Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 29)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 29)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
رات کے آخری پہر پیاس کی شدت سے اسکی آنکھ کھل گئی تھی ۔۔۔۔۔
اور جب اس نے سائڈ ٹیبل پر رکھے جگ کو دیکھا تو وہ خالی تھا ۔۔۔۔شاید زر جگ میں پانی ڈالنا بھول گئی تھی ۔۔۔۔۔
اس نے نظر اٹھا کر گھڑی کی طرف دیکھا جو رات کے تین بجا رہی تھی ۔۔۔۔
اوپر سے اتنی سردی تھی کہ اسکا اپنے گرم بستر سے نکلنے کا بالکل دل نہیں کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
لیکن مجبوری یہ تھی کہ اسے پیاس بھی بہت شدت سے لگی تھی ۔۔۔۔
جس پر وہ نا چاہتے ہوئے بھی کوفت سے سر جھٹکتی بستر سے نکل کر اچھی طرح اپنے گرد گرم شال اوڑھتی نیچے کچن کی طرف بڑھی تھی ۔۔۔۔
اس وقت حویلی کی ساری بتیاں گل تھیں ،،،،، جس کی وجہ سے وہ اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
سب لوگ تھک کر اپنے اپنے کمرے میں آرام کر رہے تھے ،،،،، اس لیے ہر طرف گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
وہ سیڑھیوں سے نیچے اترتی کچن میں داخل ہوتے ،،،،، وہاں رکھے جگ سے پانی کا گلاس بھر کر وہی کھڑے پینا شروع کر چکی تھی ۔۔۔۔۔
ابھی اس نے آدھا پانی ہی ختم کیا تھا جب اس کے کانوں سے ضارب کی غصیلی آواز ٹکرائی تھی ۔۔۔۔۔
نہیں آپ ایسا کریں انہیں ڈیرے کے پاس والے میدان میں لیں آئیں ۔۔۔۔۔۔
نہیں ہم صبح تک انتظار نہیں کر سکتے ،،،،،، معاملے کی گمبھیرتا سے آپ خود بھی واقف ہیں ۔۔۔۔۔
ایسے میں ہم ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہتے ۔۔۔۔۔
دوسری طرف سے کچھ کہا گیا تھا جس کی وہ نفی کرتا حویلی کا مین ڈور عبور کر گیا تھا ۔۔۔۔۔
جبکہ ضارب کی عجلت اور اسکے آخری الفاظ سن کر اسکے کان کھڑے ہو چکے تھے ۔۔۔۔۔
کیونکہ اسے ضارب سے کسی اچھے کی امید ہرگز نہیں تھی اس لیے وہ پریشانی میں پانی کا گلاس وہی ٹیبل پر رکھتی ،،،،،، اس کے پیچھے ہی حویلی سے نکلتی چلی گئی ۔۔۔۔
جبکہ اس جلد بازی میں اس نے یہ بھی نہیں سوچا کہ اگر وہ کسی کی نظروں میں آ گئی یا ضارب شاہ نے اسے وہاں دیکھ لیا تو اس کا انجام کیا ہو سکتا تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دھڑکتے دل کے ساتھ اپنے چہرے کو چادر سے بالکل کور کیے دبے پیروں سے اسکا پیچھا کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
جہاں اسکی جرات پر اسکا نازک دل دھڑک دھڑک جا رہا تھا وہی اسکا دماغ بھی اسے اس کام سے باز رہنے کا بول رہا تھا ۔۔۔۔
کیونکہ اگر ان سب دوران کسی کی نظر اس پر پڑ جاتی تو اسکا انجام کتنا برا ہو سکتا تھا یہ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی ۔۔۔۔۔
گاؤں کے کچے پکے راستے سے گزر کر وہ کھیتوں کے درمیان سے نکلتے ایک کھلے میدان میں آ گئے تھے ۔۔۔۔۔
جہاں آس پاس اندھیرے کے سوا کچھ نہیں تھا ،،،،، لیکن ضارب کے میدان کے بالکل درمیان میں پہنچتے ہی یکدم کئی گاڑیوں کی لائٹس ایک ساتھ روشن ہو گئی تھیں ۔۔۔۔۔
جنہوں نے چند پل کیلئے اسکی آنکھوں کو چندیا دیا تھا ۔۔۔۔کہ اسے چند لمحوں کیلئے کچھ بھی نظر آنا بالکل بند ہو گیا ۔۔۔۔۔
لیکن پھر جب کچھ دیر بعد اسکی آنکھیں وہاں کے ماحول سے مانوس ہو گئی تو جو نظارہ اس نے دیکھا اس نے ابرش کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی تھی ۔۔۔۔۔
کہ وہ بمشکل اپنے منہ پر ہاتھ رکھتی خود کو چیخنے سے باز رکھ سکی ۔۔۔۔۔
اور ساتھ ہی دوڑ کر وہاں موجود ایک بڑے سے پیڑ کی اوٹ میں ہو گئی تاکہ کسی کی نظر اس پر نا پڑے ۔۔۔۔۔
ضارب کے ان سب کے قریب پہنچتے ہی خان نے آگے بڑھ اسے کرسی پیش کی تھی ۔۔۔۔۔
جس پر شان سے براجمان ہوتے اس نے اپنا فیورٹ مشغلہ انجام دیا یعنی کہ سگریٹ سلگائی تھی ۔۔۔۔۔
جبکہ اپنی وحشت سے بھری گہری سبز کانچ سی آنکھیں اپنے سامنے زمین پر لہو لہان گرے دو لوگوں پر ٹکائی ۔۔۔۔۔
جو اچھی خاصی تواضع کروانے کے بعد اب زمین پر سر ٹکائے نڈھال پڑے تھے ۔۔۔۔۔
سیدھا کرو انہیں ،،،،،، اس سکوت زدہ ماحول میں ضارب کی گمبھیر آواز ابھری تھی ۔۔۔۔
جس نے اس خوفناک خاموشی میں اشتعال پیدا کیا تھا ۔۔۔۔۔
اور اسکے حکم پر فورا عمل کرتے ہوئے وہاں موجود کچھ لوگوں نے آگے بڑھتے انہیں سیدھا کر کے گھٹنے کے بل بٹھا دیا تھا ۔۔۔۔۔
جہاں وہ لوگ اپنی سجھن زدہ مندی مندی آنکھیں کھول کر اپنے سامنے موجود ہستی کو دیکھنے لگے تھے ۔۔۔۔۔
جسے دیکھتے انکی آنکھوں میں خوف اترا تھا ،،،،، اور ساتھ ہی مو*ت کے ڈر سے انکی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی دوڑ گئی تھی ۔۔۔۔۔
صرف اور صرف ایک سوال جس کا اگر صحیح جواب نہیں دیا تو انجام صرف مو*ت ۔۔۔۔۔۔
مال میں ہونے والا حملہ کس نے کروایا تھا ؟؟؟؟؟
وہ اپنے مخصوص ٹھہریں ہوئے لہجے میں درشتگی سے گویا ہوا ۔۔۔۔۔
ہم ،،،،، دونوں اسکے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہمارا صرف اس سے فون پر رابطہ ہوا تھا ۔۔۔۔
اس سے آگے ہمیں کچھ نہیں پتا ۔۔۔۔
اس میں سے ایک اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سپاٹ لہجے میں بولا تھا ،،،،، جبکہ دوسرا ابھی بھی خوف سے تھر تھر کانپ رہا تھا ۔۔۔۔
جبکہ اسکی اتنی ہمت پر ضارب نے داد میں ایک آئی برو اٹھایا تھا ۔۔۔۔ جو مو*ت کو بالکل اپنے سامنے دیکھتے ہوئے بھی بنا ڈرے جواب دے رہا تھا ۔۔۔۔
انٹرسٹنگ “
جبکہ اسکی گھنی مونچھوں تلے عنابی لبوں کی تراش میں ایک مسکان ابھری تھی ۔۔۔۔۔
ہمم تو تم کچھ نہیں جانتے ؟؟؟؟؟
جب ضارب نے اپنا سوال دوہرایا تھا ۔۔۔۔۔
جس پر اس نے پھر نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔
اور تمہیں ؟؟؟؟ اب رخ دوسرے کی طرف تھا ،،،،، جو اسکی صرف آنکھوں میں اتری وحشت کو دیکھتے ہی بری طرح لرز رہا تھا ۔۔۔۔
جس کے چلتے اس نے ابھی کچھ کہنے کیلئے اپنے لب کھولیں تھے جب دوسرے نے نامحسوس طریقے سے اسکے ہاتھ پر اپنا زخمی ہاتھ رکھتے اسے روکا تھا ۔۔۔۔
جس پر وہ اپنے لب فورا سل گیا تھا ۔۔۔۔
جو کہ ضارب کی زیرک نگاہوں سے پوشیدہ نا رہ سکا ۔۔۔۔
اور اس نے بنا ان دونوں کو سنبھلنے کا موقع دیے اسی ہاتھ پر فا*ئر کیا تھا جس سے وہاں کی خاموش فضاء میں انکی چیخیں گونج اٹھی تھیں ۔۔۔۔
لیکن ان سب کے باوجود وہ دونوں اپنا منہ کھولنے سے انکاری تھے ۔۔۔۔
جس پر ضارب نے طیش میں آتے دونوں پر گو*لیا*ں برسا دی تھیں ۔۔۔۔
جس کی تاب نا لاتے ایک فورا وہی ڈھیر ہو گیا جبکہ دوسرے کے چہرے پر ایک زہر خند سی مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔۔۔
اور وہ جب بولا تو سردار ضارب شاہ کی غیرت کو للکار گیا ۔۔۔۔
تم ،،،، تم کچھ ،،،، نہیں کر سکو گے ،،،،، وہ تمہیں ،،،،، برباد کر دے گا ،،،،،، کتے کی مو*ت مارے گا ،،،،، وہ تم سب کو ،،،،، اور تمہاری بہن ،،،،،، جسے تم ،،،،، اپنی زندگی ،،،،، کہتے ہو ،،،، وہ رکھیل بن ،،،،،،
اس سے پہلے کہ وہ اپنا جملہ مکمل کرتا ۔۔۔۔۔۔
ضارب نے اپنے پستو*ل میں موجود ساری گو* لیا *ں اس کے سر میں اتار دی تھیں ۔۔۔۔۔
جس سے خو*ن کے ساتھ اسکے دماغ کا مغز بھی باہر نکل آیا تھا ۔۔۔۔۔
جسے دیکھتے وہاں موجود اسکے بندوں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں تھیں ۔۔۔۔
لیکن ان سب کے باوجود بھی ضارب کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا۔۔۔۔۔
اس نے وہاں موجود ایک گارڈ کے ہاتھ سے ہتھیا*ر چھینتے اس پر وا*ر کیا تھا ۔۔۔۔۔ جس سے ایک دھما*کے کے ساتھ اسکے باقی جسم کے چھیتڑ*ے اڑ گئے ۔۔۔۔۔
ابھی وہ سب اس خوفناک منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
جب ان سب کی توجہ ایک نسوانی چیخ نے اپنی طرف مبذول کروائی تھی ۔۔۔۔۔
وہ لوگ ابھی اس آواز کا تعاقب کرتے جب ضارب نے انہیں روکتے ایک مخصوص اشارہ کیا تھا ۔۔۔۔۔
اور پھر اسی لمحے ساری لائٹس ایک دم بند ہوئی تھیں اور ہر طرف ایسا گھنور اندھیرہ چھا گیا کہ ایک ہاتھ کو دوسرا ہاتھ سجھائی نا دے ۔۔۔۔
ابرش جو اس روح کو لزرہ دینے والے منظر کو درخت کی اوٹ میں سے دل تھام کر دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
اسے اچانک اپنے پاؤں پر کچھ رینگتا ہوا محسوس ہوا اور اس نے جب نیچے دیکھا ایک جنگلی چوہا بہت مزے سے اسکے سرخ و سفید پاؤں پر بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔۔۔
جس سے ڈر کر اسے جھٹکتے بے ساختہ اسکے منہ سے ہلکی سی چیخ برآمد ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔جس کی آواز تو زیادہ نہیں تھی لیکن ہر طرف خاموشی ہونے کی وجہ سے رات کے سناٹے میں سب کو وہ صاف سنائی دی ۔۔۔۔۔
اور اسکے بعد یکدم اندھیرہ چھاتے دیکھ اس نے ڈر کر اپنے لبوں پر ہاتھ رکھتے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔
اور پھر بچنے کیلئے اس نے وہاں سے پلٹتے جلد بازی میں قدم اٹھایا جوکہ غلط جگہ پڑنے کی وجہ بری طرح ڈس بیلنس ہوا تھا ۔۔۔۔۔
اور وہ لہرا کر زمین پر گری ،،،،،، اسکے پاؤں میں زبردست قسم کی موچ آئی تھی ۔۔۔۔۔
جس سے اسکے جسم میں درد کی ایک شدید لہر دوڑ گئی ۔۔۔۔۔
اسکی آنکھوں سے دو آنسو ٹوٹ کر زمین پر گرے جبکہ اس نے بمشکل خود کو اونچی آواز میں رونے سے روکا تھا ۔۔۔۔۔۔
اور اس سے پہلے وہ ہمت کر کے اٹھتی اسے اپنے پیچھے کسی وجود کا احساس ہوا تھا ۔۔۔۔۔
اور وہ وجود کوئی اور نہیں بلکہ سردار ضارب شاہ کا تھا ،،،،، جسکا اندازہ اسے اپنے ارد گرد پھیلی فضاء میں اسکی خوشبو سے ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔
جو ہوا کے ساتھ اسکی سانسوں میں اترتی اسے وحشت اور ڈر کی ایک نئی دنیا سے روشناس کروا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
اس نے بےبسی سے اپنی آنسوؤں سے بھری آنکھیں بند کر لیں ،،،،،، اس نے ضارب شاہ کا پیچھا کرکے کتنی بڑی غلطی کی اسے اب احساس ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔
اسے ایسا لگ رہا تھا کہ اسکے سر پر ضارب نہیں بلکہ مالکلموت کھڑا ہو جو کسی بھی وقت اس سے اسکی سانسیں چھین سکتا تھا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہاں ابرش کو اپنا آخری وقت قریب لگ رہا تھا ،،،،،، اور وہ دھڑکتے دل کے ساتھ خدا کو یاد کرتی اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہی تھی ۔۔۔۔۔
وہی اب اسکو یوں ہی زمین پر کافی دیر سے بیٹھے دیکھ کر اب ضارب کوفت ہونے لگی ۔۔۔۔۔
اس لیے جب بولا تو اسکے لہجے میں بھی ایسا طنز شامل تھا کہ ابرش بری طرح شرمندہ ہو کر رہ گئی ۔۔۔۔۔
مطلب کہ وہ اسے بنا دیکھے بھی پہنچان چکا تھا ۔۔۔۔
اب آپ اٹھیں گی محترمہ یا پھر باقی کی رات بھی یہیں گزارنے کا ارادہ ہے ،،،،،، آفٹرآل آپکو ہمارے خلاف ثبوت بھی تو اکٹھے کرنے ہیں جس سے آپ ہمیں قا*تل اور درندہ ثابت کر سکیں ۔۔۔۔۔
جبکہ اب ابرش میں اتنی ہمت بھی نہیں بچی تھی کہ وہ پلٹ کر اسے کوئی جواب دے سکے ۔۔۔۔۔
اور پاؤں میں جو تکلیف ہو رہی تھی وہ الگ ،،،،،، وہ چپ چاپ بنا آواز کیے پاؤں کے درد کو برداشت کرتی شرمندہ سی اٹھنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔۔
جب بری طرح لڑکھڑائی ،،،،،، اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ زمین بوس ہوتی ضارب نے آگے بڑھ کر اسے اپنے حصار میں لیا تھا ۔۔۔۔۔
اور بہت قریب سے کالی چادر کی ہالے میں اسکا رویا رویا چہرہ دیکھنے لگا ۔۔۔۔جس پر تکلیف کے آثار تھے ۔۔۔۔۔
آپکو چوٹ لگی ہے ؟؟؟؟؟ اس بار پہلے کی نسبت لہجہ قدرے نرم تھا ۔۔۔۔۔
جبکہ انداز سے اس کی فکر جھلک رہی تھی ۔۔۔۔ جسکا اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا ۔۔۔۔۔
کیونکہ جو کچھ ابھی وہ کچھ دیر پہلے دیکھ چکی تھی ۔۔۔۔اس کی یہ فکر ابرش کو صرف ایک ڈھونگ لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکی خاموشی پر ضارب اپنے لب سختی سے بھینچ گیا تھا اصل میں یہ لڑکی ہمدردی کے لائق بالکل نہیں تھی ۔۔۔۔۔
اس لیے جس ہاتھ سے اس نے ابرش کو سہارا دے رکھا تھا ایک جھٹکے سے پیچھے کھینچا جس سے وہ ایک بار پھر لڑکھڑائی لیکن ہمت کرتی خود کو گرنے سے بچا گئی ۔۔۔۔۔
یو نو وٹ آپ ہمدردی کے بالکل لائق نہیں ہیں ،،،،،، آپ ڈیزرو نہیں کرتی کے آپکے ساتھ نرم رویہ اپنایا جائے ۔۔۔۔۔۔
اتنا کہتے ہی اس نے ابرش کا ایک ہاتھ اپنی سخت گرفت میں لیا اور ایک طرف چلنا شروع ہو گیا ۔۔۔۔۔۔
اور اسکی پکڑ ابرش کے ہاتھ پر اس قدر سخت تھی کہ اسے لگا آج اسکا ہاتھ ضرور اسکے تن سے جدا ہو جائے گا ۔۔۔۔۔
جبکہ جیسے وہ تیزی سے چل رہا تھا ابرش اسکے ساتھ کھینچتی ہوئی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔جس کی وجہ سے اسکے پاؤں کے درد میں کچھ اور اضافہ ہوا تھا ۔۔۔۔۔
جس سے اسکے آنسوؤں کی رفتار میں روانی آئی تھی ۔۔۔۔۔
لیکن وہ بالکل بےحس اور ظالم بنا اسے کھینچتے ہوئے لیجا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
پھر کچھ دور سڑک کے کنارے پہنچتے وہاں موجود اپنی گاڑی کا دروازہ کھولتے اسے دھکیلنے کے انداز میں اندر بٹھایا تھا ۔۔۔۔۔
اور دروازہ اتنی زور سے بند کیا کہ ابرش اچھل کر رہ گئی ۔۔۔۔۔جبکہ اسکے سینے میں موجود ننھا سا دل سہم سا گیا ۔۔۔۔۔۔
جب اس نے دوسری طرف آ کر بیٹھتے گاڑی سٹارٹ کی ،،،،،، سارے راستے گاڑی میں وقفے وقفے سے ابرش کی سسکیاں گونجتی رہی ،،،،،، لیکن وہ ایسے بن گیا جیسے گاڑی میں اسکے علاوہ کوئی موجود ہی نا ہو ۔۔۔۔۔
اور نا ہی اس نے اسے چپ کروانے کیلئے دوبارہ کوئی کوشش کی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی آ کر حویلی کے پورچ میں رکی تھی ۔۔۔۔۔جب وہ گاڑی سے باہر نکلتا اسکی طرف آ کر دروازہ کھولتا اسے ایک جھٹکے سے باہر کھینچ گیا ۔۔۔۔۔
جبکہ ضارب کے ایسے بےدردی سے کھینچنے پر ابرش کے لبوں سے ایک چیخ برآمد ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔
چپ بالکل چپ آواز نہیں نکلنی چاہیے ۔۔۔۔۔ورنہ یہ آپ کے حق میں بالکل بھی اچھا نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔
جسے وہ اسکے ہونٹوں پر اپنا بھاری ہاتھ رکھتا اسکے حلق میں ہی روک گیا ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکی دھمکی پر ابرش نے سہمی ہوئی نگاہوں سے اسکے چہرے کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
جسے وہ نظرانداز کرتے ابھی اس کے ہاتھ کو کھینچ کر اندر کی طرف بڑھتا جب اسکے لبوں سے پاؤں میں بڑھتے درد کی وجہ سے کراہ نکلی ۔۔۔۔۔
جس پر وہ نا چاہتے ہوئے بھی رک گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
اور ایک نظر تکلیف سے سرخ ہوئے اسکے چہرے کو دیکھنے کے بعد اسے ایک جھٹکے سے بازوؤں میں اٹھاتا اندر کی طرف بڑھا ۔۔۔۔۔
جبکہ وہ گرنے کے ڈر سے اسکی گردن میں اپنے دونوں بازو باندھ گئی ،،،،، دوسری طرف اسکے ایسے اٹھانے پر شرمندگی الگ ہو رہی تھی ،،،،، جس کی وجہ سے اسکا پہلے سے ہی سرخ چہرہ اب خون چھلکانے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔
وہ تیز قدموں سے سیڑھیاں عبور کرتا اسے لے کر اوپر اسکے کمرے میں داخل ہوا اور پھر لے جا کر پٹکنے کے انداز میں بیڈ پر اتارا تھا ۔۔۔۔۔۔
جس پر وہ سسکی تھی ۔۔۔۔۔
بہت شوق ہے آپکو ہمارا پیچھا کرنے کا ،،،،،، ایک ہاتھ سے اسکے بالوں کو پکڑ کر چہرہ اوپر اٹھاتے وہ درشتگی سے گویا ہوا ۔۔۔۔۔
نہی ،،،،،، نہیں ،،،،،، وہ میں ،،،،،،، تو بس ،،،،،،
ضارب کے اتنے قریب آنے اور بالوں کو کھینچنے پر وہ سسکتی بمشکل اٹکتی ہوئی اتنا ہی بول پائی جب اسے اپنے گلے میں آنسوؤں کا گولا اٹکتا ہوا محسوس ہوا ،،،،،،،
اور وہ بےآواز رونے لگی ۔۔۔۔۔
جبکہ ضارب اب بھی اسکے معصوم چہرے کو سپاٹ نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
اسکے سرخ و سفید نازک روئی جیسے گالوں پر پھسلتے آنسو اس نیم اندھیرے میں موتیوں کی طرح چمک رہے تھے ۔۔۔۔۔
رونے کی وجہ سے سرخ ہوئی چھوٹی سی ستواں ناک اور اس میں چمکتا لونگ اور کپکپاتے سرخ گلاب کی پتیوں جیسے لب اسکی توجہ بری طرح اپنی طرف کھینچ گئے تھے ۔۔۔۔۔
کہ وہ اپنا غصہ بھولتا اسکے چہرے کے معصوم نقوش میں کھونے لگا ۔۔۔۔۔
پھر خود پر ضبط کے کڑے پہرے بٹھا کر اس نے اپنی جلتی آنکھیں زور سے بند کر کے کھولیں تھیں ۔۔۔۔۔
اور دھیرے اسے اپنی گرفت سے آزاد کرتا وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔۔۔
ہم آپکو یہ آخری وارننگ دے رہیں ہیں کہ آپ ہمارے معاملات سے دور رہیں ورنہ ہم آپکی زندگی کو جہنم بنانے میں ایک سیکنڈ نہیں لگائیں گے ۔۔۔۔۔
اور یہ صرف دھمکی نہیں ہے آپ کیلئے آخری موقع ہے ہمارے طرف سے سدھر جائیں ورنہ وہ حشر کریں گے آپکو اپنے پیدا ہونے پر افسوس ہوگا ۔۔۔۔
وہ ٹہرے ہوئے لہجے میں بولتا ابرش کے ننھے سے دل کو سہما گیا ۔۔۔۔۔
اور اس سے پہلے کہ وہ پلٹتا اسکی نظر ابرش کے ہاتھ پر پڑی تھی جس سے اس نے اپنے دائیں پاؤں کو پکڑ رکھا تھا ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکی آنکھوں سے آنسو تواتر سے بہہ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔
پھر نا جانے کیا اسکے دل میں سمائی کہ وہ اپنا سارا غصہ بھول کر ابرش کے قریب بیڈ پر بیٹھتے ہوئے ،،،،،،
ایک ہاتھ میں اسکا پاؤں پکڑ کر اس کا معائنہ کرنے لگا ۔۔۔۔۔
جو اب ہلکا سا سوجھ چکا تھا اور ابھی اس نے دوسرے ہاتھ سے چیک کرتے ہوئے اسے ہلکا سا دبایا تھا کہ وہ تکلیف سے چیخ اٹھی تھی ۔۔۔۔۔
نہیں ،،،،، نہیں لالا پلیز بہت درد ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ پلیز چھوڑ دیں ۔۔۔۔۔
وہ نفی میں سر ہلاتی اسے رکنے کا بولتی اپنا پاؤں اسکے ہاتھ سے کھینچنے لگی ۔۔۔۔۔۔
اور ان سب کے دوران وہ ایک بار پھر روانی میں اسے لالا پکار گئی تھی جسکا اسے بالکل اندازہ نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔
جبکہ اس کے منہ سے اپنے لیے لفظ لالا سن کر ضارب ایک پل کیلئے حیران ہوا تھا اور پھر اسکی معصومیت کو دیکھتے اس ٹینشن زدہ ماحول میں بھی وہ زیر لب دلکشی سے مسکرایا تھا ۔۔۔۔۔
شاید آپ بھول رہی ہیں کہ آپ سے ہمارا اصل رشتہ کیا ہے ؟؟؟؟؟
لیکن پھر چہرے کو سپاٹ کرتا ٹہرے ہوئے لہجے میں بولا جس پر وہ حیران ہوتی اسکے خوبصورت چہرے کی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔
جب اسے کچھ دیر پہلے کہے گئے اپنے الفاظ یاد آئے تھے اور وہ شرمندگی سے اپنا چہرہ جھکا گئی ۔۔۔۔۔
جسے دیکھتے ہوئے وہ تھوڑا اور اسکے قریب ہوا تھا ۔۔۔۔
جس پر وہ خود میں سمٹی تھی ،،،،،، شاید آپکو یہ بات اچھے سے باور کرانے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔
کہ ہم آپکے کیا لگتے ہیں اسکے چہرے کے قریب اپنا چہرہ کرتے وہ سرگوشی نما آواز میں بولا تھا ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکی نظریں ابرش کے ناک میں چمکتے لونگ کا طواف کر رہی تھیں ۔۔۔۔۔
اسکی نظروں کی تپش اور لفظوں کے مفہوم سمجھتے وہ پل میں گلال ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
اور یہی وہ وقت تھا جب ضارب نے اس کے پاؤں کو ایک زور دار جھٹکا دیا تھا اور اس سے پہلے کہ وہ تکلیف سے چیختی وہ اس پر جھکتا ہوا اسے حلق میں ہی روک گیا ۔۔۔۔۔
ابرش نے تڑپ کر دونوں ہاتھوں سے اسکے کندھوں کو تھاما تھا ،،،،،، جب پاؤں کے ساتھ ساتھ اسے اپنے لبوں پر بھی تکلیف کا احساس ہوا تھا ۔۔۔۔۔
جس پر اس نے الگ ہونا چاہا لیکن ضارب کی گرفت مضبوط ہونے کی وجہ سے اس میں بری طرح ناکام ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔
جبکہ اسکے ہونٹوں پر تکلیف کا احساس بڑھتا جا رہا تھا لیکن وہ بےرحم انسان پیچھے ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔۔۔۔۔
اینڈ جب وہ بالکل بےبس ہوتے سانسیں ہارنے لگی تب جا کر کہیں اس نے ابرش کو اپنی گرفت سے آزاد کیا ۔۔۔۔۔
اور دانتوں تلے لب دبا کر اپنی مسکراہٹ چھپاتا اسکے روئے روئے چہرے اور سرخ لبوں کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
جن سے اب اسکی زیادتی کی وجہ سے خون چھلکنے کو بے تاب تھا ۔۔۔۔۔
امید ہے آپ اچھی طرح سمجھ گئی ہونگی کہ آپ سے ہمارا رشتہ کیا ہے ۔۔۔۔۔
اور آج سے آپ ہمیں سائیں کہہ کر بلائیں گی جو کہ ہمارے خاندان کی روایت ہے ۔۔۔۔۔
اور سائیں کے علاوہ اگر آپکے ہونٹوں سے کبھی کوئی دوسرا لفظ ادا ہوا تو یاد رکھیے گا ۔۔۔۔۔
اسکا انجام بھی انہیں بھگتنا ہوگا ۔۔۔۔۔
وہ اسکے بھیگے سرخ ہونٹوں کو نرمی سے سہلاتے اسے اچھے سے باور کراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔۔۔
جس پر وہ اپنا سر جھکا گئی تھی ۔۔۔۔۔
کیونکہ اس کے اندر ضارب کی لو دیتی نظروں کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ بالکل نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔
ایک نظر اسکے جھکے سر کو دیکھنے کے بعد وہ بھی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔۔کیونکہ صبح ہونے میں اب بس کچھ ہی وقت بچا تھا ۔۔۔۔۔
وہ کسی کو بھی اپنے اور خاص طور ابرش کی ذات پر سوال اٹھانے کا موقع نہیں دینا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔۔
اس لیے وقت رہتے ہی وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکے جاتے ہی ابرش تکیے میں اپنا چہرہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی ۔۔۔۔۔
اور ساتھ ساتھ اپنے ہونٹوں کو بھی مسل رہی تھی جیسے ان پر سے ضارب کا لمس مٹانا چاہتی ہو ۔۔۔۔۔
لیکن لاکھ کوششوں کے بعد بھی وہ ایسا نہیں کر پارہی تھی ،،،،،، اسے ابھی اپنے ہونٹوں پر اسکے دہکتے لبوں اور مونچھوں کا چھبتا لمس بچھوں کی مانند رینگتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔
جس کا اس کے پاس کوئی حل نہیں سوائے اپنی قسمت کو کوسنے اور رونے کے۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔
