Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 08)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 08)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
ان دونوں نے پہلے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر سامنے کھڑے خان کو جس کا چہرہ اور کپڑے بری طرح بھیگ چکے تھے ۔۔۔
اگر خان ادھر تھا تو مطلب ضارب شاہ بھی یہیں کہیں تھا اور انہیں ڈر بھی اصل اسی سے لگ رہا تھا ۔۔۔ ضارب سے پڑنے والی ڈانٹ کا سوچ کر زارون کے ساتھ ساتھ زرمینے کی سانسیں بھی خشک ہو چکی تھیں ۔۔۔
ویسے تو ضارب گھر والوں پر زیادہ غصہ نہیں کرتا تھا ۔۔۔لیکن سب اسکی نیچر سے واقف تھے اگر اسے کوئی چیز بری لگ جاتی تھی تو کسی کی خیر نہیں ہوتی تھی ۔۔
وہ تھوڑا الگ قسم کا بندہ تھا کبھی انتہا کا نرم اور کبھی پتھر سے بھی زیادہ سخت ،،،، اور حویلی میں وہ واحد شخص جس کے آگے دادا سائیں بھی کچھ نہیں بول پاتے تھے ۔۔۔
اس لیے سب اس بات کا خاص دھیان رکھتے تھے ۔۔کہ اسے کوئی بات بری نا لگے ۔۔۔اور اب خان کی یہ حالت دیکھ کر جو اسکا خاص آدمی تھا اسکے ری ایکشن کے بارے سوچ سوچ کر دونوں کی جان جا رہی تھی ۔۔۔
فلحال اپنی لڑائی کو ایک سائڈ رکھ کر انہوں نے اس مصیبت سے بچنے کیلئے ایک ہونے کا فیصلہ کرتے آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ اشارہ کیا تھا ۔۔۔
پھر اس پر عمل کرتے ہوئے ایک ساتھ خان کے پاس پہنچے تھے ۔۔۔سوری خان لالا ہم نے یہ سب جان بوجھ کر نہیں کیا ،،،، پلیز ہمیں معاف کر دیں ۔۔
زرمینے اپنے لہجے میں لجاجت پیدا کرتی معصومیت سے بولی تھی جس میں زارون نے بھی اسکا ساتھ دیا تھا ۔۔۔
ہاں خان لالا ہم نے یہ سب جان بوجھ کر نہیں کیا پلیز اس بارے میں ضارب لالا کو کچھ مت بتائیے گا ۔۔۔وہ بہت غصہ کریں گے ۔۔۔
زارون تو باقاعدہ ترلوں پر ہی اتر آیا تھا اور زرمینے کو بھی ہاں میں ہاں ملانے کیلئے نظر بچا کر کہنی ماری تھی ۔۔۔ اس نے اپنے بازو کو سہلاتے اسے گھوری سے نوازا تھا ۔۔۔
جس کے بدلے زارون نے بھی اسے گھور کر دیکھا پھر خان کی طرف اشارہ کیا تھا ۔۔۔ جسے سمجھتے وہ ایک نظر خان کی طرف دیکھتے ہوئے بولی ،،،، جو اب بھی سر جھکائے ہی کھڑا تھا ۔۔۔ ہاں خان لالا اس بارے میں ضارب لالا کو کچھ مت بتائیے گا ۔۔۔
پلیززز !!
اسکے اتنا لمبا پلیز کہنے پر خان نے نظر اٹھا کر پہلے زارون اور بعد میں زرمینے کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔جس کے چہرے سے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ کبھی بھی رو دے گی ۔۔۔
اور ایک نظر اپنے سفید بھیگے کپڑوں کی طرف ۔۔۔ جن پر مٹی کے بدنما داغ لگ گئے تھے ۔۔۔
جبکہ اسے اپنے کپڑوں کی طرف دیکھتے دیکھ کر ان دونوں کو ایک بار پھر شرمندگی نے گھیرا تھا ۔۔۔
پلیز وہ دونوں ایک ساتھ بولے تھے ۔۔۔
جبکہ وہ تو ان سرمئی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو دیکھ کر فورا نظریں جھکا گیا ۔۔۔ چھوٹے سائیں بی بی جی میں سردار سائیں سے اس بارے میں کچھ نہیں بتاؤں گا آپ لوگ ٹینشن نا لیں ۔۔۔
اور پلیز مجھے راستہ دے دیں ۔۔۔ مجھے سردار سائیں نے ایک بہت ضروری فائل لینے بھیجا تھا وہ باہر میرا انتظار کر رہے ہونگے ۔۔۔
وہ سر جھکائے عاجزی سے بولا تھا ۔۔۔۔جبکہ اس کی بات سن کر ان دونوں کو کچھ حوصلہ ہوا تھا ۔۔
اور آپ ہمیں کیا نہیں بتائیں گے شہیر خان ،،،، ابھی انہوں نے سہی سے سکھ کا سانس بھی نہیں لیا تھا جب انہیں ضارب شاہ کی کرخت آواز سنائی دی تھی ۔۔۔
وہ پنچایت سے فارغ ہو کر سیدھا شہر کیلئے ہی نکلے تھے ۔۔۔لیکن ابھی وہ گاؤں کی حدود میں ہی تھے کہ ضارب کو یاد آیا وہ اپنی ضروری فائل لانا بھول گیا جس میں بہت امپورٹنٹ ڈاکومنٹس تھے ۔۔۔
اس نے ڈرائیور کو واپس حویلی چلنے کا بولا ۔۔۔ویسے حویلی کے اندر فائل لینے وہ خود جانے والا تھا لیکن عین ٹائم پر اسے امپورٹنٹ فون کال آگئی جس کی وجہ سے اس نے خان کو فائل لانے کا بولا ۔۔۔
لیکن جب وہ کافی دیر گزرنے کے بعد بھی نا آیا تو خود ہی اسے دیکھنے اسکے پیچھے آ گیا ۔۔۔اس سے پہلے کے وہ حویلی کے اندر جاتا اسے راستے میں ہی خان کے ساتھ زرمینے اور زارون کھڑے نظر آئے ۔۔۔
خان کی اسکی طرف پیٹھ تھی جبکہ زارون اور زرمینے سامنے کھڑے اس سے کچھ بات کر رہے تھے ۔۔۔۔وہ اندر جانے کی بجائے انکی طرف ہی آ گیا۔۔۔ انکا پورا دھیان خان کی طرف تھا اس لیے وہ ضارب کو اپنی طرف آتے ہوئے نہیں دیکھ سکے ۔۔۔
وہ زارون اور زرمینے کی باتیں تو نا سن سکا لیکن اسکی سماعت سے خان کے آخری جملے ٹکرائے تھے ۔۔۔اس لیے اصل بات جاننے کیلئے اس نے اپنے لہجے میں کرختگی پیدا کرتے ذرا سختی سے پوچھا تھا ۔۔۔
جبکہ اسکی آواز سن کر زر اور زارون نے سامنے دیکھا تھا اور خان کے پیچھے ضارب کو کھڑے دیکھ کر انکے چہروں کا رنگ اڑ گیا ۔۔۔
جب خان نے اپنا رخ موڑا کیونکہ اب ضارب سے کچھ بھی چھپانا فضول تھا ۔۔۔
ضارب شاہ نے پہلے اسکے چہرے اور پھر کپڑوں کو دیکھا تھا جو تقریبا پورے خراب ہو چکے تھے ۔۔۔
اور پھر زر اور زارون کی طرف جو اب سر جھکائے کھڑے تھے ۔۔۔اور اسے معاملہ سمجھتے دیر نہیں لگی تھی ۔۔۔
کس نے کیا ہے یہ ؟؟ ضارب شاہ کو انکی یہ حرکت ذرا پسند نہیں آئی تھی ۔۔۔اس لیے ان سے سختی سے پوچھتے اسکے لہجے میں نرمی مفقود تھی ۔۔۔
و ،،،،،وہ ،،،، لا ،،،، لالا زارون نے منہ کھول کر کچھ کہنا چاہا لیکن ضارب کی آنکھوں میں چھائی وحشت دیکھ کر لفظ اسکے حلق سے نکلنے سے انکاری تھے ۔۔۔
کیا وہ وہ لگا رکھی ہے ہم پوچھ رہیں ہیں یہ کس نے کیا ہے ۔۔۔اس بار وہ غرا کر بولا تھا ،،،، اسکی غراہٹ پر زارون اپنے قدموں پر کھڑا پورے قد سے کانپ گیا جبکہ زر کا دل اب بالکل بند ہونے کے قریب تھا ۔۔۔
اس نے ایک نظر کانپتی ہوئی زر پر ڈالی پھر دھیرے سے اسکی طرف اشارہ کر دیا ۔۔۔ ضارب کے سامنے وہ جھوٹ نہیں بول سکتا تھا ورنہ سارا الزام اپنے اوپر لے لیتا ۔۔۔
ویسے بھی اسے یقین تھا کہ اس کے مقابلے وہ زر کو کم ڈانٹے گا اس لیے اس نے سچ بتانا ہی بہتر سمجھا ،،،، لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ اسے یہ سچ کتنا مہنگا پڑنے والا تھا ۔۔۔
اسکے اشارہ کرنے پر اب اس نے اپنا رخ زر کی طرف کیا تھا جس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔۔۔جنہیں دیکھتے وہ تھوڑا نرم پڑا تھا ۔۔۔
زرمینے گڑیا یہ کیسے ہوا کیوں کیا آپ نے یہ ۔۔۔اس بار تھوڑی نرمی سے بولا تھا لیکن چہرہ اب بھی سپاٹ تھا ۔۔۔
وہ ضارب لالا ،،،، ہچکی ،،،، میں نے یہ جان کر نہیں کیا ،،،، پھر ہچکی ،،،، بلکہ غلطی سے ہو گیا ،،،، میں نے یہ پانی خان لالا پر نہیں پھینکا تھا یقین کریں میرا ۔۔۔۔ وہ بمشکل ہچکیوں کے درمیان اپنی بات مکمل کرتی ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔۔
جبکہ اس کو ایسے روتے دیکھ کر زارون کو اب ندامت ہو رہی تھی ۔۔۔ کیونکہ کہیں نا کہیں ان سب کا اصل زمہ دار وہی تھا ۔۔۔
لالا وہ !! ابھی وہ کچھ کہتا اس سے پہلے ہی ضارب نے اسے ہاتھ کے اشارے چپ رہنے کا بولا ۔۔۔
اچھا ادھر آئیں میرے پاس اس کو ایسے زار و قطار روتے دیکھ ۔۔۔ نرم پڑتے پیار سے اپنے پاس بلایا تھا ۔۔۔
اس کی آواز میں نرمی محسوس کرتے اس نے اپنے چہرے سے ہاتھ ہٹائے اور ایک نظر اسکے چہرے کی طرف دیکھا ،،،، پھر دھیرے دھیرے قدم اٹھاتے تھوڑا اسکے قریب آ گئی ۔۔۔
لیکن اسے ابھی بھی ضارب شاہ سے ڈر لگ رہا تھا ۔۔۔اس لیے اپنی نظریں جھکا رکھی تھیں ۔۔۔
سب سے پہلے تو یہ رونا بند کریں ،،، اور ہم سے ڈرنا بھی ،،، ہم آپکو کچھ نہیں کہیں گے ۔۔۔بس ہمیں سچ سچ پوری بات بتائیں کہ یہ سب کیسے ہوا اور آپ پانی کے ساتھ کیا کر رہی تھیں ۔۔۔اور ہم صرف سچ سنے گے ۔۔۔
زرمینے نے چہرہ اٹھا کر پہلے ضارب کی طرف دیکھا اور پھر ایک نظر زارون کی طرف ،،،، جسے اسکے بولنے سے پہلے ہی اسکے چہرے سے پتا چل رہا تھا کہ اب اسکی شامت آنے والی ہے ۔۔۔
پھر زرمینے نے اسکا ڈر بالکل سچ کر دکھایا تھااور شروع سے لے کر آخر تک ساری بات سچ سچ ضارب کو بتا دی تھی ۔۔۔
لالا انہوں نے میری پوری ایک ہفتے کی محنت کو مٹی میں ملا دیا ۔۔۔میں نے بہت محنت سے وہ نوٹس بنائے تھے ،،،، اور انہوں نے ایک پل میں سب ضائع کر دیا ۔۔۔
اوپر سے میرے امتحان بھی قریب ہیں اب میں کیا کروں گی ۔۔۔اپنے برباد ہوئے نوٹس کو یاد کر کے وہ ایک بار پھر سے رو دی تھی ۔۔۔
اب آپ کچھ نہیں کریں گی ،،،، جس نے یہ سب خراب کیا ہے وہی ٹھیک بھی کرے گا ۔۔۔ اپنی غصے سے سرخ ہوئی آنکھیں زارون پر گاڑتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگاتے چپ کروایا تھا ۔۔۔
آپ کے نوٹس جو انہوں نے خراب کئے ہیں وہی آپکو دو دن کے اندر دوبارہ تیار کر کے دیں گے ،،،، آپ ٹینشن نا لیں اور اگر یہ آپکو دوبارہ تنگ کریں تو ہمیں بتائیے گا ،،،، ہم خبر لیں گے انکی ٹھیک ہے ۔۔۔
اب آپ ریلکس ہو کر اندر جائیں ،،،، اور دوبارہ رونے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔اور نا ٹینشن لینے کی ،،،، اس بار ہلکا سا مسکرا کر بولا تھا ۔۔۔
جی لالا وہ تابعداری سے سر ہلاتی اندر کی طرف بڑھ گئی تھی لیکن جاتے ہوئے ایک نظر زارون کو دیکھنا نہیں بھولی تھی جو اب رونے والی شکل بنا کر کھڑا تھا ۔۔۔جسے دیکھ وہ اپنی مسکراہٹ چھپاتی لب دبا گئی ۔۔۔
جائیں خان آپ بھی کپڑے تبدیل کر لیں پھر ہمیں شہر کیلئے بھی نکلنا ہے پہلے ہی بہت دیر ہوگئی ہے ۔۔۔جی سردار سائیں وہ حکم بجا لاتا فورا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
اس کے جانے کے بعد وہ دوبارہ زارون کی طرف متوجہ ہوا تھا ۔۔۔زارون شاہ کیا آپ ہمیں بتا سکتے ہیں کہ یہ کیا حرکت تھی ۔۔۔آپ نے کیوں زرمینے کے نوٹس خراب کئے ۔۔۔
وہ لالا ہمارا جھگڑا ہو گیا تھا بس اسی کا بدلہ لینے کیلئے ۔۔اپنا جملہ مکمل کرتے آخری لفظ منہ میں ہی کہیں منمنا گیا تھا ۔۔۔
نہیں آپ ہمیں بتائیں کہ آپ کوئی چھوٹے بچے ہیں جو ایسی حرکتیں کرتے پھر رہے ہیں یا پھر یہ سب آپکو زیب دیتا ہے بدلہ وغیرہ وٹ ربش ،،،،
اور چھوٹی بہنوں سے بدلے کون لیتا ہے ایسے اسکی محنت ضائع کر کے ،،،، جبکہ اسکی ساری باتیں چھوڑ اس نے بہن والی بات پر سر اٹھایا اور دل میں فورا لاحول ولا قوت پڑھا تھا ۔۔۔
سوری لالا میں دوبارہ ایسا نہیں کروں گا ،،، لیکن پلیز یہ نوٹس بنانے والی بات نا کریں میں کیسے کروں گا آپ تو جانتے ہی ہیں مجھے میرے خود کے بھی ایگزیمز ہیں ۔۔۔
ایسے میں میرے پاس وقت ،،،، بس ہم کچھ نہیں جانتے یہ سب آپکو انکے نوٹس خراب کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا ،،،، وہ نوٹس آپ ہی بنائیں گے اور سزا کے طور پر آپ کو اس ماہ پوکٹ منی بھی آدھی ہی ملے گی ۔۔۔
لیکن لالا ،،،، لیکن ویکن کچھ نہیں اب آپ جا سکتے ہیں ،،،، بنا اسے دوسری بات کرنے کا موقع دیتے ،،، اپنی بات مکمل کرتے اسکی نے اپنا رخ موڑ لیا تھا جب بلا ارادہ ہی اسکی نظر ابرش پر پڑی تھی جو اپنے کمرے کی کھڑکی پر کھڑی ان دونوں کو ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔
اور اسکے دیکھتے ہی فورا پردے برابر کرتی پیچھے ہوگئی ۔۔۔جبکہ اس کو ایسا کرتے دیکھ ضارب شاہ نے پرسوچ نظروں سے اس بند کھڑکی کو دیکھا ،،،، اسے سمجھ نہیں آتا تھا کہ یہ لڑکی اس سے اتنا کیوں ڈرتی تھی ۔۔۔پھر وقت کی قلت کی وجہ سے اپنی ہر سوچ کو پس و پشت ڈالتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔
کیونکہ انہیں رات ہونے سے پہلے شہر پہنچنا تھا ۔۔۔
********
دوسری طرف ابرش جس نے زارون کو زرمینے کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے دیکھ لیا تھا ۔۔۔پہلے تو وہ اس کے پیچھے جانے لگی یہ بتانے کے زر اسکے کمرے میں ہے اگر اسے کوئی کام ہے تو اسے بتا دے ۔۔۔
لیکن پھر اسے آس پاس دھیان دیتے ایسے چوروں کی طرح چھپ کر داخل ہوتے دیکھ کچھ سوچ کر وہی ایک پلر کے پیچھے چھپ گئی اور اسکے باہر آنے کا انتظار کرنے لگی ۔۔۔
تقریبا پندرہ بیس منٹ بعد جب وہ باہر نکلا تو خود پلر کے پیچھے چھپتے موبائل پر اسکی ویڈیو بنا لی ،،، کیونکہ ان دونوں کے درمیان ہوئی بات زر اسے لفظ با لفظ بتا چکی تھی ۔۔۔۔
اور اسے اپنے بھائی پر اتنا یقین تو تھا کہ وہ اپنی یہ بےعزتی ایسے نہیں بھولے گا ،،،، بدلہ لینے کیلئے کچھ نا کچھ ضرور کرے گا اور اسے ایسے چھپ کر زر کے کمرے میں جاتے دیکھ اسکا خدشہ سہی ثابت ہوا تھا ۔۔۔
اسے پتا تھا وہ انکے سامنے کبھی نہیں مانے گا اس لیے ثبوت کے طور پر ویڈیو بنائی تاکہ وہ بعد میں مکر نا سکے ۔۔۔
دوسرا اس کا بنا کچھ کئے ہی اپنا بدلہ بھی پورا ہو رہا تھا ،،،، وہ جو روز روز واسم سے اس کی شکایتیں لگاتا تھا جس کی وجہ اسے ایک دو بار ہلکی سی ڈانٹ بھی پڑی تھی ،،،،
جب یہ ویڈیو زر بابا سائیں کو دکھاتی اور اسکے بعد جو انکے ہاتھوں اسکی درگت بننی تھی یہ سوچ کر ہی اسے اندر سے ایک کمینی سی خوشی ہو رہی تھی ۔۔۔
اسکے جانے کے بعد وہ پلر کے پیچھے سے نکلتی فورا اپنے کمرے سے زر کو بلا لائی تھی ۔۔۔ جب وہ دونوں کمرے میں پہنچی اور زر کے ضروری نوٹس جو اس نے بہت محنت سے بنائے تھے انکا حشر دیکھ کر اسے کافی دکھ ہوا ۔۔۔
زرمینے تو سیدھا زارون کے پاس پہنچ گئی ،،،لیکن ابرش اسکے سامنے نہیں آئی ،،، بلکہ دور سے ہی انہیں لڑتا دیکھ رہی تھی ۔۔۔کیونکہ اگر اسے پتا چل جاتا کہ زر کو اسنے بتایا ہے ۔۔۔تو پھر اسکی خیر نہیں تھی ۔۔۔۔
اور پھر انہیں باہر بھاگتے دیکھ اس نے انکے پیچھے جانے کی بجائے اپنے کمرے میں جانا مناسب سمجھا جس کی کھڑکی سے لون کا سارا منظر نظر آتا تھا ۔۔۔
اور اس کے بعد جو ہوا اور وہاں ضارب کو آتا دیکھ اسکی شوخی ڈر میں بدل گئی ۔۔۔اسے انکی باتیں تو سہی سے سنائی نہیں دے رہی تھی لیکن ان کے چہروں سے کچھ کچھ اندازہ ہو رہا تھا ۔۔۔
یہ تو شکر تھا کہ ضارب نے زرمینے کو زیادہ کچھ نہیں کہاں اسے ہنستے ہوئے جاتے دیکھ اس نے رب کا شکر ادا کیا ،،،، اور اپنے بھائی کی رونے والی شکل دیکھ کر یہ بھی سمجھ گئی ضارب نے اسے ضرور کوئی سزا سنائی ہے۔۔۔
وہ کھل کر ہنستی ایکسائٹڈ سی انہیں دیکھ رہی تھی جو اب بھی وہی کھڑے کچھ بات کر رہے تھے اور ساتھ ساتھ زر کے کمرے میں جانے کا سوچ رہی تھی ،،،، تاکہ سارا معاملہ جان سکے آخر وہاں ہوا کیا اور سپیشلی ضارب شاہ نے اس سے کیا کہا ۔۔۔
ابھی وہ وہاں سے ہٹتی کہ تبھی ضارب اچانک مڑا اور اسکی نظریں خود پر پڑتی دیکھ کر اسکے مسکراتے لب فورا سکڑے تھے وہ ایک نظر اسکی سرخ وحشت سے بھری ہری آنکھوں کو دیکھ کپکپا کر پردے برابر کرتی پیچھے ہوگئی ۔۔۔
اسکا معصوم سا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا اسے ویسے ہی ضارب سے بہت ڈر لگتا تھا اوپر اسکی وحشت ٹپکاتی آنکھیں جو کسی کی بھی جان نکال سکتی تھیں انہیں دیکھ کر اس کی حالت اور خراب ہو گئی تھی ۔۔۔
وہ جو زر کے پاس جانے کا ارادہ رکھتی تھی ڈر کی وجہ سے سب کچھ بھول گئی ۔۔۔
*********
یہ منظر تھا ایک ایسے گودام کا جو سالوں سے بند پڑا تھا ۔۔۔جس کے ایک کمرے میں کچھ لوگوں نے ایک آدمی کو کرسی پر رسیوں سے باندھ رکھا تھا ۔۔۔
وہ لوگ اس سے کچھ پوچھ تاچھ کر رہے تھے ،،،، جس پر وہ مسلسل نفی میں سر ہلا رہا تھا ۔۔۔انہیں پوچھ تاچھ کرتے کافی وقت گزر گیا تھا لیکن کوئی حوصلہ افزا بات پتا نہیں چل سکی تھی ۔۔۔
رات کا دوسرا پہر شروع ہو چکا تھا ،،، ہر طرف کالا اندھیرا چھایا ہوا تھا ،،، کیونکہ یہ تاریک راتوں کے دن تھے ،،،، اس لیے آسمان سے چاند بھی غائب تھا ۔۔۔
اور نا ہی دور دور کوئی روشنی دکھائی دیتی تھی کیونکہ یہ گودام شہر سے کافی فاصلے پر جنگل اور سنسان علاقے میں بنا تھا ،،، اس لیے ہر طرف خاموشی میں بس جانوروں کی آواز سنائی دیتی تھی یا پھر اس آدمی کے چیخنے کی ۔۔۔
وہ لوگ ابھی اس سے پوچھ ہی رہے تھے کہ اس خوفناک خاموشی میں کمرے سے باہر سے کچھ قدموں کی آواز ابھری تھی جو دھیرے دھیرے قریب آ رہی تھی ۔۔۔
اسکے بعد دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا تھا اور کمرے میں تین افراد داخل ہوئے ،،،، کمرے میں زیرو واٹ بلب کی ہلکی سی روشنی تھی جس میں کسی کا بھی چہرہ پہنچان پانا مشکل تھا ۔۔۔
لیکن کمرے میں موجود افراد بنا دیکھے ہی آنے والے کو پہنچان چکے تھے ،،،، اس لیے ایک آدمی نے آگے بڑھ کر عزت سے سلام کرتے اسے کرسی پیش کی تھی ۔۔۔
جس پر براجمان ہوتے سب سے پہلے اس نے سگریٹ سلگائی تھی جبکہ اب بلب کے قریب ہونے سے ہلکا سا اسکا چہرہ واضح ہو رہا تھا ۔۔۔
اور جو دو نوجوان اسکے ساتھ آئے تھے کرسی کے دائیں بائیں ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوگئے ۔۔۔
اسکی آنکھوں سے ٹپکتی وحشت سامنے بندھے آدمی کے رونگٹے کھڑے کر گئی ۔۔۔وہ جو وہاں موجود دوسرے افراد کی مار سے نہیں ڈرا تھا ،،،، ان آنکھوں میں اتری سرخی سے ڈر گیا کیونکہ اسے ان میں اپنی مو*ت واضح نظر آ رہی تھی۔۔۔
جب کمرے میں اسکی گمبھیر آواز ابھری ۔۔۔ کچھ بتایا اس نے ؟؟ بولتے ہوئے اسکے منہ اور ناک دھواں نکل رہا تھا ،،، جو کمرے میں موجود اندھیرے کے نظر ہو رہا تھا ۔۔۔
نہیں سرکار ہم نے بہت کوشش کی حالانکہ اسے بہت ما*را بھی لیکن یہ بس یہی کہہ رہا ہے کہ کچھ نہیں جانتا اس بارے میں ۔۔۔ایک آدمی نے اسے ادب سے جواب دیا تھا ۔۔۔
یہ ایسے نہیں بولے گا اسے تو میں ،،،، اسکی دائیں طرف کھڑا جوان اتنا کہہ کر ابھی آگے بڑھنے ہی لگا تھا جب اس نے نظر اٹھا کر اسکی کی طرف دیکھا ،،،، جس میں واضح تنبیہ تھی ۔۔۔
اور وہ جو ایسے لوگوں کیلئے مو*ت کے نام سے جانا جاتا تھا جس کا نام سن کر ہی دہشتگرد تھر تھر کانپتے تھے اسکی ایک نظر کے اشارے پر ہی سر جھکا کر دوبارہ پیچھے کھڑا ہو گیا ۔۔۔
اس نے اپنے ایک آدمی کو اشارہ کیا جو وہ سمجھتے ہوئے کمرے سے باہر چلا گیا ۔۔۔اور جب وہ واپس لوٹا تو اسکے ہاتھ میں ایک کتیلی نما برتن تھا جس کے اندر کوئی محلول تھا ۔۔۔
اس نے وہ لا کر دونوں کرسیوں کے درمیان موجود لکڑی کے چھوٹے سے ٹیبل پر رکھ دیا اور خود پیچھے ہو گیا ۔۔۔
تمہارے پاس یہ آخری موقع ہے ۔۔۔ اگر تم کچھ جانتے ہو تو ہمیں سچ سچ بتا دو ۔۔۔ ورنہ اسکے بعد اپنے انجام کے ذمہ دار تم خود ہو گے ۔۔۔
اس نے کاٹدار لہجے میں پوچھا تھا ۔۔۔جسے سن کر وہ آدمی ایک پل کیلئے تو ڈر گیا ،،،، لیکن پھر یہ سوچ کر چپ رہا کہ زیادہ سے زیادہ کیا کریں گے ما*ر ہی دے گے ۔۔۔وہ تو انہوں نے سچ جان کر بھی کر دینا تھا اس لیے اس نے ایک بار پھر نفی میں سر ہلایا کہ وہ کچھ نہیں جانتا ۔۔۔
لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ سامنے بیٹھے شخص کو ما*رنے سے زیادہ تڑپانے میں مزہ آتا تھا ،،، اور اگر وہ یہ جانتا تو انکار کرنے کی غلطی کبھی نا کرتا ۔۔۔
اس کے انکار پر سامنے والے کے چہرے پر ایک خوبصورت مسکان آئی تھی ۔۔۔
پھر اس نے اپنے ایک آدمی کو اسکا دایاں بازو کھول کر اس برتن میں ڈالنے کا بولا ۔۔۔
جس نے فورا حکم کی تکمیل کرتے ایسا ہی کیا اور جیسے اسکا ہاتھ اس محلول کے اندر گیا وہ پوری جگہ اسکی درد*ناک چیخوں سے گونج اٹھی ۔۔۔
بتا،،،بتاتا ہوں ،،، بتاتا ہوں ،،،،، پلیز میرا ہاتھ نکالو اس سے ،،،، جب درد برداشت سے باہر ہوا تھا تو وہ چیخ کر بولا ۔۔۔
جبکہ وہ اس کے سامنے ریلکس انداز میں بیٹھا اب دوسرا سگریٹ سلگا رہا تھا ۔۔۔
اس نے اپنا ہاتھ کھنچنے کی کوشش کی لیکن وہ ایسا نہیں کر سکا کیونکہ اس آدمی نے اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا ۔۔۔
پلیز مجھے معاف کر دو میں تمہیں سب کچھ سچ سچ بتا دیتا ہوں ۔۔۔پہلے میرا ہاتھ باہر نکالو ۔۔۔اس نے اپنے آدمی کو اشارہ کیا جس نے اسے چھوڑ دیا جب اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اسکی حالت دیکھ کر وہاں تمام آدمیوں کے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے ۔۔۔
سوائے اسکے جو اب بھی سامنے بیٹھا مزے سے سگریٹ پی رہا تھا ۔۔۔اور اسکے ہاتھ کو مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا جیسے اسے وہ کافی پسند آیا ہو۔۔۔
اسکا ہاتھ جس اوپری جلد بری طرح گل چکی تھی بلکہ اس میں اندر کی ہڈیاں صاف نظر آ رہی تھیں اسے دیکھ کر ہی خو*ف آ رہا تھا ،،، اسکے ہاتھ کی یہ حالت برتن میں موجود محلول کی وجہ سے ہوئی تھی جو کہ تیز*اب تھا ۔۔۔اور اگر اسکا ہاتھ تھوڑی دیر اور اس میں رہ جاتا تو اسکی ہڈیاں بھی گل جانی تھیں ۔۔۔
بولو !! اسکا رونا چیخنا سب کچھ نظر انداز کرتے ہوئے بےرحمی سے دوبارہ سوال کیا تھا کیونکہ وہ ایسے لوگوں کو ہمدردی کے لائق نہیں سمجھتا تھا ۔۔۔
می ،،،، میں اس کے بارے ،،،، زیادہ تو کچھ نہیں جانتا ،،،، درد کی شدت کی وجہ اس کے منہ سے الفاظ بھی رک رک کر نکل رہے تھے ۔۔۔
آج سے اٹھارہ ، بیس سال پہلے ہمیں یہ کام ملا تھا میں ہمارا بوس اور دو تین ساتھیوں نے مل کر جسے انجام دیا تھا ۔۔۔
ہمیں بس ایک پتہ دیا گیا تھا جہاں اس عورت کو اغو*ا کر کے پہنچانے کا حکم ملا تھا ،،،کیونکہ وہ عورت بہت بڑے گھر سے تعلق رکھتی تھی تو اس لیے زیادہ احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی تھی ۔۔۔
اور ہم نے ایسا ہی کیا ،،،، جب ہم اس عورت کو لے کر جا رہے تو ہمارا بوس اس کی خوبصورتی دیکھ کر بے ایمان ہو گیا تھا لیکن جس کا یہ کام تھا وہ آدمی بھی بہت زیادہ خطر*ناک تھا اور ہمیں اس عورت کو سہی سلامت پہنچانے کا حکم ملا تھا ،،، اس لیے وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکا ۔۔۔
تمہیں اس آدمی کے بارے میں کچھ پتا ہے کہ وہ کون تھا دائیں طرف کھڑے نوجوان نے بیتابی سے پوچھا تھا ۔۔۔
نہیں میں اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا اس عورت کو اندر چھوڑنے صرف ہمارا بوس گیا تھا ۔۔۔ہم باہر گاڑی میں ہی اسکا انتظار کر رہے تھے ۔۔۔
پھر وہ تقریبا آدھے گھنٹے بعد آیا تھا اندر کیا ہوا تھا ہم نہیں جانتے اور نا ہی دوبارہ ہمارے درمیان اسکا کبھی ذکر ہوا ۔۔۔
بس اسکے علاوہ میں کچھ نہیں جانتا تھا ،،،ہننہ اس نے ہنکارا بھرتے ہاں میں سر ہلایا تھا ،،، تمہیں پورا یقین ہے کہ تم ہمیں بالکل سچ بتا رہے ہو ،،، کچھ ایسا تو نہیں جو تم ہم سے اب بھی چھپا رہے ہو ۔۔۔۔
نہیں نہیں میں بالکل سچ کہہ رہا ہوں اس کے علاوہ میں کچھ نہیں جانتا ہے ۔۔۔۔اس سے اس جگہ کا پتا جان کر آگے کیا کرنا ہے تم اچھے جانتے ہو اس نے اپنی دائیں طرف کھڑے نوجوان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے جس کی کالی گھٹاؤں جیسی آنکھوں میں لہو اترا ہوا تھا ،،،، اپنی بات مکمل کی اور پھر وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔
جبکہ بائیں طرف کھڑا آدمی بھی اسکے پیچھے مڑ گیا وہ دونوں اس گودام سے نکلتے دوبارہ اندھیرے کا حصہ بن گئے ۔۔۔
اور پیچھے بس کسی کا جنون اور اس آدمی کی درد*ناک چیخیں رہ گئی ۔۔۔
*********
خان نے صبح کے چھ بجے ضارب کے کمرے کا دروازہ زور سے بجایا تھا ۔۔۔وہ جو میٹنگ سے رات لیٹ آنے کی وجہ سے نماز ادا کر کے ابھی کچھ دیر پہلے ہی سویا تھا ۔۔۔اتنی جلدی اٹھائے جانے پر غصے سے دروازہ کھولتے اس پر بھڑک گیا ۔۔۔
خان یہ کیا بدتمیزی ہے آپ جانتے ہیں ہم ابھی کچھ دیر پہلے ہی سوئے ہیں پھر اتنی جلدی اٹھائے جانے کی وجہ ،،،، اس نے غصے سے بولتے سختی سے پوچھا تھا ۔۔۔۔
معاف کیجئے گا سردار سائیں اگر بات بہت ضروری نا ہوتی تو میں آپ کو کبھی یوں بے آرام نا کرتا ۔۔۔
بولو !! بولنا نہیں سردار سائیں آپکو کچھ دکھانا ہے ۔۔۔خان نے اتنا کہتے ہی آگے ہوتے کمرے میں موجود ایل سی ڈی اون کی تھی ۔۔۔او مخصوص چینل لگاتے آواز اونچی کرتا ایک سائڈ پر ہو گیا ۔۔۔
ٹیوی پر چلتی ویڈیو کو ضارب شاہ نے سپاٹ نظروں سے دیکھا تھا ،،، جبکہ اسکا چہرہ بالکل بےتاثر تھا جس سے اس کے دماغ میں کیا چل رہا ہے اندازہ لگانا فلحال مشکل تھا ۔۔۔۔
