Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 32)

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

پھنس گئی شکنجے میں اب کہاں جاو گی چڑیا ،،،،، اسکے نازک سراپے کو حوس بھری نگاہوں سے دیکھتے وہ طنزیہ گویا ہوا ۔۔۔۔۔

جس پر اسکے ساتھیوں نے ایک بار پھر قہقہے لگائے تھے ۔۔۔۔۔

جبکہ اپنے وجود پر انکی غلیظ نظروں کو آر پار ہوتے دیکھ ابرش کے آنسوؤں میں کچھ اور روانی آئی تھی ۔۔۔۔

اور ساتھ ہی اس نے اپنا پیلا زری گوٹے والا دوپٹہ اپنی چاروں طرف پھیلا کر خود کو چھپانے کی ناکام کوشش کی ۔۔۔۔

جبکہ اس کی اس حرکت کو دیکھتے وہ سب محظوظ ہوئے ،،،،، اور ساتھ ہی انکے ایک ساتھی نے آگے بڑھ کر اسکے دوپٹے کو پکڑتے کھینچنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔

جس پر اس نے دوپٹے پر اپنی پکڑ کچھ اور مظبوط کر لی ،،،،، اور اپنے ایک ہاتھ کا استعمال کرتے اسے خود سے دور رکھنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔

جبکہ اس کو مزاحمت کرتے دیکھ انکے باس نے آگے بڑھتے کھینچ کر اس کے منہ پر تھپڑ مارا تھا ،،،،،

جس کی وہ تاب نا لاتے اوندھے منہ زمین پر گری ،،،،،، اس نے ایک جھٹکے سے کھینچتے دوپٹہ اسکے تن سے جدا کیا تھا ۔۔۔۔۔

اور اس کو سیدھا کرتے اس پر حاوی ہونے کی کوشش کرنے لگا ،،،،،، جبکہ اسکے باقی ساتھی کھڑے اس تماشے کو انجوائے کر رہے تھے ۔۔۔۔

ابرش اپنے دونوں ہاتھوں کا استعمال کرتی اسے خود سے دور رکھنے کی مکمل کوشش کر رہی تھی ،،،،، جس پر اس نے تھوڑا پیچھے ہوتے ایک اور تھپڑ اسے رسید کیا تھا ۔۔۔۔

جس کی وجہ سے ابرش کا نچلا ہونٹ پھٹ گیا تھا اور اس سے خون بہنے لگا ،،،،،، لیکن ان سب کے باوجود بھی اس نے ہمت نہیں ہاری اور زمین پر ہاتھ رکھتے اپنی مٹھی میں مٹی بھر کر اسکے چہرے کی طرف پھینکی ،،،،،

جو کہ سیدھا اسکی آنکھوں میں جا کر پڑی تھی اور وہ پیچھے ہوتا اسے غلیظ گالیاں بکتے اپنی آنکھیں ملنے لگا ،،،،، جس کا فائدہ اٹھاتے ابرش نے اپنی پوری ہمت جمع کرتے ایک بار پھر اوپر کی طرف دوڑ لگائی تھی ۔۔۔۔۔

جبکہ ابرش کو بھاگتے دیکھ اس کے دوسرے ساتھی اسکے پیچھے بھاگے تھے ،،،،،، جب ایک نے اسے کندھے سے پکڑتے قابو کرنا چاہا تو اس نے مزاحمت کرتے اسے پیچھے دھکا دیا ۔۔۔

اور اس کھینچا تانی میں اسکی شرٹ کا بازو کندھے سے پھٹ گیا جبکہ نازک سفید جلد پر خراشیں پڑ گئی تھیں ۔۔۔۔۔

لیکن پھر بھی وہ ہمت کرتے وہاں سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی لیکن وہ ان تین چار ہٹے کٹے مردوں کا مقابلہ کیسی کرتی جو ایک بار پھر اسے دوبارہ گھیر چکے تھے ۔۔۔۔

جب اس گھیرے میں اپنی آنکھیں ملتا انکا باس آگے بڑھا اور اس نے اپنی پوری قوت سے اسے تھپڑ مارا اور ساتھ ہی غلیظ گالی سے نوازا تھا ۔۔۔۔

اور اس تھپڑ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ ابرش کو اپنا کان سن ہوتا محسوس ہوا اور وہ سیدھا جا کر ایک درخت کے ساتھ ٹکرائی ،،،،

جس سے اسکے منہ سے ایک درد ناک چیخ نکلی تھی جو رات کے اندھیرے اور سناٹے میں دور تک گونجی ۔۔۔۔

اور ٹکرانے کی وجہ سے اسکی پیشانی پر چوٹ بھی آئی تھی جس سے خو*ن تواتر سے بہنے لگا ،،،،،، ابرش کو سن دماغ کے ساتھ اپنی آنکھوں کے آگے اندھیرہ چھاتا محسوس ہوا ۔۔۔۔۔

جب اس نے آگے بڑھتے اسے سیدھا کرتے ایک اور تھپڑ رسید کیا اور اس سے پہلے کہ وہ چکراتے سر کے ساتھ دوبارہ زمین بوس ہوتی ،،،،، ایک طرف سے بھاگ کر آتے وجود نے اسے سہارا دیتے اپنی آغوش میں لیا تھا ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس وجود کی خوشبو کو محسوس کرتے اتنے درد اور تکلیف کے باوجود ابرش کے لب مسکرائے تھے ۔۔۔۔

اور اپنی عزت محفوظ محسوس کرتے بےخاستہ دل سے شکر خدا ادا ہوا ۔۔۔۔۔

سائیں “

اس کے لبوں سے بےآواز سرگوشی نکلی تھی ۔۔۔۔

اور پھر یقین دہانی کیلئے اس نے اپنا زخم زخم ہوا چہرہ اٹھا کر ایک نظر اسکے چہرے کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔

جو اپنے لبوں کو سختی سے بھینچے قہر بھری نظروں سے ان غنڈوں کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔

لیکن پھر اسکے سر اٹھانے پر وہ ابرش کی طرف متوجہ ہوا جو اپنی نیلی سمندر جیسی آنکھوں میں آنسو بھر کر ابھی تک اسے بےیقینی سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

اور اسکے چہرے پر لگے زخم اور حالت کو دیکھتے اسکے طیش میں کچھ اور اضافہ ہوا تھا اور رگوں میں دوڑتے خون سے شرارے پھوٹنے لگے ۔۔۔۔

وہ لوگ نہیں جانتے تھے کہ جو فعل انہوں نے انجام دیا ہے ،،،،، اس کی کس قدر بھیانک سزا انہیں ملنے والی تھی ۔۔۔۔۔

ابرش نے کچھ دیر اسکے چہرے کو دیکھنے کے بعد دھیرے سے اپنا ایک ہاتھ اٹھاتے اسکے چہرے کو نرمی سے چھوا تھا ،،،،،، اور پھر جب اسے یقین ہو گیا تھا کہ ضارب سچ میں اس کے پاس ہے تو وہ ایک لمحے کی دھیری کیے بنا اسکے کشادہ سینے کا حصہ بنی تھی ۔۔۔۔۔

جس پر سر رکھتے ہی اس کے تڑپتے دل اور زخمی وجود کو ایک راحت سی ملی تھی ۔۔۔۔۔

اور وہ جو اتنی دیر سے ان سب کا بہادری سے مقابلہ کر رہی تھی ،،،،،، کسی اپنے کا سہارا ملتے ہی بری طرح ٹوٹتے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع ہو گئی ۔۔۔۔

ضارب نے بھی بہت محبت کے ساتھ اسکے گرد اپنے تحفظ کا حصار کھینچا تھا ،،،،، اور اپنی چادر جو اس نے اوڑھ رکھی تھی ،،،،،، اسکے گرد پھیلاتے ہوئے اسے مکمل طور پر اپنے وجود میں چھپا گیا ۔۔۔۔۔

کون ہے بے توں ؟؟؟؟؟

لگتا ہے توں ہمیں جانتا نہیں جو موت کے منہ میں ہاتھ ڈالنے چلا آیا ۔۔۔۔۔

یہ لڑکی آج رات ہمارا شکار ہے ،،،،،،

اس لیے اسے چپ چاپ ہمارے حوالے کر کے یہاں سے چلتا بن ،،،،، نہیں تو اس کے ساتھ ساتھ تجھے بھی مار کر اسی جنگل میں دفن کر دے گے ۔۔۔۔

وہ اندھیرے کی وجہ سے ضارب کا چہرہ ٹھیک سے دیکھ نہیں پایا تھا تبھی اکڑ دکھاتے بدتمیزی سے بولا ۔۔۔۔

جبکہ اسکی دھمکی کو سنتے ابرش نے ضارب کی پشت سے شرٹ پر اپنی پکڑ کچھ اور مظبوط کی تھی ۔۔۔۔۔

جس پر ضارب نے اسکے ڈر کو سمجھتے مزید خود میں بھینچتے اسے تحفظ کا احساس دلایا ،،،،،، البتہ اسے کچھ نہیں بولا تھا ۔۔۔۔۔

اور اسکی خاموشی دیکھتے اس سے پہلے وہ لوگ آگے بڑھ کر اس پر حملہ کرتے ،،،،،،

تبھی خان کے ساتھ آتے اسکے گارڈز نے انہیں چاروں طرف سے گھیرا تھا ۔۔۔۔۔

اور ان پر اپنی گنز تان لیں ۔۔۔۔

جس پر انہیں اپنی موت سر پر ناچتی محسوس ہوئی تھی ۔۔۔۔

ہے باربی اوپر دیکھیں میری طرف ،،،،، اب آپ بالکل محفوظ ہیں اس لیے آپکو کسی سے بھی ڈرنے یا پھر چھپنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔

ہم ہیں نا آپ کے پاس ،،،،،، آپکو کچھ نہیں ہونے دیں گے ۔۔۔۔

ابرش کو مسلسل روتے اور خود میں چھپتے دیکھ کر وہ بہت محبت سے اسکا چہرہ تھام کر اوپر کرتا نرمی اور پیار سے گویا ہوا تھا ،،،،،، اور بہت توجہ کے ساتھ اسکے بہتے آنسو اپنے پوروں کے ساتھ صاف کیے ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکی نرم سرگوشی اور محبت کو دیکھتے ابرش نے اپنی اوشن بلو آئز جن میں رونے کی وجہ سے سرخ ڈورے تیر رہے تھے اٹھا کر اسکی آنکھوں میں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔

جن میں ہلکی سرخی کے ساتھ ایک وحشت سی رقم تھی ۔۔۔۔

جبکہ اسکے برعکس ہونٹوں پر ایک نرم مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔۔

آپکو ہم پر یقین ہے نا ،،،،، اس کو خود تکتے دیکھ کر وہ ایک بار پھر نرمی سے بولا ،،،،،

جس پر اس نے بلا تردد ہاں میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔

جس سے اسکی مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوئی تھی ،،،،، تو پھر ریلکس ہو جائے ،،،،، اور ان لوگوں نے آپ پر ہاتھ اٹھا کر جو غلطی کی ہے ،،،،، اس کی سزا اور انجام آپ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گی ۔۔۔۔۔

وہ اسکے گال کو نرمی سے سہلاتے قہر بھری نظروں سے ان غنڈوں کی طرف دیکھتا بولا اور پھر اسے ایک سائڈ کرتے خود آگے بڑھنے لگا جب ابرش نے اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے روکا تھا ۔۔۔۔۔

نہی ،،،،، نہیں مجھے ،،،،، کچھ نہیں ،،،،، دیکھنا ،،،،، پلیز مجھے بس ،،،،، گھر جانا ہے ۔۔۔۔۔

اسکے مڑنے پر وہ روتے ہوئے اٹک اٹک کر بولی تھی ۔۔۔۔۔

کیونکہ ایک پل کیلئے بھی وہ اس سے الگ نہیں ہونا چاہتی تھی اس لیے دوبارہ اسکے حصار میں آتے اسے امید بھری نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔

کہ وہ اسکی بات کا مان رکھے گا ۔۔۔۔

جب ضارب اور خان کا دھیان بھٹکتے دیکھ کر جمشید نامی غنڈہ جو اس گروہ کا سربراہ تھا اس نے اپنی چھپی ہوئی پستو*ل نکال کر ضارب پر حملہ کرنا چاہا جب دوسری طرف سے آتے واسم شاہ نے زمین سے پتھر اٹھا کر اسکے ہاتھ پر مارا تھا ۔۔۔۔۔

جس سے اس کے ہاتھ سے پستو*ل چھوٹ کر دور زمین پر گری ،،،،،، اور پھر واسم شاہ نے اسے سنبھلنے کا موقع نہیں دیا تھا اور قہر بن کر اس پر ٹوٹ پڑا ۔۔۔۔۔

جس کو دیکھتے اسکے دوسرے ساتھیوں نے بھی ہاتھ پیر چلانے چاہے لیکن ضارب کے گارڈز نے انہیں موقع نہیں دیا اور انہیں دبوچتے مکمل اپنی حراست میں لے لیا ۔۔۔۔۔

واسم شاہ نے مار مار کر اس غنڈے کو ادھ مرا کر دیا تھا لیکن پھر بھی غصہ کسی طور کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔۔۔۔

جبکہ دوسری طرف زندگی میں پہلی بار اپنے واسم لالا کا یہ روپ دیکھ ابرش کو اس سے اتنا خوف محسوس ہوا ،،،،، کہ اسے پکار کر روکنے کیلئے منہ سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے ۔۔۔۔

لالا “

بس اسکے لب بےآواز پھڑپھڑا کر رہ گئے ۔۔۔۔۔

اور اس سے پہلے کہ واسم شاہ اپنے جنون میں اس کی جان لے لیتا ضارب نے خان کو اشارہ کیا تھا ،،،،،، جسے سمجھتے وہ آگے بڑھ کر اسے روکنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔۔۔

چھوٹے سائیں ہم لوگ انہیں دیکھ لیں آپ پلیز انکے گندے خون سے اپنے ہاتھ نا بھریں ،،،،،، اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے وہ روکتے ہوئے بولا ۔۔۔۔

جبکہ واسم شاہ کو اس کی یہ مخدالت بالکل پسند نہیں آئی تھی ،،،، اس لیے اس غنڈے کو چھوڑتے اس نے اوپر اٹھتے ہوئے زبردست قسم کا مکہ خان کے منہ پر جڑا تھا ۔۔۔۔۔

جسے دیکھتے ابرش کے منہ سے ایک چیخ برآمد ہوئی تھی ،،،،، جبکہ خان کے ناک سے خو*ن روانی سے بہنے لگا جسے روکنے کی اس نے بالکل کوئی کوشش نہیں کی تھی ۔۔۔۔

تمہاری ہمت کیسی ہوئی میرے کام میں مداخلت کرنے کی ہاں ،،،،، اسکے چہرے کی طرف دیکھتے وہ دھاڑتے ہوئے بولا ۔۔۔

تم جس کے دم چھلے ہو نا اسکے ہی آگے پیچھے پھرو دم ہلاو تو بہتر ہوگا ورنہ آج کے بعد میرے راستے میں آئے تو میں تمہیں جان سے مار دوں گا ۔۔۔۔

وہ اسے وارن کرتا ایک قہر بھری نظر خو*ن میں لت پت زمین پر پڑے اس غنڈے پر ڈالتا اسے ایک زوردار ٹھوکر رسید کرتے وہ ابرش کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔۔

جو اب بھی ضارب کے کندھے کو ایک ہاتھ سے تھامے تھر تھر کانپتی اپنے بھائی کا یہ روپ حیرانگی سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔

واسم شاہ کی حالت اس وقت بپھرے ہوئے شیر کے جیسے تھی کہ جس کے سامنے کوئی بھی آ جائے وہ اسے چیڑ پھاڑ دیتا ۔۔۔۔۔

گڑیا ،،،،،،

لیکن ابرش کے قریب پہنچتے اس کو خود سے ڈرتے دیکھ کر اس نے بہت پیار اور نرم لہجے میں اسے پکارا تھا ۔۔۔۔۔۔

جسے سنتے وہ فورا روتی ہوئی اسکے سینے آ لگی تھی جب اس نے اسکا چہرہ اوپر اٹھاتے بہت محبت سے اسکی پیشانی پر بوسہ دیا تھا ،،،،،، اور اسکے بہتے آنسوؤں کو صاف کرتے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔

اور پھر ایک نظر ضارب کی طرف دیکھتے جو اسے ہی سپاٹ نظروں سے دیکھ رہا تھا ،،،،،، اسے اپنے حصار میں لے کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھنے لگا جب پاؤں میں درد کی وجہ سے ابرش کے منہ سے کراہ نکلی تھی ۔۔۔۔۔

جسے سنتے وہ فورا جھک کر اس کے پاؤں کو دیکھنے لگا جس پر سوزش کے ساتھ ساتھ زخموں کے بھی نشانات تھے ۔۔۔۔۔

اور وہ بمشکل لب بھینچ کر اپنے غصے کو کنٹرول کرتے سیدھا ہوتا اسے اپنے بازوؤں میں اٹھا کر گاڑی کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔۔

اور ان سب کے دوران اس نے ضارب شاہ کو بالکل اگنور کیا تھا ،،،،،، جس پر ضارب نے گہرا سانس کھینچتے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔

ان سب کو انکے خاص ٹھکانے پر پہنچاو ،،،،، اور پھر خان کو حکم دیتے خود بھی اوپر کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔۔

جبکہ پیچھے خان ان سب کو ہدایت دیتا کام سمجھانے لگا تھا ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انہیں حویلی پہنچتے تقریبا صبح کے چار بج گئے تھے اور ان سب کے دوران پورے شاہ خاندان نے ایک پل کیلئے بھی آنکھ نہیں لگائی تھی ۔۔۔۔۔

ضارب انہیں فون کر کے ابرش کی سلامتی کی خبر پہلے ہی دے چکا تھا ۔۔۔۔

جس پر ان سب نے رب کا شکر ادا کیا تھا ۔۔۔۔

وہ سب لاؤنج میں ہی بیٹھے انکی واپسی کی راہ تک رہے تھے ۔۔۔۔ جب واسم شاہ ابرش کو بازوؤں میں اٹھائے اندر داخل ہوا ۔۔۔۔۔

جسے دیکھتے ارمغان شاہ آگے بڑھے تھے لیکن وہ ان سب کو اگنور کرتا اسے یوں ہی اٹھائے اوپر اس کے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔۔

جس پر بمشکل انہوں نے مٹھیاں بھینچ کر اپنے غصے کو کنٹرول کیا تھا کیونکہ ان نازک لمحوں میں وہ اس سے الجھ کر کوئی تماشا نہیں لگانا چاہتے تھے ۔۔۔۔۔

جس سے گھر میں رکے مہمان متوجہ ہو کر باتیں بناتے ،،،،، اس لیے فلحال ہونٹوں پر چپ کا قفل لگائے اس کے پیچھے اوپر کی طرف بڑھ گئے ۔۔۔۔

اس کے برعکس ابرش جو اپنے بابا کے سینے سے لگ کر رونا چاہتی تھی ،،،،،، خود پر گزرے قیامت خیز لمحوں کے بارے میں بتاتے اپنا درد ان سے بانٹنا چاہتی تھی ۔۔۔۔

واسم کے اس عمل پر اسکے ضبط سے سرخ چہرے کی طرف دیکھنے لگی البتہ منہ سے کچھ کہہ نہیں پائی ۔۔۔۔۔

اس نے کمرے میں داخل ہوتے اسے آرام سے بیڈ پر اتارا تھا ،،،،، اور سردی کا احساس ہونے پر اس پر کنفرٹ درست کرتے ہیٹر آن کیا ۔۔۔۔۔

تب تک ارمغان شاہ اور باقی گھر کے افراد کے ساتھ ایک لیڈی ڈاکٹر بھی اندر داخل ہوئیں تھیں ۔۔۔۔۔

جسے آتے ہوئے وہ راستے میں فون کر چکا تھا ۔۔۔۔۔

جس نے ابرش کے تھپڑوں سے سوجھے چہرے اور زخموں کو دیکھتے فلحال ان سب کو کمرے سے باہر جانے کا بولا تھا ۔۔۔۔۔

جس پر وہ سبھی باہر کی طرف بڑھ گئے تھے ۔۔۔۔

لیکن ابرش نے اپنے پاس کھڑی عظمی بیگم کا ہاتھ تھامتے انہیں پاس روک لیا تھا ۔۔۔۔

ڈاکٹر نے اسکا مکمل چیک اپ کرتے اسکے چہرے اور پاؤں کے ڈریسنگ کے ساتھ کمر اور بازوؤں میں آئی خراشوں پر بھی مرہم پٹی کر دی تھی ۔۔۔۔۔

اور ان سب کے دوران اسکے پھٹے ہوئے کپڑے بھی تبدیل کروا دیئے تھے ۔۔۔۔

اور پھر اسے پین کلر دیتی مکمل بیڈ ریسٹ کا کہتے وہاں سے چلی گئی ۔۔۔۔۔

جن کے جانے کے بعد وہ سب دوبارہ اندر داخل ہوئے تھے ۔۔۔۔۔

اور سب سے پہلے دادا سائیں نے آگے بڑھتے اسکے پیشانی پر پیار کیا ،،،،،، انکی کمزور پرشفق آنکھوں سے ایک آنسو ٹوٹ کر ابرش کے بالوں میں کہیں گم ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔

جبکہ ان سب کو آتے دیکھ ابرش نے اٹھ کر بیٹھنا چاہا جب دادا سائیں نے نفی میں سر ہلاتے لیٹے رہنے کا بولا تھا ۔۔۔۔۔

جس کے بعد سب نے باری باری آ کر اسے پیار کرتے اسکا حال دریافت کیا تھا ۔۔۔۔۔

اور سب کے آخر میں ابیہا آگے بڑھی تھی ۔۔۔۔۔۔

میری جان ٹھیک ہے نا ؟؟؟؟؟

اسکے مرہم لگے گال پر اپنے مرمریں لب رکھتے بہت محبت سے پوچھا ،،،،،، جس پر بدلے میں اس نےمسکراتے ہاں میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔

جب اسکی نظر دروازے کے پاس کھڑی زرمینے پر پڑی تھی ،،،،، جو اپنی سرمئی آنکھوں میں آنسو بھر کراسے محبت سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔

لیکن واسم کی وہاں موجودگی کی وجہ سے آگے بڑھ کر اسکے پاس جانے کی جرات ہرگز نہیں کی تھی ۔۔۔۔۔

زر تم وہاں کیوں کھڑی ہو ادھر آو میرے پاس ،،،،،، اسے مسلسل اپنی جگہ پر کھڑے دیکھ کر ابرش نے خود سے اسے مخاطب کرتے اپنے پاس بلایا تھا ۔۔۔۔

جس پر اس نے سہمی ہوئی نگاہوں سے واسم شاہ کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔

زر بیٹے آپکی دوست آپکو بلا رہی ہیں ،،،،، جائیں ان کے پاس ،،،،، اور آپکو کسی سے بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔

ارمغان شاہ اس سے پیار سے مخاطب ہوتے واسم کی طرف گھورتے ہوئے بولے تھے ۔۔۔۔۔

جس پر اس نے لب بھینچے تھے پھر آگے بڑھ کر ابرش کے سر پر پیار کرتے اسے خیال رکھنے کا بولتے وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔۔۔

جس کے نکلتے زرمینے نے سکھ کا سانس لیتے اس کی طرف اپنے قدم بڑھائے تھے ۔۔۔۔۔

مجھے معاف کر دینا ابرش میں تمہارا ٹھیک سے خیال نہیں رکھ پائی ،،،،، صرف اور صرف میری غفلت کی وجہ سے تمہیں اتنا کچھ برداشت کرنا پڑا ،،،،، میں بہت شرمندہ ہوں پلیز مجھے معاف کر دینا میری جان ،،،،،، اسکے سامنے اپنے دونوں ہاتھ جوڑتے وہ روتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔۔۔

جس پر اس نے نفی میں سر ہلاتے اٹھ کر اسکے دونوں ہاتھوں کو کھولتے اپنے سینے سے لگایا تھا ۔۔۔۔۔

تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے یہ سب تو میری قسمت میں لکھا تھا ،،،،، اور آج جو میں یہاں سہی سلامت بیٹھی ہوں یہ بھی آپ سب کی محبت اور دعاؤں کا نتیجہ ہے ۔۔۔۔۔

اس لیے تمہیں شرمندہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔

اس سے الگ ہو کر اسکے آنسو صاف کرتی وہ مسکرا کر پیار سے بولی تھی ۔۔۔۔۔ جس پر وہ ایک بار پھر آگے بڑھتی اسکے سینے سے لگ گئی ۔۔۔۔

جبکہ ابیہا جو ان دونوں کو ہی مسکرا کر دیکھ رہی تھی ابرش نے اس کیلئے بھی اپنا دوسرا بازو واں کیا تھا ۔۔۔۔۔

جس میں سماتے اس نے دوبارہ اسکے گال پر پیار کیا تھا ۔۔۔۔۔

جبکہ ان تینوں کی محبت کو دیکھتے باقی گھر والے آسودگی سے مسکرائے تھے ،،،،،، اور پھر ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق اسے آرام کرنے کا کہتے وہاں سے نکلتے چلے گئے ۔۔۔۔۔۔

لیکن ابیہا اور زرمینے دونوں اسکا خیال رکھنے کیلئے وہی اسکے کمرے میں ٹہر گئی تھیں ،،،،،، اور اسکے دائیں بائیں لیٹتے اسے مکمل اپنے حصار میں لیا تھا ۔۔۔۔

کیونکہ وہ اپنی اس نازک گڑیا سے اب ایک پل کیلئے بھی دور نہیں رہنا چاہتی تھیں ۔۔۔۔

جبکہ انکی محبت اور پازیزوینس کو دیکھتے ابرش مسکرائی تھی ۔۔۔۔۔

لیکن ان سب کے باوجود بھی اسے ایک وجود کی کمی کا شدت سے احساس ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ اور وہ وجود تھا ضارب شاہ کا ،،،،،،

جسے واسم کے ساتھ واپس حویلی آنے کے بعد سے اس نے نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔

سب سے ملنے کے دوران بھی اسکی نظریں مسلسل دروازے پر ٹکی ہوئی تھیں کہ وہ کب اس سے ملنے آئے ،،،،، اور اسکا حال دریافت کرے ،،،،، کیا اسکی نظر میں ابرش کی اتنی اہمیت بھی نہیں تھی ،،،،،، کہ وہ ایک بار آ کر اسکا حال پوچھ لیتا ۔۔۔۔۔۔

اور اپنی اس کم مائیگی کا احساس کرتے اسکی آنکھوں میں آنسو آ رہے تھے ،،،،،، اور ساتھ ہی دل میں اس کیلئے ناراضگی سیپیدا ہو رہی تھی ۔۔۔۔

جس کے چلتے اس نے ضارب شاہ سے کبھی نا بات کرنے کا فیصلہ کرتے اپنے آنکھیں موند لی تھیں ۔۔۔۔۔

دواوں کے زیر اثر جلد ہی گہری نیند میں چلی گئی ۔

لیکن وہ معصوم نہیں جانتی تھی ،،،،،، کہ جس سے وہ ناراض ہو رہی ہے ،،،، کیسے اس نے اسکے گنہگاروں کو کیسے کیف کردار تک پہنچایا تھا ۔۔۔۔۔

اس پر اٹھنے والے ہاتھوں کو کس بےرحمی سے کا*ٹا تھا ،،،،، اسے گالی دینے والی زبان کو کیسے تیزا*ب سے جلا*یا تھا ،،،،،، اس پر اٹھنے والی نظروں کو کیسے نو*چا تھا ،،،،،، کہ وہ کسی اور پر اٹھنے کے قابل نہیں رہی تھیں ۔۔۔۔۔

کہ آج تو خان سے بھی اسکا یہ روپ دیکھنا برداشت نہیں ہوا تھا ،،،،،، اور وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھتا اس کمرے سے نکلتا چلا گیا ،،،،،، اور باقی جو وہاں موجود تھے سب نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی تھیں ۔۔۔۔۔

کیونکہ ضارب شاہ انہیں اس وقت انسان کے بھیس میں ایک حیوان نظر آ رہا تھا ،،،،،،، جو اس وقت اپنی دردنگی کی انتہا پر تھا ،،،،،، جس نے ان سب کے اتنے چھوٹے چھوٹے ٹکڑ*ے کیے تھے ۔۔۔۔۔

کہ انکی گنتی کرنا مشکل تھی ،،،،،، بہت بڑی غلطی کی تھی ،،،،، اسکے دشمنوں نے جو اسکی فیملی کو درمیان میں لے آئے تھے ۔۔۔۔۔

جن پر وہ اٹھنے والی ایک غلط نگاہ تک بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا ،،،،،، انہوں نے یہ حرکت انجام دیتے اس کے اندر کے جانور کو جگایا تھا ،،،،، اسکی گھر کی لڑکیوں پر نظر ڈالتے اسکی غیرت کو للکارا تھا ۔۔۔۔۔

جس کا انجام کتنا بھیانک ہونا تھا اگر وہ جان جاتے تو کبھی یہ غلطی سرانجام نا دیتے ۔۔۔۔۔

لیکن اب تو یہ جنگ شروع ہو چکی تھی ،،،،،، جس کا اختتام تو صرف انکی یا پھر ضارب شاہ کی مو*ت پر ہی ہو سکتا تھا ،،،،،، وقت کی دھار نے کس طرف بہنا تھا ،،،،،،، زندگی نے کسے شہہ اور کسے مات دینی تھی ،،،،،، اور کس نے سکندر بنتے جیت کا سہراہ اپنے سر سجانا تھا ،،،،،، یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکتا تھا ۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *