دایاں ہاتھ ہلا کر سب کو سلام کیا تھا ۔۔۔جس کا پرجوش طریقے جواب دیا گیا تھا ۔۔۔

پہلے عوام سے وہاں موجود دوسرے ممبران نے خطاب کیا اور اس کے بعد اس کی باری آئی تھی ۔۔۔

اس نے سپیکر ہاتھ میں لیتے ایک بار پھر سب سے پہلے سلام کیا تھا ۔۔۔جس کا جواب دیتے ہوئے عوام کے چہروں پر خوشی دیدنی تھی ۔۔۔

وہ اس وقت سٹیج کے بالکل درمیان میں تھا اور اس کے بالکل پیچھے دائیں طرف تھوڑے فاصلے پر خان کھڑا تھا ۔۔۔جو چوکنا سا آس پاس نظریں دوڑا رہا تھا ۔۔۔

جبکہ سٹیج کے چاروں طرف اس کے اپنے گارڈز کے ساتھ آرمی کے افسر بھی تعینات تھے ۔۔

جب اس نے اپنے خوبصورت لب و لہجے میں بات کا آغاز کیا تھا ۔۔ جیسا کہ ہمارے سینئرز نے آپ سب سے خطاب کیا اور ہماری تعریف کی کہ ہم اقتدار میں آ کر بہت سے ترقیاتی کام سر انجام دیں گے ۔۔۔بے شک یہ سب ہمارے لیے قابل احترام ہیں ۔۔۔انہوں نے ہماری تعریف کی جس کیلئے ہم انکا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔۔۔اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنے سینئرز کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔

“لیکن ہم کہنا چاہیں گے کہ” ہم جہاں آپ سے کوئی بھی بڑے بڑے دعوے یا وعدے وعید کرنے نہیں آئے کہ اتنے سالوں میں ہم مہنگائی ختم کر دیں گے یا پھر اتنے عرصے میں بجلی کا بہران ختم ہوگا ۔۔۔یا پھر ہم کتنی سڑکیں، ہسپتال اور تعلیمی ادارے بنائیں گے ۔۔۔ہماری کارکردگی آپکو ہماری حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد ہی پتا چلے گی۔۔۔

ہم آپ میں سے کسی کو بھی ایسی امید کا سرا نہیں تھمانا نہیں چاہتے جسے بعد میں ہم پورا نا کر سکیں ،،،اور ہماری وجہ سے کسی کی دل آزاری ہو ۔۔۔اس لیے ہمیں ووٹ دینا ہے یا نہیں یہ سراسر آپکا اپنا فیصلہ ہوگا ۔۔۔

ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی بس سپیکر سے ابھرتی اس کی گھمبیر اور خوبصورت آواز پورے میدان میں گونج رہی تھی ۔۔۔اس کے منہ سے نکلنے والا ایک ایک لفظ وہاں موجود بھیڑ کے دل میں گھر کرتا جا رہا تھا ۔۔۔

عورتوں اور بچوں کے ساتھ ساتھ وہاں موجود مرد حضرات بھی مہبوت ہو کر اس وجیہہ مرد کو دیکھ رہے تھے جو ظاہر سے ہی نہیں باطن سے بھی خوبصورت تھا ۔۔۔

دوسری طرف حویلی کے خوبصورت ہال میں جہاں گھر کے سبھی افراد جمع تھے سوائے واسم کے ،،، پچاس انچ کی بڑی ایل ای ڈی پر لائیو اسے دیکھ رہے تھے ۔۔۔اماں سائیں تو یہی سے اس کے صدقے واری جا رہی تھیں ۔۔۔

جبکہ اپنے اتنے مضبوط وجیہہ پوتے کو ٹی وی پر دیکھتے دادا سائیں کا سینہ فخر سے چوڑا ہو رہا تھا ۔۔۔

اس نے اپنی تقریر کے آخری الفاظ کہتے تھوڑا آگے ہو کر ایک بار پھر سے دایاں ہاتھ ہلایا تھا بس یہی وہ وقت تھا جب اسے اپنے بائیں بازو میں لوہے کی کوئی گرم سلاخ گھستی ہوئی محسوس ہوئی تھی ۔۔۔

درد کی شدت کی وجہ سے سپیکر اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے کہیں اس کے قدموں میں گر گیا تھا ۔۔۔خان فورا سے آگے بڑھا تھا اور اسے اپنے حصار میں لیتے خود اسکے آگے کھڑا ہو گیا تھا ۔۔۔ضارب نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے زخم پر رکھ کر جیسے خون روکنے کی کوشش کی تھی ۔۔جو بہت تیزی سے بہہ رہا تھا ۔۔۔

گولی کی آواز سن کر عوام میں ہر طرف افراتفری اور بھگڈر مچ گئی تھی ۔۔۔ لوگوں نے گھبرا کر بھاگنا شروع کر دیا تھا ۔۔۔وہاں تعینات افسران صورتحال پر قابو پانے کی پوری کوشش کر رہے تھے ۔۔۔ جبکہ میڈیا والوں نے الگ سے شور مچایا ہوا تھا ۔۔۔

خان اسے گارڈز کے حلقے میں لے کر راستہ بناتا ہوا ہسپتال کیلئے نکلا تھا ۔۔۔ جس پر خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے اب غنودگی چھا رہی تھی ۔۔۔

تو ناظرین آپ کو بتاتے چلیں کہ سردار حیدر شاہ جو اپنے وقت کے جانے مانے سیاست دان ہیں انکے پوتے اور آئی پی پی کے نئے امیدوار جو اپنے علاقے کے سردار بھی ہیں ،،،، جلسے کے دوران ان پر جان لیوا حملہ کیا گیا ہے ۔۔

ہمارے ذرائعے کے مطابق انہیں اپنے بائیں ہاتھ کے بازو میں گولی لگی ہے ۔۔۔گھر والے جو اس سارے صورتحال سے پریشان ہو چکے تھے ۔۔۔زارون تو باقاعدہ بار بار ضارب کا فون ملا رہا تھا ۔۔جو کہ کوئی رسپانس نہیں کر رہا تھا ۔۔۔

کچھ گرنے کی آواز پر پیچھے متوجہ ہوئے تھے ،،، ابیہا جو سب کو اکٹھا بیٹھے دیکھ چائے اور ناشتے کا انتظام کرنے گئی واپس آتے ہوئے اس کی سماعت میں اینکر کے آخری الفاظ پڑے تھے ۔۔۔جس میں وہ ضارب کو گولی لگنے کے بارے میں بتا رہا تھا ۔۔۔

جس سے یہ بات برداشت نہیں ہوئی تھی وہ لہرا کر زمین بوس ہوئی تھی ۔۔۔زرمینے ، ابرش سمیت زارون بھی اس کی طرف دوڑے تھے ۔۔۔

حویلی میں جہاں کچھ دیر پہلے خوشیوں اور قہقہوں کا راج تھا ۔۔اب ہر طرف غم اور پریشانی کا عالم تھا ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *